وہ چشمِ فسُوں کار تماشائی ہو جیسے
لگتا ہے کہ صدیوں کی شناسائی ہو جیسے
یہ آنکھ سے گِرتے ہوئے آنسو تو نہیں ہیں
اک یاد جزیرے سے سے پلٹ آئی ہو جیسے
گویائی بھی ایسی تھی کہ سُنتے رہیں چُپ چاپ
خاموشی بھی ایسی تھی کہ گویائی ہو جیسے
وہ چشمِ فسُوں کار تماشائی ہو جیسے
لگتا ہے کہ صدیوں کی شناسائی ہو جیسے
یہ آنکھ سے گِرتے ہوئے آنسو تو نہیں ہیں
اک یاد جزیرے سے سے پلٹ آئی ہو جیسے
گویائی بھی ایسی تھی کہ سُنتے رہیں چُپ چاپ
خاموشی بھی ایسی تھی کہ گویائی ہو جیسے
خواب تلاشی
وہ میری آنکھوں میں
بھاری جُوتوں سمیت آ کر
یہ پُوچھتے ہیں
یہ عکس کیا ہے
کہاں سے آیا ہے
کیسے منظر سے
اول اول تو یہ خوابوں کی طرح ہوتا ہے
عشق پھر دوسرے کاموں کی طرح ہوتا ہے
پہلے فلمیں بھی حقیقت کی طرح ہوتی تھیں
اب حقیقت میں بھی فلموں کی طرح ہوتا ہے
کام کرتا ہے مُسلسل کبھی تھکتا ہی نہیں
باپ گویا کہ مشینوں کی طرح ہوتا ہے
ہو خوشی مجھ کو کہ غم خیر تمہیں کیا اس سے
تم کرو مشقِ سِتم خیر تمہیں کیا اس سے
صُبحِ نو اب ہے شبِ غم میں بدلنے والی
پھر نہ مِل پائیں گے ہم خیر تمہیں کیا اس سے
یاد آتے ہی برس پڑتی ہیں آنکھیں اکثر
کتنے رُسوا ہوئے ہم خیر تمہیں کیا اس سے
یارو خدا یہ دیکھ کے حیران ہو گیا
انساں جسے بنایا تھا حیوان ہو گیا
بھیجا تھا اس کو امن کی خاطر جہان میں
کیسے خلاف امن کے انسان ہو گیا
شیطان کا بھی شرم سے دیکھو جھکا ہے سر
انسان خود ہی آج تو شیطان ہو گیا
دل لگانے کی بھول تھے پہلے
اب جو پتھر ہیں پھول تھے پہلے
مدتوں بعد وہ ہوا قائل
ہم اسے کب قبول تھے پہلے
اس سے مل کر ہوئے ہیں کارآمد
چاند تارے فضول تھے پہلے
تمام شے میں وہ اکثر دکھائی دیتا ہے
بڑا حسین یہ منظر دکھائی دیتا ہے
غموں کی دھوپ میں جلتی ہوئی نگاہوں کو
صنم وفا کا سمندر دکھائی دیتا ہے
تمہارے ہاتھ کی ان بے زباں لکیروں میں
ہمیں ہمارا مقدر دکھائی دیتا ہے