غزل کی آگ قلم کی گُھٹن برائے فروخت
یہ کون رکھ گیا ذہنی تھکن برائے فروخت
کتابیں پھینک کے غُربت نے اپنے ہاتھوں سے
یہ لِکھ لیا ہے بدن پر؛ بدن برائے فروخت
بندھے ہوئے ہیں کسی ربط غیب سے دونوں
بدن برائے کفن ہے۔ کفن برائے فروخت
غزل کی آگ قلم کی گُھٹن برائے فروخت
یہ کون رکھ گیا ذہنی تھکن برائے فروخت
کتابیں پھینک کے غُربت نے اپنے ہاتھوں سے
یہ لِکھ لیا ہے بدن پر؛ بدن برائے فروخت
بندھے ہوئے ہیں کسی ربط غیب سے دونوں
بدن برائے کفن ہے۔ کفن برائے فروخت
پہرا ہے حسرتوں کا دل و جاں کے آس پاس
اچھے ہیں پاسباں مِرے ساماں کے آس پاس
تھا ہم سے خوفِ جامی دری، بعدِ مرگ بھی
پھرتا رہا کفن،۔ تنِ عُریاں کے آس پاس
خلوت میں ہم چراغ جلاتے نہیں کبھی
پھرتا ہے نُور شمعِ شبستاں کے آس پاس
نہ کام فِکر سے نِکلا نہ چل سکی تدبیر
کسی طرح سے نہ بدلی پِھری ہوئی تقدیر
ضمیرِ دہر سے اندیشۂ خِزاں نہ گیا
بہار میں بھی زمانہ ہے درد کی تصویر
تعینات میں اُلجھی ہوئی ہے فِکرِ حیات
مِرے زوال کی تمہید ہے مِری تعمیر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
وہ جس کا سایہ ضیا سے آگے چلا گیا ہے
☆تمام خلقِ خدا سے آگے چلا گیا ہے
میں کس کو آواز دے رہا ہوں دیارِ جاں میں
وہ برق رَو تھا، صدا سے آگے چلا گیا ہے
مِرے بدن کو ابھی صلیبوں سے مت اُتارو
معاملہ اب سزا سے آگے چلا گیا ہے💢
آنکھوں کے سمندر میں اُتر کر نہیں دیکھا
حسرت ہی رہی اس کو کہ جی بھر نہیں دیکھا
ایسا نہ ہو خُود رشک کریں اپنی قبا پر
خُود اپنا سراپا ہی سنور کر نہیں دیکھا
دُزدیدہ نگاہی 👁 کا وہ دیتا رہا الزام
جس شخص کو تا عُمر پلٹ کر نہیں دیکھا
تِرے فِراق کے قِصے تِرے وِصال کے دُکھ
بھُلا نہ پائے ہم اب تک وہ ماہ و سال کے دکھ
تِرے بغیر ہمیں زندگی سے کیا لینا
یہی بہت ہے جو کٹ جائیں تجھ کمال کے دکھ
حوا کی بیٹی ہوئی قتل بھائی کے ہاتھوں
کوئی نہ سمجھے گا ہیروں کے ماہیوال کے دکھ
شکایتیں نہ زمیں سے نہ آسمان سے ہیں
کہ ایک عُمر سے ہم لوگ بے زبان سے ہیں
نہ ہو جو شہر کی مانند بُود و باش نہیں
یہی بہت ہے کہ صحرا میں ہم امان سے ہیں
مِری طرح ہدف عہد بے یقینی ہیں
خود اپنے آپ سے جو لوگ بدگُمان سے ہیں