عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عنایتوں کا حسیں سلسلہ محمّدﷺ ہیں
دُکھی دلوں کا فقط آسرا محمّدﷺ ہیں
ہم ایسے لوگ برس ہا برس سے درد میں ہیں
ہمارے واسطے حتمی دوا محمّدﷺ ہیں
ہو جاں کنی، یا ہو برزخ، یا ہو حساب کا دن
ہمارا سب ہی جگہ حوصلہ محمّدﷺ ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عنایتوں کا حسیں سلسلہ محمّدﷺ ہیں
دُکھی دلوں کا فقط آسرا محمّدﷺ ہیں
ہم ایسے لوگ برس ہا برس سے درد میں ہیں
ہمارے واسطے حتمی دوا محمّدﷺ ہیں
ہو جاں کنی، یا ہو برزخ، یا ہو حساب کا دن
ہمارا سب ہی جگہ حوصلہ محمّدﷺ ہیں
تمہیں کیا ہے
بھلے دریا کا پانی ہو
کہ اشکوں کی روانی ہو
کوئی اپنا پرایا ہو
ہمارا ہو
شجر کا آخری پتا
خزاں کا استعارہ ہو
ٹھاٹھ باٹھ آن بان مذہب کی
چل رہی ہے دکان مذہب کی
انتقام اس طرح بنامِ جہاد
تیر اپنے، کمان مذہب کی
سارے جِن عاملوں کے قبضے میں
جن کے قبضے میں جان مذہب کی
منسوب تھے جو عہد جدائی کے باب سے
ہم نے ورق وہ پھاڑ دئیے ہیں کتاب سے
یوں جھانکتے ہیں آپ کے جلوے نقاب سے
جیسے شعاعیں مہر کی پھوٹیں سحاب سے
زہراب دے کے قتل کے مجرم نہ تم بنو
ہم بادہ خوار ہیں، ہمیں مارو شراب سے
طالب عشق ہے کیا سالک عریاں نہ ہوا
قرب مہجور ہوا واصل جاناں نہ ہوا
ہیں جنوں جوش وہی جذب کا نسیاں نہ ہوا
قطرہ دریا جو ہوا آئینہ حیراں نہ ہوا
کیا سیہ مست ہوا کیف میں رقصاں نہ ہوا
جام سر جوش سے بھی سالک وجداں نہ ہوا
روشنی ہو نہ سکی شام کے ہنگام کے ساتھ
اور ہم دِیپ جلاتے رہے ہر شام کے ساتھ
دور بڑھتا ہی گیا حسرت ناکام کے ساتھ
دل میں اک ٹِیس اٹھی آپ کے ہنگام کے ساتھ
آپ نے پُرسش غم کا بھی تکلف نہ کیا
دل میں ہم جلتے رہے حسرت ناکام کے ساتھ
کچے دھاگے پہ نہ جا اس کا بھروسا کیا ہے
ناصحا! رِندِ بلا نوش کی توبہ کیا ہے
چین لینے نہیں دیتی تو کسی بھی صورت
زندگی! کچھ تو بتا دے تِرا منشا کیا ہے
حال تیرا بھی یہی ہو گا سن اے غنچۂ نو
دیکھ کر پھول کے انجام کو ہنستا کیا ہے