چاک جگر و دل کا جب شکوہ بجا ہوتا
یوسف کا زلیخا نے دامن تو سیا ہوتا
سہتا ہوں ستم اس کے احسان ہے دنیا پر
گر میں نہ وفا کرتا کیا جانیے کیا ہوتا
تم اور عدو دونوں اک جان دو قالب ہیں
میں تم سے اگر ملتا وہ کیوں کہ جدا ہوتا
چاک جگر و دل کا جب شکوہ بجا ہوتا
یوسف کا زلیخا نے دامن تو سیا ہوتا
سہتا ہوں ستم اس کے احسان ہے دنیا پر
گر میں نہ وفا کرتا کیا جانیے کیا ہوتا
تم اور عدو دونوں اک جان دو قالب ہیں
میں تم سے اگر ملتا وہ کیوں کہ جدا ہوتا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لولاک ہے چمن گل خوشرو حضورﷺ ہیں
ہر گل کی رگ میں صورت خوشبو حضورﷺ ہیں
ہر ظلم کے محاذ پہ سینہ سپر ہیں آپ
ہر ناتواں کی قوت بازو حضورﷺ ہیں
رہتے ہیں ممکنات ابد تک نگاہ میں
حسن ازل کی جنبش ابرو حضورﷺ ہیں
بنجر رُت کے گیت
لہر اٹھتی ہے طوفان بنتی نہیں
آگ جلتی ہے، دامن پکڑتی تو ہے
پر جلاتی نہیں
اس لیے آج کل دل کو بھاتی نہیں
ہجر کی تپ بھی سرما کی بس دھوپ سی
دل نے پھر آج تجھے یاد کیا ہے چُپکے سے
جیسے کوئی خواب سجاتا ہے چپکے سے
ہم نے ہنس کر بھی دُکھ چھپائے ہیں دنیا سے
دل مگر رات کو رو جاتا ہے چپکے سے
وہ جو کہتے تھے کبھی چھوڑیں گے نہ ساتھ میرا
آج وہی ہاتھ چُھڑا جاتا ہے چپکے سے
بجھتا شعلہ پھر بھڑکا ہے توبہ ہے
بجلی بن کر یہ کڑکا ہے توبہ ہے
شہر میں سب ہیں پتے پہنے اوپر سے
موسم بھی یہ پت جھڑ کا ہے توبہ ہے
ادھر سے اس نے بیٹھی سی آواز لگائی
یہاں پہ ہر بابا پھڑکا ہے توبہ ہے
سراب خوردہ کسی کہانی میں ڈُوب جائیں
وہ لاؤ لشکر سمیت پانی میں ڈوب جائیں
تمہارے جیسے نہ جانے کتنے عمیق دریا
ہماری آنکھوں کی رائیگانی میں ڈوب جائیں
ہمارے مضروب جسم سے تیر کھینچ لینا
کہ خیالات کی روانی میں ڈوب جائیں
جواب دو تم کیا ہے کس نے تمہیں اشارہ سوال یہ ہے
کہ آج تک میں نے کیا بگارا صنم تمہارا سوال یہ ہے
قدم قدم پہ کھڑی تھی مصیبتوں میں یہ زیست تیری
خموش کیوں ہے نہیں ہے اس کو اگر سنوارا سوال یہ ہے
حضور تم کو بسایا دل میں چھپا کے رکھا زمانے بھر سے
مِری وفاؤں سے کیوں مِری جاں! کیا کنارا سوال یہ ہے