Monday, 2 November 2026

لہو اچھالتے لمحوں کا سلسلہ نکلا

 لہُو اُچھالتے لمحوں کا سِلسلہ نِکلا

مجھے پہنچنا کہاں تھا کہاں میں آ نکلا

جہاں سفید گُلابوں کا خواب تھا روشن

وہاں سیاہ پہاڑوں کا سلسلہ نکلا

بہاؤ تیز تھا دریا کا چند لمحوں میں

مِری نگاہ کی حد سے وہ دُور جا نکلا

صداقتوں کو کیا ہوا حیا کہاں چلی گئی

 صداقتوں کو کیا ہُوا،۔ حیا کہاں چلی گئی

جہانِ حُسن و عشق سے وفا کہاں چلی گئی

صلِیب و دار کی حِکایتیں غلط غلط لگیں

دِلوں کو چِیرتی ہُوئی صدا کہاں چلی گئی

قدم قدم بھٹک رہے ہیں قافلے نِگاہ کے

بُجھا کے شمعِ انجمن ہوا کہاں چلی گئی

زندگی کے سفر میں ساتھ ہو تم

 زندگی کے سفر میں ساتھ ہو تم

میرا دل💕، میری کائنات ہو تم

دیکھ کر جس کو دیکھتی ہی رہوں

وہ سحر، وہ حسِین رات ہو تم

تم ہی سب کچھ ہو جو بھی کچھ ہو مِرے

میری جِیت اور میری مات ہو تم

کر کے الفت جتا رہا تھا وہ

 کر کے اُلفت جتا رہا تھا وہ

کس قدر دُور جا رہا تھا وہ

اپنی اُونچائیوں کو پانے کو

مُجھ کو سِیڑھی بنا رہا تھا وہ

آج محفل میں مِرا ذِکر چلا

اپنی نظریں جھُکا رہا تھا وہ

اسے محبت تو نہیں کہتے

 میری ایک ہی محبت ہے

جو میرے ساتھ رہتی ہے

جو گُماں میں رہ گئی تھی

اِسے داستاں تو کہتے ہیں

اسے محبت تو نہیں کہتے


میری ایک ہی محبت ہے

Sunday, 1 November 2026

ہر خواب محبت کے انجام پہ نظریں تھیں

 ہر خوابِ محبت کے انجام پہ نظریں تھیں

جب آنکھ کُھلی میری، آلام پہ نظریں تھیں

اے دوست! رہِ غم میں ہر گام پہ نظریں تھیں

ہر صُبح سے خائف تھے، ہر شام پہ نظریں تھیں

دلدادۂ غم پہنچے،۔ اے دوست! سرِ منزل

تھک کر وہ گِرے جن کی آرام پہ نظریں تھیں

بات اتنی بھی نہ تھی جی سے گزر جاتے ہم

 بات اتنی بھی نہ تھی جی سے گُزر جاتے ہم

اک نِگاہِ غلط انداز سے مر جاتے ہم

اب تو یوں لگتا ہے بس غم نے جکڑ رکھا ہے

غم نہ ہوتے تو بھلا کب کے بِکھر جاتے ہم

دوپہر بھی نہ ڈھلی اور نہ پتھر ہی کٹے

شام ہوتی تو کہیں لوٹ کے گھر جاتے ہم