Thursday, 14 May 2026

کسی نامہرباں کو مہرباں ہم کہہ نہیں سکتے

 کسی نامہرباں کو مہرباں ہم کہہ نہیں سکتے

قفس سونے کا بھی ہو آشیاں ہم کہہ نہیں سکتے

کوئی کہہ دے زباں رکھنے کا منہ میں فائدہ کیا ہے

کسی کے سامنے جب داستاں ہم کہہ نہیں سکتے

نہ جانے کیا اثر ہوتا ہے ہم پر ان کی محفل میں

یہاں کہتے ہیں ہم وہاں جو کچھ وہاں ہم کہہ نہیں سکتے

Wednesday, 13 May 2026

لوگ یہ سمجھتے ہیں بیٹیاں پرائی ہیں

 بیٹیاں پرائی ہیں


یہ عجب جہالت ہے

لوگ یہ سمجھتے ہیں 

بیٹیاں پرائی ہیں؟ 

حق انہیں نہیں دینا

بوجھ ہیں یہ کاندھوں کا

کیوں یہ سوچ لیتے ہیں؟ 

یہ رنگ و نور کی برسات چار سو کیا ہے

 یہ رنگ و نور کی برسات چار سُو کیا ہے

یہ تُو نہیں ہے تو پھر اور رُو برُو کیا ہے

تِرے سوا دلِ ناداں کی آرزو کیا ہے

جو مل گیا ہے مجھے تُو، تو جستجو کیا ہے

قریب جا کے جو دیکھا تو ہو گیا روشن

تِرے وجود میں شامل رفُو رفُو کیا ہے

دم اجنبی صداؤں کا بھرتے ہو صاحبو

 دم اجنبی صداؤں کا بھرتے ہو صاحبو

ہر لمحہ اپنی جاں سے گزرتے ہو صاحبو

کیا جانے کیا ہے بات کہ ہر سمت بھیڑ میں

اپنا ہی چہرہ دیکھ کے ڈرتے ہو صاحبو

تم بھی عجیب لوگ ہو کانٹوں کی راہ سے

کیسے لہولہان گزرتے ہو صاحبو

نبی کا ذکر ہے یعنی درود لازم ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نبیؐ کا ذکر ہے یعنی درودﷺ لازم ہے

یہاں خلوص سے لپٹا وجود لازم ہے 

یہ کوئی عام وظیفہ نہیں خدا کی قسم

نماز پڑھتے ہوئے بھی درودﷺ لازم ہے

بنا کے سیدِ لولاکﷺ کہہ دیا رب نے

ہمارے بعد نبیﷺ کا وجود لازم ہے

یہ کیا ہوا کہ سب کا لہو سرد ہو گیا

 یہ کیا ہوا کہ سب کا لہو سرد ہو گیا

کس کا غلام آج ہر اک فرد ہو گیا

وہ شخص آئینہ تھا کہ میں اس کے سامنے 

آیا ہی تھا کہ رنگ مِرا زرد ہو گیا

غیروں سے کٹ کے یہ بڑا اعزاز ہے مِرا

میں اپنے کارواں کی اگر گرد ہو گیا

لاج رکھی ہے ہم نے یاری کی

 لاج رکھی ہے ہم نے یاری کی

اس ستمگر کی پردہ داری کی

فصل لوگوں نے بانٹ لی ساری

کھیت کی ہم نے آبیاری کی

رنج کچھ اور بڑھ گیا دل کا 

اس نے کچھ ایسے غمگساری کی