Monday, 6 July 2026

نے کا نے نام رکھ دیا کس نے

 نے کا نے نام رکھ دیا کس نے؟

نے میں پیغام رکھ دیا کس نے؟

مختصر سی حیات میں جانے

اس قدر کام رکھ دیا کس نے؟

دل کی بے تابیوں کے عالم کا

زندگی نام رکھ دیا کس نے؟

یہ کیف حسن اس پہ یہ مستی شباب کی

 یہ کیف حُسن اس پہ یہ مستی شباب کی

یہ آپ ہیں کہ موج ہے کوئی شراب کی

سُونی ہے بزمِ عالمِ اِمکاں تِرے بغیر

ظُلمت ہے روشنی بھی شبِ ماہتاب کی

کیوں میری لغزشوں پہ زمانہ ہے طعنہ زن

سب لغزشیں معاف ہیں عہدِ شباب کی

کل ایک شخص جو اچھے بھلے لباس میں تھا

 کل ایک شخص جو اچھے بھلے لباس میں تھا

برہنہ آج وہ اُترا ہوا گلاس میں تھا

ہم آفتاب درخشاں جسے سمجھتے تھے

وہ ایک وہم کا جگنو ہوس کی گھاس میں تھا

زمین و عرش کی تقسیم کے زمانے میں

بشر اسیر جنوں تھا کہاں حواس میں تھا

Sunday, 5 July 2026

اس سے پہلے كہ سال کی آخری شام تمام ہو

 اِس سے پہلے كہ سال کی آخری شام تمام ہو

اور تُو بھی مصروف نو ایام ہو

اِس سے پہلے کہ میں زیست گروی رکھ دوں

کسی اور کے پاس

اِس سے پہلے کہ تیرے ہاتھوں کا لمس

تیرے لبوں کی مسیحائی اور تیرے لہجے کی پزیرائی

ہے علم بشر کتنا سرکار کے بارے میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہے علمِ بشر کتنا سرکارﷺ کے بارے میں

ہم لوگ کہیں گے کیا، سرکارؐ کے بارے میں

اے شوق سخن گوئی! ہے شرط ادب اول

کچھ کھیل نہیں کہنا، سرکارؐ کے بارے میں

پیکر ہے تو بے سایہ، ٹپکا ہے تو بے جسمی

کیا کیا ہوا دھوکا، سرکارؐ کے بارے میں

گزرے گی کیا جمال رخ یار دیکھ کر

 گُزرے گی کیا جمالِ رُخِ یار دیکھ کر

حیرت ہے حُسن حسرتِ دِیدار دیکھ کر

نا سازیٔ جہاں کی تو پروا کبھی نہ تھی

جی بُجھ گیا ہے تم کو💔 دلآزار دیکھ کر

اس دِلفگارِ شوق کی حسرت نہ پُوچھیے

مجرُوح ہو گیا ہو جو تلوار 🗡 دیکھ کر

وہ بگڑتے ہی رہے کھسکے نہ اس محفل سے ہم

 وہ بگڑتے ہی رہے کِھسکے نہ اس محفل سے ہم

اپنی عادت سے تھے وہ مجبور، اپنے دل سے ہم

تھا رقیبوں کا اک ہنگامہ بچے مُشکل سے ہم

جُوتا ٹوپی چھوڑ کر بھاگ آئے اس محفل سے ہم

جان کے ٹکراتے ہم،۔ دونوں تلے اوپر گِرے

وہ اُدھر رکشا سے اُلٹے اور اِدھر سائیکل سے ہم