سچ کی آواز کا سُولی پہ بھی رد ہے حد ہے
تم اگر جھُوٹ بھی بولو تو سند ہے، حد ہے
تم تو سُورج تھے پہ حیرت ہے مجھے وقت زوال
اک دِیے سے تمہیں اس درجہ حسد ہے حد ہے
میں کہ مسجُود ملائک تھا کبھی داورِ حشر
میرے اعمال پر ان سے ہی مدد ہے حد ہے
سچ کی آواز کا سُولی پہ بھی رد ہے حد ہے
تم اگر جھُوٹ بھی بولو تو سند ہے، حد ہے
تم تو سُورج تھے پہ حیرت ہے مجھے وقت زوال
اک دِیے سے تمہیں اس درجہ حسد ہے حد ہے
میں کہ مسجُود ملائک تھا کبھی داورِ حشر
میرے اعمال پر ان سے ہی مدد ہے حد ہے
جیسے کسی کا حرفِ محبت مِری غزل
یعنی مِرے خلوص کی نُدرت مری غزل
ظُلمت کدوں میں چاند کی مانند روشنی
تشنہ لبوں کے واسطے راحت مری غزل
میداں میں آ کے نوش تو فرمائیے جناب
چھلکا رہی ہے جامِ شہادت مری غزل
ادائے رسم محبت خطا سی لگتی ہے
ہمیں تو اپنی وفا بھی سزا سی لگتی ہے
سفر میں دھوپ کا احساس تک نہیں ہوتا
ہمارے سر پہ کسی کی دعا سی لگتی ہے
وہ میری فکر کو چھوتا ہے جب خیالوں میں
ہر ایک لفظ میں بوئے حنا سی لگتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بت کے پردے میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا
لعل پتھر میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا
ڈھونڈتا میں رہا تسبیح کے دانوں میں اسے
ذرہ ذرہ میں خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا
دل نے جا جا کے کیے لاکھوں طواف کعبہ
اور وہ دل میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا
حال ابتر اُداس لوگوں کا
کون رہبر اداس لوگوں کا
ہے اُداسی محیط ہر شے پر
درد پیکر اداس لوگوں کا
ایک فِرقہ مجھے زمانے میں
ہے میسّر اداس لوگوں کا
صحن گُلشن میں چاندنی دیکھیں
حُسن تکمیل زندگی دیکھیں
آؤ فطرت کی دیکھیں رعنائی
پتیاں کچھ ہری ہری دیکھیں
میرا ہر شعر ہے نشان حیات
میرا انداز شاعری دیکھیں
دُور صحرا کی کڑی دُھوپ میں چھاؤں جیسا
وہ تو لگتا تھا مجھے میری دُعاؤں جیسا
اِک ریاست تھی میرے پاس نوابوں جیسی
اب تِرے شہر میں پھرتا ہوں گداؤں جیسا
اب اُسے ڈُھونڈتا پھرتا ہوں بیابانوں میں
جو میرے پاس سے گُزرا تھا ہواؤں جیسا