Friday, 11 September 2026

شان نیاز عشق دکھاتے چلے گئے

 شان نیاز عشق دکھاتے چلے گئے

ہم بتکدوں کو کعبہ بناتے چلے گئے

دیتا ہے کون بادۂ سرجوش بے طلب؟

ان کا کرم کہ جام بڑھاتے چلے گئے

میں جلوہ جلوہ کچھ انہیں پہچانتا گیا

وہ پردہ پردہ سامنے آتے چلے گئے

کون کہتا ہے غم مصیبت ہے

 کون کہتا ہے غم مصیبت ہے

یہ بھی مولا کی خاص رحمت ہے

لوگ کیوں زندگی پہ مرتے ہیں

میرے حق میں تو یہ قیامت ہے

حیلہ جوئی ہے اس کی رحمت کی

کب عبادت کوئی عبادت ہے

اک بڑے خواب کی فریاد بھی ہو سکتی ہے

 اک بڑے خواب کی فریاد بھی ہو سکتی ہے

زندگی موت سے آزاد بھی ہو سکتی ہے

پیاس اک پیاس جسے ماں کی دُعا ملتی پے

شہرِ مکٌہ کی وہ بُنیاد بھی ہو سکتی ہے

تُو مکمل سی کمی ہے کہ محبت ہے؟

یا فقیری کی یہ رُوداد بھی ہو سکتی ہے؟

Thursday, 10 September 2026

نہ ارماں لے کے آیا ہوں نہ حسرت لے کے آیا ہوں

 نہ ارماں لے کے آیا ہوں نہ حسرت لے کے آیا ہوں 

دل بے تاب میں تیری محبت لے کے آیا ہوں

نگاہوں میں ترے جلووں کی کثرت لے کے آیا ہوں 

یہ عالم ہے کہ اک دنیائے حیرت لے کے آیا ہوں

لبوں پر خامشی آنکھوں میں آنسو دل میں بے تابی 

میں ان کی بزم عشرت سے قیامت لے کے آیا ہوں

آج بے مہر و ستمگار نے پوچھا ہے مزاج

 آج بے مہر و ستمگار نے پوچھا ہے مزاج

فخر سے عرشِبریں پر مِرا پہونچا ہے مزاج

کبھی بے گانہ وشی اور مدارات کبھی

کبھی عجب قسم کا اس شوخ نے پایا ہے مزاج

خاک میں مل کے ہوئے خاک بالآخر جن کا

عُجب و پندار سے افلاک پہ دیکھا ہے مزاج

مرا مولیٰ منور یوں زمیں کی خاک کرتا ہے

 مِرا مولیٰ منور یوں زمیں کی خاک کرتا ہے

کہ پل میں کم نظر کو صاحبِ ادراک کرتا ہے

وہی تاریک ذہنوں میں اُگاتا ہے نئے سُورج

وہی روشن دماغوں کو خس و خاشاک کرتا ہے

صبا کو جو بنا دیتا ہے صرصر اک اشارے میں

چراغوں کو وہی تو سرکش و بے باک کرتا ہے

خوبروئی بھی دلآزار بھلا کیا ہو گی

 خوبروئی بھی دلآزار بھلا کیا ہو گی

ہر گلی مصر کا بازار بھلا کیا ہو گی

اب تیری یاد بھی اک بجھتے دیے کی لو ہے

دل میں پھر روشنی بیدار بھلا کیا ہو گی

ٹھہرے پانی کا بھی ہم ساتھ نہیں دے سکتے

چڑھتے دریاؤں کی رفتار بھلا کیا ہو گی