Wednesday, 21 October 2026

یہ کیا عجیب تماشا لگا کے رکھا گیا

 یہ کیا عجیب تماشا لگا کے رکھا گیا

کسی کا پیار مقابل انا کے رکھا گیا

وہاں سے تیز ہواؤں کے تیر مارے گئے

یہاں چراغ نشانے پہ لا کے رکھا گیا

یہی گُھٹن نہ اُسے خُودکشی پہ لے آئے

جو دل کی بات کو دل میں دبا کے رکھا گیا

آبجو سے اٹھی بھاپ میں آنکھ کا پھول جلتا رہا

 آبجُو سے اُٹھی بھاپ میں آنکھ کا پھُول جلتا رہا

اک رہٹ سے مِرے خواب بہتے رہے اور میں چلتا رہا

میں نے دیکھے اندھیرے میں ڈُوبے ہوئے پھُول کِھلتے ہوئے

خواب کا ذائقہ میرے اندر ہی اندر پِگھلتا رہا

پتہ پتہ گِرا خاک پر رات تنہائی سے اٹ گئی

کروٹوں پر نئی کروٹیں کھیت میں ہل بدلتا رہا

کون کرتا ہے تمہیں منع کہیں جانے کو

 کون کرتا ہے تمہیں منع کہیں جانے کو

کون کہتا ہے کبھی تم سے ادھر آنے کو

زندگی نام ہے ہمت سے جیے جانے کا

قبل از وقت اجل کہتے ہیں گھبرانے کو

دشمن و دوست کی باتیں ہیں غضب کی باتیں

ہم نے کیا کیا نہ سنیں آپ کا کہلانے کو

قوم مسلم تجھے سرکار رسالت کی قسم

 قومِ مُسلم سے خطاب

 

قومِ مُسلم تجھے سرکار رسالتﷺ کی قسم

کیا ہُوا تجھ کو بتا گردشِ قسمت کی قسم

تُو نے کھائی تھی مساوات و اخوّت کی قسم

آج کھاتی ہے وفادارئ دولت کی قسم

تُو نے کیوں جاہ پرستی کا سبق سیکھ لیا

کیوں شہنشاہ پرستی کا سبق سیکھ لیا؟

گفتگو کو بدل کے دیکھتے ہیں

 گُفتگو کو بدل کے دیکھتے ہیں

اس کے لہجے میں ڈھل دیکھتے ہیں

ماہرِ حُسن بھی مجھے اب تو

سوچ اپنی بدل دیکھتے ہیں

رازِ خُوشبو کا جاننے کے لیے

لوگ گُل کو مسل دیکھتے ہیں

اس دور نے انساں انہیں تسلیم کیا ہے

 اس دور نے انساں انہیں تسلیم کیا ہے

منظور زمانے میں جنہیں خُونِ وفا ہے

حق کے لیے باطل کا پھر آغاز ہُوا ہے

پھر پیشِ نظر معرکۂ کرب و بلا ہے

ہے موسمِ گُل اور کسی گُل میں نہیں خُوشبو

منظر یہ گُلستاں کا بڑا ہوشرُبا ہے

Tuesday, 20 October 2026

یہ مرے خواب کی تعبیر نہیں ہو سکتی

 یہ مِرے خواب کی تعبِیر نہیں  ہو سکتی

آپ کے ہاتھ میں شمشِیر نہیں ہو سکتی

مجھ پہ تنہائی میں حیرت کا غضب کُھلتا ہے

اب مِرے درد کی تشہِیر نہیں ہو سکتی

دیکھ کر شہر کو وِیران یہ سُورج نے کہا

وقت کے پاؤں میں زنجِیر نہیں ہو سکتی