عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تیرے نام سے ابتداء کر رہا ہوں
میرے رب میں تیری ثناء کر رہا ہوں
گُناہوں سے مجھ کو بچا دے تُو مولا
میں تُجھ سے یہی اِلتجا کر رہا ہوں
میں کمزور ہوں کر دے مجھ پہ عنایت
میں تُجھ سے یہی استدعا کر رہا ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تیرے نام سے ابتداء کر رہا ہوں
میرے رب میں تیری ثناء کر رہا ہوں
گُناہوں سے مجھ کو بچا دے تُو مولا
میں تُجھ سے یہی اِلتجا کر رہا ہوں
میں کمزور ہوں کر دے مجھ پہ عنایت
میں تُجھ سے یہی استدعا کر رہا ہوں
نہ بڑھ جائے حد سے خبردار دیکھو
یہ تقلیدِ مغرب کی رفتار دیکھو
بچایا جو کچھ سینما میں گنوایا
ذرا قومِ مُسلم کے اطوار دیکھو
اصول اور آئین کا فُقدان یکسر
پھر اس پر عزائم کا طومار دیکھو
اُٹھ کے در سے تمہارے اگر جائیں گے
تم ہی کہہ دو کہاں اور کدھر جائیں گے
جاں دے دیں گے ہم تم پہ مر جائیں گے
جاں نثاروں میں نام اپنا کر جائیں گے
تیرے عاصی بھی ہیں تجھ سے اُلفت بھی ہے
قہر بھی تیرا، تیری رحمت بھی ہے
روایت آپ ہی جِدّت کے حق میں بیٹھ گئی
قدیم دور کی پٹڑی سڑک میں بیٹھ گئی
ہمارے مِلتے ہی قطبی ستارا ڈُوب گیا
وہ رہنمائی کی حسرت فلک میں بیٹھ گئی
وہ لالٹین جو سِگنل کے پاس ٹُوٹ گئی
وہ پوری آنکھ ادھوری دھنک میں بیٹھ گئی
پھُول بہت مہنگے ہو گئے ہیں
تم پھُول خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے
یہ بھی پتہ ہے کہ تم میں پھُول چُرانے کا پتہ نہیں
تم تو پتا ہِلے تو ڈر جاتے ہو
لیکن تم نے اپنے سر پر قبرستان اُٹھا رکھا ہے
جس کے بھار سے تمہاری گردن ٹُوٹ رہی ہے
لاعنوان
وہ ان گنت خط
جو کتنی ہی زندگیوں میں
میں نے تمہیں لکھے تھے
اور تم نے ہر ایک خط
مسکراتے ہنستے روتے
کئی کئی بار پڑھا
اب یہاں زیست کے آثار نہیں دیکھو گے
تم مِرے شہر میں دِیوار نہیں دیکھو گے
حالتِ جنگ میں بیٹھا ہوں قلمدان لیے
اب مِرے ہاتھ میں تلوار نہیں دیکھو گے
جن درختوں کی طبیعت میں ذرا خم نہ ہو
اُن درختوں کو ثمر بار نہیں دیکھو گے