بارش ہوئی تو شہر کے تالاب بھر گئے
کچھ لوگ ڈوبتے ہوئے دھل کر نکھر گئے
سورج چمک اٹھا تو نگاہیں بھٹک گئیں
آئی جو صبح نو تو بصارت سے ڈر گئے
دریا بپھر گئے تو سمندر سے جا ملے
ڈوبے جو ان کے ساتھ کنارے کدھر گئے
بارش ہوئی تو شہر کے تالاب بھر گئے
کچھ لوگ ڈوبتے ہوئے دھل کر نکھر گئے
سورج چمک اٹھا تو نگاہیں بھٹک گئیں
آئی جو صبح نو تو بصارت سے ڈر گئے
دریا بپھر گئے تو سمندر سے جا ملے
ڈوبے جو ان کے ساتھ کنارے کدھر گئے
بہت نڈھال بہت بد حواس لگتی ہے
یہ بھیڑ شہر کی کتنی اداس لگتی ہے
تلاش آب میں مقصد نہ فوت ہو جائے
سفر ہو سخت تو رک رک کے پیاس لگتی ہے
وہ جس سے ہم نے ہمیشہ ہی دوریاں رکھیں
اب اس کی بات میں مجھ کو مٹھاس لگتی ہے
زندگی گلشن میں بھی دشوار ہے تیرے بغیر
اس چمن کا پھول بھی اک خار ہے تیرے بغیر
زندگانی عشق کی ناکامیوں میں صرف کی
زندگی کا لطف بھی دشوار ہے تیرے بغیر
تیری صورت سامنے ہوتی تو میں کہتا غزل
مجھ پہ ذوق شاعری اک بار ہے تیرے بغیر
میرے گھر سے خوشیوں کے تہوار ہجرت کر گئے
جب سے خوشیاں دینے والے یار ہجرت کر گئے
صحن کی دیوار کا دکھ یوں پرندوں نے لیا
چھوڑ کر گھر میں لگے اشجار ! ہجرت کر گئے
ایک ہجرت لازمی ہے دن بدلنے کے لیے
اس لیے ہم زندگی کے پار ہجرت کر گئے
عمارت حوصلوں کی صبر سے تعمیر کرنا ہے
ہمیں خوابوں کی خود ہی دوستو! تعبیر کرنا ہے
یہ دھرتی مان ہے اپنا، یہی پہچان ہے اپنی
اسے آباد رکھنا ہے، اسے تطہیر کرنا ہے
تمہارا نام لکھنا ہے در و دیوار پر اپنے
ہمیں افسانہ الفت کا کوئی تحریر کرنا ہے
بچھڑ کے مجھ سے وہ میری ہی جستجو کرے گا
کہ میری یادوں کے پانی سے اب وضو کرے گا
یونہی سناتے نہیں مجھ کو ہجر کے قصے
وہ شخص اپنی پہ آیا تو ہو بہو کرے گا
اتر رہا ہے فضاؤں میں زرد سا موسم
میں جانتی ہوں یہ کھیتوں کو بے نمو کرے گا
آسمانوں کے کھلے باب میں دیکھا جاتا
میں کسی روز ترے خواب میں دیکھا جاتا
خاک ہوں اڑتا ہوں سچ ہے کہ میں آوارہ مزاج
پانی ہوتا بھی تو سیلاب میں دیکھا جاتا
بد شکن ہے یوں سرابوں میں دکھائی دینا
اس سے اچھا تو تھا گرداب میں دیکھا جاتا