جاہ و منصب ہے نہ اب حشمتِ سُلطانی ہے
اس تباہی کا سبب اپنی ہی نادانی ہے
آہ وہ لمحے کہ جو خوابِ گِراں میں گُزرے
جن کی تعبیر میں صدیوں کی پشیمانی ہے
ایک سنّاٹے کا احساس تھا وہ بھی نہ رہا
دل کی دُنیا میں عجب طرح کی وِیرانی ہے
جاہ و منصب ہے نہ اب حشمتِ سُلطانی ہے
اس تباہی کا سبب اپنی ہی نادانی ہے
آہ وہ لمحے کہ جو خوابِ گِراں میں گُزرے
جن کی تعبیر میں صدیوں کی پشیمانی ہے
ایک سنّاٹے کا احساس تھا وہ بھی نہ رہا
دل کی دُنیا میں عجب طرح کی وِیرانی ہے
سرکس
وہ دونوں
لپیٹے ہُوئے اپنی گردِش
لگاتار چلتے ہیں
کم ہی قریب آتے دیکھا ہے اِن کو
کبھی ایسا ہو بھی تو ڈرتا ہُوں
یکجان ہو کر
فلمی گیت
میرا جیون کورا کاغذ کورا ہی رہ گیا
جو لکھا تھا آنسوؤں کے سنگ بہ گیا
میرا جیون کورا کاغذ۔۔۔۔
اک ہوا کا جھونکا آیا ٹُوٹا ڈالی سے پھُول
نہ پوَن کی نہ چمن کی کس کی ہے یہ بھُول
کھو گئی خوشبو ہوا میں کچھ نہ رہ گیا
نیا سُورج، نیا جلوہ، نئی تنویر لے آؤ
ہمیشہ خواب لائے ہو کبھی تعبیر لے آؤ
زباں بھی بند کر لیتے مگر اب حکم آیا ہے
تصور کے لیے بھی آہنی زنجیر لے آؤ
مِرے خوابوں بڑی مشکل سے اس دل کو سُلایا ہے
کہیں ایسا نہ ہو تم پھر وہی تصویر لے آؤ
دیوار و در پہ لکھے ہوئے نام ہو گئے
بیٹھے بٹھائے مفت میں بدنام ہو گئے
ہو کر رہا وہی جو مقدر میں تھا لکھا
سب کوششوں کے ہاتھ بھی ناکام ہو گئے
اے دوست! راستے کا تو پتھر نہیں تھے ہم
بازار آ کے کس لیے بے دام ہو گئے
یارانِ تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب
منزل پہ جا پہنچنے کی خواہش کہاں ہے اب
زنداں میں دن بھی رات ہی جیسا گُزر گیا
اہل جنُوں وہ پہلی سی شورش کہاں ہے اب
جامِ شراب اب تو مِرے سامنے نہ رکھ
آنکھوں میں نُور ہاتھ میں جُنبش کہاں ہے اب
کیا کہیں ملت و دیں کفر ہے ایماں اپنا
پیش بُت سجدہ ہے اور دَیر ہے ایواں اپنا
جُھکتے تُربت پہ نہیں جُھکتے کسی اور سے ہیں
ماسوا اس کا کہاں راز ہے پنہاں اپنا
دیکھ تو چشمِ بصیرت سے انہیں اے مُنکر
ان بُتوں میں ہی تو ہے رنگ نمایاں اپنا