دُور صحرا کی کڑی دُھوپ میں چھاؤں جیسا
وہ تو لگتا تھا مجھے میری دُعاؤں جیسا
اِک ریاست تھی میرے پاس نوابوں جیسی
اب تِرے شہر میں پھرتا ہوں گداؤں جیسا
اب اُسے ڈُھونڈتا پھرتا ہوں بیابانوں میں
جو میرے پاس سے گُزرا تھا ہواؤں جیسا
دُور صحرا کی کڑی دُھوپ میں چھاؤں جیسا
وہ تو لگتا تھا مجھے میری دُعاؤں جیسا
اِک ریاست تھی میرے پاس نوابوں جیسی
اب تِرے شہر میں پھرتا ہوں گداؤں جیسا
اب اُسے ڈُھونڈتا پھرتا ہوں بیابانوں میں
جو میرے پاس سے گُزرا تھا ہواؤں جیسا
اسے ملتا ہے مال و زر خدا کی جس پہ رحمت ہے
غلط سمجھے جہاں والے کہ یہ انجامِ محنت ہے
کہوں گا بے کسی، بے چارگی کی ایک مورت ہے
اگر پوچھے کوئی مجھ سے بشر کی کیا حقیقت ہے
کوئی بھی دل کشی اس میں نظر آئی نہیں مجھ کو
سنا تو تھا کہ یہ دنیا نہایت خوب صورت ہے
شکن کے ساتھ جیتے ہیں تھکن کی دسترس میں ہیں
حقیقت میں سبھی اپنے بدن کی دسترس میں ہیں
جمال نکہت شام و سحر بھی انجمن میں ہے
کلی بھنورے گل و بلبل چمن کی دسترس میں ہیں
مجھے پرواز کر کے آسماں میں ڈوبنا تھا، اور
مجھے یہ یاد تھا ہم سب بدن کی دسترس میں ہیں
چین دل کو نہ آئے گا کب تک
وہ مجھے یوں ستائے گا کب تک
اے ستمگر! تِرے ستم آخر
کوئی بیکس اٹھائے گا کب تک
ظرف پر اپنے ناز ہے مجھ کو
آسماں تو ستائے گا کب تک
اپنی ہستی یاد ہے
قبر کی مٹی یاد ہے
آنکھ میں تیرے خواب ہیں
دل میں تیری یاد ہے
یوں تو یادیں اور بھی
ایک سُہانی یاد ہے
کہیں پہ دُھوپ کہیں پر ہیں سائبان بہت
قدم قدم پہ ہیں دنیا میں امتحان بہت
مجھے سپرد تو لوگوں نے کر دیا اس کے
مگر عزیز ہے قاتل کو میری جان بہت
اگر یہ چاہے تو اک پل میں انقلاب آئے
ہماری قوم میں ایسے ہیں نوجوان بہت
صدی میں جھُوٹ کی میں جی رہا ہوں
مُسلسل زہر سچ کا پی رہا ہوں
گواہی ظُلم کے حق میں نہ جائے
لبوں کو اپنے پھر میں سی رہا ہوں
کبھی دیوانے تیرے جو رہے ہیں
شریک ان کا کبھی میں بھی رہا ہوں