Sunday, 30 August 2026

ہر قدم پر اک نیا خطرہ ہے میرے شہر میں

ہر قدم پر اک نیا خطرہ ہے میرے شہر میں

ہوں مگر مجبور جینے کو اندھیرے شہر میں

کھیتیاں سُوکھی پڑی تھیں چار سُو دیہات میں

جم کے برسے اس طرف بادل گھنیرے شہر میں

سب مکیں سہمے ہوئے، خاموش ہیں دیوار و در

گُھومتے ہیں ہر طرف قاتل، لُٹیرے شہر میں

لالے پڑے ہیں جان کے جینے کا اہتمام کر

 لالے پڑے ہیں جان کے جینے کا اہتمام کر

جن میں ہو کیفِ زندگی بہرِ خدا وہ کام کر

طورِ حیات سے اُڑا جذبۂ زیستن کی آگ

جب کہیں جا کے نیّتِ زندگی دوام کر

پہلے یہ سوچ دام کے توڑنے کی سکت بھی ہے

بعد کو دل میں خواہشِ دانۂ زیرِ دام کر

وقت کی قید نہیں زلف کے سلجھانے میں

 وقت کی قید نہیں زُلف کے سُلجھانے میں 

رنگ بھرتی ہے چلی جاتی ہوں افسانے میں 

میں وہ مے کش ہوں سرشام ہی میخانے میں 

غموں کو گھول کے پی جاتی ہوں پیمانے میں 

آزمانا ہے تو  پھر شمع کو جلا کے دیکھو

موت کا خوف نہیں ہوتا ہے پروانے میں 

سارے الفاظ معانی میں گرفتار نہیں

 سارے الفاظ معانی میں گرفتار نہیں

بات کرتے ہیں مگر بات کا اظہار نہیں

میں نے پالا ہے خیالوں کو مروّت کے بغیر

میرے دل میں کسی ہمسایہ کی دیوار نہیں

ہم تو اِس دور کو کہتے نہیں اُس دور کے لوگ

ہم تو بازار سے گُزرے ہیں خریدار نہیں

پانی سے کب پیاس بجھائی جا سکتی ہے

 پانی سے کب پیاس بُجھائی جا سکتی ہے

دریا کو یہ بات بتائی جا سکتی ہے

اُس کو لایا جا سکتا ہے جنگل میں

پیڑوں کی توقیر بڑھائی جا سکتی ہے

پھولوں سے ہی دل کی باتیں کیا کرنا

خُوشبُو بھی ہمراز بنائی جا سکتی ہے

Saturday, 29 August 2026

کبھی صرصر ہے کبھی باد صبا ہے ساقی

 کبھی صرصر ہے کبھی بادِ صبا ہے ساقی

زندگی سلسلۂ بِیم و رجا ہے ساقی

نہ کدورت ہے کسی سے نہ گِلہ ہے ساقی

میں نے خود اپنے مقدر کو لِکھا ہے ساقی

اپنے ماحول میں شامل ہوں میں اوروں کی طرح

میرے جینے کا مگر طور جُدا ہے ساقی

ناصح کو بڑھاپے میں ہے ارمان ابھی تک

 ناصح کو بُڑھاپے میں ہے ارمان ابھی تک

کہتے ہیں وہ بیوی کو مِری جان! ابھی تک

کھولے ہوئے بیٹھے ہیں وہ دوکان ابھی تک

پھیکا ہے مگر شیخ کا پکوان ابھی تک

سر ہلتا ہے تھوتن میں کوئی دانت نہیں ہیں

بن پایا نہ ٹُوٹا ہوا دالان ابھی تک