آج بدلی ہے ہوا ساقی پلا جام شراب
برس کالی وعدہ جاتے ہیں برس کالے سحاب
آرسی سوں اب شراب ناب کھینچا چاہئے
نیند سوں اٹھ یار نے دیکھا ہے چشم نیم خواب
صاف دل ہو گر ہے تجھ کوں خواہش ترک ہوا
آب آئینہ اوپر آتا نہیں ہرگز حباب
آج بدلی ہے ہوا ساقی پلا جام شراب
برس کالی وعدہ جاتے ہیں برس کالے سحاب
آرسی سوں اب شراب ناب کھینچا چاہئے
نیند سوں اٹھ یار نے دیکھا ہے چشم نیم خواب
صاف دل ہو گر ہے تجھ کوں خواہش ترک ہوا
آب آئینہ اوپر آتا نہیں ہرگز حباب
جھوٹ کو سچ تُو مِرے یار بنا سکتا ہے
یہ ہُنر سُن تجھے سردار بنا سکتا ہے
تجھ کو بھی حق ہے سیاست میں چلے جانے کا
تُو اگر ریت کی دیوار بنا سکتا ہے
یہ نیا دورِ ترقی ہے یہاں سِکوں سے
کوئی خرقہ، کوئی دستار بنا سکتا ہے
ہمیں بھی ہیں فنون جنگ یہ جلنا بھی جلانا بھی
مگر رکھتے ہیں ہم دستور ملنا بھی ملانا بھی
کوئی سیکھے نظر سے کس طرح سب کو نچاتے ہیں
وہ اک پل میں نظر میں ان کی اٹھنا بھی گرانا بھی
چلو اک شام مے خانے یہی ارمان ہے مجھ کو
وہاں جی بھر کے میرے ساتھ پینا بھی پلانا بھی
خدا کے ہاں جب موازنۂ اُمم ہوا ہے
علیؑ کے بندوں کا نام پہلے رقم ہوا ہے
کہ گھر کے ملنے پہ جتنا ہوتا غریب ہے خوش
مِرے جنم پر بھی اُتنا ہی خوش اَلم ہوا ہے
غموں کی تعداد سے مجھے اب یہ لگ رہا ہے
یہ دل ہے کعبہ کہ سینہ صحنِ حرم ہوا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ملتفت کتنی مدینے کی ہوا لگتی ہے
یہ تو مہمان نوازی کی ادا لگتی ہے
کس کی آمد سے معطر ہے سحر کا دامن
یہ تو سرکارﷺ کی خوشبوئے قبائکتی ہے
دیکھنا ہے میں پہنچتا ہوں مدینے کہ نہیں
لوگ کہتے ہیں بزرگوں کی دعا لگتی ہے
بتاؤ کیا مداوا ہو؟
سفر میں جب کوئی منزل، پڑاؤ، راستہ نہ ہو
گھنا جنگل ہو وحشت کا
بگولے دائروں کے ہوں
محبت کی زمیں پر
جب کسی منہ زور دریا کا فقط الٹا بہاؤ ہو
زمانے کو خود سے نہ انجان رکھ
کوئی منفرد اپنی پہچان رکھ
مہک جائے خوشبو سے سارا جہاں
سجا کر محبت کا گُلدان رکھ
جو ہے کامیابی کی چاہت تجھے
نظر اپنی منزل پہ ہر آن رکھ