پہاڑوں سے پگھلتا جا رہا ہوں
سمندر میں اترتا جا رہا ہوں
مِرے ساتھی بچھڑتے جا رہے ہیں
سُوئے منزل اکیلا جا رہا ہوں
معمّہ تھی مِری ہستی، مگر اب
میں سوچا اور سمجھا جا رہا ہوں
تِرے شاداب لہجے اب کہاں ہیں
تِری محفل سے پیاسا جا رہا ہوں
تُو خُوشبو ہے بکھرتا جا رہا ہے
میں رنگوں میں نکھرتا جا رہا ہوں
توقیر علی زئی
No comments:
Post a Comment