دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا
اک شکستہ ناؤ سا میں تیز رو پانی میں تھا
مجھ سے ملنے کوئی آتا بھی تو ملتا کس طرح
میں تو گھر میں بند خود اپنی نگہبانی میں تھا
آدمیت کے عوض اس نے خریدا ہے لباس
آدمی تھا آدمی جب عہد عریانی میں تھا
دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا
اک شکستہ ناؤ سا میں تیز رو پانی میں تھا
مجھ سے ملنے کوئی آتا بھی تو ملتا کس طرح
میں تو گھر میں بند خود اپنی نگہبانی میں تھا
آدمیت کے عوض اس نے خریدا ہے لباس
آدمی تھا آدمی جب عہد عریانی میں تھا
خوابِ شیریں ہی کُل اثاثہ ہے
اور حقیقت فقط تماشہ ہے
کل تلک یہ بھی ٹوٹ جائے گا
اک بھرم جو نیا تراشہ ہے
ہر گھڑے میں بھرے ہیں کچھ کنکر
اور ہر اک پرندہ پیاسا ہے
نہیں ہے شہر میں آسان بے خطر جانا
بنا کے راہگزر بھیڑ سے گزر جانا
مجھے ڈبو نہ سکیں گی یہ تند خُو موجیں
مِری سرشت میں ہے ڈُوب کر اُبھر جانا
بِچھا نہ راہ میں اپنی انا کی چنگاری
مجھے تو آتا ہے شعلوں سے بھی گزر جانا
گُفتگو کُھل کر نہیں کرتے کبھی یاروں کے بِیچ
مسئلے وہ حل کریں گے چار دیواروں کے بیچ
شہر کی اُونچی فصیلوں میں مِرے گھر کا وجود
ایک ننھا سا دِیا ہو جیسے کُہساروں کے بیچ
گُم ہوئی کتنی صدائیں، جل بُجھے ہونٹوں کے بول
کتنی آوازوں نے دم توڑا ہے نقّاروں کے بیچ
شب کے کالے گُنبد میں اک نُوری در تخلیق ہو
قُدرت کے ہاتھوں سے کیا عُمدہ منظر تخلیق ہوا
پہلے آہن زاد چھُری سے نازک گردن کٹتی تھی
پھر دل پر برسانے کو لفظی خنجر تخلیق ہوا
قطرہ قطرہ جُثہ پگھلا ہاتھوں پر چھالے چمکے
ایک گھروندا رہنے قابل تب جا کر تخلیق ہوا
نہ ہو ان کا جب سایہ دعائیں کام آتی ہیں
کہ دنیا سے گزر کے بھی یہ مائیں کام آتی ہیں
سکوتِ شب میں یادوں کی صدائیں کام آتی ہیں
مجھے تیرے دوپٹے کی ہوائیں کام آتی ہیں
یہ بیٹے زندگی میں آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں
مگر یہ بیٹیاں تو دائیں بائیں کام آتی ہیں
مجھ پر بھی بے اثر تھا اُجالا کبھی کبھی
مجھ کو بھی راس آتا اندھیرا کبھی کبھی
بستی میں رہ کے جس کا تصوّر محال تھا
وہ لُطف دے گیا مجھے صحرا کبھی کبھی
سُورج بھی بدلیوں میں گرِفتار ہو گیا
ظُلمت سے بھی بُرا تھا سویرا کبھی کبھی