ندی
سچ یہ ہے
کہ آپ کہیں بھی رہتے ہوں
یہاں تک کہ سال کے سخت ترین دنوں میں
ندی جو اس وقت نہیں ہے آپ کے گھر میں
لیکن کہیں نہ کہیں ضرور ہو گی
کسی چٹائی میں
ندی
سچ یہ ہے
کہ آپ کہیں بھی رہتے ہوں
یہاں تک کہ سال کے سخت ترین دنوں میں
ندی جو اس وقت نہیں ہے آپ کے گھر میں
لیکن کہیں نہ کہیں ضرور ہو گی
کسی چٹائی میں
ہم خدا کہتے ہیں سب جس کو صنم کہتے ہیں
تم نہ کہنا اسے اللہ جو ہم کہتے ہیں
رنج کہتے ہیں کسے کس کو الم کہتے ہیں
ہم تو اس کو بھی تِرا فضل و کرم کہتے ہیں
پڑ کے بیمار عیادت کو بلایا تجھ کو
دیکھ او رشک مسیحا اسے دم کہتے ہیں
یہ جھوٹ ہے کہ تم سے محبت نہیں مجھے
لیکن غمِ معاش سے فرصت نہیں مجھے
میں ہوں مشینی دور کا مصروف آدمی
خود سے بھی بات کرنے کی مہلت نہیں مجھے
یہ زندگی ہے صبح کے اخبار کی طرح
دن بھر کے بعد جس کی ضرورت نہیں مجھے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خدا کے حکم سے مٹی کے پیکر بول اٹھے ہیں
نبیﷺ کے لمس سے بے جان پتھر بول اٹھے ہیں
ہے ان کی رحمۃ اللعالمینی کا یقیں شاید
کہ مداحِ رُسل کافر بھی اکثر بول اٹھے ہیں
محمد مصطفیٰﷺ ہیں خود ہمارے رہنما، ربی
خدا کے سامنے سارے پیمبر بول اٹھے ہیں
میرا مزاج دعاؤں جیسا
وہ شخص پتھر کے خداؤں جیسا
مرادیں کیسے بر آتی
وہ غرو پرور اناؤں جیسا
میں ہوں وہ ساون
جو جم کے برسے
یہ توبہ کا میری گھٹا بن کے چھانا
چھلکتا برستا ہوا جام 🍷 لانا
یہ وقتِ قبولِ دُعائے سحر ہے
ذرا بچ کے ہاتھوں سے دامن بچانا
غرورِ تغافل کے انداز والے
تِرا امتحاں ہے مِرا آزمانا
ہو گئی جو خطا خُدا بخشے
کر رہا ہوں دعا خدا بخشے
جس نے کی بے رُخی خدا پوچھے
کر گیا جو وفا خدا بخشے
وہ نہیں بخشے جو منافق تھے
جن میں تھی کچھ حیا خدا بخشے