Saturday, 5 February 2022

لہو میں غرق ادھوری کہانیاں نکلیں

لہو میں غرق ادھوری کہانیاں نکلیں

بدن سے ٹوٹی ہوئی سرخ چوڑیاں نکلیں

میں جس زمین پہ  صدیوں پھرا کیا تنہا

اسی زمین سے کتنی ہی بستیاں نکلیں

جہاں محال تھا پانی کا ایک قطرہ بھی

وہاں سے ٹوٹی ہوئی چند کشتیاں نکلیں

مسل دیا تھا سرِ شام ایک جگنو کو

تمام رات خیالوں سے بجلیاں نکلیں

چرا لیا تھا حویلی کا ایک چھپا منظر

اسی گناہ پر آنکھوں سے پتلیاں نکلیں

وہ اک چراغ جلا، اور وہ روشنی پھیلی

وہ راہزنی کے ارادے سے آندھیاں نکلی

خدا کا شکر کہ اس عہدِ بے لباسی میں

یہ کم نہیں کہ درختوں میں پتیاں نکلیں

وہ بچ سکی نہ کبھی بوالہوس پرندوں سے

حصارِ آب سے باہر جو مچھلیاں نکلیں

یہی ہے قصرِ محبت کی داستاں کاظم

گری فصیل تو انساں کی ہڈیاں نکلیں


کاظم جرولی

No comments:

Post a Comment