Tuesday, 12 May 2026

ارض و سما میں خدا ہی دیکھا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ارض و سما میں خدا ہی دیکھا

ہر جا جلوہ تیرا ہی دیکھا

شاہانِ عالی کو بھی اکثر

تیرے در پر گدا ہی دیکھا

تیری کتابِ لاریب میں بھی

نورِ ہدایت رچا ہی دیکھا

Monday, 11 May 2026

یاد کشمیر کشمیر خطہ تیرا بالا تر از جہاں ہے

 یادِ کشمیر


کشمیر خطہ تیرا بالا تر از جہاں ہے

باغِ ارم کا نقشہ کھینچا ہوا یہاں ہے

چاروں طرف کھنچی ہے دیوارِ کوہ تیرے

آبِ رواں کا نقشہ ہر اک طرف رواں ہے

کب چاہتا ہے دریا جہلم یہاں سے گزرے

کشمیر حُسن اپنا کرتا جو تُو عیاں ہے

میں نے گناہ ایک بھی تنہا نہیں کیا

سارے جہاں کو میں نے اکٹھا نہیں کِیا

بس صبر کر لیا ہے، تماشہ نہیں کیا

دُنیا مجھے فریب تو دیتی رہی، مگر

میں نے کسی کے ساتھ بھی دھوکا نہیں کیا

اُس کو بھی میرے ساتھ عدالت میں لائیے

میں نے گُناہ ایک بھی تنہا نہیں کیا

کیا فائدہ اصرار سے ہوتے ہیں جو سر آپ

 کیا فائدہ اصرار سے ہوتے ہیں جو سر آپ

ہاں میں تو وفا کر کے دِکھا دوں گا مگر آپ

کچھ ایسی کشش ہے تِرے نقشِ کفِ پا میں

ہم بھُول بھی جاتے ہیں جھُک جاتا ہے سر آپ

چُوکا جو نشانہ تو خفا ہو گئے مجھ سے

خُود تو کبھی رکھتے نہیں تیروں کی خبر آپ

حسن ایسا تھا کہ ہر اک آئینہ کم پڑ گیا

 حسن ایسا تھا کہ ہر اک آئینہ کم پڑ گیا

آئینہ کیا عمر بھر کا دیکھنا کم پڑ گیا

آنکھ سے کیا میں تو اپنے دل سے باہر ہوگیا

رقص ہی ایسا تھا ہر اک دائرہ کم پڑ گیا

ان کہی باتوں سے ہی دل کے جہاں آباد ہیں

ورنہ اکثر آدمی نے جو کہا کم پڑ گیا

یاں ہنرور بھی خوب ملتے ہیں

 یاں ہنر ور بھی خوب ملتے ہیں

خار سے گل کے چاک سلتے ہیں

ہم تِرے ہمرکاب ہو نہ سکے

کارواں کے غبار ملتے ہیں

یوں تو تنہائیاں مقدر ہیں

بھیڑ اتنی کے شانے چھِلتے ہیں

آئے گی میری یاد میری زندگی کے بعد

 آئے گی میری یاد میری زندگی کے بعد

ہو گی نہ روشنی کبھی اس روشنی کے بعد

مجھ کو وفا بھی روئے گی میری کمی کے بعد

آتی ہے یاد آدمی کی آدمی کے بعد

وہ حال ہو گا بزمِ جہاں کا میرے بغیر

ہوتا ہے رنگ بزم کا جو برہمی کے بعد