ایک خط کی چند سطریں
تم آؤ تو میرے خواب لیتی آنا
جو میں نے تمہارے تکیے تلے رکھے تھے
اور میری آنکھیں بھی
اور ہاں، ہاتھ بھی
میرے بوسے بھی
ایک خط کی چند سطریں
تم آؤ تو میرے خواب لیتی آنا
جو میں نے تمہارے تکیے تلے رکھے تھے
اور میری آنکھیں بھی
اور ہاں، ہاتھ بھی
میرے بوسے بھی
اک سِتمگر کو خُدا کہنا پڑا
ناروا کو بھی روا کہنا پڑا
یورشِ رنج و مصائب الاماں
زندگی کو اک سزا کہنا پڑا
چارہ گر جب کچھ نہ درماں کر سکے
دردِ دل 💔 کو لا دوا کہنا پڑا
درِیچے پر دِیے رکھے ہُوئے ہیں
اندھیرے کمرے کو گھیرے ہوئے ہیں
اگر میں دُھوپ میں تنہا کھڑا ہوں
تو اتنے سائے کیوں اُبھرے ہوئے ہیں
ہر اک انسان اچھا لگ رہا ہے
ہم اپنے آپ سے رُوٹھے ہوئے ہیں
کسی کی یاد مِرے دل میں اس طرح آئی
بجی ہو جیسے کسی غم کدے میں شہنائی
تمام عُمر فراموش ہی رہی ہم سے
بوقتِ مرگ مگر زندگی کی یاد آئی
بڑے خلوص سے اپنے ہی خون کی پوشاک
تمہارے خنجرِ عُریاں کو ہم نے پہنائی
انا للہ و انا الیہ راجعون، معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر آج اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے
ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے
چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے
کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے
تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے
عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر
محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے
انا للہ و انا الیہ راجعون، معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر آج اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے
اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو
ہم لوگ جب ملیں تو کوئی دوسرا بھی ہو
تُو جانتا نہیں مِری چاہت عجیب ہے
مجھ کو منا رہا ہے، کبھی خود خفا بھی ہو
تُو بے وفا نہیں ہے مگر بے وفائی کر
اُس کی نظر میں رہنے کا کچھ سلسلہ بھی ہو
وصال
ہم ہواؤں کے پل سے گزرتے ہیں
ہماری آواز کی بازگشت اک اک موڑ پر ہے
دیکھو تو سہی
زمین کی ہر سلوٹ میں ایک قبر ہے
مگر ہم قبروں کے پتھر نہیں ہیں