اپنے حُلیے بدل کے ملتے ہیں
آ کہیں اور چل کے ملتے ہیں
کیوں بہکنے کا احتمال رہے
یار تھوڑا سنبھل کے ملتے ہیں
اس کے اتنے قریب ہو کر بھی
رابطے چند پل کے ملتے ہیں
اپنے حُلیے بدل کے ملتے ہیں
آ کہیں اور چل کے ملتے ہیں
کیوں بہکنے کا احتمال رہے
یار تھوڑا سنبھل کے ملتے ہیں
اس کے اتنے قریب ہو کر بھی
رابطے چند پل کے ملتے ہیں
رب کا دُنیا کو بنانا عشق ہے
سجدہ آدم کو کرانا عشق ہے
آگ کا گُلزار ہونا معجزہ
آگ میں بے خوف جانا عشق ہے
دیکھنا ماں کو عبادت ہے، مگر
دیکھ کر پھر مُسکرانا عشق ہے
آج تو کوئی پلا دے بھر کے پیمانے میں آگ
جس سے لگ جائے دل غمگیں کے غم خانے میں آگ
تھی سبُو میں جام میں شیشے میں پیمانے میں آگ
آگ ہی چاروں طرف تھی سارے مے خانے میں آگ
آپ چاہے نام اس کا مختلف رکھ لیں مگر
ایک ہی جلتی ہے کعبے اور بت خانے میں آگ
راہ کے انبوہ میں تنہا نظر آیا ہوں میں
ہمسفر اپنا سپرد خاک کر آیا ہوں میں
اوس کو ترسے ہوئے تھے اس کی آنکھوں کے گُلاب
قطرہ قطرہ اشک ہر پتی میں بھر آیا ہوں میں
اک دفینے کی طلب میں رُل گیا ہوں خاک میں
زینہ زینہ دھیان کی سیڑھی اتر آیا ہوں میں
قلم جُدائی پہ نوحے لِکھتا ہے
تمہارے جانے کا یہ نوحہ ساری کائنات نے
میرے ساتھ لِکھا ہے
ہم سب فِراق، نصیب، ہجر کا موسم اوڑھے
ایک دوسرے سے پِیٹھ موڑے بیٹھے ہیں
جُدائی کے پتے بالوں میں اُلجھے ہیں
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے
اپنی ہستی کی کچھ خبر ہی نہیں
ہم پڑے ہیں کچھ ایسے غاروں میں
روشنی کا جہاں گزر ہی نہیں
اکرم کلیم
سر کھپائیں نہ زمانے والے
ہم سمجھ میں نہیں آنے والے
بارِ غم، بارِ جنوں، بارِ خِرد
ہم تو ہیں بوجھ اُٹھانے والے
کیا کہیں جان کہاں ہاری تھی
کب یہ قِصے ہیں سُنانے والے