فریضہ ہے سو ہم نبھایا کریں گے
چراغوں کو مجلس میں لایا کریں گے
اندھیروں اُجالوں کی ہے یہ لڑائی
بُجھاؤ گے تم، ہم جلایا کریں گے
چُھپاؤ گے چہرہ کہاں تک تم اپنا
ہم اک آئینہ بن کے آیا کریں گے
فریضہ ہے سو ہم نبھایا کریں گے
چراغوں کو مجلس میں لایا کریں گے
اندھیروں اُجالوں کی ہے یہ لڑائی
بُجھاؤ گے تم، ہم جلایا کریں گے
چُھپاؤ گے چہرہ کہاں تک تم اپنا
ہم اک آئینہ بن کے آیا کریں گے
سفر میں ہم اکیلے تو نہیں تھے
محبت تھی جھمیلے تو نہیں تھے
ہمارے دل میں ان کی چاہ تھی بس
ہم ان کے دل سے کھیلے تو نہیں تھے
نمی اس روز تھی چند آنسوؤں کی
ان آنکھوں میں یہ ریلے تو نہیں تھے
آج کا کرب تو کچھ اور بھی بڑھ کر نکلا
میرا ماضی ہی مِرے حال سے بہتر نکلا
سائے کی طرح جو رہتا تھا مِرے ساتھ کبھی
آج تو وہ مِرے سائے سے بھی بچ کر نکلا
میں تو سمجھا تھا کفن اوڑھ لیا سبزے نے
برف پگھلی تو وہ کچھ اور نکھر کر نکلا
سوچ کوئی بھی نہیں ہوتی عمل سے باہر
تم بھی آ جاؤ ذرا کُنجِ غزل سے باہر
زندگی بکھری ہے پیچیدہ گُزرگاہوں میں
اور ہم رہتے رہے دشت و جبل سے باہر
سوہنیوں اور چنابوں میں ہے نِسبت اب بھی
اور سَسیاں بھی نہیں ہیں ابھی تھل سے باہر
اک یاد سو رہے کو اُٹھاتی ہے آج بھی
خُود جاگتی ہے مجھ کو جگاتی ہے آج بھی
یہ کیسی مطربہ ہے جو چُھپ کر جہان سے
دھیمے سُروں میں رات کو گاتی ہے آج بھی
صدیاں گُزر گئیں جسے ڈُوبے ہوئے یہاں
اس کو صدائے شوق بُلاتی ہے آج بھی
محبتیں تو مِلیں گو وفا مِلی نہ مِلی
سفر حسِین تھا منزل کا کیا ملی نہ ملی
نہ دوستوں سے توقع نہ دشمنوں سے گریز
یہ دل تھا گورِ غریباں، شمع جلی نہ جلی
عجب سا حبس ہے انسانیت کے ذہنوں میں
کسے ہو فِکر کہ بادِ صبا چلی نہ چلی
آنکھوں سے پی رُت مستانی ہو گئی
جام سے پینا رسم پرانی ہو گئی
کچھ ان کے بھی الہڑپن کی ہے خطا
تھوڑی ہم سے بھی نادانی ہو گئی
وقتِ سحر یہ کون چمن میں آ گیا
شرم سے شبنم پانی پانی ہو گئی