میں پھر لوٹ چلی ہوں
ان نظموں کی جانب
جو قلم تک آتے آتے رہ گئیں
اس کتاب کی جانب
جو تمہاری بک بک سے ادھوری رہ گئی
اس برسات کی جانب
میں پھر لوٹ چلی ہوں
ان نظموں کی جانب
جو قلم تک آتے آتے رہ گئیں
اس کتاب کی جانب
جو تمہاری بک بک سے ادھوری رہ گئی
اس برسات کی جانب
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اگر حضور کی چوکھٹ ہی روشنائی نہ دے
جہاں میں کوئی بھی شے دوستو دکھائی نہ دے
خدایا چھین لے ایسی مری سماعت کو
کہ کوئی نعت پڑھے اور مجھے سنائی نہ دے
درِ رسولﷺ سے ہو دور تو دعا ہے مری
کسی کو ایسی خدا پاک پارسائی نہ دے
سر بسجدہ ہیں جو تیرے آستاں کے سامنے
جھک نہیں سکتے وہ جور آسماں کے سامنے
جب زمانہ بے مروت ہے تو شکوہ کیا کریں
اس بتِ نا مہرباں کا مہرباں کے سامنے
چھوڑ دی جب رہبروں نے رہزنی تو بالیقین
منزلیں ہی منزلیں ہیں کارواں کے سامنے
تو بھی لگے موہوم ترے نقش قدم بھی
ٹُوٹے نہ کسی دن مِرے سجدوں کا بھرم بھی
کیا وعدۂ فردا کا کرے کوئی بھروسہ
ہے یاد مجھے تُو بھی تِرے قول و قسم بھی
لہراتا اُٹھا ہوں کسی مخموُر کی صُورت
رکھنا تھا مجھے ساقئ محفل کا بھرم بھی
چاہتی ہے آخر کیا آگہی خدا معلوم
کتنے رنگ بدلے گی زندگی خدا معلوم
کل تو خیر اے رہبر تیرے ساتھ رہرو تھے
آج کس پہ ہنستی ہے گمرہی خدا معلوم
اب بھی صبح ہوتی ہے اب بھی دن نکلتا ہے
جا چھپی کہاں لیکن روشنی خدا معلوم
کون پڑتا ہے یہاں اب عشق کی افتاد میں
دم بھلا باقی کہاں ہے تیشۂ فرہاد میں
منہدم جو ہو گئی ہے آندھیوں کے زور سے
نقص کوئی تھا کہیں تعمیر کی بنیاد میں
نوچ کر سب طائرانِ گلستان کے بال و پر
آج گُل چیں آ گیا ہے پنجۂ صیاد میں
میں اس کے پاس ایسے وقت میں پہنچا
جبکہ وہ چلمن کے پاس جامۂ خواب کے علاوہ
سونے کے لیے (سب) کپڑے نکال چکی تھی
(جب میں اس کے پاس پہنچا) تو وہ بولی، خدا کی قسم تیرے لیے اب کوئی عذر نہیں
اور میں نہیں خیال کرتی کہ تجھ سے یہ (عشق کی) گمراہی زائل ہو جائے گی
میں اس کو ایسے حال میں لے کر نکلا کہ وہ چل رہی تھی