Monday, 11 May 2026

آئے گی میری یاد میری زندگی کے بعد

 آئے گی میری یاد میری زندگی کے بعد

ہو گی نہ روشنی کبھی اس روشنی کے بعد

مجھ کو وفا بھی روئے گی میری کمی کے بعد

آتی ہے یاد آدمی کی آدمی کے بعد

وہ حال ہو گا بزمِ جہاں کا میرے بغیر

ہوتا ہے رنگ بزم کا جو برہمی کے بعد

سب سے ہنس کر ہاتھ ملانا سیکھ لیا

 سب سے ہنس کر ہاتھ ملانا سیکھ لیا 

جینا کیا سیکھا، مر جانا سیکھ لیا

دیواروں پر بستی کی اوقات کھلی 

بچوں نے تصویر بنانا سیکھ لیا

کالی پیلی تفسیروں کی زد پر ہوں 

خاموشی نے شور مچانا سیکھ لیا

دوستی کو معتبر میں نے کیا

 تکنیک


دوستی کو معتبر میں نے کیا

حُسن کو زیرِ نظر میں نے کیا

کس لیے بھیجا گیا میں دہر میں

جرم کیا اے کوزہ گر میں نے کیا؟

جو جہاں میں بے وفا مشہور ہے

اس کو اپنا چارہ گر میں نے کیا

Sunday, 10 May 2026

جھوٹ کی منڈی میں سچ لے کر آیا ہے

 جھوٹ کی منڈی میں سچ لے کر آیا ہے

سچ کہنا کس نے تجھ کو بہکایا ہے

رات گئے آہٹ سن کر کیوں دھڑکا ہے

اے میرے دل ایسا کیا یاد آیا ہے

سچا ہے تو ڈر کیسا ہے کھل کر بول

آئینے کو دیکھ کے کیوں شرمایا ہے

اے چارہ گر کل تو ہی مقصود ثنا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے چارہ گرِ کُل! تُو ہی مقصود ثنا ہے

تُو مالکِ ہستی ہے، مقدر کا لکھا ہے

تیرے ہی اشارے سے یہ طُوفان ہوا ہے

کیا بحر ہے کیا باد سبھی تیرے نشاں ہیں

تجھ جیسے حمید اور حفیظ کہاں ہیں


راہوں میں ہماری ہے تِرا نور مددگار

کیوں کر نہ کروں مدحت سلطان مدینہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کیوں کر نہ کروں مدحتِ سلطانِ مدینہ

جب پیش نظر ہوں مِرے فیضانِ مدینہ

تہذیب کا گہوارہ دبستانِ مدینہ

یہ خاکِ عرب ہے وہ مِری جانِ مدینہ

خوشبوئے محبت سے معطر ہے زمانہ

کس شان سے مہکا ہے گُلستانِ مدینہ

پھر دیکھنا منظر کیسے بدلتا ہے

 سنو گرمی بہت ہے

اے سی بھی ٹھیک کروایا

پھر بھی چل نہیں رہا

اچھا سنو

کیا تمہاری طرف آ جاؤں؟

دو دن سے سوئی نہیں