سوختہ کشتی کا ملبہ میں مرا دل اور شام
غمزدہ اترے ہوئے دریا کا ساحل اور شام
رات کے اک پیشرس تارے کی دھڑکن تیز تیز
آنکھ میں سہمے ہوئے خوابوں کی جھلمل اور شام
خستگی سے چُور پاؤں حسرتِ واماندگی
کہر میں ڈُوبی ہوئی موہوم منزل اور شام
سوختہ کشتی کا ملبہ میں مرا دل اور شام
غمزدہ اترے ہوئے دریا کا ساحل اور شام
رات کے اک پیشرس تارے کی دھڑکن تیز تیز
آنکھ میں سہمے ہوئے خوابوں کی جھلمل اور شام
خستگی سے چُور پاؤں حسرتِ واماندگی
کہر میں ڈُوبی ہوئی موہوم منزل اور شام
ہماری زیست میں کچھ ایسے مہ و شاں گزرے
زمیں پہ جیسے ستاروں کے کارواں گزرے
متاع زیست سمجھ کر اسے سمیٹ لیا
تِرے لیے جو ستم ہائے آسماں گزرے
خود اپنے حال پہ آنکھوں میں آ گئے آنسو
تِرے خیال میں کیا کیا نہیں گُماں گزرے
آوازوں کے بلوے سے جب ننگے سر خاموشی گزری
خاک اڑاتی ساتھ میں زندہ غیرت کی اک لاش بھی گزری
کوچہ بہ کوچہ قریہ بہ قریہ پشتِ خمیدہ سے جکڑی
طوق و سلاسل کے ہمراہ زنجیر بھی شور مچاتی گزری
لاکھوں تماشائی آنکھوں کے بیچ جھکا کر اپنا سر
بے مقنع تصویر حیا کی آنکھ سے خون بہاتی گزری
گردن سے جدا کر دو، لو حاضر ہے مِرا سر
میں کہہ نہیں سکتا کبھی قطرے کو سمندر
ہے جام سخن اصل میں آگاہی کا ساغر
کہتے ہیں جسے شاعری حکمت ہے سراسر
زردار! اگر تجھ کو خوشی چاہیے سچی
محتاج کی، مفلس کی، غریبوں کی مدد کر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تِری اِک چشمِ رحمت سے تِرا بیمار بہتر ہے
ہزاروں طِبی نسخوں سے نگاہِ یار بہتر ہے
جگہ مِل جائے گر پاپوش گاهِ یار میں مجھ کو
خوشا یہ مسندِ طاؤس سے صد بار بہتر ہے
شہنشاہی سے بڑھ کر ہے تِری پاپوش برداری
سکندر سے تِرا اِک خادمِ دربار بہتر ہے
جوانی کتنی چھوٹی ہے
کہ میں سادہ سی لڑکی تھی
نہ بنتی تھی سنورتی تھی
مِرا بس دوش اتنا ہے
کہ میں خوابوں پہ مرتی تھی
نہ اشکوں سے مراسم تھے
میں ہر حالت پہ ہسنتی تھی
لاکھ میں نے تجھے چھپانا ہے
تیری خوشبو نے پھیل جانا ہے
ہم کو سچ بولنے کی عادت ہے
ہم نے نقصان تو اٹھانا ہے
ہم سلامت رہیں گے باہر سے
ہم نے اندر سے ٹوٹ جانا ہے