Tuesday, 4 August 2026

بے چہرگیٔ غم سے پریشان کھڑے ہیں

 بے چہرگیٔ غم سے پریشان کھڑے ہیں

ہم پھر بھی وہ ظالم ہیں کہ جینے پر اڑے ہیں

غم سے جو بلند اور مسرّت سے بڑے ہیں

ایسے بھی کئی داغ مِرے دل پہ پڑے ہیں

تاریخ کے صفحوں پہ جو انسان بڑے ہیں

ان میں بہت ایسے ہیں جو لاشوں پہ کھڑے ہیں

تو مبتلائے عشق ہے غم کا نصاب ڈھونڈ

 تُو مبتلائے عشق ہے غم کا نصاب ڈھونڈ

عنوان جس کا ہجر ہو ایسی کتاب ڈھونڈ

اوروں کی روشنی پہ نہ رکھ تو بُری نظر

اپنی ہی چھت کے نیچے کوئی آفتاب ڈھونڈ

کوشش کو اپنی ایک نیا رنگ رُوپ دے

دل کے اُجاڑ باغ میں تازہ گُلاب ڈھونڈ

اک جواں سی سنسناہٹ شوخ ساعت میں بسی

 اک جواں سی سنسناہٹ شوخ ساعت میں بسی

قلب و جاں کو دے گئی اک بیخودی، اک سرخوشی

کھیل تھا خوش فہمیوں کا جو رہا کچھ دیر تک

اک اداسی سی اداسی پھر فضا میں رچ گئی

درد کی دولت ملی تو دل قلندر ہو گیا

ہیچ تھی اب اس کے آگے دو جہاں کی خسروی

سمٹا تو میں ذرہ ہوں بکھرا تو میں صحرا ہوں

 سمٹا تو میں ذرہ ہوں بکھرا تو میں صحرا ہوں

تھم جاؤں تو قطرہ ہوں بہہ جاؤں تو دریا ہوں

کیوں طور پہ میں جاؤں کیوں عرش پہ میں جاؤں

اس کا ہی تو پرتو ہوں میں اس کے سوا کیا ہوں

کیا کوئی شریک غم ہو گا مِرا دنیا میں

وہ عرش پہ تنہا ہے، میں فرش پہ تنہا ہوں

وہ سچ کے چہرے پہ ایسا نقاب چھوڑ گیا

 وہ سچ کے چہرے پہ ایسا نقاب چھوڑ گیا

رخ حیات پہ جیسے عذاب چھوڑ گیا

نتیجہ کوشش پیہم کا یوں ہوا الٹا

میں آسمان پہ موج سراب چھوڑ گیا

وہ کون تھا جو مِری زندگی کے دفتر سے

حروف لے گیا خالی کتاب چھوڑ گیا

کتنی عجیب دیکھیے شان رسول بھی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کتنی عجیب دیکھیے شانِ رسولﷺ بھی​

برسائے جس نے سب پہ ہی رحمت کے پھول بھی​

جب بھی چلا ہوں جانبِ کعبہ، تو دشت کا​

میرے لیے تو پھُول بنا تھا، ببُول بھی​

دُنیا کو کرتے اب بھی حقیقت سے رُوشناس​

انمول گیان دیتے ہیں انﷺ کے اصول بھی

Monday, 3 August 2026

ہر اک شے بانجھ کرتا شور ہے

 ہر اِک شے بانجھ کرتا شور ہے


دُعا کی کھیتیاں 

اس میں اُگی اُمید، ساری گُفتگو، جُملے 

خلِش اور واہموں کی  تھاپ پر یہ ناچتے نوحے     

یہ سارے سِلسلے چُپ کے

پروں کو نوچ کے بخشی گئیں آزادیاں دل کی 

یہ سارے دائرے، رستے