ہم نے پہلا جرم اپنی پیدائش کے دن کیا تھا
ہمارے سانس لینے سے پہلے
چیخ کر رونے پر پابندی لگا دی گئی تھی
چپ میں لپیٹ کر ہمیں ہماری ماؤں کے حوالے کر دیا گیا
اس سے پہلے انہیں
بے آواز گیت یاد کروائے گئے
ہم نے پہلا جرم اپنی پیدائش کے دن کیا تھا
ہمارے سانس لینے سے پہلے
چیخ کر رونے پر پابندی لگا دی گئی تھی
چپ میں لپیٹ کر ہمیں ہماری ماؤں کے حوالے کر دیا گیا
اس سے پہلے انہیں
بے آواز گیت یاد کروائے گئے
اسی باعث زیادہ ہنس رہا ہوں
میں بالکل بے ارادہ ہنس رہا ہوں
سجے ہیں زخم سینے پر ہزاروں
مگر میں حسبِ وعدہ ہنس رہا ہوں
نہیں ہے مطمئن منزل پہ کوئی
میں ہو کر وقفِ جادہ ہنس رہا ہوں
دیکھے گا کوئی خاک یہ ملبہ وجود کا
کس کو کھنڈر ملے گا مِری باش و بود کا
الجھا ہوا خدا بھی ہے دام دوام میں
ہے سلسلہ حدود سے باہر قیود کا
اک عمر کی بسی ہوئی خوشبو نکل گئی
اعلان کر رہا ہے تعفّن وجود کا
امر واقعہ
تو امر واقعہ یہ ہے
یہ بیوہ ہو گئی تھی
اور اس نے ناسمجھ بچوں کو یوں ہی بھیک سے پالا ہے پوسا ہے
جواں بیٹے ہیں اب اپنا کماتے ہیں
انہیں تو معاشرے میں زندہ رہنا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نہیں کافی سلیقہ نعت میں، بس خوش بیانی کا
مرے آقاﷺ عطا ادراک ہو، لفظ و معانی کا
جھڑی ایسی لگی، آقاؐ کی رحمت جوش میں آئی
نصیبہ کھل گیا پل میں، مری آنکھوں کے پانی کا
وہ راحت پائی ہے اس نے درِ سرکارؐ پر آ کر
نہیں کوئی ارادہ دل کا اب نقلِ مکانی کا
بے خیالی میں نہ جانے کیا سے کیا لکھتی رہی
ایک پتھر کو محبت کا خدا لکھتی رہی
بارہا مظلوم غنچوں کو تڑپتا دیکھ کر
زرد پتوں پر لہو سے کربلا لکھتی رہی
کارواں لٹنے پہ اب خود سے بہت بیزار ہوں
جانے کیوں میں رہزنوں کو رہنما لکھتی رہی
کسے معلوم ہے اک دن
مجھے پھر ایک ان دیکھے جزیرے کی طرف چپ چاپ جانا ہے
جہاں صندل کے قد آور درختوں تلے
کچھ لوگ میرے منتظر ہوں گے
انہیں تشویش ہو گی مجھ سے پوچھیں گے
کہ ہجرت کیا ہے؟