حوّا کی بیٹی
سُنو ایسا بھی کبھی ہوتا ہے کیا
کہ چھ راتوں پہ ایک کھڑکی سے
تین موسم اُترے ہوں
اور ساتویں دن کی بھاری رات میں
آسمانی بلائیں
حوّا کی بیٹی
سُنو ایسا بھی کبھی ہوتا ہے کیا
کہ چھ راتوں پہ ایک کھڑکی سے
تین موسم اُترے ہوں
اور ساتویں دن کی بھاری رات میں
آسمانی بلائیں
یوں بھی باقی ہیں ابھی جِینے کے آثار مِرے
بسترِ مرگ سے اُٹھے ہیں کئی یار مرے
موجِ اِدراک سے سُورج کی شُعائیں پھُوٹیں
تو نظر آئے کچھ اندیکھے سے کِردار مرے
سینۂ شب پہ مچلتا ہے اُداسی کا بدن
ایک تصویر دِکھاتی یے یہ آزار مرے
روایت ہے
پہاڑوں نے کبھی ہجرت نہیں کی
یہ بارش، برف، طُوفاں سے نہیں ڈرتے
یہ خیمے چھوڑ کر اپنے نہیں جاتے
کبھی نامہرباں افلاک پانی بند کر دیں تو
نہ بارش کے خُدا کا بُت بنا کر پُوجتے ہیں اور
خُود کو کبھی جو خُود سے مِلانا پڑا ہمیں
چہرے کے پاس آئینہ لانا پڑا ہمیں
تنہائیوں کا درد بھُلانے کے واسطے
خُود اپنے گھر میں شور مچانا پڑا ہمیں
مُدت کے بعد ہو گیا جب ان سے سامنا
ناکام حسرتوں کو جگانا پڑا ہمیں
دستِ ساقی میں فروزاں تھے سبُو رات گئے
اور ادھر شیخ تھا مصرُوف وضُو رات گئے
سو گیا تان کے چادر تِرے قدموں میں کوئی
سازشیں کرتے رہے مِل کے عدُو رات گئے
کون اس شہر میں ہمرازِ الم ہے میرا
کون آیا ہے لیے جام و سبُو رات گئے
بِگاڑ کر مِری مٹی کھنگالتے کیا ہو؟
سِتمگرو! مِری دُنیا اُجاڑتے کیا ہو؟
مِرے وجود سے جاں تو نکال لی تم نے
فرعونِ عصر! بتاؤ گے چاہتے کیا ہو؟
تمہارے چہروں کے تیور تو اور ہی کچھ ہیں
دلوں میں کیا ہے ہمیں یوں پچھاڑتے کیا ہو؟
ہاتھ ملتا ہے تو مل اب کے برس
پھُول کلیاں نہ مسل اب کے برس
برفزاروں میں نہ جل اب کے برس
التجا کرتا ہے دل اب کے برس
تُو اٹل ہے، وہ مصمّم ہے بہت
دیکھ لے اور کے بل اب کے برس