Showing posts with label کاظم جرولی. Show all posts
Showing posts with label کاظم جرولی. Show all posts

Thursday, 11 July 2024

منظر تشنہ لبی دیکھ اٹھا کر آنکھیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


منظر تشنہ لبی دیکھ اٹھا کر آنکھیں

پانی بن جاتی ہیں کتنی بھی ہوں پتھر آنکھیں

تشنگی ننھی سی گہوارے سے مقتل کو چلی

بت شکن ہونٹ لیے، فاتح خیبر آنکھیں

قربت ایزد باری تھی فقط پیش نظر

مڑ کے کیا دیکھتیں چلتا ہوا خنجر آنکھیں

Monday, 1 July 2024

یہ جو غم ہے یہ ہمیں درس وفا دیتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یہ جو غم ہے یہ ہمیں درسِ وفا دیتا ہے

ہم کو اسلام کی تہذیب سکھا دیتا ہے

زندہ رہنے کے لیے خاکِ شفا دیتا ہے

شہؑ کا بیمار، مسیحا کو دعا دیتا ہے

نام عباسؑ کا جو لکھ کے پہنا دیتا ہے

اس کے بچے کو خدا شیر بنا دیتا ہے

Sunday, 30 June 2024

وہ کہ جو لفظوں کو ان کی انتہا تک لے گئی

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت  

بامِ نوا


وہ کہ جو لفظوں کو اُن کی اِنتہا تک لے گئی

جو علیؐ کے بعد لہجے کو خُدا تک لے گئی

انتقامِ خونِ سرورؐ جب تھا اپنے اوج پر

وہ ہجومِ غیظ کو فرشِ عزا تک لے گئی

ساکت و صامت کھڑے تھے آیتوں کے کاروں

وہ زباں دے کر اِنہیں بامِ نوا تک لے گئی

Saturday, 5 February 2022

لہو میں غرق ادھوری کہانیاں نکلیں

لہو میں غرق ادھوری کہانیاں نکلیں

بدن سے ٹوٹی ہوئی سرخ چوڑیاں نکلیں

میں جس زمین پہ  صدیوں پھرا کیا تنہا

اسی زمین سے کتنی ہی بستیاں نکلیں

جہاں محال تھا پانی کا ایک قطرہ بھی

وہاں سے ٹوٹی ہوئی چند کشتیاں نکلیں