مرگ دھرنا
تفنگ کو قلم پہ فوقیت ملے تو جان لو یہ ریاست مریض ہے
ستمگروں کے راج میں ستم زدوں پہ احتجاج فرض ہے
یہ جانتے ہوئے کہ رونے والوں کو حق نہیں ملتا
چیخ لازم ہے بہرحال
اپنے بچوں کے قتل پر ماؤں کی مانگ کچھ نہیں ہوتی
مرگ دھرنا
تفنگ کو قلم پہ فوقیت ملے تو جان لو یہ ریاست مریض ہے
ستمگروں کے راج میں ستم زدوں پہ احتجاج فرض ہے
یہ جانتے ہوئے کہ رونے والوں کو حق نہیں ملتا
چیخ لازم ہے بہرحال
اپنے بچوں کے قتل پر ماؤں کی مانگ کچھ نہیں ہوتی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پاک کس عیب سے وہ پیکرِ تنویر نہ تھا
حسنِ بے پردہ پہ کب پردۂ تطہیر نہ تھا
سینۂ سنگ دلاں میں بھی کیا گھر جس نے
غمزۂ ابروئے رحمت تھا کوئی تیر نہ تھا
آپ اُس وقت بھی تھے قصرِ حقیقت کا جمال
جب کہ اک پایہ بھی سنسار کا تعمیر نہ تھا
مستقبل
مستقبل اک بچہ ہے
حال کی گود تک آتے آتے
رخساروں پر اس کے سبزے کی چادر چھا جاتی ہے
پھر کروٹ لیتی ہے خزاں کی زہر میں ڈوبی کالی کالی تیز نگاہ
رخ پہ طمانچے لگتے ہیں
درد کے صحرا میں اک لڑکا جو کل تک اک بچہ تھا
پہلی دنیا کی اقوام
انہیں معلوم ہے کیسے کہاں پہ جنگ کے بادل اٹھانا ہیں
کہاں جھکڑ چلانا ہیں
کسے آگے بڑھانا ہے
کسے پیچھے ہٹانا ہے
زمیں کی گیند کو کیسے گھمانا ہے
مقابل کس کو لانا ہے
تمہیں جب دیکھتا ہوں تو
مری آنکھوں پہ رنگوں کی پھواریں پڑنے لگتی ہیں
تمہیں سنتا ہوں
تو مجھ کو قدیمی مندروں سے گھنٹیوں
اور مسجدوں سے ورد کی آواز آتی ہے
تمہارا نام لیتا ہوں
آگ سے دُھلے آئینے
ہماری شکلیں آگ سے دُھلے آئینوں نے مسخ کر دیں
پھول کمہلانے کی تکلیف جلنے سے بہرحال کم ہے
بستی بستی پناہ ڈھونڈتے رسول
اور درزوں میں چھپے دھوکے
آسمان کس قدر دل گرفتہ ہے
آدھی رات کو
کیا بارہ بجے کے بعد سو جانا چاہیے؟
رات کے احترام میں
رات چلتے چلتے چھت تک آ گئی ہے
ایک بلب تھک کے اونگھ رہا ہے
اسے نیند کا پتھر مار کر بجھا دو