Sunday, 19 April 2026

عشق کے ماروں کو درکار سفر

 عشق کے ماروں کو درکار سفر

دو کناروں کا ہے بس یار سفر

سوچا اک دن یونہی اپنے بارے

یونہی لگنے لگا بے کار سفر

میں رُکا ہوں یوں دلِ خستہ میں اک

جیسے منزل پہ ہو درکار سفر

دیتا ہے تیرگی میں سہارا کبھی کبھی

 دیتا ہے تیرگی میں سہارا کبھی کبھی

چلتا ہے میرے ساتھ ستارا کبھی کبھی

ایسا نہیں کہ زیرِ ستم ہی رہے سدا

یہ بوجھ ہم نے سر سے اتارا کبھی کبھی

فرطِ نشاطِ وصل کی خاطر ہی جانِ جاں

کرتے ہیں تیرا ہجر گوارا کبھی کبھی

واہ کیا ذات مصطفائی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


واہ کیا ذات مصطفائیؐ ہے

مرکزِ نُورِ کبریائی ہے

مصطفیٰﷺ آئینہ ہے آئینہ

جس میں خالق کی رونمائی ہے

تیرے کوچہ میں تاج والوں کو

یا نبیﷺ حسرت گدائی ہے

شہروں سے شہر یار کی تنہائیاں نہ پوچھ

 شہروں سے شہر یار کی تنہائیاں نہ پوچھ

لالے سے لالہ زار کی تنہائیاں نہ پوچھ

گلشن میں پھول دیکھ تو سبزے کا رنگ دیکھ

بٹتی ہوئی بہار کی تنہائیاں نہ پوچھ

جنت بدر ہوئے تو ملے ارض پہ رفیق

جنت میں کِردگار کی تنہائیاں نہ پوچھ

ملا ہے کفر عشق اس کی عطا سے

 مِلا ہے کفرِ عشق اُس کی عطا سے

نوازا اس نے ہر غم کی دوا سے

نہیں کچھ دُور جاں سے کُوئے جاناں

فنا ہو جا کبھی پہلے فنا سے

میری دیوانگی پہ ہو نہ حیراں

بہت مِلتی ہے وہ صورت خُدا سے

آؤ پھر شہر محبت کو بسایا جائے

 قومی یکجہتی


آؤ پھر شہر محبت کو بسایا جائے

بجھ گئے ہیں جو دِیے ان کو جلایا جائے

پیار کے نقش کو تابندہ بنایا جائے

دیش سے فرقہ پرستی کو مٹایا جائے

جس کے دامن میں مہکتے تھے اصولوں کے گلاب

دوستو! پھر وہی ماحول بنایا جائے

ہم ہوئے حق کے اگر خوگر تماشا ہو گئے

 ہم ہوئے حق کے اگر خوگر، تماشا ہو گئے

پتھروں میں آئینہ بن کر تماشا ہو گئے

تیرگی میں دور تک پھیلی ہوئی ہے ایسی روشنی

بستیوں میں میرے جلتے گھر تماشا ہو گئے

ہو گئے حیران سب ہی دیکھ کر میری اڑان

شاہ بازوں میں مرے شہپر تماشا ہو گئے