Thursday, 6 August 2026

آنگن کو سجایا نہیں

 ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


آنگن کو سجایا نہیں

بادل تھا وہ ساون کا

پھر لوٹ کے آیا نہیں


سیما پیروز

خود کو تیرے نام لگا کر رقص کیا

 خُود کو تیرے نام لگا کر رقص کیا

عشق میں اپنا آپ لُٹا کر رقص کیا

دل کو رکھا پیار کے بہتے پانی میں

آنکھ میں تیرا عکس چھُپا کر رقص کیا

عزرائیل کو ہنستے ہنستے بدا کیا

میں نے موت کو نیند سُلا کر رقص کیا

جب اپنی آنکھوں سے اشکوں کا قافلہ نکلا

 جب اپنی آنکھوں سے اشکوں کا قافلہ نکلا

کِنارے ٹُوٹے تو دریا کا حوصلہ نکلا

وہ میری بزم میں آئے رقیب کے ہمراہ

چلو کہ ملنے کا کوئی تو سلسلہ نکلا

ملیں نہ آج بھی بچوں کو روٹیاں شاید

وہ گھر سے صبح یہی سوچتا ہوا نکلا

آغاز عشق ہی میں انجام کار دیکھا

 جب اپنے دل پہ اپنا کچھ اختیار دیکھا

بیگانہ خُو حسیں کو بیگانہ وار دیکھا

پیہم تجلیوں کی مجھ میں سکت کہاں تھی

نظریں چُرا چُرا کر سُوئے نگار دیکھا

آج اپنی بیخودی کو عرفاں کی روشنی میں

اس ماہِ سِیم تن کا آئینہ دار دیکھا

کیا کبھی ان معصوم چہروں کو دیکھا ہے تم نے

 آؤ خُوشیاں بانٹیں


کیا کبھی ان معصوم چہروں کو

دیکھا ہے تم نے

رنگ ہیں نہ ہی ہنسی

نہ آنکھوں میں چمک ہے

نہ دلوں میں بسی کوئی خُوشی

جسم خالی ہیں اُن کے قوّتوں سے 

ترا وجود مرے واسطے سعادت ہے

 تِرا وجود مِرے واسطے سعادت ہے

جو تیرا ہو نہ سکا میں تو مجھ پہ لعنت ہے

تِری نگاہِ محبت مِرا علاجِ ملال 

مِری نمازِ اطاعت کی تُو اقامت ہے

قدم کے نیچے تِرے رب نے رکھ دی ہے جنت

تجھے تو دیکھنا اسلام میں عبادت ہے

نام خدا محمد ہے کتنا نام پیارا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اپنے سکون دل کا اب مل گیا سہارا

امروز شاہ شاہاں مہماں شدست مارا

نام خدا محمدﷺ ہے کتنا نام پیارا

دل کی مراد پائی جس نے انہیں پکارا

قربان ہوں میں اس کی بندہ نوازیوں پر

پردے میں عبدیت کے اک روپ جس نے دھارا