Friday, 20 February 2026

سکھ دکھ میں گرم و سرد میں سیلاب میں بھی ہیں

 سکھ دکھ میں گرم و سرد میں سیلاب میں بھی ہیں

یادیں تمہاری موسم شاداب میں بھی ہیں

ہونے لگی شکست جو ہر موڑ پر مجھے

دشمن پتہ چلا مِرے احباب میں بھی ہیں

دامن کو پاک رکھنے کے حق میں تھا میں مگر

وہ کہہ رہی تھی داغ تو مہتاب میں بھی ہیں

بچھڑ کر ان سے یاری آشنائی زہر لگتی ہے

 بچھڑ کر ان سے یاری آشنائی زہر لگتی ہے

یہ دنیا، یہ زمانہ، یہ خدائی زہر لگتی ہے

تلاشِ رزق میں پردیس جا سکتا ہوں میں لیکن

مجھے معصوم بچوں کی جدائی زہر لگتی ہے

لکھا ہے اک بہن نے؛ لوٹ کر کب گاؤں آؤ گے

مِرے بھیا! مجھے سُونی کلائی زہر لگتی ہے

خوشی ہو یا کہ غم کوئی ہمیشہ ساتھ چلتا ہے

 خوشی ہو یا کہ غم کوئی ہمیشہ ساتھ چلتا ہے

تمہاری یاد کا ننھا فرشتہ ساتھ چلتا ہے

وفاداری نبھانے کا ہنر اس سے کوئی سیکھے

کٹے ہیں سارے پر، پھر بھی پرندہ ساتھ چلتا ہے

میں چاہوں بھی تو جُھٹلا نہ سکوں گا تیری اُلفت کو

ابھی تک تیری اُلفت کا وہ تحفہ ساتھ چلتا ہے

جب جیب سے رقمیں لینی تھیں اور جیل کا خوگر ہونا تھا

 جب جیب سے رقمیں لینی تھیں اور جیل کا خوگر ہونا تھا

پھر تو پک پاکٹ کے بدلے قوم کا لیڈر ہونا تھا

جب مقصد سیر و سواری ہے پھر میرج کی حاجت ہی کیا

بے کار بنے اس مس کے شوہر، کار کا شوفر ہونا تھا

اس مس کی سانولی صورت کی کچھ اور بھی قلعی کھل جاتی

غازہ کے عوض مَلنے کے لیے اس رخ پر پوڈر ہونا تھا

چھوڑو رستہ مت روکو ہم دیوانوں کو جانے دو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت 


چھوڑو رستہ، مت روکو ہم، دیوانوں کو، جانے دو

عاشق شمعِ رِحمتﷺ کے ہیں پروانوں کو، جانے دو

تم کیا جانو، اے دربانو، لذّت، اُلفت، چاہت کی

روکو گے تو لڑ جائیں گے، مستانوں کو  جانے دو

گلیوں، رستوں، چوراہوں پر، بیٹھیں گے ہم، دھرنوں پر

بھر دیں گے سب کورٹ، کچہری اور تھانوں کو، جانے دو

Thursday, 19 February 2026

ہمیشہ لب پہ میٹھے بول رکھنا

 ہمیشہ لب پہ میٹھے بول رکھنا

محبت کے دریچے کھول رکھنا

فساد و خوف کی آب و ہوا ہے

شہر میں امن کا ماحول رکھنا

یہی تو راستے ہیں زندگی کے

خلوص و پیار میں مت جھول رکھنا

اہل زر کے عتاب ہیں کیا کیا

 اہل زر کے عتاب ہیں کیا کیا

مفلسوں پر عذاب ہیں کیا کیا

روٹی کپڑا مکان علم و ہنر

زندگی تیرے خواب ہیں کیا کیا

بھوک بے کاری جبر لاچاری

عہد نو کے عذاب ہیں کیا کیا