Thursday, 21 May 2026

آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہم

 آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہم

ہونٹ سی لیتے ہیں فریاد نہیں کرتے ہم

مُژدۂ ذوق اسیری کہ وہ فرماتے ہیں

قیدِ غم سے تجھے آزاد نہیں کرتے ہم

مُسکرا دیتے ہیں جب کوئی بلا آتی ہے

کسی صُورت غمِ اُفتاد نہیں کرتے ہم

فاصلے رکھ کر کبھی یوں درمیاں ملتا نہ تھا

 فاصلے رکھ کر کبھی یوں درمیاں مِلتا نہ تھا

شہر کے لوگوں سے اس کا تب کوئی رشتہ نہ تھا

وہ بکھر جاتا تھا ہر سُو ایک خُوشبو کی طرح

میں جُدائی کے شجر پر اس طرح جلتا نہ تھا

زخم کب کے بھر چکے ہیں اس کی یادوں کے مگر

میں لِپٹ کر اس طرح خُود سے کبھی روتا نہ تھا

کرو گے کیا اگر ان بے پروں کے پر نکل آئے

 یہ بھُوکے لوگ جس دن گھر سے سڑکوں پر نکل آئے

کرو گے کیا اگر ان بے پروں کے پر نکل آئے

بہت ہُشیار لوگو اس نئی تاریخ کے ہاتھوں

نہ جانے کب تمہارا گھر کسی کا گھر نکل آئے

کہیں کے پھول پتے ہیں کہیں کے پھل کہیں کے ہیں

عجب سے پیڑ اب بھارت کی دھرتی پر نکل آئے

یہ داغ دل ترے رخ کا جواب ہو نہ سکا

 یہ داغ دل تِرے رُخ کا جواب ہو نہ سکا

چراغ لاکھ جلا،۔ آفتاب ہو نہ سکا

ہزار بار زمانے نے کروٹیں بدلیں

مِری وفا میں کوئی انقلاب ہو نہ سکا

کہو کہ چھیڑ کے چھالوں کو کیا ملا آخر

لہو میں ڈُوب کے کانٹا گُلاب ہو نہ سکا

خیال صبح کی رعنائیاں کچھ اور کہتی ہیں

 خیالِ صُبح کی رعنائیاں کچھ اور کہتی ہیں

اندھیری رات کی تنہائیاں کچھ اور کہتی ہیں

کبھی جامِ طرب کی سمت دستِ شوق بڑھتا ہے

تو اس کام و دہن کی تلخیاں کچھ اور کہتی ہیں

مِری نظروں کی پہنائی میں ہیں اجزائے دو عالم

گُمان و وہم کی پرچھائیاں کچھ اور کہتی ہیں

Wednesday, 20 May 2026

جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے

 کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے

نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے

سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے

ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے

رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے

جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے

ہوش میں آ کہ بے خبر دور جنوں گزر گیا

 ہوش میں آ کہ بے خبر دورِ جنوں گُزر گیا

وہ نہ اب اس کی رہگزر دور جنوں گزر گیا

کھینچتے تھے شباب میں اشہب وقت کی زمام

شوق جوان ہے مگر دور جنوں گزر گیا

شانۂ فکر لایا ہوں چھین کے حادثات سے

گیسوئے زندگی سنور دور جنوں گزر گیا