وطن کو کیوں وطن سمجھوں، نہ جب لطف وطن پایا
نہ کوئی مونس و ہمدم، نہ کوئی ہم سخن پایا
تجھے دیکھا کیے اے عہد نو، پڑھ پڑھ کے تاریخیں
وہی انسان پائے اور وہی عُہد کہن کو پایا
خدا کا شکر، ان دولت بھرے اونچے مکانوں پر
ہمیشہ کلبۂ احزاں کو اپنے خندہ زن پایا
وطن کو کیوں وطن سمجھوں، نہ جب لطف وطن پایا
نہ کوئی مونس و ہمدم، نہ کوئی ہم سخن پایا
تجھے دیکھا کیے اے عہد نو، پڑھ پڑھ کے تاریخیں
وہی انسان پائے اور وہی عُہد کہن کو پایا
خدا کا شکر، ان دولت بھرے اونچے مکانوں پر
ہمیشہ کلبۂ احزاں کو اپنے خندہ زن پایا
کسی کے وعدۂ فردا کو آزماتی رہی
تمام عمر محبت کے غم چھپاتی رہی
گزشتہ زخموں کی اتنی کسک تو باقی ہے
کبھی کبھی تو تیری یاد مجھ کو آتی رہی
بڑے سکون سے اس نے گزار دی اپنی
میں زندگی سے بھی اکثر فریب کھاتی رہی
کوئی رستہ بتانے والا نہیں
تم نہیں کوئی آنے والا نہیں
وہ جو تجھ سے ذرا بھی بیر رکھے
میں اسے منہ لگانے والا نہیں
روٹھنا ہے تو یہ سمجھ لینا
میں تو تجھ کو منانے والا نہیں
ویرانے باغ باغ ہیں میری نگاہ سے
ذرات شب چراغ ہیں میری نگاہ سے
میری نظر شعاع جگر سوز و جاں گداز
روشن دلوں کے داغ ہیں میری نگاہ سے
ہے کس قدر حسین یہ تصویر کائنات
خوشرنگ باغ و راغ ہیں میری نگاہ سے
کوئی دشمن نہ کبھی میرے مقابل ٹھہرا
بحر بپھرا تو کہاں ریت کا ساحل ٹھہرا
لے کے جاتے ہو کہاں اس کی گلی میں یارو
میرا ہر لفظ تو زنجیر کے قابل ٹھہرا
وصف کیا لکھے قلم اس کے حسیں چہرے کا
جب نہ خورشید کوئی اس کے مماثل ٹھہرا
کفیل سب ہیں مگر خود کفیل کوئی نہیں
سوائے اپنے کسی کا وکیل کوئی نہیں
دماغ اور زباں تو بدل بھی سکتے ہیں
وفا کی دل کے علاوہ دلیل کوئی نہیں
علاج کوئی معالج جو کر سکے تو کرے
سوائے ذہنِ بشر کے علیل کوئی نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محراب خوں میں تر ہے تو منبر لہو لہو
مسجد میں ہے نبیﷺ کا برادر لہو لہو
قرآں کا ہر ورق بھی ہوا پاش پاش آج
زخمی ہے ہل اتٰی، تو ہے کوثر لہو لہو
ہائے شکستہ سر ہے پڑا نفسِ مصطفیٰؐ
یعنی ہُوا ہے قلبِ پیمبرﷺ لہو لہو