زمیں پہ کیسا ہے قحط الرّجال اُف اللہ
وفا کا اور جنوں کا زوال اُف اللہ
جو آدمی کا ہے اس وقت حال اُف اللہ
وفا کا اور جنوں کا زوال اُف اللہ
ترقی خوب ہوئی بے مثال اُف اللہ
مگر جو دیکھا ہے گاؤں کا حال اُف اللہ
زمیں پہ کیسا ہے قحط الرّجال اُف اللہ
وفا کا اور جنوں کا زوال اُف اللہ
جو آدمی کا ہے اس وقت حال اُف اللہ
وفا کا اور جنوں کا زوال اُف اللہ
ترقی خوب ہوئی بے مثال اُف اللہ
مگر جو دیکھا ہے گاؤں کا حال اُف اللہ
کہاں سے آنا ہے ہر آدمی یہاں تنہا
رُلا کے ہم کو چلا جانا ہے کہاں تنہا
یزیدِ عصر نے گھیرا ہے یوں مجھے جیسے
مقابلے میں ہو اک تیرے بے کماں تنہا
لگے ہیں خیمے وہیں آج کاروانوں کے
گیا تھا شہر میں تھک کر جہاں جہاں تنہا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل نثار مصطفیٰﷺ، جاں پائمال مصطفیٰﷺ
یہ اویس مصطفیٰﷺ ہے وہ بلال مصطفیٰﷺ
دونوں عالم تھے مِرے حرف دُعا میں غرق و محو
میں خُدا سے کر رہا تھا جب سوال مصطفیٰﷺ
سب سمجھتے ہیں اسے شمعِ شبستانِ حِرا
نُور ہے کونین کا لیکن جمالِ مصطفیٰﷺ
شِکوے کی چُبھن مجھ کو سدا اچھی لگی ہے
یہ فرطِ محبت کی ادا اچھی لگی ہے
خالی ہے کہاں لُطف سے اب دل کا پِگھلنا
پُر درد زمانے کی فضا اچھی لگی ہے
لمحاتِ محبت سبھی یکساں نہیں ہوتے
اے جان وفا! تیری جفا اچھی لگی ہے
نہ ذِکرِ آشنا نے قصۂ بے گانہ رکھتے ہیں
حدیثِ یار رکھتے ہیں یہی افسانہ رکھتے ہیں
چمن میں سرو قد گر جلوۂ مستانہ رکھتے ہیں
برنگِ طوقِ قمری ہم خطِ پیمانہ رکھتے ہیں
نہ اُلجھو اس قدر بے وجہ سُلجھانے میں زُلفوں کے
دلِ صد چاک تو ہم بھی برنگِ شانہ رکھتے ہیں
غیر بھی بیدم ہیں نالوں سے بُتِ بے پِیر بھی
اک ہوائی تِیر ہے یہ آہِ بے تاثیر بھی
کوئی شے خالی نہیں نیرنگِ حُسنِ یار سے
گُل میں رنگ و بُو تو مہر و مہ میں ہے تنویر بھی
کہتے ہیں رکھتے نہیں کیوں مُوئے مِژگاں کا خیال
کیا تمہارے دل میں رہ سکتا نہیں اک تِیر بھی
عصمت کے بازار کو چھُو کے آتا ہوں
ڈر ڈر کے دِلدار کو چھو کے آتا ہوں
کارِ محبت، مکر و فریب سے نالاں ہے
میں تو سچّے پیار کو چھو کے آتا ہوں
پھولوں کی کوئی قید نہیں ہے باغوں میں
دِیوانہ ہوں، خار کو چھو کے آتا ہوں