Thursday, 3 September 2026

کون سی دنیا میں ہم ہیں کچھ خبر پاتے نہیں

 کون سی دنیا میں ہم ہیں کچھ خبر پاتے نہیں

حد تو یہ ہے، دل کو بھی اب ہمسفر پاتے نہیں

کس طرح کہہ دیں کہ تُو اے موت امرت ہے کہ زہر

جب شرابِ زندگی کو بے ضرر پاتے نہیں

کون کہتا ہے کہ ہے معدوم لیلٰی کی کمر

ہاں مگر لیلائے دنیا کی کمر پاتے نہیں

Wednesday, 2 September 2026

میں پوچھتا ہی رہا شہرِ بے اماں کا پتہ

 میں پوچھتا ہی رہا شہرِ بے اماں کا پتہ

کوئی بتا نہ سکا تیرے آستاں کا پتہ

ہزاروں دوست نما لوگ ہمسفر تھے مگر

کسی کو اپنی خبر تھی نہ کارواں کا پتہ

خدا کرے نہ پڑے اس پہ بجلیوں کی نظر

ابھی ملا ہے مجھے میرے آشیاں کا پتہ

یہ مدینہ ہے کوئی مصر کا بازار نہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حسنِ یوسف کا یہاں کوئی خریدار نہیں

یہ مدینہ ہے کوئی مصر کا بازار نہیں

دشمنِ آلِؑ محمدﷺ سے سروکار نہیں

ہم محمدﷺ کے وفادار ہیں غدار نہیں

تاج بھی غیر سے لینے کو تیار نہیں

آپؐ کے در کے بھکاری کا یہ معیار نہیں

بھٹکیں ترے مدار میں گردش نہ کر سکیں

 بھٹکیں تِرے مدار میں، گردش نہ کر سکیں

ایسا نہ ہو کہ ہم تِری خواہش نہ کر سکیں

ہونٹوں پہ بے یقین، دُعائیں سجی رہیں

آنکھوں میں ابر آئیں تو بارش نہ کر سکیں

پُوچھے جو مہربان کوئی حال، ہنس پڑیں

ہم قاش قاش دل کی نمائش نہ کر سکیں

جاہ و منصب ہے نہ اب حشمت سلطانی ہے

 جاہ و منصب ہے نہ اب حشمتِ سُلطانی ہے

اس تباہی کا سبب اپنی ہی نادانی ہے

آہ وہ لمحے کہ جو خوابِ گِراں میں گُزرے

جن کی تعبیر میں صدیوں کی پشیمانی ہے

ایک سنّاٹے کا احساس تھا وہ بھی نہ رہا

دل کی دُنیا میں عجب طرح کی وِیرانی ہے

Tuesday, 1 September 2026

ایک پہیا تو سرکس میں چلتا ہے

 سرکس


وہ دونوں

لپیٹے ہُوئے اپنی گردِش

لگاتار چلتے ہیں

کم ہی قریب آتے دیکھا ہے اِن کو

کبھی ایسا ہو بھی تو ڈرتا ہُوں

یکجان ہو کر

میرا جیون کورا کاغذ کورا ہی رہ گیا

 فلمی گیت


میرا جیون کورا کاغذ کورا ہی رہ گیا

جو لکھا تھا آنسوؤں کے سنگ بہ گیا

میرا جیون کورا کاغذ۔۔۔۔


اک ہوا کا جھونکا آیا ٹُوٹا ڈالی سے پھُول

نہ پوَن کی نہ چمن کی کس کی ہے یہ بھُول

کھو گئی خوشبو ہوا میں کچھ نہ رہ گیا