Tuesday, 8 December 2020

بس رنج کی ہے داستاں عنوان ہزاروں

 بس رنج کی ہے داستاں عنوان ہزاروں

جینے کے لیے مر گئے انسان ہزاروں

وہ جس نے مری روح کو درد آشنا رکھا

ہیں مجھ پہ اسی زخم کے احسان ہزاروں

جس خاک سے کہتے ہو وفا ہم نہیں کرتے

سوئے ہیں اسی خاک میں سلطان ہزاروں

اک رسمِ تکبر ہے، سو اس دور کے انساں

جیبوں میں لیے پھرتے ہیں پہچان ہزاروں

لازم ہے مسافت میں بھٹک جانا ہمارا

ہم تنہا مسافر کے ہیں سامان ہزاروں

اب ہے فقط اندیشۂ حالات میسر

ہم دل میں کبھی رکھتے تھے ارمان ہزاروں

یہ شہر سخن ہے یہاں ہر موڑ پہ اظہر

ہوشیار بنے بیٹھے ہیں نادان ہزاروں


اظہر ہاشمی

No comments:

Post a Comment