جوانی کتنی چھوٹی ہے
کہ میں سادہ سی لڑکی تھی
نہ بنتی تھی سنورتی تھی
مِرا بس دوش اتنا ہے
کہ میں خوابوں پہ مرتی تھی
نہ اشکوں سے مراسم تھے
میں ہر حالت پہ ہسنتی تھی
جوانی کتنی چھوٹی ہے
کہ میں سادہ سی لڑکی تھی
نہ بنتی تھی سنورتی تھی
مِرا بس دوش اتنا ہے
کہ میں خوابوں پہ مرتی تھی
نہ اشکوں سے مراسم تھے
میں ہر حالت پہ ہسنتی تھی
لاکھ میں نے تجھے چھپانا ہے
تیری خوشبو نے پھیل جانا ہے
ہم کو سچ بولنے کی عادت ہے
ہم نے نقصان تو اٹھانا ہے
ہم سلامت رہیں گے باہر سے
ہم نے اندر سے ٹوٹ جانا ہے
تمام عمر ہی کھاتا رہا جو مال غلط
بتاؤ کیسے نہ اٹھے گی اس کی آل غلط
کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہیں بزمِ خوباں میں
غلط ہے ماضی کسی کا کسی کا حال غلط
تمہارے حسن کو تشبیہ دوں تو کس شے سے
تمہارے حسن نے کر دی ہے ہر مثال غلط
جہاں میں رہتا ہوں
وہاں استنبول کے پانیوں کو چوم کر ہوائیں آتی ہیں
یونس ایمرے کی داستان محبت میں
خالدہ ادیب خانم کے رتجگوں میں گونجتی
سنگدل قدموں کی آہٹیں، اداس صفحوں کی سرسراہٹیں سناتی ہیں
گھنے جنگلوں میں بارش کی بوندیں اذیت میں سسکتی ہیں
تمہاری بزم میں محروم جام ہم بھی تھے
فقط رقیب نہیں تشنہ کام ہم بھی تھے
فقیہ شہر نے گمراہ کر دیا ورنہ
صفت شناس حلال و حرام ہم بھی تھے
عمامہ بند و قبا پوشگاں کا ذکر ہی کیا
ترے حضور میں با احترام ہم بھی تھے
رات بنجر ہوئی
کوئی اکھوا نہیں پھُوٹتا
رات کی زرد ٹہنی کی کمزور بانہیں کسی پھُول کی آرزو سے تہی
رات بنجر ہوئی کوکھ جیسی ہوئی، یعنی بے آرزو
کوئی ہنگامہ خیزی نہ سیلِ بلا خیز کا سامنا
ایک تیرہ شبی جس میں ذوقِ نمو کا گُزر تک نہیں
جہاں تم نے چھوڑا ہے
جاؤ
دل پہ بندش لگا سکتا ہے کون؟
جاؤ اسی کی طرف جاؤ
جس کے خوابوں آنکھیں مخمور ہیں تمہاری
جاؤ اسی کی طرف جاؤ
میں تو یہیں ہوں