Tuesday, 9 June 2026

دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں

 واپسی


میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہے

دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں

دور سے گھر نظر آیا روشن

ساری بستی میں ملا ایک مرا گھر بے خواب

پاس پہنچا تو وہ دیکھا 

رقیب جاں نظر کا نور ہو جائے تو کیا کیجے

 رقیبِ جاں نظر کا نُور ہو جائے تو کیا کیجے

زیاں دل کو اگر منظور ہو جائے تو کیا کیجے

وفا کرنے سے وہ مجبور ہو جائے تو کیا کیجے

محبت رُوح کا ناسُور ہو جائے تو کیا کیجے

وہی چرچے وہی قصے ملی رُسوائیاں ہم کو

انہی قصوں سے وہ مشہور ہو جائے تو کیا کیجے

اپنے ناموس کا سودا نہیں ہونے دوں گا

 اپنے ناموس کا سودا نہیں ہونے دوں گا

میں اسے اور کسی کا نہیں ہونے دوں گا

لوگ مشکیزے لیے پانی کو ترسیں دن بھر

یہ تماشا لبِ دریا نہیں ہونے دوں گا

جیت کا جشن مناؤں گا مگر یاد رہے

اپنے دُشمن کو بھی رُسوا نہیں ہونے دوں گا

ہر اک خیال سے آگے ہر اک نگاہ سے دور

 ہر اک خیال سے آگے ہر اک نگاہ سے دُور

مِرا مقام محبت ہے رسم و راہ سے دور

فُغاں سے دور ہوں، نالے سے دور، آہ سے دور

میں آج تک ہوں محبت کے ہر گُناہ سے دور

ہزار طرح اُٹھی ہے نگاہِ اہلِ ہوس

ہوا نہ حُسن مگر عشق کی پناہ سے دور

سرخیاں پڑھ کے ان اخباروں کی ڈر لگتا ہے

 سرخیاں پڑھ کے ان اخباروں کی ڈر لگتا ہے

سارا عالم کسی بارود کا گھر لگتا ہے

بیٹھ جائیں گی یہ دیواریں کسی بھی لمحہ

اپنے گھر میں بھی تو رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے

اپنے ہمسائے کے حالات ہیں اپنے جیسے

اپنے ہی گھر کی طرح ان کا بھی گھر لگتا ہے

زخموں کو اپنے آپ ہی سہلا رہا ہوں میں

 ان کی نگاہ ناز سے شرما رہا ہوں میں

اس دل کو اپنے باتوں سے بہلا رہا ہوں میں

جب آئیں گے وہ پاس مرے ہو گی میری عید

ان کو تخیلات میں ٹہلا رہا ہوں میں

پوچھے نہ کوئی حال میرا اس دیار میں

زخموں کو اپنے آپ ہی سہلا رہا ہوں میں

Monday, 8 June 2026

حدیث نسواں لڑکوں کی طرح پاتی ہیں اسناد لڑکیاں

 حدیثِ نسواں


علم و ادب سے آج ہر اک گھر ہے بوستاں

فنی، تمدنی، ہوئیں حاصل ترقیاں

یہ اک کرشمہ شہ عثمان ہے اب یہاں

لڑکوں کی طرح پاتی ہیں اسناد لڑکیاں

بنیاد عہد شہ میں ہوئی گرل گائیڈ کی