ہوا چلتی ہے، دل کہتا ہے، کب اُن سے ملیں گے
بدن سے جاں نکل جائے گی، تب اُن سے ملیں گے
تمہیں تو خیر دل کی بات کہنی ہے کسی طور
مگر کچھ لوگ ہیں جو بے سبب اُن سے ملیں گے
ہوئے تھے میر بھی رُسوا محبت میں کسی دن
بھُلا کر ہم بھی اب نام و نسب اُن سے ملیں گے
ہوا چلتی ہے، دل کہتا ہے، کب اُن سے ملیں گے
بدن سے جاں نکل جائے گی، تب اُن سے ملیں گے
تمہیں تو خیر دل کی بات کہنی ہے کسی طور
مگر کچھ لوگ ہیں جو بے سبب اُن سے ملیں گے
ہوئے تھے میر بھی رُسوا محبت میں کسی دن
بھُلا کر ہم بھی اب نام و نسب اُن سے ملیں گے
بس ایسے ملے کہ
جدا ہو گئے ہم
جدا ہو کر پھر ہم
شجر میں کھلے یوں
کنارے بھی کئی
ندی کے پھر دیکھے
دل رکھتا ہے جو شخص، وہ دلبر نہیں رکھتا
یاں تاج وہ پاتا ہے کہ جو، سر نہیں رکھتا
آلودہ فضاؤں کا اثر اس میں یہ ہوا ہے
وہ پہلی سی بُو باس، گُلِ تر نہیں رکھتا
اس نے مِرے ہاں آنے کا وعدہ تو کیا ہے
افسوس مگر یہ ہے کہ میں گھر نہیں رکھتا
ایک صاحب نے نجومی سے کہا یہ تو بتا
کہہ رہا ہے کیا ستارہ اب مِری تقدیر کا؟
ہوتی ہے دائیں ہتھیلی میں مِرے کھجلی بہت
یہ بتا میرا مقدر کیا مجھے دِکھلائے گا
زائچہ دیکھا نجومی نے تو بتلایا انہیں
یہ نشانی ہے تجھے پیسہ بہت مل جائے گا
دُنیائے حُسن و عشق کے سب رنگ و بُو سفید تھے
اس مے کدے کے بام و در، جام و سبُو سفید تھے
ہم نے تو اپنے خُون سے لکھی وفا کی داستاں
ان کو سمجھ نہ آ سکی جن کے لہُو سفید تھے
آنکھیں جو محوِ خواب تھیں تیرے سیاہ پوش کی
شب تھی، کہ تیرے شہر کے سب کُوبُکو سفید تھے
آنکھ کی راہ سے بُجھتے ہوئے لمحے اُترے
اقرباء جتنے تھے کشتی کے وہ سارے اترے
اس سے کہتے ہو کہ پھر لوٹنا ہو گا چھت پر
سانس کی لے کو جو تھامے ہوئے زینے اترے
چھا گئی بچوں کے چہرے پہ نئی ہریالی
آج پھر پیڑوں سے آنگن میں پرندے اترے
چمکتے آنکھ سے آنسو تمہارے دو ہی دیکھے ہیں
زمین و آسمانوں میں ستارے دو ہی دیکھے ہیں
جو دیکھو ڈوب کر تو پھر کنارا تیسرا بھی ہے
بظاہر تم نے دریا کے کنارے دو ہی دیکھے ہیں
بس اک تھا میرے ہاتھوں میں اور اک تھا تیرے ہاتھوں میں
تو میں نے سارے بچپن میں غبارے دو ہی دیکھے ہیں