زعفرانی کلام
گلے بازی کے لیے ملک میں مشہور ہیں ہم
شعر کہنے کا سوال آئے تو مجبور ہیں ہم
اپنے اشعار سمجھنے سے بھی معذور ہیں ہم
فن سے غالب کے بہت دور بہت دور ہیں ہم
اپنی شہرت کی الگ راہ نکالی ہم نے
کسی دیواں سے غزل کوئی چرا لی ہم نے
زعفرانی کلام
گلے بازی کے لیے ملک میں مشہور ہیں ہم
شعر کہنے کا سوال آئے تو مجبور ہیں ہم
اپنے اشعار سمجھنے سے بھی معذور ہیں ہم
فن سے غالب کے بہت دور بہت دور ہیں ہم
اپنی شہرت کی الگ راہ نکالی ہم نے
کسی دیواں سے غزل کوئی چرا لی ہم نے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عاصی ہیں گہنگار ہیں شرمائے ہوئے ہیں
دامن تِرے دربار میں پھیلائے ہوئے ہیں
محبوب کے صدقے میں ہمیں بخش دے مولیٰ
ہم آس یہی در پہ لگائے ہوئے ہیں
تُو بخش دے ہم تیرے ہی بندے ہیں الٰہی
نادم ہیں، سیہ کاری پہ شرمائے ہوئے ہیں
آزاد غلام
حادثہ، سانحہ، المیہ یہ ہوا
وہ خریدے گئے اور وہ بک بھی گئے
بس میری قوم سے اک خامی نہیں جاتی
آزادی کے قفس سے غلامی نہیں جاتی
شاہانہ سلطنت اجازت آہ کی جن سے چھین لیتی ہے
رعایا جام غلامی کے مگر بھر بھر کے پیتی ہے
اداس رہنا بھی اک صفت ہے
اگر تم اس کو سمجھ سکو گے
تو پھر اداسی کنیز بن کر
تمہارے پہلو میں بیٹھ کر کے
تمہارے ہاتھوں کو تھام لے گی
تمہیں تسلی سے دیکھ کر کے
وہ جدھر سے گزر کے جاتے ہیں
بن کے خوشبو بکھر کے جاتے ہیں
چاند بھی سر پٹکنے لگتا ہے
جب وہ سج کے سنور کے جاتے ہیں
میں نشے میں بہکنے لگتا ہوں
پیالے آنکھوں سے بھر کے جاتے ہیں
ہجر کو مختصر تو دیکھا ہے
شب میں رنگِ سحر تو دیکھا ہے
یہ طلسمِ نظر تو دیکھا ہے
بادلوں میں قمر تو دیکھا ہے
ہائے تیرِ نطر کا کیا کہنا
اپنا زخمی جگر تو دیکھا ہے
جنتا کی فریاد
آپ کو سکے ملے چاندی ملی سونا ملا
دولت آئی ہاتھ سامانِ طرب افزا ملا
گھر سے دروازے تک آنا بھی نزاکت پر ہے بار
جب نہیں موٹر رہا، اڑنے کو طیارا ملا
چپہ چپہ ملک کا ہے آپ کی املاک میں
دشت و کوہستاں ملے، جنگل ملا، دریا ملا