Showing posts with label جاوید دانش. Show all posts
Showing posts with label جاوید دانش. Show all posts

Wednesday, 19 October 2022

لمحہ لمحہ جواں ہو رہا ہے

 نرم و نازک حسین

ایک ننھا شجر

اپنے اندر چھپائے ہوئے

برگ و بر

لمحہ لمحہ

جواں ہو رہا ہے

Saturday, 8 October 2022

کہ موسم اب بدلنا چاہتا ہے

 سنا تھا 

خموشی 

ہر بلا کو ٹالتی ہے 

اس لیے چپ ہوں 

مجھے چپ سادھ لینے دو 

مگر سن لو 

Tuesday, 21 June 2022

خود کو تری نظروں میں گرانا تو نہیں ہے

خود کو تری نظروں میں گرانا تو نہیں ہے

رکھنا ہے تجھے یاد، بُھلانا تو نہیں ہے

کھینچا ہے محبت سے تِرے شہر کا نقشہ

حالانکہ یہ چاہت کا زمانہ تو نہیں ہے

پلکوں پہ بٹھایا ہے جسے پیار دیا ہے

اس نے مجھے پہلو میں بٹھانا تو نہیں ہے

Monday, 2 May 2022

اس کے دل میں اگر غبار نہیں

اس کے دل میں اگر غبار نہیں

مجھ کو ملنے میں کوئی عار نہیں

آپ شاید سمجھ نہیں پائے

رَو ہے اشکوں کی، آبشار نہیں

اب کے دھڑکن میں حبس اُترا ہے

اب تو پل کا بھی اعتبار نہیں

Tuesday, 22 February 2022

میں کہتا ہوں جوانی میں عبادت کر

 میں کہتا ہوں جوانی میں عبادت کر

محبت کر، محبت کر، محبت کر

دلیلیں دے نہ اس کی تُو وکالت کر

جو ظالم ہے وہ ظالم ہے مذمت کر

چلا ہے مجھ پہ تیری آنکھ کا جادو

میں جب تک ہوں مِرے دل پر حکومت کر