Saturday, 28 February 2026

ساحل پہ کیا ہے بحر کے اندر تلاش کر

 ساحل پہ کیا ہے بحر کے اندر تلاش کر

گہرائیوں میں ڈوب کے گوہر تلاش کر

جس میں حیات بخش نظارا دکھائی دے

گلزار زندگی میں وہ منظر تلاش کر

دیتے ہیں اب صدا تجھے مریخ و ماہتاب

کیا کیا ہیں ان کی گود میں جا کر تلاش کر

ساتوں رنگ کھلا نہیں پائے ہم بھی تو

 ساتوں رنگ کھلا نہیں پائے ہم بھی تو

موسم اس کے لا نہیں پائے ہم بھی تو

ڈوبتے کیسے برف جمی تھی دریا میں

سانسوں سے پگھلا نہیں پائے ہم بھی تو

جس کی تہمت رکھی اپنے بزرگوں پر

وہ دیوار گرا نہیں پائے ہم بھی تو

بھولنے والے مجھے میں تو تری پہچان تھا

 آج سے پہلے میں کب تیرے لیے انجان تھا

بھولنے والے مجھے، میں تو تری پہچان تھا

دل سے چین آنکھوں سے نیندیں چھین کر سب لے گیا

کس قدر بے رحم تیری یاد کا طوفان تھا

تھی زمانے کی نظر اک نشترِ غم ہر نفس

کچھ ہمارے دل میں ہی احساس کا فقدان تھا

خلوت میں خیالوں کی یہ انجمن آرائی

 خلوت میں خیالوں کی یہ انجمن آرائی

آباد ہے اب کتنا ویرانۂ تنہائی

ایسے بھی مراحل کچھ آئے رہ ہستی میں

محسوس ہوا منزل خود پاس چلی آئی

تو شمع مسرت ہے غم خانۂ امکاں میں

دم سے ترے قائم ہے ہر بزم کی رعنائی

Friday, 27 February 2026

کوئی نہیں آتا لاشہ خود اٹھ جاتا ہے

 لاشہ


ہر صبح یہ لاشہ، یہ بستر

آنکھیں، جو ہمیشہ کھلی رہتی ہیں

پاؤں، جو ہمیشہ دبے رہتے ہیں

ہونٹ، جو گلے سے ربط کھو چکے ہیں

آواز، جو اسی ربط میں ٹوٹ چکی ہے

دل، جس کا اب کوئی ساز نہیں

اٹھ گئی ہے محبت میرے شہر سے

 اُٹھ گئی ہے محبّت میرے شہر سے

آؤ چلتے ہیں ہم بھی کہیں دوستو

اپنی قسمیں، وہ وعدے، وہ اپنا بھرم

اب تو پہلے سا کچھ بھی نہیں دوستو

ساتھ چلنا تھا گرچہ یہیں تک مِرے

خواب منزل کے پھر نہ دِکھاتے مجھے

دل ہے بیتاب التجا کے لئے

 دل ہے بیتاب التجا کے لیے

چھیڑ دو بات ابتدا کے لیے

بوئے گل لوٹتی لٹاتی ہے

مشغلہ خوب ہے صبا کے لیے

موج طوفاں میں اب مری کشتی

ناخدا چھوڑ دے خدا کے لیے