عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شوقِ نعتِ سیدالابرارﷺ ہونا چاہیے
سامنے قرآن کا معیار ہونا چاہیے
خونِ دل صرف از پئے اشعار ہونا چاہیے
نعت گو کو حاملِ ایثار ہونا چاہیے
بختِ خفتہ اس طرح بیدار ہونا چاہیے
ان کے رُخ کا خواب میں دیدار ہونا چاہیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شوقِ نعتِ سیدالابرارﷺ ہونا چاہیے
سامنے قرآن کا معیار ہونا چاہیے
خونِ دل صرف از پئے اشعار ہونا چاہیے
نعت گو کو حاملِ ایثار ہونا چاہیے
بختِ خفتہ اس طرح بیدار ہونا چاہیے
ان کے رُخ کا خواب میں دیدار ہونا چاہیے
کیسے حالات میں آ گئے، کیا کریں
ناتواں غم، تناور ہوئے، کیا کریں
یہ ہوا جانفزائی کا پیغام تھی
کیا کریں،ب جھ رہے ہیں دیے، کیا کریں
بے خبر تھے تو ہر کام آسان تھا
اب خبر کا تحیّر بہے، کیا کریں
اسمِ ظاہر سے تِرے جو کہ خبردار ہوا
تا ابد دِید سے پھر اپنی وہ بیزار ہوا
تیری وحدت میں خریداری کا دعویٰ کس کو
حُسن کا اپنے تُو ہی آپ خریدار ہوا
خُود کو کھو کے نہ لیا جس نے کبھی نام اللہ
حق اگر پُوچھو وہی مخزن اسرار ہوا
کہا جا چکا ہے سنا جا چکا ہے
مقدر میں کیا کیا لکھا جا چکا ہے
میں بیٹھا یہاں ہوں مگر یہ مرا دل
مدینے، نجف، کربلا جا چکا ہے
تجھے زعم ہے پارسائی کا لیکن
نگاہوں سے تجھ کو چھوا کا چکا ہے
ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
سہمی ہوئی آہوں نے
سب کچھ کہہ ڈالا
خاموش نگاہوں نے
ہمت رائے شرما
بد بلا ہے یہ بد بلا ہے عشق
پری خانم! بہت برا ہے عشق
حسن دریا ہے اے بوا خضرو
دل کی کشتی کا ناخدا ہے عشق
اے عزیز! دن پڑھا زلیخا نے
دل ہی یوسف تو بھیڑیا ہے عشق
خلش و سوز دلفگار ہی دی
دل میں شمشیر آبدار ہی دی
بے وفا سے معاملے کے لیے
اک طبیعت وفا شعار ہی دی
کیفیت دل کی بیان کرنے کو
ایک آواز دلفگار ہی دی