Saturday, 21 March 2026

وصل کی شب میں سحر ڈھونڈ کے لایا نہ کرو

 وصل کی شب میں سحر ڈھونڈ کے لایا نہ کرو

خواب ہی میں مجھے رہنے دو جگایا نہ کرو

میری آنکھوں میں نہاں ایک سیاہ شیشہ ہے

میری تصویر بھی اب مجھ کو دکھایا نہ کرو

جھلملاتا ہے اب اک جلوہ مِری آنکھوں میں

آندھیاں بن کے مِری نظروں پہ چھایا نہ کرو

منا کے روٹھی ہوئی روشنی کو لے آؤ

 منا کے روٹھی ہوئی روشنی کو لے آؤ

مِرے قریب مِری زندگی کو لے آؤ

تمام عمر گزاری ہے جس کی فرقت میں

مِری تمنا مِری زندگی کو، لے آؤ

وہ جس مقام پہ درویش مسکراتا ہے

اُسی مقام پہ ہر آدمی کو لے آؤ

فرزانے تجھ کو ڈھونڈ کے لاچار ہو گئے

 فرزانے تجھ کو ڈھونڈ کے لاچار ہو گئے

دیوانے تیرے صاحبِ اسرار ہو گئے

یارب عطا ہو پائے طلب کو جنوں کا جوش

ہوش و حواس راہ کی دیوار ہو گئے

گھبرا کے ہم بھی تنگئ دامانِ فکر سے

عریاں کبھی کبھی سرِ بازار ہو گئے

بالوں کی سیاہی میں سفیدی جو عیاں ہے

 بالوں کی سیاہی میں سفیدی جو عیاں ہے

بس چونکیے یہ صبح کی آوازِ اذاں ہے

یوں لذتِ آآزارِ قفس رشتۂ جاں ہے

"اب دل پہ نشیمن کا تصور بھی گراں ہے"

ہر سُو نگراں ہوں متجسس ہیں نگاہیں

سائے تو بہت ہیں مگر انسان کہاں ہیں

Friday, 20 March 2026

در جاناں سے نہ لے جائے خدا اور کہیں

 در جاناں سے نہ لے جائے خدا اور کہیں

ہم نہیں جائیں گے اس در کے سوا اور کہیں

کر دیا ان کی جدائی نے عزیزوں سے جدا

میں کہیں اور ہوں اور دل ہے مرا اور کہیں

آپ کے کوچے میں اغیار کہاں آتے ہیں

میں نے دیکھے ہیں نقشِ کفِ پا اور کہیں

جب سے سرکار نے نعتوں کی اجازت دی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جب سے سرکارﷺ نے نعتوں کی اجازت دی ہے

ساری دُنیا نے مجھے ڈھیر محبّت دی ہے

اُنؐ کے رتبے کو بیاں کرنا تو ممکن ہی نہیں

اُنﷺ کو اللّٰہ نے نبیوں کی صدارت دی ہے

ہجر کاٹیں تبھی کُھلتا ہے کسی وصل کا بھید

آج تک اِس لیے اُس نے ہمیں فُرقت دی ہے

محفوظ کیا رہا ہے نظر سے دکان میں

 محفوظ کیا رہا ہے نظر سے دُکان میں

کیسے چھُپاؤں عمر کو ٹُوٹے مکان میں

دُہرائے کون قتلِ غریباں کی داستاں

زنجیر ڈال دی ہے ڈروں نے زبان میں

دن میں جو دے رہے تھے ہمیں آشتی کا درس

شب میں چُھپا رہے تھے کوئی شے مچان میں