Saturday, 19 September 2026

کرنی ہو گر تو کیجیو جام و سبو کی بات

 کرنی ہو گر تو کیجیو جام و سبو کی بات

مت لائیو زباں پہ مگر آرزو کی بات 

مقدور بھی یہی ہے کہ پردے پڑے رہیں 

اپنی کہاں بساط کریں رو بہ رو کی بات

دیکھیں گے پھر سے بزم میں جلوہ نما اسے

سنتے رہیں گے بیٹھ کے اس ماہ رو کی بات

پھولوں میں جھلک حسن رخ یار کی نکلی

 پھولوں میں جھلک حسن رخ یار کی نکلی

ہم خوش ہیں کوئی شکل تو دیدار کی نکلی

الفاظ سے خوشبو تِرے کردار کی نکلی

جب بات مسیحا تِرے گفتار کی نکلی

نیلام ہوئے چاند ہر اک شہر میں لیکن

رونق نہ کہیں مصر کے بازار کی نکلی

وہ ایک شخص جو پورا مرا نہیں بنتا

 وہ ایک شخص جو پورا مِرا نہیں بنتا

خدا تو بنتا ہے پر آسرا نہیں بنتا

کہیں پہ واسطہ ہونے کے باوجود سُنو

کسی حوالے سے بھی واسطہ نہیں بنتا

ہماری آنکھ سے دل تک رسائی کیسے ہو

عطا بغیر یہاں راستہ نہیں بنتا 

ماں کے ہونٹوں پہ کانپتی ہے دعا

 ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو*/تروینی/ترائلے


 کھلتی خوبانیوں کی خوشبو سے

شام مہکی ہے میرے آنگن میں

ماں کے ہونٹوں پہ کانپتی ہے دعا


محمد امین

تیرے تحفے میرے نام

 میری چاہتوں کے سفر کا حاصل

دنیا والوں کے سبھی طعنے

ویران دن، اداس راتیں

جسم و جاں کے سب عذاب

تیرے تحفے

میرے نام


منور بلوچ

Friday, 18 September 2026

زندگی سے سفر نہیں جاتا

 زندگی سے سفر نہیں جاتا

کیوں مقدر سنور نہیں جاتا

شوقِ آوارگی ہے اس کو بھی

رات بھر میں بھی گھر نہیں جاتا

دے رہا ہے مجھے اذیت یہ

وقت یہ بھی گزر نہیں جاتا

یقیں تو پھر یقیں رہا گماں کا کیا گماں گیا

 یقیں تو پھر یقیں رہا گماں کا کیا گماں گیا

حدودِ دو جہاں کو تج حضورِ لا مکاں گیا

اٹھی نقابِ رخ اُدھر، اِدھر سے شور اٹھا کہ دل

ابھی ابھی یہیں تو تھا کہاں گیا کہاں گیا

جدارِ کعبۂ یقیں میں پھر دراڑ آئے گی

بس اس امیدِ ناز میں یہ دل کشاں کشاں گیا