Friday, 13 March 2026

تم نے مجھے دیمک کہا میں نے تمہارے غم چاٹ لیے

 تم نے مجھے دیمک کہا

میں نے تمہارے غم چاٹ لیے

تم نے مجھے کتیا کہا

میں تمہارے گناہوں کی محافظ ہوئی

تم نے مجھے ڈائن کہا

میں تمہارا گندہ خون چوسنے لگی

اجاڑ گھر کا کوئی غم نہیں تو کچھ بھی نہیں

 اجاڑ گھر کا کوئی غم نہیں تو کچھ بھی نہیں

کسی آنکھ اگر نم نہیں تو کچھ بھی نہیں

یہ آندھیاں یہ خرمنوں پہ بجلیوں کی لپک

مزاجِ یار جو برہم نہیں تو کچھ بھی نہیں

یہ الجھنیں یہ مصائب، یہ غم و رنج و الم

تیرے گیسو کا اگر خم نہیں تو کچھ بھی نہیں

باپ دادا کی نشانی نے بھرم سا رکھ لیا

 مجھ کو شامل کر کہانی نے بھرم سا رکھ لیا

ایک بوڑھے کی جوانی نے بھرم سا رکھ لیا

دودھ ماں نے کچھ زیادہ ہی دیا بچے کو آج

اس کو کیا معلوم پانی نے بھرم سا رکھ لیا

یہ مکاں اجداد کا ہے کیسے بیچوں میں اسے

باپ دادا کی نشانی نے بھرم سا رکھ لیا

Thursday, 12 March 2026

میں خود گیا نہ اس کی ادا لے گئی مجھے

 میں خود گیا نہ اس کی ادا لے گئی مجھے

مقتل میں رسم پاس وفا لے گئی مجھے

اندر سے کھوکھلا جو تھا بیلون کی طرح

چاہا جدھر ہوا نے اڑا لے گئی مجھے

اک حرف تھا جو تم نے سنا ان سنا کیا

اب ڈھونڈتے پھرو کہ صدا لے گئی مجھے

وطن کو کیوں وطن سمجھوں نہ جب لطف وطن پایا

 وطن کو کیوں وطن سمجھوں، نہ جب لطف وطن پایا

نہ کوئی مونس و ہمدم، نہ کوئی ہم سخن پایا

تجھے دیکھا کیے اے عہد نو، پڑھ پڑھ کے تاریخیں

وہی انسان پائے اور وہی عُہد کہن کو پایا

خدا کا شکر، ان دولت بھرے اونچے مکانوں پر

ہمیشہ کلبۂ احزاں کو اپنے خندہ زن پایا

کسی کے وعدۂ فردا کو آزماتی رہی

 کسی کے وعدۂ فردا کو آزماتی رہی

تمام عمر محبت کے غم چھپاتی رہی

گزشتہ زخموں کی اتنی کسک تو باقی ہے

کبھی کبھی تو تیری یاد مجھ کو آتی رہی

بڑے سکون سے اس نے گزار دی اپنی

میں زندگی سے بھی اکثر فریب کھاتی رہی

کوئی رستہ بتانے والا نہیں

 کوئی رستہ بتانے والا نہیں

تم نہیں کوئی آنے والا نہیں

وہ جو تجھ سے ذرا بھی بیر رکھے

میں اسے منہ لگانے والا نہیں

روٹھنا ہے تو یہ سمجھ لینا

میں تو تجھ کو منانے والا نہیں