Sunday, 22 February 2026

بارش ہوئی تو شہر کے تالاب بھر گئے

 بارش ہوئی تو شہر کے تالاب بھر گئے

کچھ لوگ ڈوبتے ہوئے دھل کر نکھر گئے

سورج چمک اٹھا تو نگاہیں بھٹک گئیں

آئی جو صبح نو تو بصارت سے ڈر گئے

دریا بپھر گئے تو سمندر سے جا ملے

ڈوبے جو ان کے ساتھ کنارے کدھر گئے

سفر ہو سخت تو رک رک کے پیاس لگتی ہے

 بہت نڈھال بہت بد حواس لگتی ہے

یہ بھیڑ شہر کی کتنی اداس لگتی ہے

تلاش آب میں مقصد نہ فوت ہو جائے

سفر ہو سخت تو رک رک کے پیاس لگتی ہے

وہ جس سے ہم نے ہمیشہ ہی دوریاں رکھیں

اب اس کی بات میں مجھ کو مٹھاس لگتی ہے

زندگی گلشن میں بھی دشوار ہے تیرے بغیر

 زندگی گلشن میں بھی دشوار ہے تیرے بغیر

اس چمن کا پھول بھی اک خار ہے تیرے بغیر

زندگانی عشق کی ناکامیوں میں صرف کی

زندگی کا لطف بھی دشوار ہے تیرے بغیر

تیری صورت سامنے ہوتی تو میں کہتا غزل

مجھ پہ ذوق شاعری اک بار ہے تیرے بغیر

میرے گھر سے خوشیوں کے تہوار ہجرت کر گئے

 میرے گھر سے خوشیوں کے تہوار ہجرت کر گئے

جب سے خوشیاں دینے والے یار ہجرت کر گئے

صحن کی دیوار کا دکھ یوں پرندوں نے لیا

چھوڑ کر گھر میں لگے اشجار ! ہجرت کر گئے

ایک ہجرت لازمی ہے دن بدلنے کے لیے

اس لیے ہم زندگی کے پار ہجرت کر گئے

عمارت حوصلوں کی صبر سے تعمیر کرنا ہے

 عمارت حوصلوں کی صبر سے تعمیر کرنا ہے

ہمیں خوابوں کی خود ہی دوستو! تعبیر کرنا ہے

یہ دھرتی مان ہے اپنا، یہی پہچان ہے اپنی

اسے آباد رکھنا ہے، اسے تطہیر کرنا ہے

تمہارا نام لکھنا ہے در و دیوار پر اپنے

ہمیں افسانہ الفت کا کوئی تحریر کرنا ہے

Saturday, 21 February 2026

بچھڑ کے مجھ سے وہ میری ہی جستجو کرے گا

 بچھڑ کے مجھ سے وہ میری ہی جستجو کرے گا

کہ میری یادوں کے پانی سے اب وضو کرے گا

یونہی سناتے نہیں مجھ کو ہجر کے قصے

وہ شخص اپنی پہ آیا تو ہو بہو کرے گا

اتر رہا ہے فضاؤں میں زرد سا موسم

میں جانتی ہوں یہ کھیتوں کو بے نمو کرے گا

آسمانوں کے کھلے باب میں دیکھا جاتا

 آسمانوں کے کھلے باب میں دیکھا جاتا

میں کسی روز ترے خواب میں دیکھا جاتا

خاک ہوں اڑتا ہوں سچ ہے کہ میں آوارہ مزاج

پانی ہوتا بھی تو سیلاب میں دیکھا جاتا

بد شکن ہے یوں سرابوں میں دکھائی دینا

اس سے اچھا تو تھا گرداب میں دیکھا جاتا