واقفِ راز ہے اِمکان کی حد جانتا ہے
عِشق کب زہرہ جبِینوں کو سند جانتا ہے
یہ غمِ یار ہے، بھٹکا ہُوا راہی نہ سمجھ
بھانپ لیتا ہے طلب، جائے رسد جانتا ہے
وقت کے پاس کہاں وقت کہ دو پل ٹھہرے
چلتے رہنا ہے اسے، تا بہ ابد جانتا ہے
واقفِ راز ہے اِمکان کی حد جانتا ہے
عِشق کب زہرہ جبِینوں کو سند جانتا ہے
یہ غمِ یار ہے، بھٹکا ہُوا راہی نہ سمجھ
بھانپ لیتا ہے طلب، جائے رسد جانتا ہے
وقت کے پاس کہاں وقت کہ دو پل ٹھہرے
چلتے رہنا ہے اسے، تا بہ ابد جانتا ہے
بڑھو دریا کی جانب پھر ہے قتل عام لکھ دینا
مِرے پیاسے قبیلے کو مِرا پیغام لکھ دینا
قلم والو! لِکھائی کے تمہیں آداب سمجھا دوں
وہاں پھر کچھ نہ لکھنا جس جگہ اسلام لکھ دینا
بزرگوں کی دعا میرے لہو میں جب سے شامل ہے
مجھے آتا ہے ہر پتھر پہ اپنا نام لکھ دینا
سفر ہے دُھوپ کا اس میں قیام تھوڑی ہے
بلا ہے عشق، یہ بچوں کا کام تھوڑی ہے
کسی کو وصل ہے بوجھل کوئی فِراق میں خُوش
دلوں کے کھیل میں کوئی نظام تھوڑی ہے
ہمارے دل میں دھڑکتا ہے نام اس کا ابھی
ہے یہ شروعِ محبت💗، تمام تھوڑی ہے
(طنزیہ کلام) زن مُریدوں کو ہدایت
کسی کی جیب کاٹ لے
کسی کا بٹوہ پار کر
روڈ پہ اب اکڑ کے چل
سینے کو یُوں اُبھار کر
سر کو ذرا لپیٹ لے
اپنی قمیض اُتار کر
ایک شام کا عکس
گوادر کی ڈھلتی ہوئی
ایک شام کا عکس
تیری یادوں کے سائے
اور تیرے نام کا عکس
پورے چاند کی آدھی رات
ساحل پر جھرنوں کا شور
جس شخص کو عذابِ الٰہی کا ڈر نہیں
کچھ بھی دماغ اپنا کھپاؤ،۔ اثر نہیں
دہشت میں دن گُزر تو گئے ہیں کسی طرح
کیسے کٹے گی رات کسی کی خبر نہیں
گھر میں جوان بیٹی ہو تنہا تو باپ کو
لازم کسی بھی حال میں قصدِ سفر نہیں
لے کے بڑھتے ہی رہو مشعلِ رفتار ابھی
مسندِ وقت پہ بیٹھے ہیں گُنہ گار ابھی
ایک کا ہاتھ اگر کٹ بھی گیا، غم نہ کرو
اپنے لشکر میں بہت سے ہیں علمدار ابھی
تم پیمبر تو نہیں ہو کہ ہے بیعت لازم
اپنے دو ہاتھ کے ہم بھی ہیں طرفدار ابھی