عشق بہار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
ہجر کی نار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
اک تیری تصویر لگائی ہے گھر میں
اب دیوار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
اس کے سارے مہرے بھی تو میرے تھے
مجھ کو ہار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
عشق بہار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
ہجر کی نار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
اک تیری تصویر لگائی ہے گھر میں
اب دیوار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
اس کے سارے مہرے بھی تو میرے تھے
مجھ کو ہار بھی اپنی اپنی لگتی ہے
وہ اک قدم پہ چھوٹا یہ دو قدم پہ چھوٹا
رہزن نے کارواں کو قسطوں میں کر کے لوٹا
کتنا اداس ہو کر بیٹھا ہوا ہے کوئی
اتنی تو بات طے ہے ساتھی کسی کا چھوٹا
تڑپی ہے آسماں پر جو اس طرح سے بجلی
لگتا ہے اس جہاں میں پھر دل کسی کا ٹوٹا
عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تک
ایک ہی رسم ملی کعبہ سے بُت خانے تک
وادئ شب میں اُجالوں کا گزر ہو کیسے
دل جلائے رہو پیغامِ سحر آنے تک
یہ بھی دیکھا ہے کہ ساقی سے ملا جام مگر
ہونٹ ترسے ہوئے پہنچے نہیں پیمانے تک
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے گُنبدِ خضرا ہے تِری یاد بھی کیا یاد
جب یاد تِری آئی تو کچھ بھی نہ رہا یاد
سب کھنچ کے سِمٹ جائیں گے دامانِ نبیؐ میں
آقاﷺ کے غلاموں کو ہے آقاﷺ کا پتا یاد
تُو چاہے تو بخشش کے لیے یہ بھی بہت ہے
دل میں تِری پیارے کی ہے اے میرے خدا یاد
نظم "دل میں چُھپائی دوسری عورت" سے اقتباس
عورت ظالم ہے
وہ ظلم کرتی ہے خود کے ساتھ
بظاہر انجان لیکن
غم کا پہاڑا یاد کرتے کرتے ہر روز سسکتی ہے
اور تمام عمر نہیں بھول پاتی
خط کی ترجمانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
آخری نشانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
شاعروں نے بولا ہے، تازگی اذیت ہے
یہ غزل پرانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
کیوں تمہارے کہنے پر وہ غزل سناؤں میں
تم نے میری مانی ہے، یہ غزل سناؤں گا
باپ کی نصیحت
سر سے دوپٹے اُٹھائے اور گلے میں ڈال کر
باپ کی پگڑی گرانے کو چلی ہیں بیٹیاں
محرم و نامحرمی کی بندشیں سب توڑ کر
اجنبی محفل سجانے کو چلی ہیں بیٹیاں
عصمتیں لٹ جائیں گی پھر روئیں گی چلائیں گی
ہاتھ کچھ نہ آئے گا پھر وہ فقط پچھتائیں گی