Sunday, 3 May 2026

کہتے ہیں اپنا حال کسی سے کہوں نہیں

 کہتے ہیں، اپنا حال کسی سے کہوں نہیں

یعنی کہ صرف درد سہوں، اُف کروں نہیں

ہے ان دنوں میں پیشِ نظر رقص کے لیے

وہ ساز جس میں کوئی بھی سوزِ دروں نہیں

تصویر توڑ دی تو تصوّر میں آ گئے

عہدِ فراق میں بھی کسی پل سکوں نہیں

اپنے سائے کو بھی اسیر بنا

 اپنے سائے کو بھی اسیر بنا

بہتے پانی پہ اک لکیر بنا

صرف خیرات حرف و صوت کی دے

شہر فن کا مجھے امیر بنا

شوخ تتلی ہے گر ہدف پہ تِرے

گُل کے ریشوں سے ایک تیر بنا

دل شگفتہ ہو تو افسردہ خیالی جائے

 دل شگفتہ ہو تو افسردہ خیالی جائے

آنسو تھم جائیں تو حالت بھی سنبھالی جائے

جان لیوا ہے شبِ غم کی درازی اے دوست

آمدِ صبح کی اب راہ نکالی جائے

آ گئے محفلِ رِنداں میں تو ناصح لیکن

ان سے کہہ دے کوئی دستار سنبھالی جائے

Saturday, 2 May 2026

وہ نظر آیا فلک پر عصر حاضر کا ہلال

 سیاست


وہ نظر آیا فلک پر عصر حاضر کا ہلال

وہ چمک اٹھا خوشی سے چہرۂ حُزن و ملال

اک طرف طبقات میں پیدا ہے بیداری کی موج

دیدنی ہے دوسری جانب سیاست کا کمال

اک طرف جمہور کی طاقت کے چرچے ہیں یہاں

دوسری جانب حکومت کر رہی ہے قیل و قال

ہم کہ ناچار اور کیا کرتے

 ہم کہ ناچار اور کیا کرتے

مان لی ہار اور کیا کرتے

اپنی ہی بات پر مصر تھا وہ

اس سے تکرار اور کیا کرتے

پھوڑنا پڑ گئی جبیں اپنی

پیشِ دیوار اور کیا کرتے

ہمیں پانی ڈبوتا جا رہا ہے

 ہمیں پانی ڈبوتا جا رہا ہے

یہ گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے

عجب موسم ہے یہ انہونیوں کا

نہ ہونا تھا جو، ہوتا جا رہا ہے

غضب ہے جو ستم ڈھائے ہے دل پر

وہی دل میں سموتا جا رہا ہے

جشن آمد رسول اللہ ہی اللہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جشن آمد رسولﷺ اللہ ہی اللہ

بی بی آمنہؑ کے پھول اللہ ہی اللہ


جب کہ سرکارﷺ تشریف لانے لگے

حُور و غلماں بھی خوشیاں منانے لگے

ہر طرف نُور کی روشنی چھا گئی

مصطفیٰﷺ کیا ملے زندگی مل گئی