Wednesday, 18 February 2026

دل میں اک اضطراب رہنے دو

 دل میں اک اضطراب رہنے دو

زخم میرے گلاب رہنے دو

پیاس کا ایک دشت ہے مجھ میں

چشم کو زیر آب رہنے دو

اپنے احسان ہی جتاتے رہو

میرے غم کا حساب رہنے دو

یہ کس کا گھر جلا ہے ذرا فکر سی تو ہے

 یہ کس کا گھر جلا ہے ذرا فکر سی تو ہے

بستی میں تھوڑی دیر مگر روشنی تو ہے

دریا میں کون ڈوب گیا، یہ نہ سوچیے

ساحل پہ آج تھوڑی سی رونق لگی تو ہے

خوش ہو رہا ہے میرِ سپہ جنگ ہار کر

عزت چلی گئی ہے تو کیا زندگی تو ہے

فرش مقتل کو سجاؤ چاہ سے ارمان سے

 فرش مقتل کو سجاؤ چاہ سے ارمان سے 

رقص کرنے آئے ہیں ہم اک نئے عنوان سے 

دل ہے روشن زندگی کے اک نئے عرفان سے 

اپنا رشتہ کٹ چکا ہے کفر سے ایمان سے 

تنگ دامانی سے اپنی شرم آئے خود ہمیں 

درد کا رشتہ جو توڑیں ہم کسی انسان سے 

غموں کا بوجھ اٹھائے چل رہی ہے اپنے سر پر زیست

 چلی ہے جانبِ صحرا ہوئی ہے گھر سے بے گھر زیست

ذرا معلوم کیجے ہو گئی ہے کیا قلندر زیست

یہ سچ ہے بلبلہ ہے آپ کا اس کی نہیں وقعت

کرو محسوس تو خود میں ہے بے شک اک سمندر زیست

تعاقب میں ہوں تیرے آج تک، تو مل نہیں پائی

تمنا ہے مری عرصے سے دیکھوں تجھ کو چھو کر زیست

چھوڑ دو چند لمحوں کو تنہا مجھے اے مرے مشفق مہرباں دوستو

 اشکِ تاباں میں حُسن سحر کی جھلک، زخم دل صورتِ گلستاں دوستو

زندگی موتیوں کی جھمکتی لڑی، زندگی رنگِ گُل کا بیاں دوستو

مل گئے ہیں جو ہم اور تم راہ میں، آؤ آپس میں کچھ دیر دکھ بانٹ لیں

کس نے دیکھی ہے کل آنے والی سحر، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں دوستو

کوئے دلدار کی لالہ گوں سر زمیں، مانگتی ہے خلوصِ وفا کا یقین

اور تو کوئی سوغات ممکن نہیں،  نذر کرتے چلو نقد جاں دوستو

Tuesday, 17 February 2026

محمد کا نگر ہے اور میں ہوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


محمدﷺ کا نگر ہے اور میں ہوں

درِ آقاﷺ پہ سر ہے اور میں ہوں

جبیں پر ہے غبارِ خاکِ طیبہ

نظاروں پر نظر ہے اور میں ہوں

تصورکے چمن زاروں میں دیکھا

مِرا نورِ نظر ہے، اور میں ہوں

تالیوں کی گونج زائل ہو چکی

 ایک نڈھال نظم


تالیوں کی گونج

زائل ہو چکی

ہال خالی ہو چکا

داد کے بکسے اُلٹ کر چل دئیے

لوگ میری چیختی نظموں کی

بولی دے چکے