نرم و نازک حسین
ایک ننھا شجر
اپنے اندر چھپائے ہوئے
برگ و بر
لمحہ لمحہ
جواں ہو رہا ہے
نرم و نازک حسین
ایک ننھا شجر
اپنے اندر چھپائے ہوئے
برگ و بر
لمحہ لمحہ
جواں ہو رہا ہے
سنا تھا
خموشی
ہر بلا کو ٹالتی ہے
اس لیے چپ ہوں
مجھے چپ سادھ لینے دو
مگر سن لو
خود کو تری نظروں میں گرانا تو نہیں ہے
رکھنا ہے تجھے یاد، بُھلانا تو نہیں ہے
کھینچا ہے محبت سے تِرے شہر کا نقشہ
حالانکہ یہ چاہت کا زمانہ تو نہیں ہے
پلکوں پہ بٹھایا ہے جسے پیار دیا ہے
اس نے مجھے پہلو میں بٹھانا تو نہیں ہے
اس کے دل میں اگر غبار نہیں
مجھ کو ملنے میں کوئی عار نہیں
آپ شاید سمجھ نہیں پائے
رَو ہے اشکوں کی، آبشار نہیں
اب کے دھڑکن میں حبس اُترا ہے
اب تو پل کا بھی اعتبار نہیں
میں کہتا ہوں جوانی میں عبادت کر
محبت کر، محبت کر، محبت کر
دلیلیں دے نہ اس کی تُو وکالت کر
جو ظالم ہے وہ ظالم ہے مذمت کر
چلا ہے مجھ پہ تیری آنکھ کا جادو
میں جب تک ہوں مِرے دل پر حکومت کر