شکست کھا کے تیرے غم سے کامیاب ہوا
دل اس مقام پہ ڈوبا کہ آفتاب ہوا💗
سکون شوق مبدل بہ اضطراب ہوا
کسی نے پردہ کیا اور میں بے نقاب ہوا
تِری نظر ہی تو محفل کی جان ہے ساقی
نگاہ تُو نے اٹھائی کہ انقلاب ہوا
شکست کھا کے تیرے غم سے کامیاب ہوا
دل اس مقام پہ ڈوبا کہ آفتاب ہوا💗
سکون شوق مبدل بہ اضطراب ہوا
کسی نے پردہ کیا اور میں بے نقاب ہوا
تِری نظر ہی تو محفل کی جان ہے ساقی
نگاہ تُو نے اٹھائی کہ انقلاب ہوا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
رفعتِ شانِ احمدیﷺ
اے کہ تِرے وجود پر خالقِ دو جہاں کو ناز
اے کہ تِرا وجود ہے وجہِ وجودِ کائنات
اے کہ تِرا سرِ نیاز حدِ کمالِ بندگی
اے کہ تِرا مقامِ عشق قربِ تمام عین ذات
اے کہ تِری زبان سے ربِ قدیر گلفشاں
وحئ خدائے لم یزل تھی تِری ایک ایک بات
اے کہ تُو فخرِ آدمی، واقفِ سرِّ عالمی
لوح و قلم س بے نیاز تیرے علوم شش جہات
تِرے بیاں سے کھل گئیں تِرے عمل سے حل ہوئیں
منطقیوں کی الجھنیں، فلسفیوں کی مشکلات
خوگرِ بندگی جو تھے تیرے طفیل میں ہوئے
مالکِ مصر و کاشغر، وارثِ دجلہ و فرات
مجھ سے بیاں ہو کس طرح رفعتِ شانِ احمدیﷺ
تنگ مِرے تصورات، پست مِرے تخیلات
نواب بہادر یار جنگ
اصل نام؛ محمد بہادر خان
تخلص؛ خلق
ساجن
دل کی بھٹی میں
جانے کیسا لاوا تھا
اتنی تیز تپش تھی جس میں
جل کر غم بھی راکھ ہوا
نجمہ نسیم
لوگ کتنے عجیب ہوتے ہیں
وقت مطلب قریب ہوتے ہیں
جن کو دنیا امیر کہتی ہے
دل کے بے حد غریب ہوتے ہیں
پیار اک ایسا روگ ہے جس کے
حسن والے طبیب ہوتے ہیں
ڈولی میں آج بیٹھ کے بیٹی چلی گئی
گھر چیختا ہے گھر کی تجلّی چلی گئی
میں نے کسی فقیر کو لوٹا دیا ہے کیا
کیوں میرے گھر سے رُوٹھ کے روزی چلی گئی
بیٹا وہی ہے، میں بھی وہی، رشتہ بھی وہی
بس یوں ہوا کہ لہجے کی نرمی چلی گئی
خلاف مصلحتِ عشق چل کے دیکھیں گے
اس آگ میں بھی کسی روز جل کے دیکھیں گے
رہِ وفا میں یہ جس دن بھی کامیاب آیا
تو آدمی کو فرشتے نکل کے دیکھیں گے
تِری ہنسی سے فقط آنسوؤں کو کیا بدلیں
بدل سکے تو مقدر بدل کے دیکھیں گے
اب تو اک عمر ہوئی یاد نہ کر لوں خود کو
ہوں کہیں ذہن میں ایجاد نہ کر لوں خود کو
وہ خرابہ کہ جہاں کوئی نہ ہو میرے سوا
اس خرابے میں ہی آباد نہ کر لوں خود کو
جانے کس لمحۂ پر درد کی یاد آئی ہے
روتے روتے یوں ہی برباد نہ کر لوں خود کو