جاتے جاتے اس قدر احسان مجھ پر کر گیا
وہ مِری ان خشک آنکھوں کو سمندر کر گیا
جس کو صدیاں لگ گئیں آباد کرنے میں مجھے
پل میں وہ برباد ہر اک اس کا منظر کر گیا
میری اس صحرا نوردی کا سبب اک یہ بھی ہے
میرے ہر اخلاص کو ٹھکرا کے بے گھر کر گیا
جاتے جاتے اس قدر احسان مجھ پر کر گیا
وہ مِری ان خشک آنکھوں کو سمندر کر گیا
جس کو صدیاں لگ گئیں آباد کرنے میں مجھے
پل میں وہ برباد ہر اک اس کا منظر کر گیا
میری اس صحرا نوردی کا سبب اک یہ بھی ہے
میرے ہر اخلاص کو ٹھکرا کے بے گھر کر گیا
جب درد کے ماروں سے تقدیر الجھتی ہے
ہر حرفِ دعا سے پھر تاثیر الجھتی ہے
یہ حکم ستمگر کا ہے؛ تیز چلیں لیکن
بے جرم اسیروں سے زنجیر الجھتی ہے
کیوں ہم پہ ہی جینے کا ہر باب مقفل
تدبیر کریں بھی تو تقدیر الجھتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کیا صاحب جمال بنائے گئے ہیں آپﷺ
یعنی کہ بے مثال بنائے گئے ہیں آپﷺ
ہے ختم ہر کمال فقط آپ پر حضورﷺ
سر تا بہ کمال بنائے گئے ہیں آپﷺ
کس کو سنائیں کس سے کہیں حالِ درد و غم
سنیں کو عرض حال بتائے گئے ہیں آپﷺ
بستر کی ہر شکن پہ ہوا کا غلاف تھا
ورنہ مِرا وجود تو پہلے ہی صاف تھا
تجھ بن ہمارے پاؤں کو رستہ نہ مل سکا
پانی تو اس ندی کا بڑا پاک صاف تھا
شیشے بہ فیضِ تشنہ لبی ٹوٹتے رہے
رِندوں کا میکدے سے عجب انحراف تھا
خُواہشیں جب کُوئے جاناں کی ہوا کھانے لگیں
عنبریں زُلفوں کے پیچ و خم سے چکرانے لگیں
دل پہ پھر مدہوشیاں طاری ہوئیں جذبات کی
خُوشبوئیں احساس کی دہلیز تک آنے لگیں
عکسِ جاناں ذہن سے سرگوشیاں کرنے لگا
جب بہاریں گُلشنِ ہستی کو مہکانے لگیں
جاگتی آنکھ سے دیکھا ہے سرِ آب رواں
سبز مٹی ہے جزیرہ ہے سر آب رواں
صفِ افراد ہے دریا کے کنارے پہ کھڑی
اور امامت کا مصلہ ہے سر آب رواں
ایک صندوق ہے، صندوق پہ ہے نقشِ قدیم
اس کے ہمراہ عریضہ ہے سر آب رواں
بادلوں کے بیچ تھا میں بے سر و ساماں نہ تھا
تشنگی کا زہر پی لینا کوئی آساں نہ تھا
کیا قیامت خیز تھا دریا میں موجوں کا ہجوم
ساحلوں تک آتے آتے پھر کہیں طوفاں نہ تھا
جانے کتنی دور اس کی لہر مجھ کو لے گئی
میں سمجھتا تھا کہ وہ دریائے بے پایاں نہ تھا