تمام عمر کا اپنا حساب لکھوں گی
میں تیرے نام کی کوئی کتاب لکھوں گی
میں جلتی اڑتی ہوئی ریت کو بھی چھانوں گی
جو دشتِ ذات پہ ٹھہرے سحاب لکھوں گی
ہر ایک درد میں تم کو میں حوصلہ دوں گی
تمہاری مات کو بھی کامیاب لکھوں گی
تمام عمر کا اپنا حساب لکھوں گی
میں تیرے نام کی کوئی کتاب لکھوں گی
میں جلتی اڑتی ہوئی ریت کو بھی چھانوں گی
جو دشتِ ذات پہ ٹھہرے سحاب لکھوں گی
ہر ایک درد میں تم کو میں حوصلہ دوں گی
تمہاری مات کو بھی کامیاب لکھوں گی
تسکین دِل جو پائے تو پھر اِضطراب کیا
مجھ کو پتہ نہیں کہ گُنہ کیا، ثواب کیا
تقدیسِ عشق پر نہ کوئی حرف آ سکے
بھٹکے جو راہ سے تو پھر ایسا شباب کیا
ہم جام کے اسِیر نہیں غور سے یہ سُن
آنکھوں سے پی نہ جائے تو پھر وہ شراب کیا
دل کو چاک کرنے سے لاکھ اگر لہُو نِکلے
یہ مگر نہیں ممکن گردِ آرزُو نکلے
اِشتیاقِ دِید ہم کو جانے کیا دِکھائے گا
دِل کا حوصلہ لے کر ان کے آبرُو نکلے
جِن کو ہم سمجھتے تھے دُور ہیں نِگاہوں سے
وہ قرِیں رگِ جاں سے وقتِ جُستجو نکلے
رقصِ بِسمل سہی زنجیر کی جھنکار سہی
ہم نشیں راہِ جنوں میں رسن و دار سہی
زندگی بھی نہیں جانے کی مِری کج کلہی
سر پہ ہر لمحہ چمکتی ہُوئی تلوار سہی
آپ کہتے ہیں تو سچ ہو گی ضرور آپ کی بات
ہم وفادار نہیں،۔ لاکھ وفادار سہی
خود سے بیزار زمانے سے خفا لگتا ہے
وحشتِ جاں کا اثر دل پہ سوا لگتا ہے
دشتِ اُمید کی جھُلسی ہوئی خاموشی میں
بس تِرا نام مجھے حرفِ دُعا لگتا ہے
سبز پتوں پہ چمکتی ہوئی شبنم نے کہا
رات ڈھل جائے تو ہر رنگ نیا لگتا ہے
جا کے ان سے کہہ دینا راستے بِچھڑتے ہیں
دل سے دل کے رشتے میں رابطے بچھڑتے ہیں
آنسوؤں کے حلقے میں پھُول سینت رکھے ہیں
خواب کب مُکرتے ہیں، سِلسلے بچھڑتے ہیں
شور سے ہواؤں کے ہے زمین کی نِسبت
موسموں کی سختی سے قافلے بچھڑتے ہیں
زمِیں پر نِیم جاں یاری پڑی ہے
اِدھر خنجر، اُدھر آری پڑی ہے
میرے ہی سر پہ ہیں اِلزام سارے
بڑی مہنگی وفاداری پڑی ہے
عجب سا خوف پھیلا ہے وطن میں
ہوا کے ہاتھ چنگاری پڑی ہے