سانسوں کی جائیداد بھی لکھ دو اسی کے نام
سارے جہان لکھے ہیں جس آدمی کے نام
کوثر نگاریوں کے سلیقے ہیں جا ں فروز
شیشہ گری کا حسن ہے تشنہ لبی کے نام
صدیوں کی پیاس شہر میں بے نام ہو گئی
صحرا بھی سر جھکائے ہیں دریا دلی کے نام
سانسوں کی جائیداد بھی لکھ دو اسی کے نام
سارے جہان لکھے ہیں جس آدمی کے نام
کوثر نگاریوں کے سلیقے ہیں جا ں فروز
شیشہ گری کا حسن ہے تشنہ لبی کے نام
صدیوں کی پیاس شہر میں بے نام ہو گئی
صحرا بھی سر جھکائے ہیں دریا دلی کے نام
نہ ہوتی حال دل کہنے کی گر ہمت تو اچھا تھا
نہ سُنتے کاش وہ شرحِ غمِ اُلفت تو اچھا تھا
مِری بیتابیٔ دل بڑھ گئی ہے الاماں کتنی
نکلتی گر نہ شوقِ دِید کی حسرت تو اچھا تھا
وہ راحت بیزیاں ثابت ہوئی کتنی حباب آسا
کبھی ہوتا نہ اتمامِ شبِ فُرقت تو اچھا تھا
اچھا اور برا تو اک پیمانہ ہوتا ہے
لیکن سرخی میں سارا میخانہ ہوتا ہے
آنسو پینا بھی کارِ مستانہ ہوتا ہے
پینے سے پہلے تھوڑا چھلکانا ہوتا ہے
ہم کو دیوانہ ہونا ہے سو ہم ہوتے ہیں
تُو تو میرے یار بس ایک بہانہ ہوتا ہے
دیکھے ذرا کوئی کہ ہوں کیسا ملنگ میں
برسات میں چلا ہوں اڑانے پتنگ میں
حیران آپ ہی نہیں ہیں دیکھ کر مجھے
اپنا مزاج دیکھ کے خود بھی ہوں دنگ میں
کیا پوچھتے ہیں آپ مِرے دل کی کیفیت
دن رات اپنے آپ سے لڑتا ہوں جنگ میں
بے صدا کی چوکھٹ پر
ٹوٹتے ارادوں کی اس عجیب دنیا میں
آنکھ کے جھپکتے ہی سب بکھرنے لگتا ہے
خواب جھڑنے لگتا ہے
رتجگوں کے نرغے میں
خواہشوں کا پنچھی جب بے تکان اُڑتا ہے
آخری وار کر رہا ہوں میں
اپنا انکار کر رہا ہوں میں
آڑ اپنے ہی جسم کی لے کر
روح کو تار کر رہا ہوں میں
اپنے دکھ بانٹ کر زمانے میں
کتنا ایثار کر رہا ہوں میں
آنکھوں کی تکرار اگر ہو جائے تو
دل پر دل کا وار اگر ہو جائے تو
میں تو اس کی پریم پجارن ہوں لیکن
اس کو مجھ سے پیار اگر ہو جائے تو
دنیا داری ساری دل کی بدولت ہے
سوچو دل 💗بیمار اگر ہو جائے تو