Saturday, 5 September 2026

کہاں دنیا سے لڑنا ہے کہاں خود سے بغاوت ہے

 کہاں دنیا سے لڑنا ہے کہاں خود سے بغاوت ہے

اسے سمجھا رہا ہوں جو محبت کی روایت ہے

ہزاروں دکھ اٹھاتا ہوں، ہزاروں زخم کھاتا ہوں

مگر جاتی نہیں یہ مسکرانے کی جو عادت ہے

جہاں پر جب بھی جی چاہے زمیں پر بیٹھ جاتا ہوں

کہ میرے جسم کی مٹی کو مٹی سے محبت ہے

Friday, 4 September 2026

عادت کی تحویل میں کوئی کتنا پاگل ہو جاتا ہے

 عادت کی تحویل میں کوئی کتنا پاگل ہو جاتا ہے

مجھ سے فون پکڑتے ہی وہ نمبر ڈائل ہو جاتا ہے

جتنی منت میں نے کی ہے تم سے ہجرت کرنے کی

اتنی دیر میں میرے ہمدم پیڑ بھی قائل ہو جاتا ہے

عورت پیار میں شاید مرد سے بڑھ کر اندھی ہوتی ہے

ورنہ اس کی نظروں سے تو پتھر گھائل ہو جاتا ہے

درد کی جب انتہا ہو جائے گی

 درد کی جب انتہا ہو جائے گی

انتہا خود ہی دوا ہو جائے گی

رابطہ رکھیے غموں سے خود بخود

زندگی غم آشنا ہو جائے گی

کر نہ اے دل شکوۂ جور و جفا

ورنہ توہین وفا ہو جائے گی

قصہ ان دنوں کا ہے جب ہمیں محبت تھی

 قصہ ان دنوں کا ہے جب ہمیں محبت تھی

خواب اک معمہ تھا نیند اک اذیت تھی

کیا عجیب رشتہ تھا آگ اور پانی کا 

میں برستا بادل تھا اور وہ قیامت تھی

ہم کہ ایک دوجے پر اس طرح سے لازم تھے

مجھ کو اس کا نشہ تھا اس کو میری عادت تھی

یارو بتاؤ تم کو میں کیا کیا دبئی میں ہے

 زعفرانی غزل


یارو بتاؤ تم کو میں کیا کیا دبئی میں ہے

سارے زمانے بھرکا تماشہ دبئی میں ہے

شلوار پر بھی اس نے کندورہ چڑھا لیا

آدھا ہے اپنے ملک میں آدھا دبئی میں ہے

کل مرکز الغریر میں لڑنے لگے رقیب

لڑکی ہے لالو کھیت میں پھڈا دبئی میں ہے

اگر عزت ملے تو سر تکبر سے اٹھانا مت

 اگر عِزت مِلے تو سر تکبّر سے اُٹھانا مت

کسی کی خاک کو تم اپنے پیروں سے اُڑانا مت

یہ نفرت بھی محبت کا پُرانا رُوپ لگتی ہے

محبت رُوپ بدلے تو کبھی دھوکے میں آنا مت

اگر یہ بن گیا تو پھر تمہیں ہی بانٹ کھائے گا

جو دریا عشق کا ہے اس پہ کوئی گھر بنانا مت

مدینہ کے جس شام و سحر کی بات کرتے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مدینہ کے جس شام و سحر کی بات کرتے ہیں

باالفاظ دگر خلد نظر کی بات کرتے ہیں

ستاروں کی نہ ہم حُسنِ قمر کی بات کرتے ہیں

جمال حضرت خیرالبشرﷺ کی بات کرتے ہیں

مبارک ذکر جنت آپ کو اے حضرت‌ِ واعظ

ہم اپنے جذبِ دل ذوقِ نظر کی بات کرتے ہیں