Wednesday, 19 August 2026

محبت کی راہوں میں بے چارگی ہے

 محبت کی راہوں میں بے چارگی ہے

انا پرستوں نے اپنی انا وار دی ہے

تمہیں کیسے راس آئے گی یہ محبت

تم ہی نے کہا تھا کہ آوارگی ہے

پرندوں نے جنگل میں پیغام بھیجا

یہاں اک قفس میں فراوانگی ہے

بابا یہ آسماں ہے نیلا کیوں

 نیلا آسمان


میری بچی نے مجھ سے کل پُوچھا

بابا یہ آسماں ہے نیلا کیوں؟

میں نے سوچا پر اس سے کہہ نہ سکا

یہ سوال اس کے دل میں آیا کیوں؟

کیوں یہ باتیں ہیں اتنی دلآویز

دولت درد کمانے کے لیے زندہ ہیں

 دولت درد کمانے کے لیے زندہ ہیں

لطف جینے کا اٹھانے کے لیے زندہ ہیں

فرق یہ کم ہے کہ تم اپنے لیے جیتے ہو

اور ہم سارے زمانے کے لیے زندہ ہیں

ٹوٹ کر بھی تو ہیں پیوستہ شجر سے اب تک

ہم نئی زندگی پانے کے لیے زندہ ہیں

سنو یہ جو ہجر کی کٹار ہے

 کٹارِ عشق


سنو یہ جو ہجر کی کٹار ہے

بڑی تیز اس کی دھار ہے

یہ کلیجہ کاٹے جا رہی ہے

زیست کو دور لیے جا رہی ہے

ان نینوں میں اب ہر وقت برسات ہے

چاروں طرف اماوس کی سیاه رات ہے

Tuesday, 18 August 2026

پیاری لڑکی بقول تمہارے بے شک تم اور میں

 پیاری لڑکی

بقول تمہارے

بے شک تم اور میں

آنے والے چند ماہ و برس میں

عمر کی اس منزل پر ہوں گے

جس پر پہنچ کے ہر راہی

جو طے نہیں ہے وہی شدہ لگے ہے مجھے

جو طے نہیں ہے وہی شدہ لگے ہے مجھے

یہ زندگی تو کوئی حادثہ لگے ہے مجھے

کسی کی زلفِ پریشاں سے چاک داماں تک

غرض جنوں کا وہی سلسلہ لگے ہے مجھے

وہ شخص جس نے ہزاروں ستم کیے ایجاد

کہیں سے وہ بھی ستایا ہوا لگے ہے مجھے

نیا سفر ہے کوئی کارواں ہے کہ نہیں

 نیا سفر ہے، کوئی کارواں ہے کہ نہیں؟

راستے پر کسی منزل کا نشاں ہے کہ نہیں؟

چراغ بجھنے لگے ہیں صبح کی ٹھنڈک سے

اب اگلی دھوپ میں بھی سائباں ہے کہ نہیں؟

تمہارے شہر کی ویرانی جاں لیوا ہے

تم ہی بتاؤ یہاں امن و اماں ہے کہ نہیں؟