میں تجربوں کی دکاں لے کے جب نکلتا تھا
ہر ایک شخص مری سادگی پہ ہنستا تھا
یہی وہ گھر ہے دِیا بھی اسی میں جلتا تھا
جو تم نہ تھے تو یہ ماتم کدہ سا لگتا تھا
ٹھہر گیا ہوں تو آگے نکل گیا مجھ سے
کبھی یہ وقت مرے ساتھ ساتھ چلتا تھا
کسے خبر تھی رفیقِ حیات ہے میرا
غمِ نصیب کو میں راہرو سمجھتا تھا
نہ میں وہ ہوں نہ توانائیاں وہ مجھ میں شمیم
اک عمر تھی کہ جوالا مکھی سا لگتا تھا
مبارک شمیم
No comments:
Post a Comment