Saturday, 20 June 2026

دولت لالچ ہوس جھوٹ فریب نفرت یہ اب عیب نہیں

 پونجی


دولت لالچ ہوس

جھوٹ فریب نفرت

یہ اب عیب نہیں

انسانی فطرت میں

گھلے ملے رنگ ہیں

اسے کہنا بہار آنے سے پہلے

 اسے کہنا

بہار آنے سے پہلے

پرندے جب سفر سے لوٹ آئیں گے

تو ان کے نقرئی بے داغ چمکیلے پروں پر

ہواؤں نے تمہارا نام کندہ کر دیا ہو گا


جمیل احسن

حویلیوں سے بھی جنازے نکلتے ہوں گے

 حویلیوں سے بھی جنازے نکلتے ہوں گے

عروسی جوڑے کے آنچل بکھرتے ہوں گے

کُوزے میں سمندر سمانے والو سوچو

سمندر کبھی کُوزے سے سرکتے ہوں گے

کارو کاری پر جِرگہ ہو تو ہر سر پنج

امید سحر پہ تعفّن سے بکھرتے ہوں گے

Friday, 19 June 2026

تیری آنکھوں سے کچھ روشنی آتی ہے

 تیری آنکھوں سے کچھ روشنی آتی ہے

دل پہ جیسے کوئی چاندنی آتی ہے

میری ہر سانس تیرے خیالوں میں ہے

تجھ سے مل کر نئی زندگی آتی ہے

خامشی میں بھی گونجتی ہے صدا

جب تُو بولے،۔ تو بندگی آتی ہے

محبت کا یہ شیوہ ہے سر تسلیم خم کرنا

 محبت کا یہ شیوہ ہے سرِ تسلیم خم کرنا 

جسے دل میں بسانا ہو اسی کا ذکر کم کرنا

فراقِ یار میں رونا،۔ فغانِ دم بہ دم کرنا

رخِ جاناں کے ہر پرتو پہ میرا سر کو خم کرنا

عجب لگتا ہے اہلِ دید کو طرزِ عمل میرا

اک اس کی دید کی خاطر یہ آنکھیں جامِ جم کرنا

بادلوں سے ٹوٹ برسے آج پانی دیر تک

 بادلوں سے ٹوٹ برسے آج پانی دیر تک

اے خدا اس شب رہے یہ رت سہانی دیر تک

جگنوؤں کی روشنی سے جھلملائیں راستے

چاندنی سے ہم کریں یہ بے ایمانی دیر تک

رات کی رنگین سڑکیں بھیگے بھیگے یہ شجر

کار کے شیشوں سے جھانکے زندگانی دیر تک

کہاں ہے وہ گل خنداں ہمیں نہیں معلوم

 کہاں ہے وہ گُلِ خنداں ہمیں نہیں معلوم

نہ پُوچھ بلبلِ نالاں! ہمیں نہیں معلوم

فِراق ہی میں بسر ہو گئی ہماری عُمر

ہے کون وصل سے شاداں ہمیں نہیں معلوم

ہمیں تو ایک صدائے جرس ہی آتی ہے

ہوا ہے کون ہُدی خواں ہمیں نہیں معلوم