Thursday, 19 March 2026

مکاں سے لامکاں تک ہے فقط چرچا محمد کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مکاں سے لامکاں تک ہے فقط چرچا محمدﷺ کا

گھٹا سکتا نہیں کوئی سنو رتبہ محمدﷺ کا

زمانے سے کیا لینا زمانہ کچھ نہیں دیتا

زمانہ کھا رہا ہے خود یہاں صدقہ محمدﷺ کا

مصیبت سے نکلنا جو کبھی چاہو اگر مومن

لبوں پر ورد ہو ہر دم فقط آقا محمدﷺ کا

آنکھ کے ساتھ کسی دید کا وعدہ باندھیں

 جسم ہوتی ہوئی ساعت کو لبادہ باندھیں

اپنے اندر کے نظارے کا ارادہ باندھیں

میں تنفس کی بنت مصرعے پہ رکھ دیتی ہوں

کون کہتا ہے زرا مصرعے کو سادہ باندھیں

خود فریبی کبھی اخلاق نہیں دے سکتی 

اپنے منشور میں تہذیب زیادہ باندھیں

کس نے کہا تھا اتنے سوالات کیجیے

 کس نے کہا تھا اتنے سوالات کیجیے

کم تھا کہ ان سے آپ ملاقات کیجیے

اے نازنین، حسنِ مکمل کا واسطہ

بہتر ہمارے شہر کے حالات کیجیے

پہلے مٹیں جناب رہِ عشقِ یار ہے

پھر اس کے بعد ذات کا اثبات کیجیے

Wednesday, 18 March 2026

جو اپنے سائے سے ہر لمحہ خوف کھاتے ہیں

 جو اپنے سائے سے ہر لمحہ خوف کھاتے ہیں

نکل کے دھوپ میں وہ لوگ کیسے آتے ہیں

لہو میں دیکھ کے تر سبز موسموں کا لباس

برہنہ برگِ شجر قہقہہ لگاتے ہیں

ثبوت دیتے ہیں وہ اپنی اعلیٰ ظرفی کا

ہر ایک طنز کو جو ہنس کے ٹال جاتے ہیں

جب کہ ماضی سے بہت پست بھی حال اچھا ہے

 جبکہ ماضی سے بہت پست بھی حال اچھا ہے 

پھر تو مستقبل رنگیں کا خیال اچھا ہے

جس کا جو ذوق ہو اس کو وہی آتا ہے پسند 

میں تو کہتا ہوں کہ دونوں کا خیال اچھا ہے

کچھ الیکشن میں تو کچھ نام پہ غالب کے کماؤ 

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

لسانی نفرتوں کو اب مٹانا چاہیے سب کو

 لسانی نفرتوں کو اب مٹانا چاہیے سب کو 

لگائی آگ جس نے بھی بجھانا چاہیے سب کو

سیاسی گفتگو بھی آج کل رہبر نہیں کرتے 

زرا اخلاق رہبر کو سکھانا چاہیے سب کو 

وطن تک بیچنے آئے جنہیں رہبر سمجھتے ہو 

لٹیروں سے وطن اپنا بچانا چاہیے سب کو 

پھر دل پہ میرے زخم نیا دے رہا ہے کیوں

 اس پیار سے تو مجھ کو صدا دے رہا ہے کیوں

چنگاریوں کو پھر سے ہوا دے رہا ہے کیوں

اے چارہ گرہ میں محبت کی ہوں مریض

بس پیار مجھ کو دے دے دوا دے رہا ہے کیوں

تقسیم کرتے دیکھا تو تب راز یہ کھلا

اس آدمی کو اتنا خدا دے رہا ہے کیوں