Thursday, 24 September 2026

لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا

لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا

اِذن ملنا غمِ دل کہنے کا، آسان ہے کیا

کسی کی یاد مِرے دل میں اذاں دیتی ہے

میرے دل میں جو بسا ُہے وہ مسلمان ہے کیا

آگ لگتی ہے تو ہوتا ہے دُھواں بھی ہر سُو

اب تلک میری محبت سے وہ انجان ہے کیا

Tuesday, 22 September 2026

انجانے رشتوں کا موسم آیا ہے

انجانے رشتوں کا موسم آیا ہے

کون ہے اپنا یوں بھی کون پرایا ہے

دھرتی کے سُورج نے آگ لگائی ہے

آسمان پر انسانوں کا سایا ہے

ہم مخلوق میں بہتر ہیں، یہ دعویٰ ہے

ہم نے ہی آئینوں کو شرمایا ہے

وہ دکھے گا ضرور دیکھیں تو

 وہ دکھے گا ضرور دیکھیں تو

وہ وہاں اور دور دیکھیں تو

دل کہیں بعد ہے مگر پہلے

ہے نظر کا قصور دیکھیں تو

جس نے دیکھا ہے آنکھ بھر کے مجھے

اس نظر کا غرور دیکھیں تو

موسم ہجرت میں جو اپنوں سے بیگانے رہے

 موسم ہجرت میں جو اپنوں سے بیگانے رہے

وہ شب ظلمت میں کتنے جانے پہچانے رہے

ہوش والوں کو تماشے دیکھتے ہی منتظر

دل پہ پتھر رکھ کے ہم اک عمر دیوانے رہے

فاتح شب کی ہوس میں روشنی پہ مر مٹے

خودکشی کی آڑ میں بے خوف پروانے رہے

زوال عظمت انساں کا مرثیہ ہوں میں

 زوال عظمت انساں کا مرثیہ ہوں میں

سر کشیدہ پہ دستار بے انا ہوں میں

سگ زمانہ سے آگے نکل گیا ہوں میں

اب اپنے سامنے تنہا کھڑا ہوا ہوں میں

مرے وجود میں در آیا کیسا سناٹا

کہ ریگزار میں گم گشتہ اک صدا ہوں میں

Sunday, 20 September 2026

کچھ عشق بتاں کچھ فکر جہاں

 کچھ عشقِ بُتاں کچھ فکرِ جہاں دل یاس کا مارا کیا کہیے

کشتی کو تلاطم کا خطرہ، اور دُور کِنارہ کیا کہیے

اپنوں کے ہمیشہ جور و سِتم غیروں کا سہارا کیا کہیے

کس طور کیا ہے دنیا میں دو روز گُزارا کیا کہیے

بھٹکا ہوا آنسُو پلکوں کی چلمن میں لرزتا ہے ایسے

جیسے کہ گھٹا کے آنچل میں اُلجھا ہوا تارا کیا کہیے

آموختے کا جال زباں سے لپٹ گیا

 آموختے کا جال زباں سے لپٹ گیا

بدلی ہوا تو حرف کا پانسہ پلٹ گیا

مجھ سے نکل کے ہیبت شب کا تھا سامنا

سایہ وفور خوف سے پلٹا چمٹ گیا

صد تلخیوں کی شاخ پہ بیٹھی تھی موج نیم

برگد سے آ کے جھونکا ہوا کا پلٹ گیا