دل نے پھر آج تجھے یاد کیا ہے چُپکے سے
جیسے کوئی خواب سجاتا ہے چپکے سے
ہم نے ہنس کر بھی دُکھ چھپائے ہیں دنیا سے
دل مگر رات کو رو جاتا ہے چپکے سے
وہ جو کہتے تھے کبھی چھوڑیں گے نہ ساتھ میرا
آج وہی ہاتھ چُھڑا جاتا ہے چپکے سے
دل نے پھر آج تجھے یاد کیا ہے چُپکے سے
جیسے کوئی خواب سجاتا ہے چپکے سے
ہم نے ہنس کر بھی دُکھ چھپائے ہیں دنیا سے
دل مگر رات کو رو جاتا ہے چپکے سے
وہ جو کہتے تھے کبھی چھوڑیں گے نہ ساتھ میرا
آج وہی ہاتھ چُھڑا جاتا ہے چپکے سے
بجھتا شعلہ پھر بھڑکا ہے توبہ ہے
بجلی بن کر یہ کڑکا ہے توبہ ہے
شہر میں سب ہیں پتے پہنے اوپر سے
موسم بھی یہ پت جھڑ کا ہے توبہ ہے
ادھر سے اس نے بیٹھی سی آواز لگائی
یہاں پہ ہر بابا پھڑکا ہے توبہ ہے
سراب خوردہ کسی کہانی میں ڈُوب جائیں
وہ لاؤ لشکر سمیت پانی میں ڈوب جائیں
تمہارے جیسے نہ جانے کتنے عمیق دریا
ہماری آنکھوں کی رائیگانی میں ڈوب جائیں
ہمارے مضروب جسم سے تیر کھینچ لینا
کہ خیالات کی روانی میں ڈوب جائیں
جواب دو تم کیا ہے کس نے تمہیں اشارہ سوال یہ ہے
کہ آج تک میں نے کیا بگارا صنم تمہارا سوال یہ ہے
قدم قدم پہ کھڑی تھی مصیبتوں میں یہ زیست تیری
خموش کیوں ہے نہیں ہے اس کو اگر سنوارا سوال یہ ہے
حضور تم کو بسایا دل میں چھپا کے رکھا زمانے بھر سے
مِری وفاؤں سے کیوں مِری جاں! کیا کنارا سوال یہ ہے
جو ممکن ہو تو سوز شمع پروانے میں رکھ دینا
اب اس افسانے کا عنوان افسانے میں رکھ دینا
بڑی کافر کشش ایماں میں ہے اے عازم کعبہ
نہ لے جانا دل اپنے ساتھ بت خانے میں رکھ دینا
مِرا دل بھی شراب عشق سے لبریز ہے ساقی
یہ بوتل بھی اڑا کر کاگ میخانے میں رکھ دینا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
الٰہی رحم، اب کیا دیر ہے تنزیل رحمت میں
مدد فرما مدد کا وقت ہے ہم ہیں مصیبت میں
گنہگار آنکھ میں بھر لائے ہیں آنسو ندامت کے
نہ اب آیا تو کب جوش آئے گا دریائے رحمت میں
کرم تیرا نہ ہو گا اے خدا! گر میری کشتی پر
تو یا رب غرق ہو جائے گی دریائے ہلاکت میں
میں منتظر ہوں، تُو کر ہجر کا گِلہ تو سہی
گزارے کیسے شب و روز یہ بتا تو سہی
میں ہم قدم ہی نہیں ہم سفر بھی ہوں تیری
میں اپنا ہاتھ بڑھاؤں گی لڑکھڑا تو سہی
پگھل نہ جاؤں تِرے جذبوں کی تپش سے میں
نگاہیں اپنی مِرے چہرے سے ہٹا تو سہی