Sunday, 22 March 2026

یا مصطفیٰ یا مجتبیٰ خیرالورا جان جہاں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یا مصطفیٰﷺ یا مجتبیٰﷺ خیرالورا جانِ جہاں

محبوب جس کو خود کہا بےشک خدا جان جہاں

حضرت عمر سے فاطمہؑ کہنے لگی بھائی سنو

تجھ کو مرادِ مصطفیٰﷺ کہتا رہا جان جہاں

بیمار ہیں ہم جانتے ہیں آپ ہیں غمخوار بس

ہم کو عطا ہو آپ کی خاک شفا جان جہاں

پھر کھل گئی کوئی غزل دل کی کتاب کی

 پھر کھل گئی کوئی غزل دل کی کتاب کی

ہونٹوں کو چھو گئیں وہی سانسیں گلاب کی

وہ شخص جانے کیوں بہت اپنا لگا مجھے

جس نے کبھی چھیڑ دیں باتیں جناب کی

دل کے فقیر نے کہا؛ جو مانگنا ہے مانگ

میں نے بھی پیر مانگ لی ساجھے حساب کی

بس اپنے خواب سے تعبیر کا سامان لیتے ہیں

 بس اپنے خواب سے تعبیر کا سامان لیتے ہیں

وہ سب انجان ہیں کہتے جو ہیں ہم جان لیتے ہیں

یہی کہہ دے تِری گلیوں کی ہم نے خاک چھانی ہے

تِرے دفتر سے وہ ایوان کے دیوان لیتے ہیں

ہوا کی موج میں رہ رہ کے آہٹ تیری ملتی ہے

تجھے اے زندگی! ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

Saturday, 21 March 2026

جینے کی ہر امنگ سلانی پڑی مجھے

 جینے کی ہر امنگ سلانی پڑی مجھے

کاندھے پہ اپنی لاش اٹھانی پڑی مجھے

غدار ہم سفر تھے سو کرتا میں کیا بھلا

چلتی ہوئی ٹرین جلانی پڑی مجھے

گہرائی الجھنوں کی بلندی سے جب دکھی

ہاتھوں سے اپنی سیڑھی گرانی پڑی مجھے

یار سے دست و گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا

 یار سے دست و گریباں نہ ہوا تھا سو ہوا

کبھی اتنا میں پشیماں نہ ہوا تھا سو ہوا

واقعی جائے ندامت تو یہی ہے کہ کبھو

مجھ سے جو کام عزیزاں نہ ہوا تھا سو ہوا

تجھ کو دیکھے کوئی اور اس سے خفا ہونا ہائے

کیا کروں اے دل ناداں نہ ہوا تھا سو ہوا

عداوت کو لگاوٹ دشمنی کو دل لگی سمجھے

 عداوت کو لگاوٹ دشمنی کو دل لگی سمجھے

ہم اپنی سادگی سے جب کبھی سمجھے یہی سمجھے

بہت برباد ہو کر آہ رازِ عاشقی سمجھے

تمہاری دوستی کو ہم فلک کی دشمنی سمجھے

جہاں محرومیاں دیکھیں وہیں دنیائے دل پائی

جسے بربادِ غم دیکھا اسی کو آدمی سمجھے

وصل کی شب میں سحر ڈھونڈ کے لایا نہ کرو

 وصل کی شب میں سحر ڈھونڈ کے لایا نہ کرو

خواب ہی میں مجھے رہنے دو جگایا نہ کرو

میری آنکھوں میں نہاں ایک سیاہ شیشہ ہے

میری تصویر بھی اب مجھ کو دکھایا نہ کرو

جھلملاتا ہے اب اک جلوہ مِری آنکھوں میں

آندھیاں بن کے مِری نظروں پہ چھایا نہ کرو