میں وہ اک جنسِ گراں ہوں سرِ بازار کہ بس
ہاتھ یوں ملتے ہیں حسرت سے خریدار کہ بس
آج تک اہلِ وفا سے نہ کسی نے پوچھا
اور جاری رہے شغلِ رسن و دار کہ بس
چِلچِلاتی ہوئی یہ دھوپ یہ تپتے میداں
اور اِدھر حوصلۂ دل کا وہ اصرار کہ بس
میں وہ اک جنسِ گراں ہوں سرِ بازار کہ بس
ہاتھ یوں ملتے ہیں حسرت سے خریدار کہ بس
آج تک اہلِ وفا سے نہ کسی نے پوچھا
اور جاری رہے شغلِ رسن و دار کہ بس
چِلچِلاتی ہوئی یہ دھوپ یہ تپتے میداں
اور اِدھر حوصلۂ دل کا وہ اصرار کہ بس
دھوپ کے ماروں کو جس نے پھیل کر سایا دیا
ظالموں نے اس شجر کو جان کر کٹوا دیا
مثلِ گل جن میں مہکتا تھا وہ موسم اب کہاں
اس بلا کی دھوپ نے سارا بدن جھلسا دیا
میں تہی دستوں کی صف میں ورنہ کیوں آتا نظر
خود مرے مفلوج ہاتھوں نے مجھے دھوکا دیا
گھر میں آتش گیر سب سامان ہے
آگ لگنے کا بہت امکان ہے
تشنگی کی حد میں ہر منظر سراب
ہر نفس میں ایک ریگستان ہے
سخت ہے خود آگہی کا مرحلہ
خود فریبی راستہ آسان ہے
بہت صبر آزما ایک ایک پل ہے
بتا اس مسئلہ کا کوئی حل ہے؟
میں فرزانوں کی صف میں کیوں کھڑا ہوں
یقیناً میرے سر میں کچھ خلل ہے
ہوا کیا ؟ اے نسیم صبح گاہی
جو مرجھایا ہوا دل کا کنول ہے
خوش گمانی تھی کہ دل کا زخم اچھا ہو گیا
وقت کی نشتر زنی سے اور گہرا ہو گیا
ایک سایا ہمسفر تھا,،. ہو گیا وہ بھی جدا
میں بھی کتنا اس بھری دنیا میں تنہا ہو گیا
پھر یہ ساری رات گزری کروٹوں کے شغل میں
سوچتے ہی سوچتے لو پھر سویرا ہو گیا
کوئی بھی نہیں جن کا زمانے میں خریدار
حق کی وہ صلیبیں♰♰ ہیں فقط زینت بازار
طوفاں کا رخ پھیرنے والا نہں ملتا🌊
کہنے کو زمانے میں ہر اک فن کے ہیں فنکار
صحرا کے وہی ایک سے دن ایک سی راتیں
گلشن کے شب و روز کا دستور نہ کردار
میں تجربوں کی دکاں لے کے جب نکلتا تھا
ہر ایک شخص مری سادگی پہ ہنستا تھا
یہی وہ گھر ہے دِیا بھی اسی میں جلتا تھا
جو تم نہ تھے تو یہ ماتم کدہ سا لگتا تھا
ٹھہر گیا ہوں تو آگے نکل گیا مجھ سے
کبھی یہ وقت مرے ساتھ ساتھ چلتا تھا
اکیلے ہم کبھی گھر سے نہیں نکلتے ہیں
ہمارے ساتھ نئے تجربے بھی چلتے ہیں
جو دیکھیے تو بڑی قربتیں نظر آئیں
جو سوچیے تو بہت فاصلے نکلتے ہیں
نہ خودکشی اسے کہیے، نہ زندگی کہیے
غموں کی دھوپ میں بیٹھے ہوئے پگھلتے ہیں
اپنے ہاتھوں کی لکیریں نہ مٹا، رہنے دے
جو لکھا ہے وہی قسمت میں لکھا رہنے دے
سچ اگر پوچھ تو زندہ ہوں انہیں کی خاطر
تشنگی مجھ کو سرابوں میں گِھرا رہنے دے
آہ، اے عشرتِ رفتہ! نکل آئے آنسو
میں نہ کہتا تھا کہ اتنا نہ ہنسا رہنے دے