ہماری بات انہیں اتنی ناگوار لگی
گلوں کی بات چھڑی اور ان کو خار لگی
بہت سنبھال کے ہم نے رکھے تھے پاؤں مگر
جہاں تھے زخم وہیں چوٹ بار بار لگی
قدم قدم پہ ہدایت ملی سفر میں ہمیں
قدم قدم پہ ہمیں زندگی ادھار لگی
ہماری بات انہیں اتنی ناگوار لگی
گلوں کی بات چھڑی اور ان کو خار لگی
بہت سنبھال کے ہم نے رکھے تھے پاؤں مگر
جہاں تھے زخم وہیں چوٹ بار بار لگی
قدم قدم پہ ہدایت ملی سفر میں ہمیں
قدم قدم پہ ہمیں زندگی ادھار لگی
مری ہی پشت سے آیا ہے وار میری طرف
کھڑے ہوئے تھے سبھی دوست یار میری طرف
ہوائیں کھا گئیں ہیں طاقچوں میں رکھے دیے
بڑھا ہے آندھیوں کا اب حصار میری طرف
حضورِ یار میں نم جب فصیلِ چشم ہوئی
بڑھا وہ بن کے مِرا غمگسار میری طرف
وہ جس کے ہونے سے رونقیں تھیں
اداسیاں مجھ کو دان کر کے
نئے سفر پر نکل گیا ہے
بچھڑ گیا ہے
میں اب ملوں گا اسے وہاں پر
جہاں پہ نفرت رواج ہے نہ زمین والوں کی کوئی سازش
آگ میں جو تپایا جاتا ہوں
زر خالص بنایا جاتا ہوں
قصر ہی قصر ہیں خداؤں کے
کس طرف کو بہایا جاتا ہوں
بارش سنگ سرخ جاری ہے
میں مسلسل نہایا جاتا ہوں
یہ ضرورت عجیب لگتی ہے
مجھ کو عورت عجیب لگتی ہے
جب بھی بجھتے چراغ دیکھے ہیں
اپنی شہرت عجیب لگتی ہے
سرحدوں پر سروں کی فصلیں ہیں
یہ زراعت عجیب لگتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ظہور شان رسالت مآبؐ کیا کہنا
نمود حُسنِ حقیقت مآب کیا کہنا
تمہارا حُسن ہوا لا جواب کیا کہنا
تمہاری ذات ہوئی انتخاب کیا کہنا
فرشتے آتے ہیں در پر ادب سے سربسجود
وہ بارگاہِ الہیٰ جناب کیا کہنا
کچھ بھی ہو مگر دل کی اطاعت نہ کریں گے
سوچا ہے کہ اب اور محبت نہ کریں گے
غیروں کی طرح اس سے سلوک اب کے کریں گے
اس بار ملے گا تو مروت نہ کریں گے
سچ بول کے رسوائی ہی رسوائی ملی ہے
اب سب سے بیاں اپنی حقیقت نہ کریں گے