Monday, 9 March 2026

میان تیغ و سناں لا الہ الا اللہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


میانِ تیغ و سناں، لَا اِلٰہ اِلا اللہ

حدیثِ شعلہ بجاں، لَا اِلٰہ اِلا اللہ

مقامِ سجدۂ بے اختیار، عجز تمام

کمالِ حرفِ بیاں، لَا اِلٰہ اِلا اللہ

جہاں رسولؐ کے نقشِ قدم وہیں پہ علیؑ

وہیں حسینؑ جہاں لَا الٰہ الا اللہ

ہم یہ چاہیں ہمیں انکار کی جرأت ہو جائے

 ہم یہ چاہیں ہمیں انکار کی جرأت ہو جائے

لب تک آئے تو وہی حرف ندامت ہو جائے

میری سوچیں، مِرا احساس، مِری ہی آواز

میرے شعروں سے مگر آپ کی شہرت ہو جائے

خاک ہو کر وہ ہواؤں میں بکھرنا چاہے

جب کسی کو در و دیوار سے وحشت ہو جائے

کڑو اشربت تمہیں اس میں کھانڈ نہیں ڈالنی چاہیے

 کڑوا شربت


اپنے آپ کو نچوڑنا

جیسے انسان لیموں کو نچوڑتا ہے

کڑو اشربت، ایک نظم

تمہیں اس میں کھانڈ نہیں ڈالنی چاہیے

اس کے فائدے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی

کیوں ہزاروں بے ضرر افراد کے گھر جل گئے

 کیوں ہزاروں بے ضرر افراد کے گھر جل گئے

سوچنے بیٹھا تو میری سوچ کے پر جل گئے

آگ تو غصہ تھی انسانوں سے پھر یہ کیا ہوا

مرغیاں ڈربوں میں، کابک میں کبوتر جل گئے

مسکرا کر لُو کے نیزے جھیلتے ہیں ہم غریب

برف کی صحبت میں تم کمرے کے اندر جل گئے

جس بات کو سن کر تجھے تکلیف ہوئی ہے

 جس بات کو سن کر تجھے تکلیف ہوئی ہے

دنیا میں اسی بات کی تعریف ہوئی ہے

پیغام مسرت پہ خوشی خوب ہے لیکن

سنتے ہیں کہ ہمسائے کو تکلیف ہوئی ہے

بگڑے ہوئے کچھ حرف ہیں بے معنی سے کچھ لفظ

یہ زیست کے اوراق کی تالیف ہوئی ہے

افسوس تری یاد نے رستہ نہیں بدلا

 افسوس تِری یاد نے رستہ نہیں بدلا

ورنہ تو مِرے گاؤں میں کیا کیا نہیں بدلا

جو موم کا پُتلا تھا وہ پگھلا نہیں اب تک

جو آگ کا دریا تھا وہ دریا نہیں بدلا

موسم کی طرح روز بدلنا نہیں آتا

بچپن سے اسی واسطے چہرہ نہیں بدلا

Sunday, 8 March 2026

یاد آ کر ہجر میں تڑپا گئی اچھا ہوا

 یاد آ کر ہجر میں تڑپا گئی اچھا ہُوا

یہ بھی آنی تھی مصیبت آ گئی اچھا ہوا

جور پر ان کو، ہمیں اپنی وفا پر ناز تھا

بات بڑھ کر امتحاں تک آ گئی اچھا ہوا

دل کو ہم تسکین کیا دیتے وہ کس کی مانتا

وہ نظر خود اس کو کچھ سمجھا گئی اچھا ہوا