وصال
ہم ہواؤں کے پل سے گزرتے ہیں
ہماری آواز کی بازگشت اک اک موڑ پر ہے
دیکھو تو سہی
زمین کی ہر سلوٹ میں ایک قبر ہے
مگر ہم قبروں کے پتھر نہیں ہیں
وصال
ہم ہواؤں کے پل سے گزرتے ہیں
ہماری آواز کی بازگشت اک اک موڑ پر ہے
دیکھو تو سہی
زمین کی ہر سلوٹ میں ایک قبر ہے
مگر ہم قبروں کے پتھر نہیں ہیں
لگا ہے آئینہ نظر چُرانے ہم کو دیکھ کر
نظر اسے بھی کچھ لگا ہے آنے ہم کو دیکھ کر
شمس جو نکلتا صحن سے تھا لے ہماری تاب
لگا ہے مینڈھ کا دیا بُجھانے ہم کو دیکھ کر
ہماری پانے کو جھلک گُزاری پوری شب ادھر
لگا گلی کا موڑ وہ بھُلانے ہم کو دیکھ کر
غیبی دنیاؤں سے تنہا کیوں آتا ہے
دو ہونٹوں کے بیچ یہ دریا کیوں آتا ہے
جیسے میں اپنی آنکھوں میں ڈوب رہا ہوں
غیروں کو اکثر یہ سپنا کیوں آتا ہے
میری راتوں کے سارے اسرار سمیٹے
مجھ سے پہلے میرا سایا کیوں آتا ہے
یہ دل میرا اُداس ہے تجھ کو پتہ تو ہے
لیکن تُو آس پاس ہے تجھ کو پتہ تو ہے
پہلی صفیں اور مسندیں ہوتی ہیں کس لیے
تُو بھی تو خاص الخاص ہے تجھ کو پتہ تو ہے
مُہرے بدل بدل کر پھر ڈوریاں ہلانا
یہ مشغلے ہیں کس کے تجھ کو پتہ تو ہے
دشتِ تخیّلات میں جب بھی سفر ہوا
جانے کہاں کہاں سے ہمارا گزر ہوا
لوگو کی تلخیوں کا کچھ ایسا اثر ہوا
دل کے ہر ایک گوشے میں رقصِ شرر ہوا
اس کی طرف سے میں تو ہوا بے خبر مگر
میری طرف سے وہ نہ کبھی بے خبر ہوا
لوگ مِلتے ہیں گلے یوں دلِ بیزار کے ساتھ
جیسے دیوار مِلی ہو کسی دیوار کے ساتھ
شہر میں کچھ تو ہیں اس بات پہ دُشمن میرے
اس کی دیوار ملی ہے مِری دیوار کے ساتھ
چھت کے بارے میں بھی ہم سوچ ہی لیتے شاید
ایک دیوار ہی بن جاتی جو دیوار کے ساتھ
اے کاش
مجھ سے اب دیکھی نہیں جاتیں
تیری نمناک آنکھیں
تیرے یہ بے تاب آنسو
مجھ کو کر دیتے ہیں بے کل
دل میرا کہتا ہے مجھ سے