Wednesday, 25 February 2026

میں پھر لوٹ چلی ہوں ان نظموں کی جانب

 میں پھر لوٹ چلی ہوں

ان نظموں کی جانب

جو قلم تک آتے آتے رہ گئیں

اس کتاب کی جانب

جو تمہاری بک بک سے ادھوری رہ گئی

اس برسات کی جانب

اگر حضور کی چوکھٹ ہی روشنائی نہ دے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اگر حضور کی چوکھٹ ہی روشنائی نہ دے

جہاں میں کوئی بھی شے دوستو دکھائی نہ دے

خدایا چھین لے ایسی مری سماعت کو

کہ کوئی نعت پڑھے اور مجھے سنائی نہ دے

درِ رسولﷺ سے ہو دور تو دعا ہے مری

کسی کو ایسی خدا پاک پارسائی نہ دے

سر بسجدہ ہیں جو تیرے آستاں کے سامنے

 سر بسجدہ ہیں جو تیرے آستاں کے سامنے

جھک نہیں سکتے وہ جور آسماں کے سامنے

جب زمانہ بے مروت ہے تو شکوہ کیا کریں

اس بتِ نا مہرباں کا مہرباں کے سامنے

چھوڑ دی جب رہبروں نے رہزنی تو بالیقین

منزلیں ہی منزلیں ہیں کارواں کے سامنے

تو بھی لگے موہوم ترے نقش قدم بھی

 تو بھی لگے موہوم ترے نقش قدم بھی

ٹُوٹے نہ کسی دن مِرے سجدوں کا بھرم بھی

کیا وعدۂ فردا کا کرے کوئی بھروسہ

ہے یاد مجھے تُو بھی تِرے قول و قسم بھی

لہراتا اُٹھا ہوں کسی مخموُر کی صُورت

رکھنا تھا مجھے ساقئ محفل کا بھرم بھی

چاہتی ہے آخر کیا آگہی خدا معلوم

 چاہتی ہے آخر کیا آگہی خدا معلوم

کتنے رنگ بدلے گی زندگی خدا معلوم

کل تو خیر اے رہبر تیرے ساتھ رہرو تھے

آج کس پہ ہنستی ہے گمرہی خدا معلوم

اب بھی صبح ہوتی ہے اب بھی دن نکلتا ہے

جا چھپی کہاں لیکن روشنی خدا معلوم

Tuesday, 24 February 2026

کون پڑتا ہے یہاں اب عشق کی افتاد میں

 کون پڑتا  ہے یہاں اب عشق کی افتاد میں 

دم بھلا باقی کہاں ہے تیشۂ فرہاد میں

منہدم جو ہو گئی ہے آندھیوں کے زور سے

نقص کوئی تھا کہیں تعمیر کی بنیاد میں 

نوچ کر سب طائرانِ گلستان کے بال و پر

آج گُل چیں آ گیا ہے پنجۂ صیاد میں

میں اس کے پاس ایسے وقت میں پہنچا

 میں اس کے پاس ایسے وقت میں پہنچا

جبکہ وہ چلمن کے پاس جامۂ خواب کے علاوہ 

سونے کے لیے (سب) کپڑے نکال چکی تھی

(جب میں اس کے پاس پہنچا) تو وہ بولی، خدا کی قسم تیرے لیے اب کوئی عذر نہیں

اور میں نہیں خیال کرتی کہ تجھ سے یہ (عشق کی) گمراہی زائل ہو جائے گی

میں اس کو ایسے حال میں لے کر نکلا کہ وہ چل رہی تھی