Friday, 30 October 2026

مٹاتا ہی رہا نقش قدم میں اپنے رہزن کا

 الٰہی نزع میں بھی ورد ہو ساقئ کوثر کا

صراحی کی طرح قلقل میں ڈھل جائے میرا منکا

دو عالم کی بلند و پست ہو جاتا ہے آئینہ

لچکنا ہی قیامت ہے، مِری شاخِ نشیمن کا

جہاں بیت الصنم تھا، اب وہیں بیت الحرم ٹھہرا

توارد ہو گیا اس بیت میں شیخ و برہمن کا

عشق کیا تھا پھر بدنام تو ہونا تھا

 اک تماشہ صبح و شام تو ہونا تھا

عشق کِیا تھا پھر بدنام تو ہونا تھا

ہم تھے مُجرم، اپنا جُرم بغاوت تھا

اپنے سر پہ کچھ الزام تو ہونا تھا

حق کوئی کا شیوہ ہم نے اپنایا

بالآخر ہم کو ناکام تو ہونا تھا

ابھرتے سورج کا سلام تیرے نام کر دیتا

 اُبھرتے سُورج کا سلام تیرے نام کر دیتا

دن کے سارے تام جھام تیرے نام کر دیتا

سردیوں کی دُھوپ ساری گرمیوں کی چھاؤں بھی

موسموں کی سرد شام تیرے نام کر دیتا

اختیار ہوتا گر اس بہار پر میرا

رنگ و بُو کی انتظام تیرے نام کر دیتا

رشتوں کو جب دھوپ دکھائی جاتی ہے

 رِشتوں کو جب دُھوپ دِکھائی جاتی ہے

سِگریٹ سے سِگریٹ سُلگائی جاتی ہے

جِسم ہمارا اک ایسی مِل ہے جس میں

اندھیاروں سے دُھوپ بنائی جاتی ہے

نا سے اس کی شکل مِلانے لگتا ہوں

جب اس کی آواز سُنائی جاتی ہے

طلسم توڑتے ہیں خواب سے نکالتے ہیں

 طلسم توڑتے ہیں خواب سے نِکالتے ہیں

رقیب کو تِرے گرداب سے نکالتے ہیں

پرندے صرف یہاں مستفید ہوتے نہیں

ہم اپنا رزق بھی تالاب سے نکالتے ہیں

ہمیں بُجھانے کی سازش میں تُو بھی شامل تھا

تُجھے بھی حلقۂ احباب سے نکالتے ہیں

پڑھوں درود پاک دل کے اضطراب کے لیے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پڑھوں درودِ پاکؐ دل کے اضطراب کے لیے

یہ کیمیا ہے، ہر بلا کے سدِّ باب کے لیے

وہ مستعار لیتے ہیں، ضیا رخِ حضورؐ سے

ہے وجہِ ناز، ماہتاب و آفتاب کے لیے

سراپا نُور سا، تو زُلف لیل کی مثال تھی

تھی جسمِ پاکؐ کی مہک، سند گُلاب کے لیے

قدم قدم پہ قفس ہے ندیم دیکھتے جاؤ

 بِگاڑ ہو کہ بناؤ، عجیب تیرے سبھاؤ

نگاہوں میں ہیں بُلاوے تو ابروؤں میں تناؤ

گجر بجا ہے سُہانا، مگر کرو نہ بہانہ

جھُکا قمر نہ دکھاؤ، بُجھا چراغ جلاؤ

اگر گھنا ہو اندھیرا، اگر ہو دُور سویرا

تو یہ اُصول ہے میرا کہ دل کے دِیپ جلاؤ