Sunday, 5 July 2026

سچ کی آواز کا سولی پہ بھی رد ہے حد ہے

 سچ کی آواز کا سُولی پہ بھی رد ہے حد ہے

تم اگر جھُوٹ بھی بولو تو سند ہے، حد ہے

تم تو سُورج تھے پہ حیرت ہے مجھے وقت زوال

اک دِیے سے تمہیں اس درجہ حسد ہے حد ہے

میں کہ مسجُود ملائک تھا کبھی داورِ حشر

میرے اعمال پر ان سے ہی مدد ہے حد ہے

جیسے کسی کا حرف محبت مری غزل

 جیسے کسی کا حرفِ محبت مِری غزل

یعنی مِرے خلوص کی نُدرت مری غزل

ظُلمت کدوں میں چاند کی مانند روشنی

تشنہ لبوں کے واسطے راحت مری غزل

میداں میں آ کے نوش تو فرمائیے جناب

چھلکا رہی ہے جامِ شہادت مری غزل

ادائے رسم محبت خطا سی لگتی ہے

 ادائے رسم محبت خطا سی لگتی ہے

ہمیں تو اپنی وفا بھی سزا سی لگتی ہے

سفر میں دھوپ کا احساس تک نہیں ہوتا

ہمارے سر پہ کسی کی دعا سی لگتی ہے

وہ میری فکر کو چھوتا ہے جب خیالوں میں

ہر ایک لفظ میں بوئے حنا سی لگتی ہے

Saturday, 4 July 2026

بت کے پردے میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بت کے پردے میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

لعل پتھر میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

ڈھونڈتا میں رہا تسبیح کے دانوں میں اسے 

ذرہ ذرہ میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

دل نے جا جا کے کیے لاکھوں طواف کعبہ 

اور وہ دل میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا 

حال ابتر اداس لوگوں کا

 حال ابتر اُداس لوگوں کا

کون رہبر اداس لوگوں کا

ہے اُداسی محیط ہر شے پر

درد پیکر اداس لوگوں کا

ایک فِرقہ مجھے زمانے میں

ہے میسّر اداس لوگوں کا

صحن گلشن میں چاندنی دیکھیں

 صحن گُلشن میں چاندنی دیکھیں

حُسن تکمیل زندگی دیکھیں

آؤ فطرت کی دیکھیں رعنائی

پتیاں کچھ ہری ہری دیکھیں

میرا ہر شعر ہے نشان حیات

میرا انداز شاعری دیکھیں

دور صحرا کی کڑی دھوپ میں چھاؤں جیسا

 دُور صحرا کی کڑی دُھوپ میں چھاؤں جیسا

وہ تو لگتا تھا مجھے میری دُعاؤں جیسا

اِک ریاست تھی میرے پاس نوابوں جیسی

اب تِرے شہر میں پھرتا ہوں گداؤں جیسا

اب اُسے ڈُھونڈتا پھرتا ہوں بیابانوں میں

جو میرے پاس سے گُزرا تھا ہواؤں جیسا