Monday, 10 August 2026

صد شکر مدینے کی ہے خیرات مسلسل

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


صد شکر مدینے کی ہے خیرات مسلسل

یہ ابرِ کرم برسا ہے دن رات مسلسل

وہ حکمِ خدا ہے جو کہا میرے نبیﷺ نے

ملتی رہی امت کو یہی بات مسلسل

مانگے بنا سر اپنا رکھو ان کے جو درپر

ملتی ہی رہے گی تمہیں خیرات مسلسل

Sunday, 9 August 2026

کیا ڈرائیں گی بجلیاں مجھ کو

 کیا ڈرائیں گی بجلیاں مجھ کو

جب نہیں فکرِ آشیاں مجھ کو

گلستاں کا تِرے نظام ہے کیا

دیکھنا ہے یہ باغباں مجھ کو

اب جھکانا ہے سرکشوں کا سر

کچھ نہیں فکرِ جسم و جاں مجھ کو

ایک اک مسجد سارے مندر ہر گردوارا ڈوب گیا

 ایک اک مسجد، سارے مندر، ہر گُردوارا ڈُوب گیا

بجلی گھر کا باندھ بنا تو گاؤں ہمارا ڈوب گیا

بستی والوں سے کہتا تھا گھبرانا مت میں جو ہوں

ناؤ بنانے والا مانجھی وہ بے چارا ڈوب گیا

جانے کیسے اتنا پانی چھلکا چاند کٹورے سے

جس میں ہر اک جگمگ جگمگ ٹِم ٹِم تارا ڈوب گیا

کھل گئی کھڑکی اچانک پھر بھی مجھ کو ڈر نہ تھا

 کھل گئی کھڑکی اچانک پھر بھی مجھ کو ڈر نہ تھا

اب مری آنکھوں میں کوئی رات کا منظر نہ تھا

بہہ رہا تھا چار سو اک ریت کا دریا مگر

جس جگہ پر میں کھڑا تھا راستہ بنجر نہ تھا

شہر کے سارے مکاں لگنے لگے ہیں ایک سے

جس مکاں میں بھی گیا دیکھا میرا وہ گھر نہ تھا

میری آہ کا بھی اثر دیکھ لینا

 میری آہ کا بھی اثر دیکھ لینا

زمانے کو زیر و زبر دیکھ لینا

یہی ہو گا اے چارہ گر دیکھ لینا

نہ جائے گا درد جگر دیکھ لینا

میرے بعد تجھ کو یہ میری وفائیں

رُلائیں گی آٹھوں پہر دیکھ لینا

جہاں ساری خدائی جا رہی تھی

 جہاں ساری خدائی جا رہی تھی

وہاں سُولی سجائی جا رہی تھی

بس اتنا یاد ہے سُولی پہ مجھ کو

کوئی آیت سُنائی جا رہی تھی

وہ میری عُمر تھی پردے کے پیچھے

جو میرے ساتھ لائی جا رہی تھی

چمن میں ہم نے دیکھے ہیں

 چمن میں ہم نے دیکھے ہیں

بہت ہی خوب صورت پھول

الگ رنگت بھی ہے ان کی

جدا خوشبو بھی ہے ان کی

ہوا چلتی ہے جب بھی تو

سبھی پھولوں کو آپس میں