دیوار و در پہ لکھے ہوئے نام ہو گئے
بیٹھے بٹھائے مفت میں بدنام ہو گئے
ہو کر رہا وہی جو مقدر میں تھا لکھا
سب کوششوں کے ہاتھ بھی ناکام ہو گئے
اے دوست! راستے کا تو پتھر نہیں تھے ہم
بازار آ کے کس لیے بے دام ہو گئے
دیوار و در پہ لکھے ہوئے نام ہو گئے
بیٹھے بٹھائے مفت میں بدنام ہو گئے
ہو کر رہا وہی جو مقدر میں تھا لکھا
سب کوششوں کے ہاتھ بھی ناکام ہو گئے
اے دوست! راستے کا تو پتھر نہیں تھے ہم
بازار آ کے کس لیے بے دام ہو گئے
یارانِ تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب
منزل پہ جا پہنچنے کی خواہش کہاں ہے اب
زنداں میں دن بھی رات ہی جیسا گُزر گیا
اہل جنُوں وہ پہلی سی شورش کہاں ہے اب
جامِ شراب اب تو مِرے سامنے نہ رکھ
آنکھوں میں نُور ہاتھ میں جُنبش کہاں ہے اب
کیا کہیں ملت و دیں کفر ہے ایماں اپنا
پیش بُت سجدہ ہے اور دَیر ہے ایواں اپنا
جُھکتے تُربت پہ نہیں جُھکتے کسی اور سے ہیں
ماسوا اس کا کہاں راز ہے پنہاں اپنا
دیکھ تو چشمِ بصیرت سے انہیں اے مُنکر
ان بُتوں میں ہی تو ہے رنگ نمایاں اپنا
ہر قدم پر اک نیا خطرہ ہے میرے شہر میں
ہوں مگر مجبور جینے کو اندھیرے شہر میں
کھیتیاں سُوکھی پڑی تھیں چار سُو دیہات میں
جم کے برسے اس طرف بادل گھنیرے شہر میں
سب مکیں سہمے ہوئے، خاموش ہیں دیوار و در
گُھومتے ہیں ہر طرف قاتل، لُٹیرے شہر میں
لالے پڑے ہیں جان کے جینے کا اہتمام کر
جن میں ہو کیفِ زندگی بہرِ خدا وہ کام کر
طورِ حیات سے اُڑا جذبۂ زیستن کی آگ
جب کہیں جا کے نیّتِ زندگی دوام کر
پہلے یہ سوچ دام کے توڑنے کی سکت بھی ہے
بعد کو دل میں خواہشِ دانۂ زیرِ دام کر
وقت کی قید نہیں زُلف کے سُلجھانے میں
رنگ بھرتی ہے چلی جاتی ہوں افسانے میں
میں وہ مے کش ہوں سرشام ہی میخانے میں
غموں کو گھول کے پی جاتی ہوں پیمانے میں
آزمانا ہے تو پھر شمع کو جلا کے دیکھو
موت کا خوف نہیں ہوتا ہے پروانے میں
سارے الفاظ معانی میں گرفتار نہیں
بات کرتے ہیں مگر بات کا اظہار نہیں
میں نے پالا ہے خیالوں کو مروّت کے بغیر
میرے دل میں کسی ہمسایہ کی دیوار نہیں
ہم تو اِس دور کو کہتے نہیں اُس دور کے لوگ
ہم تو بازار سے گُزرے ہیں خریدار نہیں