Friday, 25 September 2026

تھی کوئی تمثیل گل شاخ گماں سے بے خبر

 تھی کوئی تمثیل گُل شاخِ گُماں سے بے خبر

عکس تھا ٹھہرا ہوا آبِ رواں سے بے خبر

جانے کیسی دُھن میں تھے ہم، بے خطر چلتے رہے  

غلغلۂ شہر غوغائے سگاں سے بے خبر 

غم سے بھر آئے اگر  تو خُود سے ٹکراتا ہے دل 

ٹُوٹتا ہے یہ سبو شیشہ گراں سے بے خبر

ہمیشہ ایک نیا راستہ وہاں سے ملا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہمیشہ ایک نیا راستہ وہاں سے مِلا

چراغِ نقشِ کفِ پا تِرا جہاں سے ملا

یہ کِن اُجالوں کی بستی کا تُو مسافر تھا

کہ آفتاب تِری گردِ ارواں سے ملا

خلا رہا نہ کہیں خلق اور خدا میں کوئی

کہ یوں زمیں کو دیا تُو نے آسماں سے ملا

Thursday, 24 September 2026

لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا

لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا

اِذن ملنا غمِ دل کہنے کا، آسان ہے کیا

کسی کی یاد مِرے دل میں اذاں دیتی ہے

میرے دل میں جو بسا ُہے وہ مسلمان ہے کیا

آگ لگتی ہے تو ہوتا ہے دُھواں بھی ہر سُو

اب تلک میری محبت سے وہ انجان ہے کیا

Tuesday, 22 September 2026

انجانے رشتوں کا موسم آیا ہے

انجانے رشتوں کا موسم آیا ہے

کون ہے اپنا یوں بھی کون پرایا ہے

دھرتی کے سُورج نے آگ لگائی ہے

آسمان پر انسانوں کا سایا ہے

ہم مخلوق میں بہتر ہیں، یہ دعویٰ ہے

ہم نے ہی آئینوں کو شرمایا ہے

وہ دکھے گا ضرور دیکھیں تو

 وہ دکھے گا ضرور دیکھیں تو

وہ وہاں اور دور دیکھیں تو

دل کہیں بعد ہے مگر پہلے

ہے نظر کا قصور دیکھیں تو

جس نے دیکھا ہے آنکھ بھر کے مجھے

اس نظر کا غرور دیکھیں تو

موسم ہجرت میں جو اپنوں سے بیگانے رہے

 موسم ہجرت میں جو اپنوں سے بیگانے رہے

وہ شب ظلمت میں کتنے جانے پہچانے رہے

ہوش والوں کو تماشے دیکھتے ہی منتظر

دل پہ پتھر رکھ کے ہم اک عمر دیوانے رہے

فاتح شب کی ہوس میں روشنی پہ مر مٹے

خودکشی کی آڑ میں بے خوف پروانے رہے

زوال عظمت انساں کا مرثیہ ہوں میں

 زوال عظمت انساں کا مرثیہ ہوں میں

سر کشیدہ پہ دستار بے انا ہوں میں

سگ زمانہ سے آگے نکل گیا ہوں میں

اب اپنے سامنے تنہا کھڑا ہوا ہوں میں

مرے وجود میں در آیا کیسا سناٹا

کہ ریگزار میں گم گشتہ اک صدا ہوں میں