ازل سے اپنے ہی ہونے کے انتظار میں ہوں
نمو پذیر ہوں لیکن تِرے حصار میں ہوں
کہاں پتا تھا کہ اپنا ہی پیش و پس ہوں میں
کسے خبر تھی کہ تنہا کھڑا قطار میں ہوں
تِرے وجود کی ہر دھوپ چھاؤں ہے جس میں
میں ریزہ ریزہ اسی خاک رہگزار میں ہوں
ازل سے اپنے ہی ہونے کے انتظار میں ہوں
نمو پذیر ہوں لیکن تِرے حصار میں ہوں
کہاں پتا تھا کہ اپنا ہی پیش و پس ہوں میں
کسے خبر تھی کہ تنہا کھڑا قطار میں ہوں
تِرے وجود کی ہر دھوپ چھاؤں ہے جس میں
میں ریزہ ریزہ اسی خاک رہگزار میں ہوں
بِچهوڑا
ساتھی میرے
میرا ساتھ نِبھانے کا وعدہ کر کے
یہ آج تُو کس اور چل پڑا ہے
میں تنہا سی، سہمی سی
پُوچھ رہی ہوں سب سے
میرے جینے کی وجہ کہاں ہے؟
سرِ دارِ اُلفت ٹھہر جائیے
حدُودِ خِرد سے گُزر جائیے
نہ کیجے گدائی درِ یار کی
ہُنر ہے تو دل میں اُتر جائیے
وفاؤں کی قیمت نہیں جس جگہ
اُدھر مُسکرا کر مُکر جائیے
محبت سے کِنارہ کر رہے ہیں
وہ خُود اپنا خسارہ کر رہے ہیں
ہمارا حوصلہ کیا پوچھتے ہو؟
بغیر اس کے گُزارا کر رہے ہیں
جُھکائیں سر کہ آپ اہلِ زمیں ہیں
فلک کا کیا نظارہ کر رہے ہیں
سورج کے آس پاس
آشنائے رازِ دل کم ہیں بہت
ایک ہی ہم ہیں تو پھر ہم ہیں بہت
اشک، مژگاں، رات اور تاروں کا حُسن
جگمگاتے دیدۂ نم ہیں بہت
چند سیّاروں پہ کیا موقوف ہے
منتظر اس دل کے عالم ہیں بہت
دکھ درد، در و دیوار سبھی ایک ہوئے
غم کے میلے میں خریدار سبھی ایک ہوئے
ایک پنچھی کو رِہا کر کے یہ احساس ہوا
جیسے صحرا میں سزاوار سبھی ایک ہوئے
کیسے تسلیم کروں پھُول کی یکتا قیمت
تیری فُرقت کا سِتم، خار سبھی ایک ہوئے
روزِ اوّل سے یہی کرتا رہا ہے آدمی
سوچتا کم، اور زیادہ بولتا ہے آدمی
ہے یہ قاصر اپنے چہرے کو بدلنے سے مگر
آئینہ ہر زاویے سے دیکھتا ہے آدمی
کون سی منزل ہے اس کی اور جانا ہے کہاں
نِت نئے رستوں پہ چلتا جا رہا ہے آدمی