جا نہ تُو حسرتِ دیدار ابھی باقی ہے
اک رمق مجھ میں دمِ یار ابھی باقی ہے
کیوں نہ دیکھوں انہیں نظروں سے خریدار کی میں
حُسن کی گرمئ بازار ابھی باقی ہے
سب ہوئے حسرت و ارماں تو شبِ غم میں شہید
رہ گیا اک یہ گُنہ گار ابھی باقی ہے
جا نہ تُو حسرتِ دیدار ابھی باقی ہے
اک رمق مجھ میں دمِ یار ابھی باقی ہے
کیوں نہ دیکھوں انہیں نظروں سے خریدار کی میں
حُسن کی گرمئ بازار ابھی باقی ہے
سب ہوئے حسرت و ارماں تو شبِ غم میں شہید
رہ گیا اک یہ گُنہ گار ابھی باقی ہے
یہ کسے تھی خبر دل لگانے کے بعد
غم بھی مل جائیں گے مسکرانے کے بعد
کس جہاں میں خدا جانے وہ کھو گئے
مجھ کو اک بار صورت دکھانے کے بعد
جان پایا ہوں میں وہ ہے پتھر جگر
اپنی آنکھوں سے آنسو بہانے کے بعد
اک پریشانی الگ تھی اور پشیمانی الگ
عمر بھر کرتے رہے ہم دودھ اور پانی الگ
ریت ہی دونوں جگہ تھی زیر مہر و زیر آب
مصرع اولیٰ سے کب تھا مصرع ثانی الگ
دشت میں پہلے ہی روشن تھی ببولوں پر بہار
دے رہے ہیں شہر میں کانٹوں کو سب پانی الگ
سوال
جب میں نے کہا تھا تم سے
کہ مجھے تم سے محبت نہیں
اور ایک گہری سانس لی تھی تم نے
وہ کوئی بیان نہیں بلکہ ایک سوال تھا
جواب تھی؛ وہی گہری سانس
برنگِ شمع رو رو کر بسر کی
شبِ غم اس طرح ہم نے سحر کی
بتائیں کیا کہ کس نے لے لیا دل
خدا جانے کہ آفت تھی کِدھر کی
کہاں تک ساقیا! جورِ تغافل؟
خبر لے اپنے مست بے خبر کی
دیوارِ رہ گزار اگر راستہ نہ دے
ڈر ہے مِرا جنون اِسے بھی گِرا نہ دے
یہ جو تِرے خیال میں گُم ہے تِرا فقیر
اُنگلی پہ کائنات کو اِک دن گُھما نہ دے
اِس واسطے ہوا سے میں کرتا نہیں کلام
یہ شوخ سارے شہر کو جا کر بتا نہ دے
منظر منظر قریہ قریہ تھے تم بھی
خاک نژادو پھول ستارہ تھے تم بھی
اب شہر صد جبر میں ساکت ہم ٹھہرے
عہد تحیر میں نا رفتہ تھے تم بھی
میں صدیوں کی آرائش کرنے والا
میرے مساعی کے پروردہ تھے تم بھی