Saturday, 7 November 2026

خود سے بیزار زمانے سے خفا لگتا ہے

 خود سے بیزار زمانے سے خفا لگتا ہے

وحشتِ جاں کا اثر دل پہ سوا لگتا ہے

دشتِ اُمید کی جھُلسی ہوئی خاموشی میں

بس تِرا نام مجھے حرفِ دُعا لگتا ہے

سبز پتوں پہ چمکتی ہوئی شبنم نے کہا

رات ڈھل جائے تو ہر رنگ نیا لگتا ہے

جا کے ان سے کہہ دینا راستے بچھڑتے ہیں

 جا کے ان سے کہہ دینا راستے بِچھڑتے ہیں

دل سے دل کے رشتے میں رابطے بچھڑتے ہیں

آنسوؤں کے حلقے میں پھُول سینت رکھے ہیں

خواب کب مُکرتے ہیں، سِلسلے بچھڑتے ہیں

شور سے ہواؤں کے ہے زمین کی نِسبت

موسموں کی سختی سے قافلے بچھڑتے ہیں

زمیں پر نیم جاں یاری پڑی ہے

 زمِیں پر نِیم جاں یاری پڑی ہے

اِدھر خنجر، اُدھر آری پڑی ہے

میرے ہی سر پہ ہیں اِلزام سارے

بڑی مہنگی وفاداری پڑی ہے

عجب سا خوف پھیلا ہے وطن میں

ہوا کے ہاتھ چنگاری پڑی ہے

بہت کردار بدلے جا چکے ہیں

 ہوش باش


بہت کردار بدلے جا چکے ہیں 

کہانی جو کہ تھی اب تک وہی ہے 

یہ لازم ہے کہانی خود کو بدلے 

وگرنہ فیصلے فطرت کرے گی

بڑے بے رحم اس کے ضابطے ہیں 

کسی سے دوستی اس کی نہیں ہے 

کاندھے پہ اپنی لاش اٹھانی پڑی مجھے

 جینے کی ہر اُمنگ سُلانی پڑی مجھے

کاندھے پہ اپنی لاش اُٹھانی پڑی مجھے

غدار ہمسفر تھے سو کرتا میں کیا بھلا

چلتی ہوئی ٹرین جلانی پڑی مجھے

گہرائی اُلجھنوں کی بُلندی سے جب دِکھی

ہاتھوں سے اپنی سِیڑھی گِرانی پڑی مجھے

تمہیں اپنوں نے سمجھا ہے نہ بیگانے سمجھتے ہیں

 تمہیں اپنوں نے سمجھا ہے نہ بیگانے سمجھتے ہیں

سمجھتے ہیں تو کچھ ہم جیسے دیوانے سمجھتے ہیں

تِری محفل کا ہر پیمانہ🍷، پیمانہ سہی، لیکن

جو ہم تک آئیں ہم تو ان کو پیمانے سمجھتے ہیں

غمِ جاناں لیے بیٹھے ہیں آغوشِ تصور میں

غمِ دوراں کو اب کیا چیز دِیوانے سمجھتے ہیں

Friday, 6 November 2026

در رسول پہ میں سر کے بل چلا جاؤں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عقیل سوچ رہا ہوں کہ کل چلا جاؤں

درِ رسولؐ پہ میں سر کے بَل چلا جاؤں

کوئی چلا ہو مدینے تو میں بھی رُکتا نہیں

اگر ہوا بھی کہے مُجھ سے چل چلا جاؤں

 قریب شہرِ نبیﷺ ہے تو کیوں دلِ مُضطر

سکُون ڈُھونڈنے دشت و جبل چلا جاؤں