آج میں ہوں شام ہے ساقی ہے دورِ جام ہے
پاؤں کی ٹھوکر پہ اپنی گردشِ ایام ہے
باغ میں تتلی ہے گل ہے حسنِ لالہ فام ہے
چاندنی ہے رقص میں رنگینیوں کی شام ہے
بے حسی کہیے اسے یا خوگرِ غم جانیے
اپنی ناکامی پہ بھی خوش یہ دل ناکام ہے
آج میں ہوں شام ہے ساقی ہے دورِ جام ہے
پاؤں کی ٹھوکر پہ اپنی گردشِ ایام ہے
باغ میں تتلی ہے گل ہے حسنِ لالہ فام ہے
چاندنی ہے رقص میں رنگینیوں کی شام ہے
بے حسی کہیے اسے یا خوگرِ غم جانیے
اپنی ناکامی پہ بھی خوش یہ دل ناکام ہے
اگر نظر میں کوئی جستجو نہیں تو نہیں
جو میں نہیں تو نہیں اور جو تو نہیں تو نہیں
کسے خیال ہے اپنے سوا کسی کا یہاں
یہاں کسی کو تری آرزو نہیں تو نہیں
مرے تو شہر میں بہتی ہیں خون کی ندیاں
اسے نصیب کوئی آبجو نہیں تو نہیں
پھر ہوئی شام، بیابان کو پاگل نکلا
ہاتھ میں لے کے چراغ دل بیکل نکلا
تیری محفل کو سجانے کئی جگنو آئے
چاند لہرا کے شب تار کا آنچل نکلا
عمر بھر کر کے سفر ہم جو وہاں تک پہنچے
ہائے قسمت، کہ وہ دروازہ مقفل نکلا
شہر آباد ہو چکا بھی ہے
اور پھر سے اُجڑ رہا بھی ہے
روز و شب کا سفر بھی ہے جاری
اور مسافر تھکا ہوا بھی ہے
رات ہے چاند ہے ستارے ہیں
اور خوابوں کا سلسلہ بھی ہے
دل کی ہر بات مان لی ہم نے
تجھ کو پانے کی ٹھان لی ہم نے
شہر کی وحشتوں سے گھبرا کر
چادرِ دشت تان لی ہم نے
ایک دُوجے سے چاہتوں کے عِوض
عمر بھر کی تھکان لی ہم نے