Friday, 15 May 2026

اے کہ ترے وجود پر خالق دو جہاں کو ناز

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

رفعتِ شانِ احمدیﷺ

اے کہ تِرے وجود پر خالقِ دو جہاں کو ناز 

اے کہ تِرا وجود ہے وجہِ وجودِ کائنات 

اے کہ تِرا سرِ نیاز حدِ کمالِ بندگی 

اے کہ تِرا مقامِ عشق قربِ تمام عین ذات 

اے کہ تِری زبان سے ربِ قدیر گلفشاں

وحئ خدائے لم یزل تھی تِری ایک ایک بات

اے کہ تُو فخرِ آدمی، واقفِ سرِّ عالمی

لوح و قلم س بے نیاز تیرے علوم شش جہات

تِرے بیاں سے کھل گئیں تِرے عمل سے حل ہوئیں

منطقیوں کی الجھنیں، فلسفیوں کی مشکلات 

خوگرِ بندگی جو تھے تیرے طفیل میں ہوئے 

مالکِ مصر و کاشغر، وارثِ دجلہ و فرات 

مجھ سے بیاں ہو کس طرح رفعتِ شانِ احمدیﷺ

تنگ مِرے تصورات، پست مِرے تخیلات

 

نواب بہادر یار جنگ

اصل نام؛ محمد بہادر خان

تخلص؛ خلق

جل کر غم بھی راکھ ہوا

 ساجن 

دل کی بھٹی میں 

جانے کیسا لاوا تھا 

اتنی تیز تپش تھی جس میں 

جل کر غم بھی راکھ ہوا 


نجمہ نسیم

لوگ کتنے عجیب ہوتے ہیں

 لوگ کتنے عجیب ہوتے ہیں

وقت مطلب قریب ہوتے ہیں

جن کو دنیا امیر کہتی ہے

دل کے بے حد غریب ہوتے ہیں

پیار اک ایسا روگ ہے جس کے

حسن والے طبیب ہوتے ہیں

ڈولی میں آج بیٹھ کے بیٹی چلی گئی

 ڈولی میں آج بیٹھ کے بیٹی چلی گئی

گھر چیختا ہے گھر کی تجلّی چلی گئی

میں نے کسی فقیر کو لوٹا دیا ہے کیا

کیوں میرے گھر سے رُوٹھ کے روزی چلی گئی

بیٹا وہی ہے، میں بھی وہی، رشتہ بھی وہی

بس یوں ہوا کہ لہجے کی نرمی چلی گئی

خلاف مصلحت عشق چل کے دیکھیں گے

 خلاف مصلحتِ عشق چل کے دیکھیں گے

اس آگ میں بھی کسی روز جل کے دیکھیں گے

رہِ وفا میں یہ جس دن بھی کامیاب آیا

تو آدمی کو فرشتے نکل کے دیکھیں گے

تِری ہنسی سے فقط آنسوؤں کو کیا بدلیں

بدل سکے تو مقدر بدل کے دیکھیں گے

Thursday, 14 May 2026

اب تو اک عمر ہوئی یاد نہ کر لوں خود کو

 اب تو اک عمر ہوئی یاد نہ کر لوں خود کو

ہوں کہیں ذہن میں ایجاد نہ کر لوں خود کو

وہ خرابہ کہ جہاں کوئی نہ ہو میرے سوا

اس خرابے میں ہی آباد نہ کر لوں خود کو

جانے کس لمحۂ پر درد کی یاد آئی ہے

روتے روتے یوں ہی برباد نہ کر لوں خود کو

مرا سخن سخن شاہکار ہو جائے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مِرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

شُنیدِ سیدِ عالی وقارﷺ ہو جائے

زبانِ خامہ میں ایماں کی روشنائی ہے

حضورﷺ ہدیۂ یک زرنگار ہو جائے

جوازِ لکنتِ کذب و ریا رہے کیونکر

درودِ اسمِ نبیﷺ بے شمار ہو جائے