انا کی آنکھ سے دست سوال دیکھوں گا
لبوں کو سی کے طلب کا زوال دیکھوں گا
غزل کہوں گا، کریدوں گا دل کے زخموں کو
زوال اپنا، قلم کا کمال دیکھوں گا
دعا سلام کا رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا
میں دل کے شیشے میں جس وقت بال دیکھوں گا
انا کی آنکھ سے دست سوال دیکھوں گا
لبوں کو سی کے طلب کا زوال دیکھوں گا
غزل کہوں گا، کریدوں گا دل کے زخموں کو
زوال اپنا، قلم کا کمال دیکھوں گا
دعا سلام کا رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا
میں دل کے شیشے میں جس وقت بال دیکھوں گا
فلمی گیت
میرا جیون کچھ کام نہ آیا
جیسے سُوکھے پیڑ کی چھایا
اپنوں کے ہوتے ہوئے تن میں بسی تنہائی
آنسُو بنا کے خُوشی آنکھوں سے میں نے برسائی
خُوشیوں کو روتے روتے
دُنیا میں اب تو میرا جی گھبرایا
ڈُوب کے دیکھ لیا درد کی گہرائی میں
آج کی رات گُزر جائے گی تنہائی میں
شمع دل لایا ہوں یہ سوچ کے محفل میں تِری
ہو کمی کچھ نہ تِری انجمن آرائی میں
بے سبب ہوگا مِرے ساتھ میں رُسوا وہ بھی
نام اس کا بھی ہے شامل میری رُسوائی میں
پلٹنے والوں کو ہم نے دیکھا تھا ان کے حلیے بتا رہے تھے
سفر یہ مُشکل ترین تھا جس پہ ہم لوگ جا رہے تھے
گواہ رہنا اے دشت! تُو بھی، ملال ہم کو ذرا نہیں تھا
پُرانے زخموں کو درگُزر کر، نئے کی جگہیں بنا رہے تھے
جب اس نے دیکھا تو شہرِ دل میں عجیب ہلچل مچا کے رکھ دی
بدن کے بے حس تمام اعضاء، نظر کا نخرہ اُٹھا رہے تھے
چمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئی
ہمارے گلستاں سے رنگ سارا لے گیا کوئی
ہمیں جو راہ دکھلاتا تھا جیون کے اندھیروں میں
ہمارے آسماں سے وہ ستارہ لے گیا کوئی
بہت ویران رہتا ہے فلک آنکھوں کا یہ جب سے
چرا کر اس سے اس کا ماہ پارہ لے گیا کوئی
کھوئے کھوئے حواس رہتے ہیں
جانے ہم کیوں اداس رہتے ہیں
تجھ سے ہو کر جدا بھی اے ظالم
ہم تِرے آس پاس رہتے ہیں
تشنگی اپنی کم نہیں ہوتی
جام ہاتھوں کے پاس رہتے ہیں
شدت غم کا اب تو یہ عالم ہے
لب تو ہنستے ہیں، آنکھ پُرنم ہے
ہے تری یاد مونس شبِ غم
تُو نہیں سامنے تو کیا غم ہے
عشق محزوں کی خیر یو یا رب
آج ان کا مزاج برہم ہے