اِلتجائے مُسافر
فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا
بڑی جناب تِریﷺ، فیض عام ہے تیرا
ستارے عشق کے تیری کشش سے ہیں قائم
نظامِ مہر کی صُورت نظام ہے تیرا
تِری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی
مسِیحؑ و خضرؑ سے اُونچا مقام ہے تیرا
اِلتجائے مُسافر
فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا
بڑی جناب تِریﷺ، فیض عام ہے تیرا
ستارے عشق کے تیری کشش سے ہیں قائم
نظامِ مہر کی صُورت نظام ہے تیرا
تِری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی
مسِیحؑ و خضرؑ سے اُونچا مقام ہے تیرا
آج مِلی وہ مُجھے
ایک طویل عرصے کے بعد
اسے مُسکراتا دیکھ کر
میں نے پُوچھ ہی لیا
اور کیا کیا ختم کرو گی
مُجھ سے وابستہ چیزوں میں
خاک سے خاک کی تصویر نکل آتی ہے
پاؤں ہٹتا ہے تو تقدیر نکل آتی ہے
کچھ زباں سے تو کہا جاتا نہیں ہے دن میں
رات تک آپ کی تحریر نکل آتی ہے
بات پر بات نکلتی ہے کوئی حل تو نہیں
بات بڑھتی ہے تو شمشیر نکل آتی ہے
پہونچا میں کُوئے یار میں جب سر لیے ہوئے
نازک بدن نِکل پڑے پتھر لیے ہوئے
اے دوست زندگی کی مجھے بد دُعا نہ دے
میں خاک ہو چکا ہوں مقدّر لیے ہوئے
چلتی ہے روندتی ہوئے پل پل مِرا وجود
ہر سانس خُواہشات کا لشکر لیے ہوئے
تمام خواب ادُھورے اُٹھا کے رکھے ہیں
کبھی تو ہوں گے یہ پُورے اٹھا کے رکھے ہیں
تمہارے نام کا پیکر بنا کے رکھا ہے
تمہارے نام کے چہرے اٹھا کے رکھے ہیں
یہ کیا کہ چاند تو بادل میں جا کے بیٹھا ہے
سو ہم نے جُگنو سُنہرے اٹھا کے رکھے ہیں
مطرب سے نوا رُوٹھ گئی ہے تو مجھے کیا
یہ شمع اگر جل کے بُجھی ہے تو مجھے کیا
میں کوہ و بیاباں کا چہکتا ہُوا پنچھی
ہر شاخ چمن پھُولی پھلی ہے تو مجھے کیا
موسم کی حسِیں تال پہ ناچیں گی فضائیں
یہ بات کسی گُل نے کہی ہے تو مجھے کیا
نگہ نمناک اور میں
یہ ٹوٹے خواب، اور میں
مسلسل گردشوں میں
مِرے دن رات، اور میں
نہیں تھے اس کے قابل
مِری اوقات، اور میں