Saturday, 15 August 2026

نئی صدی کے تقاضوں کا سامنا کرنا

 نئی صدی کے تقاضوں کا سامنا کرنا

پھر اس کے بعد وفا کا مطالبہ کرنا

لگام دوں اسے کیسے زبان ان پڑھ ہے

اسے تو آتا ہے سچ بات برملا کرنا

نئے زمانے کے بچوں کی شوخیاں دیکھو

شرارتوں میں بڑوں کا مقابلہ کرنا

ہر قدم پر کر رہا ہوں ورد نام مصطفیٰ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تو بیاں اوصاف ہوں گے آپ کے تفصیل سے

ساتھ دینے کو کہوں گا میں اگر جبریلؑ سے

اور تو زادِ رہِ شہرِ نبیﷺ کچھ بھی نہ تھا

میں نے بس موتی نکالے آنکھ کی زنبیل سے

اک شبِ خوش بخت میں دیدارِ پیغمبرﷺ ہوا

اور مکمل ہو گیا میں خواب کی تکمیل سے

آگ گھی سے بجھانا مناسب نہیں

 آگ گھی سے بُجھانا مُناسب نہیں

دل جلوں کو جلانا مناسب نہیں

مجھ پہ سارا زمانہ ہنسے تو ہنسے

پر تیرا مُسکرانا مناسب نہیں

جاں لُٹانا مناسب ہے پر عشق میں

آبرُو کو گنوانا مناسب نہیں

خون کی ندی بھی ہم نے پار کی

 خون کی ندی بھی ہم نے پار کی

ہم سے باتیں کر رہے ہو دار کی

ہے یہاں کانٹوں سے اپنا واسطہ

کر رہا ہوں بات میں گُلزار کی

اک غریبِ شہر کو حق مل گیا

یہ خبر ہو گی کسی اخبار کی

مرے دل کے بیاباں سے گزر آہستہ آہستہ

 اثر دِکھلائے گا خُوابِ سحر آہستہ آہستہ

دِلوں سے جائے گا راتوں کا ڈر آہستہ آہستہ

نہیں بربادیوں کے واسطے یہ شرط دُنیا میں

مگر آباد ہوتے ہیں نگر آہستہ آہستہ

کہاں پھیلی ہے خُوشبو دفعتاً افکارِ عالی کی

کِیا شاداب سوچوں نے سفر آہستہ آہستہ

گنہگاروں کی بخشش گر انہیں منظور ہو جائے

 گُنہگاروں کی بخشش گر انہیں منظور ہو جائے

سیاہی نامۂ عِصیاں کی خُود کافُور ہو جائے

گئی تھیں دُور تک چِھینٹیں لہُو کی ذبح کرنے میں

ہمارے قتل کا قِصہ نہ کیوں مشہُور ہو جائے

اسیرِ گیسُوئے پُر پیچ کو کیا لُطف جینے کا

شبِ فُرقت کی تاریکی اگر کافُور ہو جائے

تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے

 تازہ ہوا کا جھونکا بنایا گیا مجھے

دُنیائے بے نمو میں پھرایا گیا مجھے

میں آنکھ سے گِرا تو زمیں کے صدف میں تھا

بہرِ جمالِ عرش اُٹھایا گیا مجھے

سازش میں کون کون تھا، مجھ کو نہیں ہے عِلم

مُصحف میں اِک ہی نام بتایا گیا مجھے