Thursday, 15 October 2026

عصمت کے بازار کو چھو کے آتا ہوں

 عصمت کے بازار کو چھُو کے آتا ہوں

ڈر ڈر کے دِلدار کو چھو کے آتا ہوں

کارِ محبت، مکر و فریب سے نالاں ہے

میں تو سچّے پیار کو چھو کے آتا ہوں

پھولوں کی کوئی قید نہیں ہے باغوں میں

دِیوانہ ہوں، خار کو چھو کے آتا ہوں

یہ دست کاسہ بھی لرزاں ہے تیرگی میں کہیں

 یہ دست کاسہ بھی لرزاں ہے تیرگی میں کہیں

ہمیں تو رات ہی مِلتی ہے روشنی میں کہیں

فقیر چہرے جو بِکتے ہیں شہر والوں میں

کسی کو خواب نہ مِلتے ہیں زندگی میں کہیں

چراغ بام کے بُجھتے ہیں زخم کھا کھا کر

یہ رات بولتی ہے درد خامشی میں کہیں

ان کی چمک سے چمکا چہرہ اصول کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


انؐ کی چمک سے چمکا چہرہ اصُول کا

آنکھوں کی روشنی بھی صدقہ رسولؐ کا

حسن صدائے سرور تیری تلاش میں

حبشی کو مِل گیا ہے لہجہ قبول کا

جبریلؑ کون ہے جو رفتار جان لے

سایا نہ پا سکا وہ قدموں کی دُھول کا

ہم نے دیکھا ہے بھرے شہر میں سایا اپنا

 ہم نے دیکھا ہے بھرے شہر میں سایا اپنا

ایک سُورج ہے پسِ پشت پرایا اپنا

غمکدۂ اشکِ مُسلسل سے نہال شب ہے

زخم تازہ کو درِ یار بنایا اپنا

چاند سے پار کوئی رات بسیرا ڈالے

ہم سے پُوچھے ہے کوئی خُون بہایا اپنا

پروردگار تیرے سہاروں کو کیا ہوا

 گُم ہے فضا چمن کی نظاروں کو کیا ہُوا

گُل ہیں اُداس اُداس بہاروں کو کیا ہوا

کیوں ان کی روشنی ہے شب غم سے دُور دُور

اے آسمان! تیرے ستاروں کو کیا ہوا

دیکھے تو کوئی ان کا تغافل کہ بعدِ مرگ

وہ پُوچھتے ہیں درد کے ماروں کو کیا ہوا

Wednesday, 14 October 2026

جہاں سراب نہیں تھی وہاں سراب ملے

 جہاں سراب نہیں تھی وہاں سراب مِلے

حقیقتوں کو ٹٹولا گیا تو خواب ملے

ہر ایک سمت سے آواز بازگشت آئی

اس آرزو میں پُکارا تھا کچھ جواب ملے

ہمیں بہار کے آثار کی توقع تھی

رُخِ چمن پہ نشاناتِ انقلاب ملے

دنیادار کے در پر خدا سوالی ہے

 سِتمگری کی نئی اک طرح نکالی ہے

یہ آسمان پہ کس نے زمیں اُچھالی ہے

ہمارا اُن سے کوئی ربط تھا، نہ ہے کوئی

بنانے والوں نے تو بات ہی بنا لی ہے

وہ مہرباں ہوئے ہم پر تو باور آیا یہ

کہ جس کا نام قیامت ہے آنے والی ہے