شاعر نہیں بھولتے
ماں کا چہرہ اور پہلی محبت
ایک شام اور دو کرسیاں
پریشانی میں دیا گیا دلاسہ اور گال سے چپکا بوسہ
ایک سفر اور کوئی بمسفر
سیاہ رنگ اور فیض
شاعر نہیں بھولتے
ماں کا چہرہ اور پہلی محبت
ایک شام اور دو کرسیاں
پریشانی میں دیا گیا دلاسہ اور گال سے چپکا بوسہ
ایک سفر اور کوئی بمسفر
سیاہ رنگ اور فیض
دنیا نے نچایا ہے، سبھی ناچ رہے ہیں
ناچے ہیں گداگر بھی، سخی ناچ رہے ہیں
دانش بھی دریچے میں کھڑی جھوم رہی ہے
پاؤں میں پڑی دیدہ وری، ناچ رہے ہیں
باندھے ہیں یہ گھنگرو تو کوئی راز ہے اس میں
دم لیں گے بتائیں گے، ابھی ناچ رہے ہیں
جنگ کس سے لڑوں؟
اس زمیں سے
جہاں میرے دشمن کی بیٹی کا اسکول ہے
اس سپاہی سے؟
جو اپنی محبوب عورت کی ناراض بانہوں کا
صدمہ اٹھائے ہوئے لڑ رہا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اٹھا وہ جو تھا میم کا پردہ شب معراج
احمدؐ نے احد آپ کو پایا شب معراج
جھگڑا جو ہوا عشق ابد حسن ازل میں
اک آن میں حضرت نے چکا یا شب معراج
حضرت ہی کی صورت کو گئی دیکھنے حضرت
حضرت ہی تھے حضرت کا تماشا شب معراج
اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے
عشق کی راکھ کو سینے سے لگایا ہم نے
درد کی آگ کو شعلوں سے شناسا کر کے
لذت ہجر کی حدت کو چھپایا ہم نے
روح کی پیاس بجھانے کا ارادہ باندھا
وادیٔ عشق میں اک پھول کھلایا ہم نے
بے قراری بھی ہے قرار بھی ہے
ہر سکون جانِ اضطرار بھی ہے
کسی پیماں شکن کے وعدوں پر
کیا کریں ہم کو اعتبار بھی ہے
دل میں ہے خواہشِ ستائش بھی
حسن کا ذکر ناگوار بھی ہے
مصرعۂ طرح پر ایک غزل کے چند اشعار
"گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مِرے صیاد کی ہے"
میری فریاد کے انداز اُڑائے کس نے
ہاں میں سمجھا یہ صدا بُلبلِ ناشاد کی ہے
قبر پر بھی میری آئے ہو تو ہیں ساتھ رقیب
حد بھی ظالم! ستم و جور کی بیداد کی ہے
دیکھ عشّاق کی فوجوں کو ذرا بام پہ آ
یہ حکومت فقط اک حُسنِ خُدا داد کی ہے