لہو میں غرق ادھوری کہانیاں نکلیں
بدن سے ٹوٹی ہوئی سرخ چوڑیاں نکلیں
میں جس زمین پہ صدیوں پھرا کیا تنہا
اسی زمین سے کتنی ہی بستیاں نکلیں
جہاں محال تھا پانی کا ایک قطرہ بھی
وہاں سے ٹوٹی ہوئی چند کشتیاں نکلیں
مسل دیا تھا سرِ شام ایک جگنو کو
تمام رات خیالوں سے بجلیاں نکلیں
چرا لیا تھا حویلی کا ایک چھپا منظر
اسی گناہ پر آنکھوں سے پتلیاں نکلیں
وہ اک چراغ جلا، اور وہ روشنی پھیلی
وہ راہزنی کے ارادے سے آندھیاں نکلی
خدا کا شکر کہ اس عہدِ بے لباسی میں
یہ کم نہیں کہ درختوں میں پتیاں نکلیں
وہ بچ سکی نہ کبھی بوالہوس پرندوں سے
حصارِ آب سے باہر جو مچھلیاں نکلیں
یہی ہے قصرِ محبت کی داستاں کاظم
گری فصیل تو انساں کی ہڈیاں نکلیں
کاظم جرولی
No comments:
Post a Comment