میرے خوابوں کو مجھ سے گلہ رہ گیا
میں حقیقت میں ہی مبتلا رہ گیا
میں بھی قصے سناتا سفر کے مگر
یاد مجھ کو بس اک مرحلہ رہ گیا
رہ گئے کتنے کردار بھیتر مِرے
میرے بھیتر مِرا قافلہ رہ گیا
میرے خوابوں کو مجھ سے گلہ رہ گیا
میں حقیقت میں ہی مبتلا رہ گیا
میں بھی قصے سناتا سفر کے مگر
یاد مجھ کو بس اک مرحلہ رہ گیا
رہ گئے کتنے کردار بھیتر مِرے
میرے بھیتر مِرا قافلہ رہ گیا
آ دکھ سے سکوں کشید کر لیں
پہلے بھی کیا مزید کر لیں
جذبے ہیں وہی قدیم لیکن
اظہار ذرا جدید کر لیں
چاہت نہیں ممکنات میں گر
نفرت ہی چلو شدید کر لیں
ریت پہ ساحل کی اپنے نقش پا چھوڑ آئے ہیں
اے ہوا تیرے لیے اپنا پتا چھوڑ آئے ہیں
لوٹ کر دیکھیں گے اس کے آگے اس نے کیا لکھا
ڈائری میں اس کی اک پنا مڑا چھوڑ آئے ہیں
یوں اثر انداز اکیلے پن کا دکھ ہم پہ ہوا
طوطے کے پنجرے کو آنگن میں کھلا چھوڑ آئے ہیں
اب نہ وہ سر ہے نہ سودا ہے نہ سودائی ہے
حُسن خود اپنے ہی جلووں کا تماشائی ہے
رات اندھیری ہے بیاباں بھی ہے تنہائی ہے
حسرت دید خدا جانے کہاں لائی ہے
جلوۂ حُسنِ بُتاں بُوئے گُل و نغمہ سا
اتنے پردوں میں بھی اس شوخ کی رُسوائی ہے
بیتے وقت کا چہرہ ڈھونڈتا رہتا ہے
دل پاگل ہے کیا کیا ڈھونڈتا رہتا ہے
خاموشی بھی ایک صدا ہی ہے جس کو
سننے والا گویا ڈھونڈتا رہتا ہے
شبنم شبنم پگھلی پگھلی یادیں ہیں
میرا غم تو صحرا ڈھونڈتا رہتا ہے
ایسی مطلب پرست دنیا میں
کیوں کسی سے وفا کی ہو امید
چارہ گر اس نگر ملے کیونکر؟
درد کو اس نگر دوا کیوں ہو؟
یہ علاقہ ہے زیر دستوں کا
زیر دستوں سے التجا کیوں ہو؟
اس قدر پیار کا فقدان نہیں ہوتا تھا
پہلے میں اتنا پریشان نہیں ہوتا تھا
ہم سے حساس بھلا کیسے جیا کرتے تھے
یار جب مرنا بھی آسان نہیں ہوتا تھا
پڑ گیا ہے مری صحبت کا اثر اس پر بھی
ورنہ یہ دشت تو ویران نہیں ہوتا تھا