حضُور آپ کے حُسن و جمال کا عالم
ہے میرے واسطے جنت کے خواب کا عالم
تِری نِِگاہوں میں ساقی مجھے نظر آیا
شراب پینے سے پہلے شراب کا عالم
وہاں کی خاک نہ کیوں آسمان کہلائے
جہاں کے ذرے میں ہے آفتاب کا عالم
حضُور آپ کے حُسن و جمال کا عالم
ہے میرے واسطے جنت کے خواب کا عالم
تِری نِِگاہوں میں ساقی مجھے نظر آیا
شراب پینے سے پہلے شراب کا عالم
وہاں کی خاک نہ کیوں آسمان کہلائے
جہاں کے ذرے میں ہے آفتاب کا عالم
طویل رات تھی زُلفوں کا پیچ و تاب نہ تھا
تھا رتجگے کا سماں کوئی مست خواب نہ تھا
پسینہ 🎕گُل🎕 کا نکلتا تو عِطر ہو جاتا
نسیمِ صُبح تھی کچھ سوزِ آفتاب نہ تھا
درخت جھُوم رہے تھے ہوا کی مستی میں
تھا کوئی پاک نشہ،۔ نشۂ شراب نہ تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میرے لب پر نام تِرا
ہے یہ خاص انعام ترا
وہ ذرّہ خُورشید بنا
جس پہ ہُوا اِکرام ترا
کوئی تِرا آغاز نہیں
کوئی نہیں انجام ترا
ہمیں معلُوم ہے
شاید تمہیں بھی عِلم ہو کہ
درد کا آشوب، گھر کے شور میں
تنہائیاں تسخِیر کرتا ہے
زمانے بھر کی وحشت کو
در و دِیوار کی تقدِیر کرتا ہے
اس نے کچھ سوچ کر کہا ہو گا
ہم نے مطلب غلط لیا ہو گا
یار مجھ کو نکالو وحشت سے
یار کوئی تو راستہ ہو گا
یہ ہواؤں کا کام ہے ہی نہیں
یہ دِیا 🪔 قتل ہی ہوا ہو گا
زباں ذِکرِ الہیٰ سے کبھی خالی نہیں ہوتی
ہوں جیسے بھی مِرے حالات بدحالی نہیں ہوتی
یہاں زندہ دلوں پر ہی تو خُوشیاں راج کرتی ہیں
اگر چھائی ہو مایوسی تو خُوشحالی نہیں ہوتی
کبھی مُردہ دلوں کی حسرتیں پوری نہیں ہوتیں
مگر ایمانِ کامل سے بداعمالی نہیں ہوتی
خُوش رہیں جی جان سے مُجھ سے خفا ہیں کیا ہُوا
اب نہیں کچھ آرزُو،۔ بیٹی ہوئی، بیٹا ہوا
باتیں ہی باتیں ہیں بس کرنا کرانا کُچھ نہیں
بُڑبڑایا کرتا ہے یونہی مؤا بیٹھا ہوا
جا کے رگڑو ناک کعبے میں بھی اے حجن اگر
مِٹ نہیں سکتا کبھی تقدیر کا لِکھا ہوا