Sunday, 9 October 2022

اگر نظر میں کوئی جستجو نہیں تو نہیں

 اگر نظر میں کوئی جستجو نہیں تو نہیں

جو میں نہیں تو نہیں اور جو تو نہیں تو نہیں

کسے خیال ہے اپنے سوا کسی کا یہاں

یہاں کسی کو تری آرزو نہیں تو نہیں

مرے تو شہر میں بہتی ہیں خون کی ندیاں

اسے نصیب کوئی آبجو نہیں تو نہیں

ابھی تو ذہن میں سپنوں کا شور جاری ہے

ابھی جو تم سے کوئی گفتگو نہیں تو نہیں

تمہیں تمہاری یہ سج دھج رہے مبارک اور

مرا دریدہ گریباں رفو نہیں تو نہیں

میں اپنے طرز پہ آیا ہوں جیت کر بازی

تری نظر میں اگر سرخ رو نہیں تو نہیں

کسی ملیح سے چہرے پہ جان دیں فرحت

کوئی نصیب میں گر ماہ رُو نہیں تو نہیں


فرحت حسنی

No comments:

Post a Comment