Showing posts with label مرغوب علی. Show all posts
Showing posts with label مرغوب علی. Show all posts

Tuesday, 22 June 2021

مل جائے کسی شام کسی رات کسی دن

 مل جائے کسی شام کسی رات کسی دن

وہ میرے تصور کی ملاقات کسی دن

احباب نے اک شخص تراشا ہے عجب سا

اس کو بھی یہاں لائیں گے ہم ساتھ کسی دن

خوابوں کے بہت پھُول مہکتے ہیں لبوں پر

تعبیر کی ہو جائے کوئی بات کسی دن

Monday, 21 June 2021

عجیب طرز تخاطب روا ہوا اب کے

 عجیب طرزِ تخاطب روا ہوا اب کے

خلوص لہجوں سے یکسر جُدا ہوا اب کے

گُزشتہ رُت کی طرح عہد مت بھُلا دینا

پکارتا ہے یہ کمرہ سجا ہوا اب کے

ہمیں تو یاد بہت آیا موسمِ گُل میں

وہ سُرخ پھُول سا چہرہ کھِلا ہوا اب کے

Sunday, 20 June 2021

گر ہوں منصور تو سولی پہ چڑھا دے مجھ کو

 گر ہوں منصور تو سولی پہ چڑھا دے مجھ کو

اور ہوں سقراط تو لا، زہر پلا دے مجھ کو

وصل کا گل نہ سہی ہجر کا کانٹا ہی سہی

کچھ نہ کچھ تو مری وحشت کا صلہ دے مجھ کو

کب تلک اور جلوں آگ میں تنہائی کی

زندگی اب یہی بہتر ہے بجھا دے مجھ کو

Thursday, 22 April 2021

عجیب شخص ہے کیسی یہ جستجو ہے اسے

 عجیب شخص ہے کیسی یہ جستجو ہے اسے

پلک سے خار اُٹھانے کی آرزو ہے اسے

وہ خواہشوں کے دِیے ہر قدم جلاتا ہے

تلاش کون سے چہرے کی چار سُو ہے اسے

وہ طاق طاق جو یادوں کے پھُول رکھتا ہے

یہ کس جنون کی دیوار روبرو ہے اسے

Tuesday, 23 February 2021

جو جاں سے ہے عزیز اسے تو جدا بھی رکھ

 جو جاں سے ہے عزیز اسے تو جدا بھی رکھ

خوشیوں کے منہ میں درد بھرا ذائقہ بھی رکھ

ہر راستہ کہیں نہ کہیں مڑ ہی جائے گا

رشتوں کے بیچ تھوڑا بہت فاصلہ بھی رکھ

یوں بھی نہ ہو کہ جو بھی اٹھے تجھ میں جھانک لے

خود میں نہ یوں سمٹ کوئی درد آشنا بھی رکھ