Sunday, 9 October 2022

پہاڑوں سے پگھلتا جا رہا ہوں

پہاڑوں سے پگھلتا جا رہا ہوں

سمندر میں اترتا جا رہا ہوں

مِرے ساتھی بچھڑتے جا رہے ہیں

سُوئے منزل اکیلا جا رہا ہوں

معمّہ تھی مِری ہستی، مگر اب

میں سوچا اور سمجھا جا رہا ہوں

تِرے شاداب لہجے اب کہاں ہیں

تِری محفل سے پیاسا جا رہا ہوں

تُو خُوشبو ہے بکھرتا جا رہا ہے

میں رنگوں میں نکھرتا جا رہا ہوں


توقیر علی زئی

No comments:

Post a Comment