رِم جِھم یادیں
رم جھم سی برسات، یادوں کی بارات
بند اکھین بھِیگت جاؤں ان یادوں کے ساتھ
اب کام کاج میں جیا نہ لاگے
نہ پڑھائی میں مورا دھیان
میں باوریا، پرِیت میں تُمری
ہوئی احمق، پاگل اور نادان
رِم جِھم یادیں
رم جھم سی برسات، یادوں کی بارات
بند اکھین بھِیگت جاؤں ان یادوں کے ساتھ
اب کام کاج میں جیا نہ لاگے
نہ پڑھائی میں مورا دھیان
میں باوریا، پرِیت میں تُمری
ہوئی احمق، پاگل اور نادان
زمانے میں رفاقت کی جو یہ رِیت و روایت ہے
محبت ہے نہ الفت ہے، فقط یہ اک تجارت ہے
تعلّق اب ضرورت کے ترازو میں ہی تُلتے ہیں
وفا کے نام پر ہر سو مفادوں کی حکومت ہے
جبیں پر زہد کے تیور، دلوں میں حرص کا ڈیرہ
لباسِ پارسائی میں، یہاں پلتی خباثت ہے
بن کے آیا جو تِرے گھر کا بھکاری، میں تھا
جس نے جھولی ترے آگے ہے پساری، میں تھا
تیرے ہونٹوں کے تبسم میں چھپا تھا میں ہی
اشک بن کر تِری آنکھوں سے بھی جاری، میں تھا
جو تصور سے بھی بیزار تھی میرے تُو تھی
جس نے تصویر تِری دل میں اُتاری میں تھا
آیا ہے کون کیوں یہ ہوا مُشکبار ہے
موسم کا بھی مزاج بہت خوشگوار ہے
شبنم نے فرطِ شوق میں موتی لُٹائے ہیں
لبریز گُل کے ہاتھ میں جامِ بہار ہے
میٹھا سا ایک گیت ہے موجوں کے شور میں
دریا کے پار کس کو مِرا انتظار ہے
تمہارے ہاتھ سے چھوٹے تو اتنے عام ہوئے
ہمارے ہاتھ، موتیوں کے پھر نہ دام ہوئے
ذرا یہاں بھی فراخ دستی ہونی چاہیے تھی
ہماری باری پہ صاحب وہ سبک گام ہوئے
ازل سے داغ لگا ہے ہمارے بخت جلا
بازئ عشق بھی ہارے اور بدنام ہوئے
مسلکوں کے نصاب پڑھ ڈالے
نفرتوں کے جواب پڑھ ڈالے
اُن کے چہروں پہ جو تعصب تھا
اُس کے سب پیچ و تاب پڑھ ڈالے
آج کچلے تھے اس نے مقتل میں
جس قدر بھی گلاب پڑھ ڈالے
تاجر کی موت
ہمیشہ کی تجارت سیم و زر کی
کوئی اب چال چل عقل و ہنر کی
بسر کی زندگی عیش و طرب میں
خبر کب تھی اجل کے نامہ بر کی
مآلِ زندگی سوچا نہ تاجر
عجب ماحول میں تُو نے بسر کی