Tuesday, 8 December 2020

میں تجربوں کی دکاں لے کے جب نکلتا تھا

 میں تجربوں کی دکاں لے کے جب نکلتا تھا

ہر ایک شخص مری سادگی پہ ہنستا تھا

یہی وہ گھر ہے دِیا بھی اسی میں جلتا تھا

جو تم نہ تھے تو یہ ماتم کدہ سا لگتا تھا

ٹھہر گیا ہوں تو آگے نکل گیا مجھ سے

کبھی یہ وقت مرے ساتھ ساتھ چلتا تھا

کسے خبر تھی رفیقِ حیات ہے میرا

غمِ نصیب کو میں راہرو سمجھتا تھا

نہ میں وہ ہوں نہ توانائیاں وہ مجھ میں شمیم

اک عمر تھی کہ جوالا مکھی سا لگتا تھا


مبارک شمیم

No comments:

Post a Comment