عقل نے چھین لی بنیائی دل کی
ایک شاعرہ کو محبت نہیں کرنے دیتی
اب سونے کی بھی کوشش کروں تو
شناسائی خواب نہیں بُننے دیتی
مجھ کو پسند ہیں گلاب بہت مگر
زخمی پوریں کلیاں نہیں چُننے دیتی
عقل نے چھین لی بنیائی دل کی
ایک شاعرہ کو محبت نہیں کرنے دیتی
اب سونے کی بھی کوشش کروں تو
شناسائی خواب نہیں بُننے دیتی
مجھ کو پسند ہیں گلاب بہت مگر
زخمی پوریں کلیاں نہیں چُننے دیتی
زیست جس وقت ڈستی ہوتی ہے
موت اس وقت سستی ہوتی ہے
ہاتھ پکڑے کی لاج تم رکھنا
عشق میں ایک مستی ہوتی ہے
رنج و غم، درد و کرب، حسرت و یاس
نیستی میں بھی ہستی ہوتی ہے
مایوس اتنے ہو گئے تیرہ شبی سے ہم
دامن بچائے پھرتے ہیں اب روشنی سے ہم
اے گردش زمانہ! ہمیں دھمکیاں نہ دے
ہر وقت کام لیتے ہیں زندہ دلی سے ہم
جو ہیں بلند حوصلہ کہتے نہیں کبھی
تنگ آ گئے ہیں کشمکش زندگی سے ہم
شکم کے گہرے غاروں میں اجالا کون دیتا ہے
توے پر روٹیاں، منہ میں نوالہ کون دیتا ہے
کہیں گل کے قصیدے ہیں کہیں خوشبو کے چرچے ہیں
میں مٹی ہوں، مگر میرا حوالہ کون دیتا ہے
متاعِ جان و ایماں کا محافظ کس کو کہتے ہیں
دہانِ غار پر مکڑی کا جالا کون دیتا ہے
جاتے جاتے وہ مجھے اپنی نشانی دے گیا
زندگی بھر کے لیے آنکھوں میں پانی دے گیا
سنتے سنتے داستاں سو جائیں گے سب چارہ گر
ختم جو ہو گی نہیں ایسی کہانی دے گیا
سر مرے سینے پہ اس نے جب رکھا ہے زندگی
اس طرح دریائے دل کو وہ روانی دے گیا
نہ جواب اچھا ہے، اے دل نہ سوال اچھا ہے
بس وہ جس حال میں رکھے وہی حال اچھا ہے
کون سا رنگ ہے جو اس پہ نہیں پھبتا ہے
کیونکہ ہر رنگ میں وہ رنگِ جمال اچھا ہے
جس طرف اٹھتی ہیں دیوانہ بنا دیتی ہیں
آپ کی نظروں میں صاحب یہ کمال اچھا ہے
جانے کیا بات بتانے مجھ کو
دھوپ آئی ہے جگانے مجھ کو
اب ذرا ہانٹ نہیں کرتے ہیں
تیری چاہت کے فسانے مجھ کو
جانے کیا یاد دلانے آئے
تیری چاہت کے زمانے مجھ کو