Tuesday, 26 May 2026

وہ ترا شہر ترے شہر کا ہر رنگ جدا یاد آیا

 وہ تِرا شہر تِرے شہر کا ہر رنگ جُدا یاد آیا

آنکھ بند ہوتے ہی اک منظر تمثیل نما یاد آیا

بے نیازانہ وہ دلداریٔ جاں پُرسشِ غم کی کوشش

آنکھ بھر آئی ہے جب جب تِرا اندازِ وفا یاد آیا

جب دلِ زار ہر اک چیز سے تھک ہار کے اُکتا سا گیا

ایک اک پل جو تِرے ساتھ گزارا تھا بڑا یاد آیا

بے سبب پیار تو نہیں ہوتا

 آستیں مار تو نہیں ہوتا

ہر کوئی یار تو نہیں ہوتا

ہو تو سکتا ہے تھوڑا ہرجائی

یار غدار تو نہیں ہوتا

عشق پہلی نظر میں ہوتا ہے

مرحلہ وار تو نہیں ہوتا

یوں گم سم تو کیوں لیٹا ہے تارے گن

 یُوں گُم سُم تُو کیوں لیٹا ہے تارے گِن

جیون میں دُکھ درد ہیں جتنے سارے گن

طُوطی سی آواز سُنے گا کون تِری

ایسا کر لے پیارے اب نقّارے گن

خون بہا کر نِردوشوں کا دھرتی پر

کتنے لوگ لگاتے ہیں جے کارے گن

Monday, 25 May 2026

منزل کا شور سن کے جو پہنچے تو کیا ملا

 منزل کا شور سن کے جو پہنچے تو کیا مِلا

اک شخص اک مقام پہ بے دست و پا ملا

ہر مُدعی سے مُدعا اس کا خفا ملا

یاں پیار بھی ملا تو مثلث نما ملا

دوکانِ چارہ گر پہ تو بِکنے لگی اجل

ڈُھونڈ اس فقیر کو جسے دستِ شفا ملا

سیاسی نفرتوں کی زد میں آئیں گے ہمیں کب تک

 سیاسی نفرتوں کی زد میں آئیں گے ہمِیں کب تک

بھِگو کر شاہ رکھے گا لہُو میں آستِیں کب تک

کئی کنکر وفا کی جھیل میں میں پھینک آیا ہوں

اُبھر کر سطح پہ آئیں گے دیکھیں تہ نشیں کب تک

بھرم کے پاؤں کی زنجیر کو سچ توڑ ہی دے گا

کسی کے جھُوٹ پر کوئی کرے گا بھی یقیں کب تک

تو کہے تو میں تیری آنکھوں میں ڈوب جاؤں

 تو کہے تو


تُو کہے تو

میں تیری آنکھوں میں

ڈوب جاؤں صنم سدا کے لیے

تیری آنکھوں کے گہرے ساگر میں

تیرنا مجھ کو اچھا لگتا ہے

آپ مجھ سے ملے نہیں ہوتے

 آپ مجھ سے مِلے نہیں ہوتے

اتنے شاید گِلے نہیں ہوتے

بات کرنی مجھے بھی آتی ہے

ہونٹھ سب کے سِلے نہیں ہوتے

آ بھی جاؤ اُداس رہتا ہوں

اور مجھ سے گِلے نہیں ہوتے