کون سی دنیا میں ہم ہیں کچھ خبر پاتے نہیں
حد تو یہ ہے، دل کو بھی اب ہمسفر پاتے نہیں
کس طرح کہہ دیں کہ تُو اے موت امرت ہے کہ زہر
جب شرابِ زندگی کو بے ضرر پاتے نہیں
کون کہتا ہے کہ ہے معدوم لیلٰی کی کمر
ہاں مگر لیلائے دنیا کی کمر پاتے نہیں
کون سی دنیا میں ہم ہیں کچھ خبر پاتے نہیں
حد تو یہ ہے، دل کو بھی اب ہمسفر پاتے نہیں
کس طرح کہہ دیں کہ تُو اے موت امرت ہے کہ زہر
جب شرابِ زندگی کو بے ضرر پاتے نہیں
کون کہتا ہے کہ ہے معدوم لیلٰی کی کمر
ہاں مگر لیلائے دنیا کی کمر پاتے نہیں
میں پوچھتا ہی رہا شہرِ بے اماں کا پتہ
کوئی بتا نہ سکا تیرے آستاں کا پتہ
ہزاروں دوست نما لوگ ہمسفر تھے مگر
کسی کو اپنی خبر تھی نہ کارواں کا پتہ
خدا کرے نہ پڑے اس پہ بجلیوں کی نظر
ابھی ملا ہے مجھے میرے آشیاں کا پتہ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حسنِ یوسف کا یہاں کوئی خریدار نہیں
یہ مدینہ ہے کوئی مصر کا بازار نہیں
دشمنِ آلِؑ محمدﷺ سے سروکار نہیں
ہم محمدﷺ کے وفادار ہیں غدار نہیں
تاج بھی غیر سے لینے کو تیار نہیں
آپؐ کے در کے بھکاری کا یہ معیار نہیں
بھٹکیں تِرے مدار میں، گردش نہ کر سکیں
ایسا نہ ہو کہ ہم تِری خواہش نہ کر سکیں
ہونٹوں پہ بے یقین، دُعائیں سجی رہیں
آنکھوں میں ابر آئیں تو بارش نہ کر سکیں
پُوچھے جو مہربان کوئی حال، ہنس پڑیں
ہم قاش قاش دل کی نمائش نہ کر سکیں
جاہ و منصب ہے نہ اب حشمتِ سُلطانی ہے
اس تباہی کا سبب اپنی ہی نادانی ہے
آہ وہ لمحے کہ جو خوابِ گِراں میں گُزرے
جن کی تعبیر میں صدیوں کی پشیمانی ہے
ایک سنّاٹے کا احساس تھا وہ بھی نہ رہا
دل کی دُنیا میں عجب طرح کی وِیرانی ہے
سرکس
وہ دونوں
لپیٹے ہُوئے اپنی گردِش
لگاتار چلتے ہیں
کم ہی قریب آتے دیکھا ہے اِن کو
کبھی ایسا ہو بھی تو ڈرتا ہُوں
یکجان ہو کر
فلمی گیت
میرا جیون کورا کاغذ کورا ہی رہ گیا
جو لکھا تھا آنسوؤں کے سنگ بہ گیا
میرا جیون کورا کاغذ۔۔۔۔
اک ہوا کا جھونکا آیا ٹُوٹا ڈالی سے پھُول
نہ پوَن کی نہ چمن کی کس کی ہے یہ بھُول
کھو گئی خوشبو ہوا میں کچھ نہ رہ گیا