آرزوئے دل ناکام سے ڈر لگتا ہے
زندگانی تِرے پیغام سے ڈر لگتا ہے
پھر کسی جذبۂ گُمنام سے ڈر لگتا ہے
حُسنِ معصوم پہ الزام سے ڈر لگتا ہے
شیشۂ دل پہ کوئی ٹھیس نہ لگنے پائے
تلخیٔ مے سے نہیں جام سے ڈر لگتا ہے
آرزوئے دل ناکام سے ڈر لگتا ہے
زندگانی تِرے پیغام سے ڈر لگتا ہے
پھر کسی جذبۂ گُمنام سے ڈر لگتا ہے
حُسنِ معصوم پہ الزام سے ڈر لگتا ہے
شیشۂ دل پہ کوئی ٹھیس نہ لگنے پائے
تلخیٔ مے سے نہیں جام سے ڈر لگتا ہے
بچ بچا کر دہر کے ہنگام سے
کٹ رہی ہے زندگی آرام سے
کردیا کتنوں کو شہرت یافتہ
ہم رہے گمنام کے گمنام سے
ہے تو اک شمع میرے بھی روبرو
ڈر رہا ہوں عشق کے انجام سے
نفسِ امارہ کے جب بھی پر کُھلے
آرزوؤں کے ہزاروں در کھلے
جاگتی آنکھوں کے جب منظر کھلے
کربِ ہجرت سے کئی خنجر کھلے
جذبۂ جہد و عمل زندہ رہے
منزلوں کے لاکھ بحر و بر کھلے
آنکھوں میں کوئی خواب کی لرزش نہیں رہی
دل پر بھی اب وہ پہلی سی جنبش نہیں رہی
اب تو عدو سے بھی کوئی رنجش نہیں رہی
اپنی زباں پہ تالے کی خواہش نہیں رہی
ٹُوٹا ہے جب سے تارِِ نفس عشق کا مِرے
دل میں کسی کی یاد کی جُنبش نہیں رہی
ایک گزارش
شکستہ ہوں مگر دولت بھی ہے حاصل ہوئی ہم کو
گزارے ساتھ جو پل قدر اس کی ہو نہیں کس کو
بنے سرمایہ ہیں وہ زندگی کا پیار سے رکھنا
خدا را یادیں مت لینا
یہی یادیں ہیں لے جائیں گی ہم کو آخری دم تک
فسانہ غم کا رُسوائے جہاں ہوتا تو کیا ہوتا
محبت میں ہر اک آنسو زباں ہوتا تو کیا ہوتا
ارے او میرے ہونٹوں کا تبسّم دیکھنے والے
تجھے اندازۂ ضبطِ فُغاں ہوتا تو کیا ہوتا
زہے قسمت کہ اب بھی فرقِ حُسن و عشق باقی ہے
یہاں جو حال ہے دل کا وہاں ہوتا تو کیا ہوتا
بیچ دلوں میں اترا تو ہے
درد تِرا البیلا تو ہے
رُوپ تِرا اے راجکماری
جیسے میری رچنا تو ہے
چاند کو تم آواز تو دے لو
ایک مسافر تنہا تو ہے