تنور وقت کی حدت سے ڈر گئے ہم بھی
مگر تپش میں تپے تو نکھر گئے ہم بھی
جہاں پہنچ کے مسافر کے رخ بدلتے ہیں
رہ حیات کے اس موڑ پر گئے ہم بھی
جلا دیا تھا سفینہ اتر کے ساحل پر
جنون فتح میں کیا کیا نہ کر گئے ہم بھی
تنور وقت کی حدت سے ڈر گئے ہم بھی
مگر تپش میں تپے تو نکھر گئے ہم بھی
جہاں پہنچ کے مسافر کے رخ بدلتے ہیں
رہ حیات کے اس موڑ پر گئے ہم بھی
جلا دیا تھا سفینہ اتر کے ساحل پر
جنون فتح میں کیا کیا نہ کر گئے ہم بھی
دوستوں کی بزم سے، اُس دن نکل جائیں
اُن میں سے اکثر کہ جب تیور بدل جائیں
خاص کر دشمن کی تو حاجت نہیں رہتی
آستیں کے سانپ جب اپنوں میں مل جائیں
دیکھنا مڑ کر تو پھر عزت کا سودا ہے
چھوڑ کر ہم جب کوئی محفل نکل جائیں
بیٹھا سینے میں جھانکتا ہے کیا؟
دل کے اندر بھی راستہ ہے کیا؟
پیچھے مڑ مڑ کے دیکھنے والے
کوئی روزن سے دیکھتا ہے کیا؟
عشق الفت سے آگے کی شے ہے
سوچنا کیا تھا، سوچتا ہے کیا؟
دیکھو تو وہ خواب سہانا لگتا ہے
سوچو تو آسیب پرانا لگتا ہے
پہلے بھی کب تو نے سچی بات کہی
اب کے بھی یہ ایک بہانا لگتا ہے
جانے کون سا اصلی روپ ہے ساجن کا
پل میں اپنا پھر بیگانہ لگتا ہے
زندگی جاتے جاتے یہ کیا کہہ گئی
موت کچھ فاصلے پر کھڑی رہ گئی
کوئی بھی سخت جاں تجھ سا دیکھا نہیں
جاتے جاتے مجھے ہر بلا کہہ گئی
جو زباں نے کہی وہ ادھوری رہی
بات پوری مری خامشی کہہ گئی
دودھ میں دراڑ پڑ گئی
خون کیوں سفید ہو گیا
بھید میں ابھید کھو گیا
بٹ گئے شہید، گیت کٹ گئے
کلیجے میں کٹار گڑ گئی
دودھ میں دراڑ پڑ گئی
کھیتوں میں بارودی گندھ
میں پھر لوٹ چلی ہوں
ان نظموں کی جانب
جو قلم تک آتے آتے رہ گئیں
اس کتاب کی جانب
جو تمہاری بک بک سے ادھوری رہ گئی
اس برسات کی جانب