Tuesday, 23 June 2026

وہ کوئی بیان نہیں بلکہ ایک سوال تھا

 سوال


جب میں نے کہا تھا تم سے

کہ مجھے تم سے محبت نہیں

اور ایک گہری سانس لی تھی تم نے

وہ کوئی بیان نہیں بلکہ ایک سوال تھا

جواب تھی؛ وہی گہری سانس

برنگ شمع رو رو کر بسر کی

 برنگِ شمع رو رو کر بسر کی

شبِ غم اس طرح ہم نے سحر کی

بتائیں کیا کہ کس نے لے لیا دل

خدا جانے کہ آفت تھی کِدھر کی

کہاں تک ساقیا! جورِ تغافل؟

خبر لے اپنے مست بے خبر کی

دیوار رہگزار اگر راستہ نہ دے

 دیوارِ رہ گزار اگر راستہ نہ دے

ڈر ہے مِرا جنون اِسے بھی گِرا نہ دے

یہ جو تِرے خیال میں گُم ہے تِرا فقیر

اُنگلی پہ کائنات کو اِک دن گُھما نہ دے

اِس واسطے ہوا سے میں کرتا نہیں کلام

یہ شوخ سارے شہر کو جا کر بتا نہ دے

شہر انا تھا میں دروازہ تھے تم بھی

 منظر منظر قریہ قریہ تھے تم بھی

خاک نژادو پھول ستارہ تھے تم بھی

اب شہر صد جبر میں ساکت ہم ٹھہرے

عہد تحیر میں نا رفتہ تھے تم بھی

میں صدیوں کی آرائش کرنے والا

میرے مساعی کے پروردہ تھے تم بھی

عجیب اس سے بھی رشتہ ہے کیا کیا جائے

 عجیب اس سے بھی رشتہ ہے کیا کِیا جائے

وہ صرف خوابوں میں ملتا ہے کیا کیا جائے

جہاں جہاں تیرے ملنے کا ہے گمان وہاں

نہ زندگی ہے نہ راستہ ہے کیا کیا جائے

غلط نہیں مجھے مرنے کا مشورہ اس کا

وہ میرا درد سمجھتا ہے کیا کیا جائے

Monday, 22 June 2026

جاگتے رہتے ہیں کچھ خواب مری آنکھوں میں

 اس لیے آتے ہیں سیلاب مِری آنکھوں میں

جاگتے رہتے ہیں کچھ خواب مری آنکھوں میں

یہ محبت کے بڑے خاص سبق ہوتے ہیں

تم نے دیکھے ہیں جو آداب مری آنکھوں میں

میں وہ صحرا جہاں اُمید نہیں بارش کی

ڈُوبتے جاتے ہیں سیراب مری آنکھوں میں

موسم گل پھر آنے لگا ہے

 موسمِ گُل پھر آنے لگا ہے

پھر وہی غم ستانے لگا ہے

آنکھ کی یہ نمی کہہ رہی ہے

یاد پھر کوئی آنے لگا ہے

دیکھ کر اس کے ہاتھوں میں پتھر

آئینہ🪞 مسکرانے لگا ہے