بول نہ اے مِرے بھگوان نہیں ہو سکتا
راستہ زیست کا آسان نہیں ہو سکتا
جس نے لُوٹا ہو غریبوں کو مسیحا بن کر
کچھ بھی ہو چاہے وہ انسان نہیں ہو سکتا
حاکمِ شہر کے ہر داؤ سے واقف ہوا میں
اب کسی داؤں پہ حیران نہیں ہو سکتا
بول نہ اے مِرے بھگوان نہیں ہو سکتا
راستہ زیست کا آسان نہیں ہو سکتا
جس نے لُوٹا ہو غریبوں کو مسیحا بن کر
کچھ بھی ہو چاہے وہ انسان نہیں ہو سکتا
حاکمِ شہر کے ہر داؤ سے واقف ہوا میں
اب کسی داؤں پہ حیران نہیں ہو سکتا
تیرے دیوانے تِرے کوچے سے جب گزرے ہیں
غم بہ دل، خاک بہ سر، آہ بہ لب گزرے ہیں
مسکراتے ہوئے جھیلے ہیں رفیقو! ہم نے
حادثے جو بھی سرِ راہِ طلب گزرے ہیں
یہ تو سب کچھ ہے بجا ناصحِ مشفق! لیکن
ہم پہ گزرے ہیں جو دن تم پہ وہ کب گزرے ہیں
"حُسن کو بے نقاب دیکھا ہے"
دل کا عالم خراب دیکھا ہے
آئے وہ میرے گھر بصد تمکیں
میں نے شاید یہ خواب دیکھا ہے
مست کر دے جو سارے عالم کو
وہ کسی کا شباب دیکھا ہے
میں تمدّن ہوں روایت نہ سمجھ
مجھ کو بوسیدہ عمارت نہ سمجھ
حال نے کھینچے ہیں سب خطِ بدن
عہدِ رفتہ کی عبارت نہ سمجھ
میری مُٹھی میں ہے لمحوں کا نظام
میں صدی ہوں، مجھے ساعت نہ سمجھ
شک اور وہم کی عادت میں مارا جاؤں گا
میں اپنی فہم و فراست میں مارا جاؤں گا
میں مارا جاؤں گا اِس عجز و انکساری میں
لحاظ، شرم، مروّت میں مارا جاؤں گا
تِرا سوالِ محبت تو ٹھیک ہے، لیکن
میں اب جوابِ محبت میں مارا جاؤں گا
وہ آفتاب تھا روشن اساس چھوڑ گیا
عجیب شخص تھا مِلنے کی آس چھوڑ گیا
ضرورتوں کو بُلا کے ہوس کی سرحد پر
بنا کے مجھ کو ضعیف الحواس چھوڑ گیا
قضا کے رتھ سے اُترتے ہی ڈُوبتا سُورج
شبِ سیاہ کے ہاتھوں میں راس چھوڑ گیا
اک غزل تو مِرے ہاتھوں سے مثالی ہو جائے
کاش کے تُو مِرا محبوب خیالی ہو جائے
دیکھ لے تو مِری جانب جو اٹھا کر نظریں
چشمِ پُر نم جو تِری ہے وہ غزالی ہو جائے
چاند سے رخ پہ جو پھرتے ہو لگا کر گاگل
عید کر لے نہ کوئی کچھ کی دیوالی ہو جائے