Showing posts with label مبارک شمیم. Show all posts
Showing posts with label مبارک شمیم. Show all posts

Sunday, 2 May 2021

میں وہ اک جنس گراں ہوں سر بازار کہ بس

 میں وہ اک جنسِ گراں ہوں سرِ بازار کہ بس

ہاتھ یوں ملتے ہیں حسرت سے خریدار کہ بس

آج تک اہلِ وفا سے نہ کسی نے پوچھا

اور جاری رہے شغلِ رسن و دار کہ بس

چِلچِلاتی ہوئی یہ دھوپ یہ تپتے میداں

اور اِدھر حوصلۂ دل کا وہ اصرار کہ بس

Monday, 14 December 2020

دھوپ کے ماروں کو جس نے پھیل کر سایا دیا

 دھوپ کے ماروں کو جس نے پھیل کر سایا دیا

ظالموں نے اس شجر کو جان کر کٹوا دیا

مثلِ گل جن میں مہکتا تھا وہ موسم اب کہاں

اس بلا کی دھوپ نے سارا بدن جھلسا دیا

میں تہی دستوں کی صف میں ورنہ کیوں آتا نظر

خود مرے مفلوج ہاتھوں نے مجھے دھوکا دیا

Sunday, 13 December 2020

گھر میں آتش گیر سب سامان ہے

 گھر میں آتش گیر سب سامان ہے

آگ لگنے کا بہت امکان ہے

تشنگی کی حد میں ہر منظر سراب

ہر نفس میں ایک ریگستان ہے

سخت ہے خود آگہی کا مرحلہ

خود فریبی راستہ آسان ہے

Saturday, 12 December 2020

بہت صبر آزما ایک ایک پل ہے

 بہت صبر آزما ایک ایک پل ہے

بتا اس مسئلہ کا کوئی حل ہے؟

میں فرزانوں کی صف میں کیوں کھڑا ہوں

یقیناً میرے سر میں کچھ خلل ہے

ہوا کیا ؟ اے نسیم صبح گاہی

جو مرجھایا ہوا دل کا کنول ہے

خوش گمانی تھی کہ دل کا زخم اچھا ہو گیا

 خوش گمانی تھی کہ دل کا زخم اچھا ہو گیا

وقت کی نشتر زنی سے اور گہرا ہو گیا

ایک سایا ہمسفر تھا,،. ہو گیا وہ بھی جدا

میں بھی کتنا اس بھری دنیا میں تنہا ہو گیا

پھر یہ ساری رات گزری کروٹوں کے شغل میں

سوچتے ہی سوچتے لو پھر سویرا ہو گیا

Tuesday, 8 December 2020

کوئی بھی نہیں جن کا زمانے میں خریدار

 کوئی بھی نہیں جن کا زمانے میں خریدار

حق کی وہ صلیبیں♰♰ ہیں فقط زینت بازار

طوفاں کا رخ پھیرنے والا نہں ملتا🌊

کہنے کو زمانے میں ہر اک فن کے ہیں فنکار

صحرا کے وہی ایک سے دن ایک سی راتیں

گلشن کے شب و روز کا دستور نہ کردار

میں تجربوں کی دکاں لے کے جب نکلتا تھا

 میں تجربوں کی دکاں لے کے جب نکلتا تھا

ہر ایک شخص مری سادگی پہ ہنستا تھا

یہی وہ گھر ہے دِیا بھی اسی میں جلتا تھا

جو تم نہ تھے تو یہ ماتم کدہ سا لگتا تھا

ٹھہر گیا ہوں تو آگے نکل گیا مجھ سے

کبھی یہ وقت مرے ساتھ ساتھ چلتا تھا

Monday, 7 December 2020

اکیلے ہم کبھی گھر سے نہیں نکلتے ہیں

 اکیلے ہم کبھی گھر سے نہیں نکلتے ہیں

ہمارے ساتھ نئے تجربے بھی چلتے ہیں

جو دیکھیے تو بڑی قربتیں نظر آئیں

جو سوچیے تو بہت فاصلے نکلتے ہیں

نہ خودکشی اسے کہیے، نہ زندگی کہیے

غموں کی دھوپ میں بیٹھے ہوئے پگھلتے ہیں

اپنے ہاتھوں کی لکیریں نہ مٹا رہنے دے

 اپنے ہاتھوں کی لکیریں نہ مٹا، رہنے دے

جو لکھا ہے وہی قسمت میں لکھا رہنے دے

سچ اگر پوچھ تو زندہ ہوں انہیں کی خاطر

تشنگی مجھ کو سرابوں میں گِھرا رہنے دے

آہ، اے عشرتِ رفتہ! نکل آئے آنسو

میں نہ کہتا تھا کہ اتنا نہ ہنسا رہنے دے