Friday, 24 April 2026

اے میرے وقت مصیبت کی انیس

 اپنی بیگم صاحبہ کے نام منظوم خط


میری بیوی اے مِرے دل کا سرور 

میری عزت اور میرے گھر کا نور 

اے میرے آرام و راحت کی جلیس 

اے میرے وقتِ مصیبت کی انیس 

تجھ کو بخشے ہیں خدا نے وہ صفات 

تیرے دم سے رونق بزمِ حیات 

شاعر نہیں بھولتے ماں کا چہرہ اور پہلی محبت

 شاعر نہیں بھولتے

ماں کا چہرہ اور پہلی محبت

ایک شام اور دو کرسیاں

پریشانی میں دیا گیا دلاسہ اور گال سے چپکا بوسہ

ایک سفر اور کوئی بمسفر

سیاہ رنگ اور فیض

Thursday, 23 April 2026

دنیا نے نچایا ہے سبھی ناچ رہے ہیں

 دنیا نے نچایا ہے، سبھی ناچ رہے ہیں

ناچے ہیں گداگر بھی، سخی ناچ رہے ہیں

دانش بھی دریچے میں کھڑی جھوم رہی ہے

پاؤں میں پڑی دیدہ وری، ناچ رہے ہیں

باندھے ہیں یہ گھنگرو تو کوئی راز ہے اس میں

دم لیں گے بتائیں گے، ابھی ناچ رہے ہیں

جنگ کس سے لڑوں اس زمیں سے

 جنگ کس سے لڑوں؟

اس زمیں سے

جہاں میرے دشمن کی بیٹی کا اسکول ہے

اس سپاہی سے؟

جو اپنی محبوب عورت کی ناراض بانہوں کا 

صدمہ اٹھائے ہوئے لڑ رہا ہے

اٹھا وہ جو تھا میم کا پردہ شب معراج

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اٹھا وہ جو تھا میم کا پردہ شب معراج

احمدؐ نے احد آپ کو پایا شب معراج

جھگڑا جو ہوا عشق ابد حسن ازل میں

اک آن میں حضرت نے چکا یا شب معراج

حضرت ہی کی صورت کو گئی دیکھنے حضرت

حضرت ہی تھے حضرت کا تماشا شب معراج

اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے

 اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے

عشق کی راکھ کو سینے سے لگایا ہم نے

درد کی آگ کو شعلوں سے شناسا کر کے

لذت ہجر کی حدت کو چھپایا ہم نے

روح کی پیاس بجھانے کا ارادہ باندھا

وادیٔ عشق میں اک پھول کھلایا ہم نے

بے قراری بھی ہے قرار بھی ہے

 بے قراری بھی ہے قرار بھی ہے

ہر سکون جانِ اضطرار بھی ہے

کسی پیماں شکن کے وعدوں پر

کیا کریں ہم کو اعتبار بھی ہے

دل میں ہے خواہشِ ستائش بھی

حسن کا ذکر ناگوار بھی ہے