گلاب سارے مہکنے لگے ہیں گلشن کے
وہ میری قبر پہ آئے ہیں آج بن ٹھن کے
چرا کے لے گیا میری وہ زندگی کی کتاب
بڑے خلوص سے صدقے اتارے رہزن کے
وہ ہم سے مانگ رہے ہیں ثبوت حب وطن
بزرگ جن کے تھے پنشن گزار لندن کے
گلاب سارے مہکنے لگے ہیں گلشن کے
وہ میری قبر پہ آئے ہیں آج بن ٹھن کے
چرا کے لے گیا میری وہ زندگی کی کتاب
بڑے خلوص سے صدقے اتارے رہزن کے
وہ ہم سے مانگ رہے ہیں ثبوت حب وطن
بزرگ جن کے تھے پنشن گزار لندن کے
میں عرش و فرش پر محوِ خیال طور رہتا ہوں
عیاں سیرت سے ہوں، صورت سے گو مستور رہتا ہوں
حقیقت میں میرا مسکن تو مے خانہ ہے مے خانہ
نہ حاجت جام و مینا کی، نشے میں چُور رہتا ہوں
میرا سایہ نہ چھوڑے گا قیامت تک میرا پیچھا
یہ اتنا پاس آتا ہے، میں جتنا دور رہتا ہوں
ان کا انداز بیاں اور اثر تو دیکھو
گفتگو کا یہ سلیقہ یہ ہنر تو دیکھو
زخم پر مرہم امید رکھا ہے میں نے
دیکھنے والو مِرا زخم جگر تو دیکھو
کہہ رہی ہے مِرے کانوں میں گزرتی ہوئی شام
یہ مِرا حوصلہ یہ عزم سفر تو دیکھو
جفا دیکھنی تھی ستم دیکھنا تھا
نصیبوں میں رنج و الم دیکھنا تھا
وہ آتے نہ آتے شب وعدہ لیکن
مجھے دے کے سر کی قسم دیکھنا تھا
خجالت ہوئی اس کے کوچہ میں کیا کیا
مجھے پہلے نقش قدم دیکھنا تھا
کیا بتاؤں مجھے کیا یاد ہے کیا یاد نہیں
اتنے غم ہیں کہ غم ہوش ذرا یاد نہیں
اس گنہ گار محبت پہ خدا رحم کرے
جس کو کچھ تیری محبت کے سوا یاد نہیں
میری دیوانہ مزاجی پہ ہے الزام مگر
اپنی بے گانہ نگاہی کی ادا یاد نہیں
میرے نہ ہوئیے مجھے اپنا نہ کیجیے
لیکن مذاق حسن کو رسوا نہ کیجیے
دل تو یہ کہہ رہا ہے کہ ان سے گلہ کروں
غیرت یہ کہہ رہی ہے کہ شکوہ نہ کیجیے
ٹوٹے گا نفس کا یہ تسلسل خبر نہیں
چلتی ہوئی ہوا کا بھروسہ نہ کیجیے
سنبھل کر شراب محبت لٹائیں
وہ مخمور آنکھیں قیامت نہ ڈھائیں
نہ لائیں گی کیا زلفِ جاناں کی نکہت
نہ آئیں گی کیا روح پرور ہوائیں
خدا جانے قسمت میں ہیں یا نہیں ہیں
دیارِ محبت کی دل کش فضائیں