Thursday, 13 August 2026

خود اپنا آشیاں اپنا ہی دام ہو جائے

 وہ چاہتے ہیں کہ رستے میں شام ہو جائے

میں چاہتا ہوں کہ ظُلمت تمام ہو جائے

جنُون عزم نہیں ختم چند ناموں پر

مگر جو وقت کا اپنے امام ہو جائے

لگا کے آگ نشیمن کو دیکھنے والو

سکون دل نہ تمہارا حرام ہو جائے

جہان ابد وحشت دل فقط ایک لمحہ ٹھہر

  جہانِ ابد


وحشتِ دل! فقط ایک لمحہ ٹھہر

میں ٹٹولوں ذرا دل کی زنبیل کو

اس میں رکھے تھے میں نے گئے دن کہیں

قُرب کے، سرخُوشی، شادمانی کے دن

وہ جوانی کے دن

کچھ تمنّائیں، کچھ حسرتیں، خواب بھی

ہر تار نفس شعلہ بدل شعلہ بجاں ہے

 ہر تار نفس شعلہ بدل، شعلہ بجاں ہے

اب دل کے دھڑکنے کا وہ انداز کہاں ہے

جلتے ہوئے صحرا میں ہیں کس کس کو صدا دیں

آواز کی شبنم ہے، نہ چشمِ نگراں ہے

یاں طنز کے پتھر ہیں فقط دستِ ہوس میں

اور حُسنِ سخن کارگہِ شیشہ گراں ہے

ظاہر تو کوئی غم کی علامت نہ ملے گی

 ظاہر تو کوئی غم کی علامت نہ ملے گی

چہروں پہ جو ہوتی ہے بشاشت نہ ملے گی

انصاف جہاں ہو وہ عدالت نہ ملے گی

اس شہر میں کوئی بھی شہادت نہ ملے گی

مانگے کا اُجالا تمہیں مِل جائے گا لوگو

آنکھوں کو مگر اس سے بصارت نہ ملے گی

Wednesday, 12 August 2026

دل تباہی کا پتہ دیتا ہے

 دل تباہی کا پتہ دیتا ہے

کوئی شعلوں کو ہوا دیتا ہے

جب حسیں خواب میسر آئے

کوئی زنجیر ہِلا دیتا ہے

کوئی پلکوں سے اُٹھاتا ہے مجھے

کوئی نظروں سے گِرا دیتا ہے

تیرا غم بھی میرے ہی غم جیسا ہے

 تیرا غم بھی میرے ہی غم جیسا ہے

لگتا اب تُو بھی خُوش اچھا خاصا ہے

تُو ہے جفا کا اور وفا کا میں قائل

تیرا اپنا، میرا اپنا رستہ ہے

لوگ اس کو پتھر مارنے لگتے ہیں

پھل سے جب بھی کوئی شجر بھر جاتا ہے

فصل بہار ہو چکی پھول کوئی کھلا نہیں

 فصلِ بہار ہو چکی، پھُول کوئی کِھلا نہیں

میں ہی خِزاں نصیب تھا، تجھ سے کوئی گِلہ نہیں

کچھ تو بہ پاسِ دوستی، ضبطِ خُوشی کی جہد کر

بار پہ میری ہنس مگر، ایسے تو کِھلکھلا نہیں

ہم نے یہ سوچ کر کِیا فرضِ نیاز سے گریز

ترک پر کیوں عتاب ہو، کرنے پہ جب صِلہ نہیں