Tuesday, 24 February 2026

حضور آپ کا رستہ ہی تو ہے راہ نجات

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


لبوں کو چھو کے جو پانی بنا ہو آبِ حیات

اب اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے قندونبات

حضورؐ آپ کے رستے سے ہٹ کے کیسے چلوں

حضورﷺ آپ کا رستہ ہی تو ہے راہِ نجات

حضورﷺ آپ کی خاطر ہی تو بنائے گئے

زمین و آسماں یعنی تمام کائنات

جیون کی پھلواری رکھ

 جیون کی پھلواری رکھ

مرنے کی تیاری رکھ

آنکھوں میں ہو بس مچھلی

دل میں دنیا ساری رکھ

خوشیاں آتی جاتی ہیں

غم سے تھوڑی یاری رکھ

آنکھ ٹپکائے نا لہو دل کا

 آنکھ ٹپکائے نا لہو دل کا

فائدہ کچھ تو غم کے حاصل کا

دن بھکاری کی آرزو کی طرح

رات کشکول جیسے سائل کا

کس کو نظم حیات نے مارا

شور زنداں میں ہے سلاسل کا

زمیں پر رینگنے والوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا

 مہاجر بچے


زمیں پر رینگنے والوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا

نہ ماں کی چھاتیوں میں دودھ ہوتا ہے

نہ منہ پر نور ہوتا ہے

بدن پر بس خراشیں اور لہو کے داغ ہوتے ہیں

انہیں خوابوں کو آنکھوں میں بسانے کی اجازت

ہم جو دستِ طلب کے مارے ہیں

 ہم جو دستِ طلب کے مارے ہیں

“ساری دنیا کے غم ہمارے ہیں“

ہم طلب گار تھے کبھی ان کے

یہ جو روشن فلک پہ تارے ہیں

بھری دنیا میں کس طرح تنہا

پوچھ مت میں نے دن گزارے ہیں

برتر ہو مسلمان یہ ایمان تمہارا

 عیسیٰ ہو مریضوں پہ ہے احسان تمہارا

مرتا ہوں نہیں میری طرف دھیان تمہارا

جو مجھ کو ستاتی ہے وہ ہے یاد تمہاری

جو دل سے نہ جاتا ہے وہ ارمان تمہارا

دل چھین لیے جاتے ہو، لے جاؤ دعا بھی

اچھے رہو اللہ ہو نگہبان تمہارا

Monday, 23 February 2026

عنایتوں کا حسیں سلسلہ محمد ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عنایتوں کا حسیں سلسلہ محمّدﷺ ہیں

دُکھی دلوں کا فقط آسرا محمّدﷺ ہیں

ہم ایسے لوگ برس ہا برس سے درد میں ہیں

ہمارے واسطے حتمی دوا محمّدﷺ ہیں

ہو جاں کنی، یا ہو برزخ، یا ہو حساب کا دن

ہمارا سب ہی جگہ حوصلہ محمّدﷺ ہیں