Monday, 7 September 2026

شدت غم کا اب تو یہ عالم ہے

 شدت غم کا اب تو یہ عالم ہے

لب تو ہنستے ہیں، آنکھ پُرنم ہے

ہے تری یاد مونس شبِ غم

تُو نہیں سامنے تو کیا غم ہے

عشق محزوں کی خیر یو یا رب

آج ان کا مزاج برہم ہے

جائیے شیخ جی جائیے

 جائیے شیخ جی جائیے

منہ ہمارا نہ کھلوائیے

تاؤ کے بدلے غم کھائیے

ڈھب شریفانہ اپنائیے

پیار جیسی کوئی شے نہیں

پیار سے سب سے پیش آئیے

اندھیرا جھیل لیتا ہوں ستارے چھوڑ دیتا ہوں

 اندھیرا جھیل لیتا ہوں ستارے چھوڑ دیتا ہوں

میں طوفاں بھانپ کر پھر بھی کنارے چھوڑ دیتا ہوں

مجھے تنہا ہی رہنا ہے کسی سے کچھ نہیں کہنا

جو دل بیزار ہو جائے تو سارے چھوڑ دیتا ہوں

زیادہ دیر دل اک کام میں ٹک کر نہیں لگتا

میں پنجرہ کھول دیتا ہوں غبارے چھوڑ دیتا ہوں

وہ دل نہیں رہا وہ محبت نہیں رہی

 وہ دل نہیں رہا وہ محبت نہیں رہی

اب زندگی سے کوئی شکایت نہیں رہی

اس بار کوئی زخم بھی گہرا نہیں لگا

مجھ پر ستمگروں کی عنایت نہیں رہی

جائیں کہاں سمیٹ کے اپنی اداسیاں

کہتے تھے گھر جسے وہ عمارت نہیں رہی

Sunday, 6 September 2026

زندگی تجھ کو وفادار نہیں مانتا میں

 دھوپ کو سایۂ دیوار نہیں مانتا میں

زندگی تجھ کو وفادار نہیں مانتا میں

اس سے انسان کو جینے کا ہنر آتا ہے

گردشِ وقت کو بے کار نہیں مانتا میں

جاں بچانے کے لیے قتل کیا ہو جس نے

ایسے قاتل کو گنہ گار نہیں مانتا میں

دل کی لگی کو آج بجھا کر رہیں گے ہم

 دل کی لگی کو آج بجھا کر رہیں گے ہم

ہر دل کی آرزو کو مٹا کر رہیں گے ہم

سینے سے بار بار لگا کر رہیں گے ہم

ان کو گلے کا ہار بنا کر رہیں گے ہم

وقتِ سحر کی آس لگا کر رہیں گے ہم

طولِ شبِ فراق گھٹا کر رہیں گے ہم

مہمان دل میں پھر کوئی خانہ خراب ہے

 مہمان دل میں پھر کوئی خانہ خراب ہے

آنکھیں شراب و جام ہیں چہرہ کتاب ہے

تعریف ہو گئی تِری،۔ تُو کامیاب ہے

میں کیا کروں کہ تُو بھی مِرا انتخاب ہے

وہ قہر ہے، ثواب ہے، کوئی عذاب ہے

لیکن جناب! تیرِ نظر کامیاب ہے