جنہیں ہم نے آنکھوں میں رکھا چھُپا کر
وہ گُزرے ہیں پہلو سے آنکھیں چُرا کر
مِری زندگی میں جمُود آ گیا ہے
نئے حادثے کی کوئی ابتداء کر
غموں کے اندھیروں میں گُم ہو گیا ہے
دلوں میں چراغِ محبت جلا کر
جنہیں ہم نے آنکھوں میں رکھا چھُپا کر
وہ گُزرے ہیں پہلو سے آنکھیں چُرا کر
مِری زندگی میں جمُود آ گیا ہے
نئے حادثے کی کوئی ابتداء کر
غموں کے اندھیروں میں گُم ہو گیا ہے
دلوں میں چراغِ محبت جلا کر
بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
منتظر عُشّاق کو چہرہ دِکھانا چاہیے
باوجود اس عشق میں کیا کیا ستم ہم نےسہے
پھر بھی پاگل دل مِرا کہ دل لگانا چاہیے
ہم سرِ محفل سے اب تک شعر ہی کہتے رہے
آپ کو بھی کچھ نہ کچھ اب تو سنانا چاہیے
محبت کے سفر میں ایک ایسا بھی مقام آیا
سہارے کے لیے لب پر تمہارے میرا نام آیا
ہوا ساکت فضا مبہوت اور لب بند غنچوں کے
چمن میں کون ہنگام سحر نازک خرام آیا
پناہیں ڈھونڈ لیں خورشید نے کہسار کے پیچھے
جو دیکھا شام کو اک ماہ وش بالائے بام آیا
دردِ تنہائی الگ ہے شادمانی ہے الگ
میرا قِصہ اور ہے ان کی کہانی ہے الگ
ایک ہے موسم خزاں کا ایک ہے فصلِ بہار
دورِ پِیری ہے الگ عہدِ جوانی ہے الگ
جامِ صہبا میں کہاں ایسا مزا ہے ساقیا
تیری آنکھوں کی شرابِ ارغوانی ہے الگ
تم نے جب دنیا الگ اپنی بسا رکھی ہے
میں نے پھر کس لیے یہ بزم سجا رکھی ہے
نہ کوئی حرفِ تسلی،۔۔ نہ فریبِ وعدہ
شمع امید کی پھر کیوں یہ جلا رکھی ہے
تم کہیں غیر کی محفل میں ہو جلوہ افروز
میں نے کس آس پہ یہ سیج سجا رکھی ہے
آرزو کا یہ زاویہ کیا ہے
عشق میں خواہشِ صِلہ کیا ہے
میں پریشان کس لیے ہوں گا
تُو میسّر ہے تو گیا کیا ہے
ساتھ چلنا ہے تو خُوشی سے چل
بات بے بات سوچتا کیا ہے
اہلِ وفا سے رابطہ جس وقت کٹ گیا
میرا وجود بانہوں میں اپنی سمٹ گیا
جانے عجب خیال سے کل دھک سے رہ گیا
دستک دئیے بغیر میں در سے پلٹ گیا
جُگنو تمہاری یاد کے دل میں اُتر گئے
تاریک شہرِ دل کا جو منظر تھا چھٹ گیا