لہُو اُچھالتے لمحوں کا سِلسلہ نِکلا
مجھے پہنچنا کہاں تھا کہاں میں آ نکلا
جہاں سفید گُلابوں کا خواب تھا روشن
وہاں سیاہ پہاڑوں کا سلسلہ نکلا
بہاؤ تیز تھا دریا کا چند لمحوں میں
مِری نگاہ کی حد سے وہ دُور جا نکلا
لہُو اُچھالتے لمحوں کا سِلسلہ نِکلا
مجھے پہنچنا کہاں تھا کہاں میں آ نکلا
جہاں سفید گُلابوں کا خواب تھا روشن
وہاں سیاہ پہاڑوں کا سلسلہ نکلا
بہاؤ تیز تھا دریا کا چند لمحوں میں
مِری نگاہ کی حد سے وہ دُور جا نکلا
صداقتوں کو کیا ہُوا،۔ حیا کہاں چلی گئی
جہانِ حُسن و عشق سے وفا کہاں چلی گئی
صلِیب و دار کی حِکایتیں غلط غلط لگیں
دِلوں کو چِیرتی ہُوئی صدا کہاں چلی گئی
قدم قدم بھٹک رہے ہیں قافلے نِگاہ کے
بُجھا کے شمعِ انجمن ہوا کہاں چلی گئی
زندگی کے سفر میں ساتھ ہو تم
میرا دل💕، میری کائنات ہو تم
دیکھ کر جس کو دیکھتی ہی رہوں
وہ سحر، وہ حسِین رات ہو تم
تم ہی سب کچھ ہو جو بھی کچھ ہو مِرے
میری جِیت اور میری مات ہو تم
کر کے اُلفت جتا رہا تھا وہ
کس قدر دُور جا رہا تھا وہ
اپنی اُونچائیوں کو پانے کو
مُجھ کو سِیڑھی بنا رہا تھا وہ
آج محفل میں مِرا ذِکر چلا
اپنی نظریں جھُکا رہا تھا وہ
میری ایک ہی محبت ہے
جو میرے ساتھ رہتی ہے
جو گُماں میں رہ گئی تھی
اِسے داستاں تو کہتے ہیں
اسے محبت تو نہیں کہتے
میری ایک ہی محبت ہے
ہر خوابِ محبت کے انجام پہ نظریں تھیں
جب آنکھ کُھلی میری، آلام پہ نظریں تھیں
اے دوست! رہِ غم میں ہر گام پہ نظریں تھیں
ہر صُبح سے خائف تھے، ہر شام پہ نظریں تھیں
دلدادۂ غم پہنچے،۔ اے دوست! سرِ منزل
تھک کر وہ گِرے جن کی آرام پہ نظریں تھیں
بات اتنی بھی نہ تھی جی سے گُزر جاتے ہم
اک نِگاہِ غلط انداز سے مر جاتے ہم
اب تو یوں لگتا ہے بس غم نے جکڑ رکھا ہے
غم نہ ہوتے تو بھلا کب کے بِکھر جاتے ہم
دوپہر بھی نہ ڈھلی اور نہ پتھر ہی کٹے
شام ہوتی تو کہیں لوٹ کے گھر جاتے ہم