Sunday, 17 May 2026

راہ میں حق کے عزیزاں آپ کو قرباں کرو

راہ میں حق کے عزیزاں آپ کو قرباں کرو

یا نہیں اس پر تصدّق اپنا جسم و جاں کرو

کاں تلک خاطر رکھو گے آرزو میں تنگ کر

غُنچۂ دل بادِ صبا سُوں عشق کے خنداں کرو

خانۂ دل 💕 کو رکھو آباد حق کی یاد سُوں

عشق کی آتش سُوں تن کو جال کر ویراں کرو

اے اجل دریائے ہستی میں ہے طوفاں خیز تو

 موت


اے اجل دریائے ہستی میں ہے طوفاں خیز تُو

سب سے بڑھ کر ہے زمانے میں بلا انگیز تُو

چھیننا بچوں کا ماؤں سے تجھے مرغوب ہے

خاتمہ ہستی کا میری کس لیے مطلوب ہے

گُلشنِ ہستی ہے تیرے ہاتھ سے وقفِ خزاں

چند دن کی میہماں ہے یہ بہارِ بُوستاں

تری زمیں سے بڑی اک زمیں پہ تنہا ہوں

 اُفق سے دُور بہت دُور دیکھ سکتا ہوں

تِری زمیں سے بڑی اک زمیں پہ تنہا ہوں

وہ خُوش ہوا ہے نہ غمگین اس خبر سے مگر

ضرور تھا کہ کہوں خیریت سے اچھا ہوں

ذرا قریب سے پُوچھو؛ کرے گا سرگوشی

میں آدمی تو نہیں آدمی کا دھوکا ہوں

کسی کی یاد میں شمعیں جلانا بھول جاتا ہے

 کسی کی یاد میں شمعیں جلانا بھُول جاتا ہے

کوئی کتنا ہی پیارا ہو زمانہ بھول جاتا ہے

کسی دن بے نیازی اس کی مجھ کو مار ڈالے گی

خفا کرتا ہے وہ لیکن منانا بھول جاتا ہے

رُخ روشن پہ زُلفوں کا یہ گرنا جان لیوا ہے

اور اس پر یہ ستم دلبر ہٹانا بھول جاتا ہے

وجود پاک ہے کتنا محبت آفرین تیرا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وجودِ پاکﷺ ہے کتنا محبت آفرین تیرا

نہیں ثانی کوئی اے رحمۃ اللعالمینﷺ تیرا

ذرا اس اتحادِ حسن و الفت کو کوئی دیکھے

تو کعبے کو مکیں کا اور کعبے کا مکیں تیرا

تصور تیرا جنت ہے، محبت تیری بخشش ہے

یہ رتبہ اور یہ درجہ شفیع المذنبیںﷺ تیرا

جب تلک وہ نظر نہیں آتا

 جب تلک وہ نظر نہیں آتا

درد دل کا ابھر نہیں آتا

جس کے حصہ میں ہوں سفرنامے

اس کے حصہ میں گھر نہیں آتا

یہ محبت کی ایک خوبی ہے

عیب کوئی نظر نہیں آتا

درد جو دل میں ہے چھپانا ہے

 درد جو دل میں ہے چُھپانا ہے

چشمِ پُر نم کو آزمانا ہے

حسرتیں ہیں دُھواں دُھواں ہر سُو

خواہشوں کو مگر بچانا ہے

اپنی پلکوں کو باندھ کر رکھیے

قیمتی سا یہاں خزانہ ہے