Monday, 4 May 2026

نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے

 کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے

نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے

سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے

ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے

رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے

جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے

Sunday, 3 May 2026

قد بڑا ہوتا نہیں ہے طرۂ دستار سے

 قد بڑا ہوتا نہیں ہے طرۂ دستار سے

آدمی ہوتا ہے اُونچا عظمتِ کردار سے

اس کے جاتے ہی مِرے گھر پر اُداسی چھا گئی

دیر تک رویا لپٹ کر میں در و دیوار سے

رازِ سر بستہ سے رفتہ رفتہ پردہ اُٹھ گیا

کُھلتے کُھلتے کُھل گیا دل کا بھرم اشعار سے

ہمارے عہد کا منظر عجیب منظر ہے

 ہمارے عہد کا منظر عجیب منظر ہے 

بہار چہرے پہ دل میں خزاں کا دفتر ہے 

نہ ہمسفر نا کوئی نقش پا نا رہبر ہے 

جنوں کی راہ میں کچھ ہے تو جان کا ڈر ہے 

ہر ایک لمحہ ہمیں ڈر ہے ٹوٹ جانے کا 

یہ زندگی ہے کہ بوسیدہ کانچ کا گھر ہے 

تو حسن کا پیکر ہے تو رعنائی کی تصویر اے وادئ کشمیر

 اے وادئ کشمیر! اے وادئ کشمیر


تُو حُسن کا پیکر ہے، تُو رعنائی کی تصویر

مخمور بہاروں کے حسین خوابوں کی تعبیر

رخشاں ہیں تیرے ماتھے پہ آنادی کی تنویر

تو جلوہ گہ نور جہان، قلب جہانگیر

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر

تکتے ہیں مہر و ماہ شہ دو جہاں کا رخ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پائیں ضیا ادھر ہو اگر جان جاں کا رُخ

تکتے ہیں مہر و ماہ شہ دو جہاں کا رخ

بستر کی سلوٹیں نہ گئیں اتنی دیر میں

لوٹ آئے کر کے میرے نبیؐ لامکاں کا رخ

خوش ہوں بہت نصیب کی کلیاں کھلی ہیں آج

دل نے کیا ہے آج تِرے گلستاں کا رخ

کالی لمبی راتیں چاند اور تیری باتیں

 کالی لمبی راتیں

چاند اور تیری باتیں

کِواڑوں سے جھانکتی یادیں

گہری اُلجھی سوچیں

سرہانوں کی سرگوشیاں

اور خاموش سِسکیاں

عہد فراق میں بھی کسی پل سکوں نہیں

 کہتے ہیں، اپنا حال کسی سے کہوں نہیں

یعنی کہ صرف درد سہوں، اُف کروں نہیں

ہے ان دنوں میں پیشِ نظر رقص کے لیے

وہ ساز جس میں کوئی بھی سوزِ دروں نہیں

تصویر توڑ دی تو تصوّر میں آ گئے

عہدِ فراق میں بھی کسی پل سکوں نہیں