عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
منظر تشنہ لبی دیکھ اٹھا کر آنکھیں
پانی بن جاتی ہیں کتنی بھی ہوں پتھر آنکھیں
تشنگی ننھی سی گہوارے سے مقتل کو چلی
بت شکن ہونٹ لیے، فاتح خیبر آنکھیں
قربت ایزد باری تھی فقط پیش نظر
مڑ کے کیا دیکھتیں چلتا ہوا خنجر آنکھیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
منظر تشنہ لبی دیکھ اٹھا کر آنکھیں
پانی بن جاتی ہیں کتنی بھی ہوں پتھر آنکھیں
تشنگی ننھی سی گہوارے سے مقتل کو چلی
بت شکن ہونٹ لیے، فاتح خیبر آنکھیں
قربت ایزد باری تھی فقط پیش نظر
مڑ کے کیا دیکھتیں چلتا ہوا خنجر آنکھیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ جو غم ہے یہ ہمیں درسِ وفا دیتا ہے
ہم کو اسلام کی تہذیب سکھا دیتا ہے
زندہ رہنے کے لیے خاکِ شفا دیتا ہے
شہؑ کا بیمار، مسیحا کو دعا دیتا ہے
نام عباسؑ کا جو لکھ کے پہنا دیتا ہے
اس کے بچے کو خدا شیر بنا دیتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بامِ نوا
وہ کہ جو لفظوں کو اُن کی اِنتہا تک لے گئی
جو علیؐ کے بعد لہجے کو خُدا تک لے گئی
انتقامِ خونِ سرورؐ جب تھا اپنے اوج پر
وہ ہجومِ غیظ کو فرشِ عزا تک لے گئی
ساکت و صامت کھڑے تھے آیتوں کے کاروں
وہ زباں دے کر اِنہیں بامِ نوا تک لے گئی
لہو میں غرق ادھوری کہانیاں نکلیں
بدن سے ٹوٹی ہوئی سرخ چوڑیاں نکلیں
میں جس زمین پہ صدیوں پھرا کیا تنہا
اسی زمین سے کتنی ہی بستیاں نکلیں
جہاں محال تھا پانی کا ایک قطرہ بھی
وہاں سے ٹوٹی ہوئی چند کشتیاں نکلیں