وصل کی شب میں سحر ڈھونڈ کے لایا نہ کرو
خواب ہی میں مجھے رہنے دو جگایا نہ کرو
میری آنکھوں میں نہاں ایک سیاہ شیشہ ہے
میری تصویر بھی اب مجھ کو دکھایا نہ کرو
جھلملاتا ہے اب اک جلوہ مِری آنکھوں میں
آندھیاں بن کے مِری نظروں پہ چھایا نہ کرو
وصل کی شب میں سحر ڈھونڈ کے لایا نہ کرو
خواب ہی میں مجھے رہنے دو جگایا نہ کرو
میری آنکھوں میں نہاں ایک سیاہ شیشہ ہے
میری تصویر بھی اب مجھ کو دکھایا نہ کرو
جھلملاتا ہے اب اک جلوہ مِری آنکھوں میں
آندھیاں بن کے مِری نظروں پہ چھایا نہ کرو
منا کے روٹھی ہوئی روشنی کو لے آؤ
مِرے قریب مِری زندگی کو لے آؤ
تمام عمر گزاری ہے جس کی فرقت میں
مِری تمنا مِری زندگی کو، لے آؤ
وہ جس مقام پہ درویش مسکراتا ہے
اُسی مقام پہ ہر آدمی کو لے آؤ
فرزانے تجھ کو ڈھونڈ کے لاچار ہو گئے
دیوانے تیرے صاحبِ اسرار ہو گئے
یارب عطا ہو پائے طلب کو جنوں کا جوش
ہوش و حواس راہ کی دیوار ہو گئے
گھبرا کے ہم بھی تنگئ دامانِ فکر سے
عریاں کبھی کبھی سرِ بازار ہو گئے
بالوں کی سیاہی میں سفیدی جو عیاں ہے
بس چونکیے یہ صبح کی آوازِ اذاں ہے
یوں لذتِ آآزارِ قفس رشتۂ جاں ہے
"اب دل پہ نشیمن کا تصور بھی گراں ہے"
ہر سُو نگراں ہوں متجسس ہیں نگاہیں
سائے تو بہت ہیں مگر انسان کہاں ہیں
در جاناں سے نہ لے جائے خدا اور کہیں
ہم نہیں جائیں گے اس در کے سوا اور کہیں
کر دیا ان کی جدائی نے عزیزوں سے جدا
میں کہیں اور ہوں اور دل ہے مرا اور کہیں
آپ کے کوچے میں اغیار کہاں آتے ہیں
میں نے دیکھے ہیں نقشِ کفِ پا اور کہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جب سے سرکارﷺ نے نعتوں کی اجازت دی ہے
ساری دُنیا نے مجھے ڈھیر محبّت دی ہے
اُنؐ کے رتبے کو بیاں کرنا تو ممکن ہی نہیں
اُنﷺ کو اللّٰہ نے نبیوں کی صدارت دی ہے
ہجر کاٹیں تبھی کُھلتا ہے کسی وصل کا بھید
آج تک اِس لیے اُس نے ہمیں فُرقت دی ہے
محفوظ کیا رہا ہے نظر سے دُکان میں
کیسے چھُپاؤں عمر کو ٹُوٹے مکان میں
دُہرائے کون قتلِ غریباں کی داستاں
زنجیر ڈال دی ہے ڈروں نے زبان میں
دن میں جو دے رہے تھے ہمیں آشتی کا درس
شب میں چُھپا رہے تھے کوئی شے مچان میں