چھو نہیں پاتے بڑھا کر ہاتھ اس کو
مانگ لیں گے ہم اٹھا کر ہاتھ اس کو
ہم گلے ملتے تو جا پاتا نہیں وہ
کر دیا رخصت ہلا کر ہاتھ اس کو
ساتھ کی عادت نہیں وہ مر نہ جائے
چھوڑ دو تم بھی ملا کر ہاتھ اس کو
چھو نہیں پاتے بڑھا کر ہاتھ اس کو
مانگ لیں گے ہم اٹھا کر ہاتھ اس کو
ہم گلے ملتے تو جا پاتا نہیں وہ
کر دیا رخصت ہلا کر ہاتھ اس کو
ساتھ کی عادت نہیں وہ مر نہ جائے
چھوڑ دو تم بھی ملا کر ہاتھ اس کو
اس قدر تلخ نہ ہو خام خیالی نہ سمجھ
ظلِ سبحانی مِرے طنز کو گالی نہ سمجھ
ہو بھی سکتا ہے کوئی قرض چُکانے والا
در پہ آیا ہوا ہر شخص سوالی نہ سمجھ
شدتِ اشکِ تپاں کو نظر انداز نہ کر
چشم خونناب کو چائے کی پیالی نہ سمجھ
مہر و اخلاص کا مقتل ہے جہاں بھی یارو
ہے وہیں قافلۂ عصرِ رواں بھی یارو
قریۂ جاں میں لگی آگ تماشا دیکھیں
پر اسی قریے میں ہے اپنا مکاں بھی یارو
بیعتِ پیرِ مغاں ہم بھی کریں گے اک دن
ہے کوئی جام پئے تشناں لباں بھی یارو
جیسے بھی بچ رہی تھی بچا لی، چلے گئے
دستار کو اٹھایا،۔ سنبھالی، چلے گئے
دن تھے اہم بہت کہ نمو پا رہا تھا میں
کِن موسموں میں باغ کے مالی چلے گئے
چہرہ تھا نیند میں بھی عجب روشنی بھرا
سو ہم بھی چھُو کے کان کی بالی، چلے گئے
شکستہ پائیاں ہیں جان و دل بھی چور ہیں ساقی
حمیت کے کلیجے میں بڑے ناسور ہیں ساقی
ادھر غیرت کی خشکی ہے نہ گولر ہے نہ بیری ہے
مگر جس سمت چمچے ہیں ادھر انگور ہیں ساقی
تقرب ہائے افسر ہے نہ عیش مرغ و ماہی ہے
ابھی دفتر کے آنے پر بھی ہم مجبور ہیں ساقی
ہنسایا گر نہیں جاتا، رُلایا بھی نہیں جاتا
لِکھا ہر شعر محفل میں سُنایا بھی نہیں جاتا
محبت گر نہیں مجھ سے خُدارا چھوڑ دو لیکن
محبت میں یوں نظروں سے گِرایا بھی نہیں جاتا
مِرے چہرے کی وِیرانی کو پڑھنے کا ہُنر سِیکھو
کہ مجھ سے بارہا اب دل دِکھایا بھی نہیں جاتا
ہجر زدہ آنکھیں
محبت میں خوشی میں یہ
ہمیں اکثر رلاتی ہیں
کبھی یہ ہجر میں آنکھوں سے اک دریا بہاتی ہیں
غموں میں یہ کبھی کالی
گھٹائیں ساتھ لاتی ہے