خاک کی چادر پہ سونا چاہیے
بس یہی ہم کو بچھونا چاہیے
خون مکھن بن کے نکلے جسم سے
قوم کو اتنا بلونا چاہیے
ہم نے جو بویا وہی کاٹا میاں
اپنے کرتوتوں پہ رونا چاہیے
خاک کی چادر پہ سونا چاہیے
بس یہی ہم کو بچھونا چاہیے
خون مکھن بن کے نکلے جسم سے
قوم کو اتنا بلونا چاہیے
ہم نے جو بویا وہی کاٹا میاں
اپنے کرتوتوں پہ رونا چاہیے
قصۂ غم دراز ہونا تھا
درد کو چارہ ساز ہونا تھا
تیری مستِ شباب آنکھوں کو
نرگسِ نیم باز ہونا تھا
فصلِ گُل کا شباب ہے ساقی
بابِ مے خانہ باز ہونا تھا
نوحہ ایک دھرتی کا
سنانے آج آیا ہوں
میں نوحہ ایک دھرتی کا
کہانی ایک مقتل کی
جہاں مقتول کے لب پر
صدا " اللہ اکبر" کی
جہاں قاتل کے لب پر بھی
یہی تو اک خرابی ہے تمہاری
سبھی کو دستیابی ہے تمہاری
وہاں تک کا نظارہ پہلے کر لوں
جہاں تک بے حِجابی ہے تمہاری
گُلابوں سے نہیں رشتہ تمہارا؟
تو کیوں رنگت گُلابی ہے تمہاری
محبت میں جفا ہوتی رہی ہے
نہ جانے کیا خطا ہوتی رہی ہے
کسے معلوم میرے دل کی حالت
تِری محفل میں کیا ہوتی رہی ہے
متاعِ کارواں لُٹتے ہوئے بھی
تلاشِ رہنما ہوتی رہی ہے
نئی صدی کے تقاضوں کا سامنا کرنا
پھر اس کے بعد وفا کا مطالبہ کرنا
لگام دوں اسے کیسے زبان ان پڑھ ہے
اسے تو آتا ہے سچ بات برملا کرنا
نئے زمانے کے بچوں کی شوخیاں دیکھو
شرارتوں میں بڑوں کا مقابلہ کرنا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تو بیاں اوصاف ہوں گے آپ کے تفصیل سے
ساتھ دینے کو کہوں گا میں اگر جبریلؑ سے
اور تو زادِ رہِ شہرِ نبیﷺ کچھ بھی نہ تھا
میں نے بس موتی نکالے آنکھ کی زنبیل سے
اک شبِ خوش بخت میں دیدارِ پیغمبرﷺ ہوا
اور مکمل ہو گیا میں خواب کی تکمیل سے