Saturday, 13 June 2026

کہہ رہا ہے کیا ستارہ اب مری تقدیر کا

 ایک صاحب نے نجومی سے کہا یہ تو بتا

کہہ رہا ہے کیا ستارہ اب مِری تقدیر کا؟

ہوتی ہے دائیں ہتھیلی میں مِرے کھجلی بہت

یہ بتا میرا مقدر کیا مجھے دِکھلائے گا

زائچہ دیکھا نجومی نے تو بتلایا انہیں

یہ نشانی ہے تجھے پیسہ بہت مل جائے گا

روشن تھی دل کی ہر کلی اور چار سو سفید تھے

 دُنیائے حُسن و عشق کے سب رنگ و بُو سفید تھے

اس مے کدے کے بام و در، جام و سبُو سفید تھے

ہم نے تو اپنے خُون سے لکھی وفا کی داستاں

ان کو سمجھ نہ آ سکی جن کے لہُو سفید تھے

آنکھیں جو محوِ خواب تھیں تیرے سیاہ پوش کی

شب تھی، کہ تیرے شہر کے سب کُوبُکو سفید تھے

یوں تو سینے میں کئی تیر نکیلے اترے

 آنکھ کی راہ سے بُجھتے ہوئے لمحے اُترے

اقرباء جتنے تھے کشتی کے وہ سارے اترے

اس سے کہتے ہو کہ پھر لوٹنا ہو گا چھت پر

سانس کی لے کو جو تھامے ہوئے زینے اترے

چھا گئی بچوں کے چہرے پہ نئی ہریالی

آج پھر پیڑوں سے آنگن میں پرندے اترے

چمکتے آنکھ سے آنسو تمہارے دو ہی دیکھے ہیں

 چمکتے آنکھ سے آنسو تمہارے دو ہی دیکھے ہیں

زمین و آسمانوں میں ستارے دو ہی دیکھے ہیں

جو دیکھو ڈوب کر تو پھر کنارا تیسرا بھی ہے

بظاہر تم نے دریا کے کنارے دو ہی دیکھے ہیں

بس اک تھا میرے ہاتھوں میں اور اک تھا تیرے ہاتھوں میں

تو میں نے سارے بچپن میں غبارے دو ہی دیکھے ہیں

پیاری لڑکی تمہیں سب زندگی کہہ کر بلاتے ہیں

 پیاری لڑکی


سُنو پیاری لڑکی

میری ہتھیلی پر خُوشی کی تتلیوں کے سب رنگ سجے ہیں

اگر اجازت ہو تو

تمہارے اُداس چہرے پر مل دوں؟

پیاری لڑکی

دوستو آ کر ہمیں سمجھائیے

 دوستو آ کر ہمیں سمجھائیے

ان کے آنے تک ذرا بہلائیے

ان نگاہِ ناز سے پینے کے بعد

کیوں عبث اب میکدے میں جائیے

نَو گرفتارانِ اُلفت سے ہمیں

وارداتِ عشق پھر سُنوائیے

Friday, 12 June 2026

شاید میری موت پر نوحہ پڑھنے والا کوئی نہیں

 نوحہ پڑھنے والا کوئی نہیں


موت میرے دروازے پر

دستک نہیں دیتی

حالانکہ اُسے ہمارا گلی نمبر معلوم ہے

ابھی کل کی بات ہے

ہمسایوں کی نئی نویلی دُلہن بھگا لے گئی