بوجھل ہوں سر پہ بوجھ اٹھایا ہوا تو ہے
مشکل میں ہوں خدا کو بتایا ہوا تو ہے
اور اب تو یار دوست بھی کرنے لگے سوال
کچھ دن سے ایک رنگ سا آیا ہوا تو ہے
اس نے بھی ایک بیل اگائی ہے اس طرف
ہم نے بھی ایک پیڑ لگایا ہوا تو ہے
بوجھل ہوں سر پہ بوجھ اٹھایا ہوا تو ہے
مشکل میں ہوں خدا کو بتایا ہوا تو ہے
اور اب تو یار دوست بھی کرنے لگے سوال
کچھ دن سے ایک رنگ سا آیا ہوا تو ہے
اس نے بھی ایک بیل اگائی ہے اس طرف
ہم نے بھی ایک پیڑ لگایا ہوا تو ہے
کوفہ مزاج شہر میں رونے کا فائدہ؟
بس دیکھتے ہیں دور سے ماتم تماش بین
درویش کی دھمال پہ فتوے لگائیں گے
مرشد کے التفات سے برہم تماش بین
گھنگرو کی خستگی پہ سبھی معترض تو ہیں
ٹخنوں کے زخم دیکھتے ہیں کم تماش بین
گئے ہیں دیس کو ہم اپنے چھوڑ کر بھی نہیں
مہاجرت کے لیے شرط اب سفر بھی نہیں
اسی جہان میں رہتے ہیں خوبرو ایسے
یقین مجھ کو ہوا اس کو دیکھ کر بھی نہیں
مرے وجود میں گھل مل کے کر گیا تنہا
وہ ایک شخص جو آیا کبھی نظر بھی نہیں
فرصتِ مرہمی نہ تھی، زخم چِھلا، چِھلا رہا
صبح سے شام تک وہی کام کا سِلسلہ رہا
ذہن میں وحشتیں نہ ہوں، دل تو ہو پر زِ درد و غم
مانا کہ خام تھا جنوں، شوق بھی بے صِلہ رہا؟
جوشِ نمو بھی ہے بجا، لمحے بھی ہیں طرب فزا
خدشہ سا دل میں ہے کہ وقت، سَم تو نہیں پلا رہا
وہ دُشمن ہو گیا اچھا ہُوا ہے
یہ لمحہ دل پہ اب لِکھا ہوا ہے
مگر سچ ہے کہ وہ بہکا ہوا ہے
مگر اے دل وہ کیوں بہکا ہوا ہے
بلائیں لے رہے تھے لوگ سارے
مگر بچہ ہے پھر سہما ہوا ہے
سوختہ کشتی کا ملبہ میں مرا دل اور شام
غمزدہ اترے ہوئے دریا کا ساحل اور شام
رات کے اک پیشرس تارے کی دھڑکن تیز تیز
آنکھ میں سہمے ہوئے خوابوں کی جھلمل اور شام
خستگی سے چُور پاؤں حسرتِ واماندگی
کہر میں ڈُوبی ہوئی موہوم منزل اور شام
ہماری زیست میں کچھ ایسے مہ و شاں گزرے
زمیں پہ جیسے ستاروں کے کارواں گزرے
متاع زیست سمجھ کر اسے سمیٹ لیا
تِرے لیے جو ستم ہائے آسماں گزرے
خود اپنے حال پہ آنکھوں میں آ گئے آنسو
تِرے خیال میں کیا کیا نہیں گُماں گزرے