Tuesday, 29 September 2026

تو دیا میں باتی ہوں

 ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


تُو دِیا میں باتی ہوں

ساتھ نہ چھوڑوں گی

سوگندھ یہ کھاتی ہوں


سیما پیروز

عجب ماہ و سال میں پھنس گیا

 میں اور خوابوں کا اندوختہ


عجب ماہ و سال میں پھنس گیا

بکھری بکھری بے ترتیب چیزوں میں

لمحہ لمحہ بکھر گیا

بس ایک جھونکا کبھی غبار کا

اِس سمت سے اُس سمت تک

الگ کر دیتا ہے

دل ہوتے ہوتے منزل جانانہ ہو گیا

 دل ہوتے ہوتے منزل جانانہ ہو گیا

آباد رفتہ رفتہ یہ ویرانہ ہو گیا

وہ ہیں کہ دو جہان کو اپنائے جاتے ہیں

میں ہوں کہ اپنی ذات سے بیگانہ ہو گیا

جلنے کا شوق اف ترے کشتے کی خاک کا

جو ذرہ اڑ گیا وہی پروانہ ہو گیا

ہر بات پہ انکار کرے ہے بت کافر

 ہر بات پہ انکار کرے ہے بُتِ کافر

تُو شخص تو اچھا ہے مگر تیرے عناصر

اے شہر تمنا میں سکونت کے بِھکاری

اس شہر میں آباد نہیں کوئی مہاجر

خوش رہنے کی تاکید نہ کر وقت ہے اب بھی

گر مان لیا میں نے کہیں تیرا کہا پِھر

حکم ہے اس کا کہ سچ ہر بات کہنا چاہیے

 حکم ہے اُس کا کہ سچ ہر بات کہنا چاہیے

رات کو دن اور دن کو رات کہنا چاہیے

یہ جو دریا بہہ رہا ہے شور اس کا وصف ہے

دل کا دریا خاموشی کے سات بہنا چاہیے

یوں بھی دینا چاہیے اُن کے سوالوں کے جواب

کچھ خیالِ خاطرِ جذبات رہنا چاہیے

Monday, 28 September 2026

اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سے

 اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سے

اُڑ گئے ٹُکڑے فلک کے آہ کی تاثیر سے

راز اُلفت کے عیاں ہونے کا ڈر جاتا رہا

خامشی سیکھی ہے ہم نے بُلبل تصویر سے

چھیڑتا ہے کس لیے ناصح اسیرِ زُلف کو

دم اُلجھتا ہے تِری اُلجھی ہوئی تقریر سے

مشکل تری اڑان ہے سورج نظر میں رکھ

 مُشکل تِری اُڑان ہے سُورج نظر میں رکھ

تاریک آسمان ہے سورج نظر میں رکھ

جانا ہے روشنی کی طرف لوٹ کر تجھے

دو پل کا یہ جہان ہے سورج نظر میں رکھ

بے رنگ اس کے پھُول ہیں بے نُور ہر شجر

جنگل یہ گُلستان ہے سورج نظر میں رکھ