Sunday, 8 November 2026

میں تیرے نام کی کوئی کتاب لکھوں گی

 تمام عمر کا اپنا حساب لکھوں گی

میں تیرے نام کی کوئی کتاب لکھوں گی

میں جلتی اڑتی ہوئی ریت کو بھی چھانوں گی

جو دشتِ ذات پہ ٹھہرے سحاب لکھوں گی

ہر ایک درد میں تم کو میں حوصلہ دوں گی

تمہاری مات کو بھی کامیاب لکھوں گی

تسکین دل جو پائے تو پھر اضطراب کیا

 تسکین دِل جو پائے تو پھر اِضطراب کیا

مجھ کو پتہ نہیں کہ گُنہ کیا، ثواب کیا

تقدیسِ عشق پر نہ کوئی حرف آ سکے

بھٹکے جو راہ سے تو پھر ایسا شباب کیا

ہم جام کے اسِیر نہیں غور سے یہ سُن

آنکھوں سے پی نہ جائے تو پھر وہ شراب کیا

دل کو چاک کرنے سے لاکھ اگر لہو نکلے

 دل کو چاک کرنے سے لاکھ اگر لہُو نِکلے

یہ مگر نہیں ممکن گردِ آرزُو نکلے

اِشتیاقِ دِید ہم کو جانے کیا دِکھائے گا

دِل کا حوصلہ لے کر ان کے آبرُو نکلے

جِن کو ہم سمجھتے تھے دُور ہیں نِگاہوں سے

وہ قرِیں رگِ جاں سے وقتِ جُستجو نکلے

Saturday, 7 November 2026

رقص بسمل سہی زنجیر کی جھنکار سہی

 رقصِ بِسمل سہی زنجیر کی جھنکار سہی

ہم نشیں راہِ جنوں میں رسن و دار سہی

زندگی بھی نہیں جانے کی مِری کج کلہی

سر پہ ہر لمحہ چمکتی ہُوئی تلوار سہی

آپ کہتے ہیں تو سچ ہو گی ضرور آپ کی بات

ہم وفادار نہیں،۔ لاکھ وفادار سہی

خود سے بیزار زمانے سے خفا لگتا ہے

 خود سے بیزار زمانے سے خفا لگتا ہے

وحشتِ جاں کا اثر دل پہ سوا لگتا ہے

دشتِ اُمید کی جھُلسی ہوئی خاموشی میں

بس تِرا نام مجھے حرفِ دُعا لگتا ہے

سبز پتوں پہ چمکتی ہوئی شبنم نے کہا

رات ڈھل جائے تو ہر رنگ نیا لگتا ہے

جا کے ان سے کہہ دینا راستے بچھڑتے ہیں

 جا کے ان سے کہہ دینا راستے بِچھڑتے ہیں

دل سے دل کے رشتے میں رابطے بچھڑتے ہیں

آنسوؤں کے حلقے میں پھُول سینت رکھے ہیں

خواب کب مُکرتے ہیں، سِلسلے بچھڑتے ہیں

شور سے ہواؤں کے ہے زمین کی نِسبت

موسموں کی سختی سے قافلے بچھڑتے ہیں

زمیں پر نیم جاں یاری پڑی ہے

 زمِیں پر نِیم جاں یاری پڑی ہے

اِدھر خنجر، اُدھر آری پڑی ہے

میرے ہی سر پہ ہیں اِلزام سارے

بڑی مہنگی وفاداری پڑی ہے

عجب سا خوف پھیلا ہے وطن میں

ہوا کے ہاتھ چنگاری پڑی ہے