Saturday, 5 February 2022

سننے والا میں کسی تازہ بہانے کا نہیں

 سننے والا میں کسی تازہ بہانے کا نہیں

نامرادانہ اب اس شہر سے جانے کا نہیں

بات جو سہج بنائی تھی وہ بے ڈھب نکلی

لفظ جو چن کے بٹھایا تھا ٹھکانے کا نہیں

کارِ بے کار کی تکرار لگے میل ملاپ

مسئلہ اور ہے کچھ، نِبھنے نبھانے کا نہیں

دل اگر اپنی سبک چال حریفانہ چلے

دور تک کوئی مقابل نظر آنے کا نہیں

تم یہ کس زعم میں پھسلے تھے مِری مُٹھی سے

گر پڑی چیز پلٹ کر میں اٹھانے کا نہیں

اس کھنڈر پر نہیں رکنا، مِری منزل ہے محل

خواب شہزادی کا دیکھا تھا، خزانے کا نہیں


عابد سیال

No comments:

Post a Comment