مل جائے کسی شام کسی رات کسی دن
وہ میرے تصور کی ملاقات کسی دن
احباب نے اک شخص تراشا ہے عجب سا
اس کو بھی یہاں لائیں گے ہم ساتھ کسی دن
خوابوں کے بہت پھُول مہکتے ہیں لبوں پر
تعبیر کی ہو جائے کوئی بات کسی دن
مل جائے کسی شام کسی رات کسی دن
وہ میرے تصور کی ملاقات کسی دن
احباب نے اک شخص تراشا ہے عجب سا
اس کو بھی یہاں لائیں گے ہم ساتھ کسی دن
خوابوں کے بہت پھُول مہکتے ہیں لبوں پر
تعبیر کی ہو جائے کوئی بات کسی دن
عجیب طرزِ تخاطب روا ہوا اب کے
خلوص لہجوں سے یکسر جُدا ہوا اب کے
گُزشتہ رُت کی طرح عہد مت بھُلا دینا
پکارتا ہے یہ کمرہ سجا ہوا اب کے
ہمیں تو یاد بہت آیا موسمِ گُل میں
وہ سُرخ پھُول سا چہرہ کھِلا ہوا اب کے
گر ہوں منصور تو سولی پہ چڑھا دے مجھ کو
اور ہوں سقراط تو لا، زہر پلا دے مجھ کو
وصل کا گل نہ سہی ہجر کا کانٹا ہی سہی
کچھ نہ کچھ تو مری وحشت کا صلہ دے مجھ کو
کب تلک اور جلوں آگ میں تنہائی کی
زندگی اب یہی بہتر ہے بجھا دے مجھ کو
عجیب شخص ہے کیسی یہ جستجو ہے اسے
پلک سے خار اُٹھانے کی آرزو ہے اسے
وہ خواہشوں کے دِیے ہر قدم جلاتا ہے
تلاش کون سے چہرے کی چار سُو ہے اسے
وہ طاق طاق جو یادوں کے پھُول رکھتا ہے
یہ کس جنون کی دیوار روبرو ہے اسے
جو جاں سے ہے عزیز اسے تو جدا بھی رکھ
خوشیوں کے منہ میں درد بھرا ذائقہ بھی رکھ
ہر راستہ کہیں نہ کہیں مڑ ہی جائے گا
رشتوں کے بیچ تھوڑا بہت فاصلہ بھی رکھ
یوں بھی نہ ہو کہ جو بھی اٹھے تجھ میں جھانک لے
خود میں نہ یوں سمٹ کوئی درد آشنا بھی رکھ