خون کی ندی بھی ہم نے پار کی
ہم سے باتیں کر رہے ہو دار کی
ہے یہاں کانٹوں سے اپنا واسطہ
کر رہا ہوں بات میں گُلزار کی
اک غریبِ شہر کو حق مل گیا
یہ خبر ہو گی کسی اخبار کی
خون کی ندی بھی ہم نے پار کی
ہم سے باتیں کر رہے ہو دار کی
ہے یہاں کانٹوں سے اپنا واسطہ
کر رہا ہوں بات میں گُلزار کی
اک غریبِ شہر کو حق مل گیا
یہ خبر ہو گی کسی اخبار کی
اثر دِکھلائے گا خُوابِ سحر آہستہ آہستہ
دِلوں سے جائے گا راتوں کا ڈر آہستہ آہستہ
نہیں بربادیوں کے واسطے یہ شرط دُنیا میں
مگر آباد ہوتے ہیں نگر آہستہ آہستہ
کہاں پھیلی ہے خُوشبو دفعتاً افکارِ عالی کی
کِیا شاداب سوچوں نے سفر آہستہ آہستہ
گُنہگاروں کی بخشش گر انہیں منظور ہو جائے
سیاہی نامۂ عِصیاں کی خُود کافُور ہو جائے
گئی تھیں دُور تک چِھینٹیں لہُو کی ذبح کرنے میں
ہمارے قتل کا قِصہ نہ کیوں مشہُور ہو جائے
اسیرِ گیسُوئے پُر پیچ کو کیا لُطف جینے کا
شبِ فُرقت کی تاریکی اگر کافُور ہو جائے
تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے
دُنیائے بے نمو میں پھرایا گیا مجھے
میں آنکھ سے گِرا تو زمیں کے صدف میں تھا
بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے
سازش میں کون کون تھا، مجھ کو نہیں ہے عِلم
مُصحف میں اِک ہی نام بتایا گیا مجھے
بقا ہو یا ہو فنا کچھ نہیں ہے رہنے کا
بجُز خُدا، بخُدا کچھ نہیں ہے رہنے کا
نشاطِ وصل ہو یا ہجر کی قیامت ہو
صمُوم ہو کہ صبا کچھ نہیں ہے رہنے کا
کھڑاؤں پہنی، لِیا اِذن اور چل نکلے
ہمیں پتہ ہے دِلا کچھ نہیں ہے رہنے کا
دید کے قابل کہاں ہے رنگ میخانہ ابھی
خوں نظر آتا ہے پیمانہ پہ پیمانہ ابھی
کون سمجھائے اسے رازِ شکستِ رنگ و بو
اک طلسمِ رنگ و بو میں گم ہے دیوانہ ابھی
مسکرا کر تم نے دیکھا پھول سے کھلنے لگے
عزتِ گلشن ہے اب جو دل تھا ویرانہ ابھی
اپنی جاگیر اُٹھا جُود و سخا بھی لے جا
ٹُوٹ جائے نہ کہیں اپنی وفا بھی لے جا
میرا ہمدرد ہے تُو، تُجھ سے شکایت کیسی
زخم دیتا ہے تو پھر میری دُعا بھی لے جا
ہم سے دِیوانے بھی مِلتے ہیں بڑی مُشکل سے
اپنے بارے میں بتا، میرا پتہ بھی لے جا