Friday, 19 June 2026

بادلوں سے ٹوٹ برسے آج پانی دیر تک

 بادلوں سے ٹوٹ برسے آج پانی دیر تک

اے خدا اس شب رہے یہ رت سہانی دیر تک

جگنوؤں کی روشنی سے جھلملائیں راستے

چاندنی سے ہم کریں یہ بے ایمانی دیر تک

رات کی رنگین سڑکیں بھیگے بھیگے یہ شجر

کار کے شیشوں سے جھانکے زندگانی دیر تک

کہاں ہے وہ گل خنداں ہمیں نہیں معلوم

 کہاں ہے وہ گُلِ خنداں ہمیں نہیں معلوم

نہ پُوچھ بلبلِ نالاں! ہمیں نہیں معلوم

فِراق ہی میں بسر ہو گئی ہماری عُمر

ہے کون وصل سے شاداں ہمیں نہیں معلوم

ہمیں تو ایک صدائے جرس ہی آتی ہے

ہوا ہے کون ہُدی خواں ہمیں نہیں معلوم

دھواں دھواں ہے سر آسماں خدا حافظ

 دُھواں دُھواں ہے سرِ آسماں خُدا حافظ 

دھڑک رہا ہے دلِ ناتواں، خدا حافظ

نہ کوئی میرِ سفر ہے نہ کوئی منزل ہے 

بھٹک رہا ہے مِرا کارواں، خدا حافظ

نہ ا،لتفات نہ پُرسش، نہ واسطہ نہ کلام 

وہ ہو گئے ہیں بہت بد گُماں خدا حافظ

تو میری عادتوں میں ذرا بھی نہ ڈھل سکا

تُو میری عادتوں میں ذرا بھی نہ ڈھل سکا

پھر بھی چلوں گا ساتھ  میں جتنا بھی چل سکا

تُو زندگی میں سامنے آئے گا جب کبھی

میں راستہ بدل لوں گا گر میں بدل سکا

دنیا میں کامیابی سمیٹوں گا ایک دن 

جانی تِرے خیال سے گر میں نکل سکا

یاروں میں اب وہ طرز وفا بھی نہیں رہا

 یاروں میں اب وہ طرز وفا بھی نہیں رہا

اب وہ شکایتوں کا مزہ بھی نہیں رہا

چہرے کا ان کے اب وہ نمک بھی پگھل گیا

موسم ہمارے دل کا ہرا بھی نہیں رہا

دل توڑتے ہیں جیسے کوئی پھول توڑ دے

پاس و لحاظ ان کو ذرا بھی نہیں رہا

Thursday, 18 June 2026

جو رضائے مصطفیٰ رب کی رضا جانے فقط

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جو رضائے مصطفیٰؐ، رب کی رضا جانے فقط

دل وہی ان کی اطاعت کا مزہ جانے فقط

ابتدا ہے نور جس کی ، نورِ اول جس کا نور

بس خدائے پاک اس کی انتہا جانے فقط

چاہے اپنا ہو پرایا ہو کوئی دشمن یا دوست

ہر کسی کو وہ سزاوارِ دعا جانے فقط

ہے راہ حق یہی یہی رستہ رسول کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہے راہِ حق یہی، یہی رستہ رسولﷺ کا

منشا ہے جو خدا کا، ہے منشا رسولﷺ کا

لازم ہے ہم پہ مِدحتِ آقائے نامدارﷺ

یہ ساری کائنات ہے صدقہ رسول ﷺ کا

دونوں جہاں میں صلِ علیٰ کی ہے باز گشت

ہوتا ہے جن و اِنس میں چرچا رسولﷺ کا