سیاسی نفرتوں کی زد میں آئیں گے ہمِیں کب تک
بھِگو کر شاہ رکھے گا لہُو میں آستِیں کب تک
کئی کنکر وفا کی جھیل میں میں پھینک آیا ہوں
اُبھر کر سطح پہ آئیں گے دیکھیں تہ نشیں کب تک
بھرم کے پاؤں کی زنجیر کو سچ توڑ ہی دے گا
کسی کے جھُوٹ پر کوئی کرے گا بھی یقیں کب تک