ہمیشہ لب پہ میٹھے بول رکھنا
محبت کے دریچے کھول رکھنا
فساد و خوف کی آب و ہوا ہے
شہر میں امن کا ماحول رکھنا
یہی تو راستے ہیں زندگی کے
خلوص و پیار میں مت جھول رکھنا
ہمیشہ لب پہ میٹھے بول رکھنا
محبت کے دریچے کھول رکھنا
فساد و خوف کی آب و ہوا ہے
شہر میں امن کا ماحول رکھنا
یہی تو راستے ہیں زندگی کے
خلوص و پیار میں مت جھول رکھنا
اہل زر کے عتاب ہیں کیا کیا
مفلسوں پر عذاب ہیں کیا کیا
روٹی کپڑا مکان علم و ہنر
زندگی تیرے خواب ہیں کیا کیا
بھوک بے کاری جبر لاچاری
عہد نو کے عذاب ہیں کیا کیا
ٹھیک حالات کیوں نہیں کرتے
تُم کوئی بات کیوں نہیں کرتے
میں گر اتنا ہی یاد آتا ہوں
پھر ملاقات کیوں نہیں کرتے
دِن کو مِلتے ہو، میرے نام مگر
تُم کوئی رات کیوں نہیں کرتے
جہاں چھوڑا تھا تو اب تک وہیں ہے
مری جاں یہ محبت بھی نہیں ہے
بھروسہ تم پہ تھا سب سے زیادہ
ابھی تک تُو مرا کامل یقیں ہے
دغا جس نے دیا تھا ہم کو جاناں
ہمارے بیچ رہتا ہی کہیں ہے
دونوں کا تیرے نقش قدم سے نشاں ہوا
میری جبیں ہوئی کہ ترا آستاں ہوا
خود جل رہی تھی شمع جلاتی کسی کو کیا
پروانہ دل کے سوز سے آتش بجاں ہوا
دنیا پہ کیسے راز محبت کا کھل گیا
تم نے کہا نہ میری روز سے عیاں ہوا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
معطّر معطّر معنبر معنبر مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ
منور منور مطہر مطہر مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ
وہ طیّب وہ اطیب مصفّٰی مصفّٰی وہ طیبہ وہ طابہ مجلّٰی مجلّٰی
گلستاں گلستاں وہ شہرِ معطّر مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ
فضاؤں میں جس کی تجلّی تجلّی ہواؤں میں جس کی عجب روشنی سی
ہیں ذرّے بھی جس کے مہ و مہر و اختر مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ
دل میں اک اضطراب رہنے دو
زخم میرے گلاب رہنے دو
پیاس کا ایک دشت ہے مجھ میں
چشم کو زیر آب رہنے دو
اپنے احسان ہی جتاتے رہو
میرے غم کا حساب رہنے دو