صبا نے کان میں آ کر کہا ملے ہی نہیں
حسین لوگ تِرے گاؤں میں رہے ہی نہیں
ہمیں کیا علم کہ کیا شے ہے آبلہ پائی
ہم اپنے کمرے سے باہر کبھی گئے ہی نہیں
ہمیں بچانے پہ راضی تھا اک جہان مگر
پھر ایک موڑ وہ آیا کہ ہم بچے ہی نہیں
صبا نے کان میں آ کر کہا ملے ہی نہیں
حسین لوگ تِرے گاؤں میں رہے ہی نہیں
ہمیں کیا علم کہ کیا شے ہے آبلہ پائی
ہم اپنے کمرے سے باہر کبھی گئے ہی نہیں
ہمیں بچانے پہ راضی تھا اک جہان مگر
پھر ایک موڑ وہ آیا کہ ہم بچے ہی نہیں
لب ترستے ہیں تبسم کو اک زمانے سے
دردِ دل کم نہیں ہوتا ہے مسکرانے سے
امتحاں عشق میں ہم نے تو کئی بار دئیے
فرق پڑتا نہیں کچھ ان کے ستم ڈھانے سے
وحشتِ عشق میں دیوانے فنا ہوتے ہیں
یہ سبق ملتا ہے پروانوں کے جل جانے سے
کبھی سرور بے خودی کبھی سرور آگہی
حقیقتوں کا واسطہ عجیب شے ہے زندگی
تِرا خیال دے گیا ہے آسرا کہیں کہیں
تِرا فراق حوصلے بڑھا گیا کبھی کبھی
اسی میں کچھ سکون ہے شعورِ غم کا ساتھ دیں
یہی خوشی کی بات ہے چلے چلیں خوشی خوشی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
الٰہی مشکلیں آسان کر دے
مسلمانوں کو پھر ذی شان کر دے
جو دشمن ہیں محمد مصطفیٰﷺ کے
انہیں بھی صاحبِ ایمان کر دے
بسا دے ان کے دل میں بھی محبت
انہیں بھی عاشقِ قرآن کر دے
مسیحا
لکھتے لکھتے
انگلیوں کی وہ نرم پوریں
ٹیڑھی میڑھی سی
اور سخت ہو گئی ہیں
پڑھتے پڑھتے
چمکتی آنکھوں کے خواب دُھندلا کے
پورے نو مہینے کا اجالا
کون کہتا ہے
چاندنی چار دن کی ہوتی ہے؟
پورے نو مہینے کا اجالا
لڑکی کو عورت بنا دیتا ہے
مرد بننے کے لیے تو
ایک چاند گرہن ہی کافی ہے
کُشتنی
ہر چیز فنا ہو جاتی ہے
ہر چیز فنا ہو جائے گی
تن کا سونا، من کی چاندی
سانسوں کی کندن، خوں کہ لحن
تیرا وہ دمکتا پیراہن
میری وہ سُلگتی شامِ خُتن