Wednesday, 11 February 2026

میں ایک صندوق اٹھائے چل رہا ہوں

 بغیر جنازے کے دفنائی گئی محبت


میں ایک صندوق اٹھائے چل رہا ہوں

جو ماں کی آخری نشانی ہے

جس میں کچھ چیزیں ہیں

ایک رومال جو پہلی محبوبہ کا تحفہ ہے

ایک تصویر جو میری نہیں

ایک زنجیر جو قید خانے میں

عجیب ہے یہ زندگی کبھی ہے غم کبھی خوشی

 فلمی گیت عجیب ہے یہ زندگی 


عجیب ہے یہ زندگی کبھی ہے غم کبھی خوشی

ہر ایک شے ہے بے یقیں ہر ایک چیز عارضی


یہ کارواں رکے کہاں کہ منزلیں ہیں بے نشاں

چھپے ہوئے ہیں راستے یہاں وہاں دھواں دھواں

خطر ہیں کتنے راہ میں سفر ہے کتنا اجنبی

عجیب ہے یہ زندگی


وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں

 فلمی گیت


وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں

میرے ہر خواب کی تعبیر بنے بیٹھے ہیں


چاند ان آنکھوں کو دیکھے تو کنول بن جائے

رات ان ہونٹوں کو چھو لے تو غزل بن جائے

ان کی زلفوں کا حال مت پوچھو

مجھ سے میرا خیال مت پوچھو

خزاں کے مارے ہوئے جانب بہار چلے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خزاں کے مارے ہوئے جانبِ بہار چلے

قرارِ پانے زمانے کے بے قرار چلے

وہیں پہ تھام لیا ان کو دستِ رحمت نے

نبی کے در کی طرف جب گنہگار چلے

اے تاجدارِ جہاں! اے حبیبِﷺ رب کریم

وہ بھیک دو کہ غریبوں کا کاروبار چلے

بہت سے قیمتی لمحے جو راہ شوق میں گزرے

 نا آشنا


بہت سے قیمتی لمحے

جو راہ شوق میں گُزرے

جو خوابوں کے جزیرے میں

ستاروں جیسے روشن تھے

نہیں معلوم وہ لمحے، حقیقت تھے

Tuesday, 10 February 2026

عجیب سا میں عجیب دنیا

 عجیب سا میں

عجیب دنیا

رواج کے ساتھ چل رہا ہوں

نہ منطبق مجھ میں یہ زمانہ

نہ میں زمانے کو ہمنوا ہوں


جمیل احسن

کرن کے رتھ پر سوار ہو کر

 آخری ساعت کے نام


کرن کے رتھ پر سوار ہو کر

ندی کی لہروں پہ چاند اپنی

تمام روداد لکھ چکا ہے

نئی اُڑانیں

طویل رستہ

بسیط سمتیں