آئے گی میری یاد میری زندگی کے بعد
ہو گی نہ روشنی کبھی اس روشنی کے بعد
مجھ کو وفا بھی روئے گی میری کمی کے بعد
آتی ہے یاد آدمی کی آدمی کے بعد
وہ حال ہو گا بزمِ جہاں کا میرے بغیر
ہوتا ہے رنگ بزم کا جو برہمی کے بعد
آئے گی میری یاد میری زندگی کے بعد
ہو گی نہ روشنی کبھی اس روشنی کے بعد
مجھ کو وفا بھی روئے گی میری کمی کے بعد
آتی ہے یاد آدمی کی آدمی کے بعد
وہ حال ہو گا بزمِ جہاں کا میرے بغیر
ہوتا ہے رنگ بزم کا جو برہمی کے بعد
سب سے ہنس کر ہاتھ ملانا سیکھ لیا
جینا کیا سیکھا، مر جانا سیکھ لیا
دیواروں پر بستی کی اوقات کھلی
بچوں نے تصویر بنانا سیکھ لیا
کالی پیلی تفسیروں کی زد پر ہوں
خاموشی نے شور مچانا سیکھ لیا
تکنیک
دوستی کو معتبر میں نے کیا
حُسن کو زیرِ نظر میں نے کیا
کس لیے بھیجا گیا میں دہر میں
جرم کیا اے کوزہ گر میں نے کیا؟
جو جہاں میں بے وفا مشہور ہے
اس کو اپنا چارہ گر میں نے کیا
جھوٹ کی منڈی میں سچ لے کر آیا ہے
سچ کہنا کس نے تجھ کو بہکایا ہے
رات گئے آہٹ سن کر کیوں دھڑکا ہے
اے میرے دل ایسا کیا یاد آیا ہے
سچا ہے تو ڈر کیسا ہے کھل کر بول
آئینے کو دیکھ کے کیوں شرمایا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے چارہ گرِ کُل! تُو ہی مقصود ثنا ہے
تُو مالکِ ہستی ہے، مقدر کا لکھا ہے
تیرے ہی اشارے سے یہ طُوفان ہوا ہے
کیا بحر ہے کیا باد سبھی تیرے نشاں ہیں
تجھ جیسے حمید اور حفیظ کہاں ہیں
راہوں میں ہماری ہے تِرا نور مددگار
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کیوں کر نہ کروں مدحتِ سلطانِ مدینہ
جب پیش نظر ہوں مِرے فیضانِ مدینہ
تہذیب کا گہوارہ دبستانِ مدینہ
یہ خاکِ عرب ہے وہ مِری جانِ مدینہ
خوشبوئے محبت سے معطر ہے زمانہ
کس شان سے مہکا ہے گُلستانِ مدینہ
سنو گرمی بہت ہے
اے سی بھی ٹھیک کروایا
پھر بھی چل نہیں رہا
اچھا سنو
کیا تمہاری طرف آ جاؤں؟
دو دن سے سوئی نہیں