آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہم
ہونٹ سی لیتے ہیں فریاد نہیں کرتے ہم
مُژدۂ ذوق اسیری کہ وہ فرماتے ہیں
قیدِ غم سے تجھے آزاد نہیں کرتے ہم
مُسکرا دیتے ہیں جب کوئی بلا آتی ہے
کسی صُورت غمِ اُفتاد نہیں کرتے ہم
آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہم
ہونٹ سی لیتے ہیں فریاد نہیں کرتے ہم
مُژدۂ ذوق اسیری کہ وہ فرماتے ہیں
قیدِ غم سے تجھے آزاد نہیں کرتے ہم
مُسکرا دیتے ہیں جب کوئی بلا آتی ہے
کسی صُورت غمِ اُفتاد نہیں کرتے ہم
فاصلے رکھ کر کبھی یوں درمیاں مِلتا نہ تھا
شہر کے لوگوں سے اس کا تب کوئی رشتہ نہ تھا
وہ بکھر جاتا تھا ہر سُو ایک خُوشبو کی طرح
میں جُدائی کے شجر پر اس طرح جلتا نہ تھا
زخم کب کے بھر چکے ہیں اس کی یادوں کے مگر
میں لِپٹ کر اس طرح خُود سے کبھی روتا نہ تھا
یہ بھُوکے لوگ جس دن گھر سے سڑکوں پر نکل آئے
کرو گے کیا اگر ان بے پروں کے پر نکل آئے
بہت ہُشیار لوگو اس نئی تاریخ کے ہاتھوں
نہ جانے کب تمہارا گھر کسی کا گھر نکل آئے
کہیں کے پھول پتے ہیں کہیں کے پھل کہیں کے ہیں
عجب سے پیڑ اب بھارت کی دھرتی پر نکل آئے
یہ داغ دل تِرے رُخ کا جواب ہو نہ سکا
چراغ لاکھ جلا،۔ آفتاب ہو نہ سکا
ہزار بار زمانے نے کروٹیں بدلیں
مِری وفا میں کوئی انقلاب ہو نہ سکا
کہو کہ چھیڑ کے چھالوں کو کیا ملا آخر
لہو میں ڈُوب کے کانٹا گُلاب ہو نہ سکا
خیالِ صُبح کی رعنائیاں کچھ اور کہتی ہیں
اندھیری رات کی تنہائیاں کچھ اور کہتی ہیں
کبھی جامِ طرب کی سمت دستِ شوق بڑھتا ہے
تو اس کام و دہن کی تلخیاں کچھ اور کہتی ہیں
مِری نظروں کی پہنائی میں ہیں اجزائے دو عالم
گُمان و وہم کی پرچھائیاں کچھ اور کہتی ہیں
کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے
نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے
سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے
ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے
رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے
جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے
ہوش میں آ کہ بے خبر دورِ جنوں گُزر گیا
وہ نہ اب اس کی رہگزر دور جنوں گزر گیا
کھینچتے تھے شباب میں اشہب وقت کی زمام
شوق جوان ہے مگر دور جنوں گزر گیا
شانۂ فکر لایا ہوں چھین کے حادثات سے
گیسوئے زندگی سنور دور جنوں گزر گیا