Monday, 8 June 2026

کچھ اور ہے مجھ کو غم دوراں تو نہیں ہے

 کچھ اور ہے مجھ کو غم دوراں تو نہیں ہے

مضطر ہے دل شوق پریشاں تو نہیں ہے

لٹنے کی تمنا ہے مِرے گوہر دل میں

مفلس تو نہیں بے سر و ساماں تو نہیں ہے

کل ہو گی قیامت وہ یقیں بھی نہیں کرتا

ظالم کوئی کافر ہے مسلماں تو نہیں ہے

حکام کے آگے پیچھے پھر حکام سے تیری یاری ہو

 حکام کے آگے پیچھے پھر، حکام سے تیری یاری ہو

اک آدھ منسٹر کا بھی تو اے یار اگر درباری ہو

پھر تو ہی تو ہو دنیا میں، پھر تیری نمبر داری ہو

کیا رنگ برنگی کاریں ہیں کیا رنگ رنگیلے بنگلے ہیں

اس رنگ برنگی دنیا میں کچھ تو بھی ہاتھ یہاں رنگ لے

کچھ یہ رنگ لے، کچھ وہ رنگ لے

گناہ عشق میں اس بات کی تسکین ہوتی ہے

 گناہ عشق میں اس بات کی تسکین ہوتی ہے

ہوا ہو جرم گہرا تو سزا سنگین ہوتی ہے

کھلے رکھتے ہو دروازے دریچے بارہا تم کیوں

سنو دنیا تماشوں کی بڑی شوقین ہوتی ہے

سفر میں دھوپ ہے تو کیا اداسی اوڑھ لو گے تم

ملے سائے جو تھے ان کی بڑی توہین ہوتی ہے

عقل بڑی بے رحم تھی اس نے

 عقل بڑی بے رحم تھی اس نے


دل کو اس کے دُکھ کی گھڑی میں

تنہا چھوڑ دیا

جسم نے لیکن ساتھ دیا

دُکھ کے گہرے ساگر میں

دل کو چھاتی سے لِپٹائے

Sunday, 7 June 2026

تخت میرا ہے تاج کس کا ہے

 تخت میرا ہے تاج کس کا ہے

میرا اپنا مزاج کس کا ہے

روشنی کی مجھے نہیں حاجت

ماں کے آگے سراج کس کا ہے

دیکھتے ہیں رُتوں کی پیشانی

کل بھی کس کا تھا آج کس کا ہے

یاد میں ہے پچھلی فصلوں کی سب روداد پرندے کو

 جس روِش پہ بے دھڑک زندگی کا راج تھا

اس سڑک پہ اب کوئی سنتری بٹھا گیا

خوف کی زمین پر کون باغبان تھا

خانہ دار تار کی بیل اِک اُگا گیا

اندر دھنستی دیواروں کے پار کہیں پر

ننگی بھُوکی خلقت میں کوئی

نہیں جاتی ہماری چاک دامانی نہیں جاتی

 جنونِ عشق کی یہ فتنہ سامانی نہیں جاتی

نہیں جاتی ہماری چاک دامانی نہیں جاتی

مصیبت یوں کبھی دنیا میں پہچانی نہیں جاتی

نہیں آتی بلا جو سر پہ وہ مانی نہیں جاتی

گمانِ بد نہ کر اے محتسب رِندوں کی حالت پر

کہ ہو کر چاک دامن پاک دامانی نہیں جاتی