کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے
نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے
سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے
ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے
رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے
جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے
کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے
نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے
سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے
ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے
رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے
جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے
قد بڑا ہوتا نہیں ہے طرۂ دستار سے
آدمی ہوتا ہے اُونچا عظمتِ کردار سے
اس کے جاتے ہی مِرے گھر پر اُداسی چھا گئی
دیر تک رویا لپٹ کر میں در و دیوار سے
رازِ سر بستہ سے رفتہ رفتہ پردہ اُٹھ گیا
کُھلتے کُھلتے کُھل گیا دل کا بھرم اشعار سے
ہمارے عہد کا منظر عجیب منظر ہے
بہار چہرے پہ دل میں خزاں کا دفتر ہے
نہ ہمسفر نا کوئی نقش پا نا رہبر ہے
جنوں کی راہ میں کچھ ہے تو جان کا ڈر ہے
ہر ایک لمحہ ہمیں ڈر ہے ٹوٹ جانے کا
یہ زندگی ہے کہ بوسیدہ کانچ کا گھر ہے
اے وادئ کشمیر! اے وادئ کشمیر
تُو حُسن کا پیکر ہے، تُو رعنائی کی تصویر
مخمور بہاروں کے حسین خوابوں کی تعبیر
رخشاں ہیں تیرے ماتھے پہ آنادی کی تنویر
تو جلوہ گہ نور جہان، قلب جہانگیر
اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پائیں ضیا ادھر ہو اگر جان جاں کا رُخ
تکتے ہیں مہر و ماہ شہ دو جہاں کا رخ
بستر کی سلوٹیں نہ گئیں اتنی دیر میں
لوٹ آئے کر کے میرے نبیؐ لامکاں کا رخ
خوش ہوں بہت نصیب کی کلیاں کھلی ہیں آج
دل نے کیا ہے آج تِرے گلستاں کا رخ
کالی لمبی راتیں
چاند اور تیری باتیں
کِواڑوں سے جھانکتی یادیں
گہری اُلجھی سوچیں
سرہانوں کی سرگوشیاں
اور خاموش سِسکیاں
کہتے ہیں، اپنا حال کسی سے کہوں نہیں
یعنی کہ صرف درد سہوں، اُف کروں نہیں
ہے ان دنوں میں پیشِ نظر رقص کے لیے
وہ ساز جس میں کوئی بھی سوزِ دروں نہیں
تصویر توڑ دی تو تصوّر میں آ گئے
عہدِ فراق میں بھی کسی پل سکوں نہیں