Sunday, 19 July 2026

دیکھ لڑکی تری چاہتیں جرم ہیں

 دیکھ لڑکی تِری چاہتیں جُرم ہیں


تو کیا یہ سچ ہے کہ میری ہر بات خواب ہو گی

یہ میری ہستی جو اتنے طُوفان جھیلتی ہے سراب ہو گی

تو کیا یہ سچ ہے کہ ڈور سانسوں کی توڑ دو گے

زمانے والو

سُنا ہے تم مجھ کو دشتِ ویراں میں چھوڑ دو گے

زندگی پر غموں کا سایا ہے

 زندگی پر غموں کا سایا ہے

کل جو اپنا تھا اب پرایا ہے

چھوڑ کر رسم و راہ دنیا کی

کون کب کس کے کام آیا ہے

کیوں ہوئیں نم یہ آپ کی آنکھیں

زخمِ دل ہم نے کب دِکھایا ہے

مرا یہ ملک مقدس کتاب جیسا ہے

 مِرا یہ ملک مُقدس کتاب جیسا ہے

ہر ایک فرد گُلوں میں گُلاب جیسا ہے

چراغ سب نے جلائے ہیں امن کے لیکن

اندھیرا وقت کا اک آفتاب جیسا ہے

ملیں نہ ہاتھ فقط دل سے دل بھی مل جائیں

یہ دیکھنے کو مجھے اضطراب جیسا ہے

سوجھی تدبیر نہ کچھ رنج و بلا سے پہلے

 سُوجھی تدبیر نہ کچھ رنج و بلا سے پہلے

زندگی چھوڑ گئی ساتھ قضا سے پہلے

یہ سُلگتا ہوا افلاس کا چڑھتا سُورج

مار ڈالے نہ کہیں گرم ہوا سے پہلے

آسماں پر بھی پہنچنا کوئی دُشوار نہیں

چاہیے دل میں تڑپ حرفِ دعا سے پہلے

حریف سنگ ہوں مٹی سے پیار کرتا ہوں

 حریف سنگ ہوں مٹی سے پیار کرتا ہوں

لہُو سے اپنے گُلابوں میں رنگ بھرتا ہوں

قدم قدم پہ تِرا انتظار کرتا ہوں

میں زندگی کے تجسس میں روز مرتا ہوں

بدن کے زخم صداقت پہ میری ہنستے ہیں

جب آئینے کے تخاطب سے میں گُزرتا ہوں

تمام ہجر اسی کا وصال ہے اس کا

 تمام ہجر اسی کا وصال ہے اس کا

میں جی رہا ہوں مگر جان و مال ہے اس کا

وہ زینہ زینہ اُترنے لگے تو سب بُجھ جائے

وہ بام پر ہے تو سب ماہ و سال ہے اس کا

میں قتل ہو کے بھی شرمندہ اپنے آپ سے ہوں

کہ اس کے بعد تو سارا زوال ہے اس کا

Saturday, 18 July 2026

فریضہ ہے سو ہم نبھایا کریں گے

 فریضہ ہے سو ہم نبھایا کریں گے

چراغوں کو مجلس میں لایا کریں گے

اندھیروں اُجالوں کی ہے یہ لڑائی

بُجھاؤ گے تم، ہم جلایا کریں گے

چُھپاؤ گے چہرہ کہاں تک تم اپنا

ہم اک آئینہ بن کے آیا کریں گے