ایک موہوم سی خوشی کی طرح
تم ملے بھی تو اجنبی کی طرح
تیرگی کے اداس جنگل میں
ہم بھٹکتے ہیں روشنی کی طرح
غم دوراں سنوار دوں تجھ کو
اپنے گیتوں کی دلکشی کی طرح
ایک موہوم سی خوشی کی طرح
تم ملے بھی تو اجنبی کی طرح
تیرگی کے اداس جنگل میں
ہم بھٹکتے ہیں روشنی کی طرح
غم دوراں سنوار دوں تجھ کو
اپنے گیتوں کی دلکشی کی طرح
کوئی میرا ہوا ہوا نہ ہوا
اس کا مجھ کو کبھی گلہ نہ ہوا
سب کی کرتا رہا بھلائی میں
پھر بھی میرا کبھی بھلا نہ ہوا
ہو گئے مجھ سے وہ جدا پھر بھی
درد دل سے مگر جدا نہ ہوا
دل کہیں مُبتلا نہ ہو جائے
بے خطا ہی سزا نہ ہو جائے
عرضِ مطلب بھی کہہ نہیں سکتا
بات اپنی خطا نہ ہو جائے
درد کو بھی چُھپا کے رکھتا ہوں
خوف یہ ہے شفا نہ ہو جائے
جنت نظیر شہر پر کس کی نظر لگی
سن کر تمہارا نام میرے دل میں تھی خوشی
گلگت میرے حسین شہر! تجھ پہ ہو سلام
لکھتا رہا ہوں تجھ پر میں نوحہ کبھی کبھی
ناحق لہو بہا ہے جس سے دوستو
رزقِ حلال، امن و اماں بھی چلی گئی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو تِرے در پہ، دِوانے سے آئے بیٹھے ہیں
وہ اپنی لو بھی تجھی سے لگائے بیٹھے ہیں
فقط حضورﷺ کا اُسوہ ہے جن کے پیش نظر
جبینیں اپنی ادب سے جھکائے بیٹھے ہیں
طلب سے بڑھ کے ملی ان کو ہے پذیرائی
ردائیں اوڑھ کے جو منہ چھپائے بیٹھے ہیں
وقت کی قیمت کیا ہے
کیوں چہرہ دیکھتے ہیں لوگ
ہزاروں میں پہچانتے ہیں لوگ
چھپتا ہے دل ہر کس و ناکس سے
کہتے ہیں روشنی میں آ
کہا ہوا سنا
سنائیں کس طرح
نوحہ
میرے کتے
مجھ سے بہتر جینے والے
آج تو میری خاطر بھونک
میرے حال پہ نوحہ کہہ
جو دھرتی افلاک ہلا دے
جس پر میں تقسیم ہوا ہوں