Saturday, 24 October 2026

کاش دنیا میں مرتب ہو کوئی ایسا وفاق

 آرزو


کاش دنیا میں مرتب ہو کوئی ایسا وفاق

دور کر دے جو خدائی سے نفاق و افتراق

کاش ہو اقوامِ عالم میں نیا اک اتحاد

کاش رکھ دی جائے جنسِ قومیت بالائے طاق

کاش دنیا میں ہو قائم اک نئی جمہوریت

بھول جائے کاش دنیا جابروں کا طمطراق

مری وفاؤں کا تجھ کو اگر یقیں ہوتا

 مِری وفاؤں کا تجھ کو اگر یقیں ہوتا

ضرور دل سے مِرے آج تُو قریں ہوتا

اثر جو آہ میں ہوتا تو کیا نہیں ہوتا

جمال و حُسن کا مظہر دلِ حزیں ہوتا

شعور ہوتا جو تجھ کو مِری محبت کا

تو زندگی کا ہر اک لمحہ دلنشین ہوتا

بگڑیں نہ اپنی لونڈی پہ اتنا حضور آپ

 بگڑیں نہ اپنی لونڈی پہ اتنا حضُور آپ

میں ہی قصور وار ہوں ہیں بے قصُور آپ

جو بات کے دھنی ہیں پلٹتے نہیں کبھی

پورا کریں گے قول کو اپنے ضرُور آپ

مینا بھی کچھ کہے گی تو ہو گی بہت بُری

اب بند رکھیں "چونچ" کو اپنی حضُور آپ

سیل بلا ہے یا لہو اے چشم گریانی بتا

 سیلِ بلا ہے یا لہُو اے چشمِ گِریانی بتا؟

کُھل کر بتا، مُبہم بتا، با رمزِ پنہانی بتا؟

عُمرِ گُریزاں کاٹتے دو پل میں دو صدیاں ہُوئیں

رفتار میں تھی کیا کجی، کچھ حشر سامانی بتا؟

یادِ بہارِ رفتہ بھی کیوں کر نہیں آتی ہے اب

کچھ دل کی لغزش تھی کہ تھی آنکھوں کی نادانی بتا؟

آدمی اور درد سے نا آشنا ممکن نہیں

 آدمی اور درد سے نا آشنا ممکن نہیں

عکس سے خالی ہو کوئی آئینہ ممکن نہیں

آدمی انسان کامل بن تو سکتا ہے مگر

زندگی بھر رہ سکے وہ پارسا ممکن نہیں

دو کنارے جیسے دریا کے نہیں ملتے کبھی

ہم سے اقدام جفا، ان سے وفا ممکن نہیں

جو شخص محبت میں وفا کا نہیں قائل

 جو شخص محبت میں وفا کا نہیں قائل

یعنی کہ وہ دنیا میں خدا کا نہیں قائل

دھوکہ مجھے دینا ہے تو یہ ظرف ہے تیرا

لیکن میں تعلق میں جفا کا نہیں قائل

میں مان تو لیتا ہوں کہ یہ حکم ہے اس کا

جو اس نے مجھے دی ہے سزا کا نہیں قائل

ہواؤں کی کوئی بھی سرحد نہیں ہے

 ہمِیں سرحدوں میں ہیں اُلجھے ہوئے، پر

ہواؤں کی کوئی بھی سرحد نہیں ہے

وہ باغِ اِرم کی مہک ساتھ لے کر

مدینے کی گلیوں میں پھیلے کی جس دم

یقیناً مِری حسرتیں، آرزوئیں

گِرہ باندھ کر بھیجتی ہوں جو اکثر