Showing posts with label فرحت حسنی. Show all posts
Showing posts with label فرحت حسنی. Show all posts

Saturday, 15 October 2022

آج میں ہوں شام ہے ساقی ہے دور جام ہے

 آج میں ہوں شام ہے ساقی ہے دورِ جام ہے

پاؤں کی ٹھوکر پہ اپنی گردشِ ایام ہے

باغ میں تتلی ہے گل ہے حسنِ لالہ فام ہے

چاندنی ہے رقص میں رنگینیوں کی شام ہے

بے حسی کہیے اسے یا خوگرِ غم جانیے

اپنی ناکامی پہ بھی خوش یہ دل ناکام ہے

Sunday, 9 October 2022

اگر نظر میں کوئی جستجو نہیں تو نہیں

 اگر نظر میں کوئی جستجو نہیں تو نہیں

جو میں نہیں تو نہیں اور جو تو نہیں تو نہیں

کسے خیال ہے اپنے سوا کسی کا یہاں

یہاں کسی کو تری آرزو نہیں تو نہیں

مرے تو شہر میں بہتی ہیں خون کی ندیاں

اسے نصیب کوئی آبجو نہیں تو نہیں

Monday, 25 July 2022

پھر ہوئی شام بیابان کو پاگل نکلا

 پھر ہوئی شام، بیابان کو پاگل نکلا

ہاتھ میں لے کے چراغ دل بیکل نکلا

تیری محفل کو سجانے کئی جگنو آئے

چاند لہرا کے شب تار کا آنچل نکلا

عمر بھر کر کے سفر ہم جو وہاں تک پہنچے

ہائے قسمت، کہ وہ دروازہ مقفل نکلا

Saturday, 5 March 2022

شہر آباد ہو چکا بھی ہے

شہر آباد ہو چکا بھی ہے

اور پھر سے اُجڑ رہا بھی ہے

روز و شب کا سفر بھی ہے جاری

اور مسافر تھکا ہوا بھی ہے

رات ہے چاند ہے ستارے ہیں

اور خوابوں کا سلسلہ بھی ہے

Tuesday, 12 January 2021

دل کی ہر بات مان لی ہم نے

دل کی ہر بات مان لی ہم نے

تجھ کو پانے کی ٹھان لی ہم نے

شہر کی وحشتوں سے گھبرا کر

چادرِ دشت تان لی ہم نے

ایک دُوجے سے چاہتوں کے عِوض

عمر بھر کی تھکان لی ہم نے