Thursday, 5 February 2026

نہ دہر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہو گی

 نہ دہر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہو گی

تمہارے در پہ ادا میری بندگی ہو گی

نگاہ یار مِری سمت پھر اٹھی ہو گی

سنبھل سکوں گا نہ میں ایسی یہ بیخودی ہو گی

نگاہ پھیر کے جا تو رہا ہے تُو لیکن

تِرے بغیر بسر کیسے زندگی ہو گی

ہے کوچہ الفت میں وحشت کی فراوانی

 ہے کوچۂ الفت میں وحشت کی فراوانی

جب قیس کو ہوش آیا لیلٰی ہوئی دیوانی

پیش آئی وہی آخر جو کچھ کہ تھی پیش آئی

قسمت میں ازل ہی سے لکھی تھی پریشانی

دل اس کو دیا میں نے یہ کس کو دیا میں نے

غفلت سی مِری غفلت، نادانی سی نادانی

آس دل میں ہے مرے جلوۂ خضرائی کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

تضمین بر کلام رضا


آس دل میں ہے مِرے جلوۂ خضرائی کی

آنکھ سے حسرتیں گِرتی ہیں تمنّائی کی

میں نے غم، غم نے مِرے ساتھ شناسائی کی

’’ قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی‘‘

’’مشکل آسان الٰہی مِری تنہائی کی‘‘

ہے غم سے دل فگار غزل کس طرح کہوں

 ہے غم سے دل فگار غزل کس طرح کہوں

آنکھیں ہیں اشکبار، غزل کس طرح کہوں

گھیرے ہوئے ہیں موت کی پرچھائیاں مجھے

ہوں زندگی پہ بارِ، غزل کس طرح کہوں

آ، شاہدِ بہارِ وفا، جانِ زندگی

دامن ہے تار تار، غزل کس طرح کہوں

دعائیں مانگنے والوں کا انتشار ہے کیا

 دعائیں مانگنے والوں کا انتشار ہے کیا

یہ ماہ و سال کا اڑتا ہوا غبار ہے کیا

کوئی سبب ہے کہ یا رب سکون ہے اتنا

مجھے خبر ہی نہیں ہے کہ انتظار ہے کیا

اگر ہو دور تو قائم ہے دید کا رشتہ

اگر قریب ہو منظر تو اختیار ہے کیا

کوئی خوشی نہ کوئی غم ہے کیا کیا جائے

 کوئی خوشی نہ کوئی غم ہے کیا کیا جائے

بڑا عجیب سا عالم ہے کیا کیا جائے

ذرا سکوں ہو میسر تو کوئی بات بنے

یہاں تو گردش پیہم ہے کیا کیا جائے

کہیں سے چیخ بھی اٹھی تو رہ گئی دب کر

کہ گھنگھرؤں کی چھما چھم ہے کیا کیا جائے

Wednesday, 4 February 2026

خراب حال وفا کو رلائے جاتے ہیں

 خراب حال وفا کو رلائے جاتے ہیں

نظر چرائے ہوئے مسکرائے جاتے ہیں

وفا شعار سہی غیر مجھ سے کیوں کہیے

یہ روز کس لیے قصے سنائے جاتے ہیں

وفا کی قدر تری انجمن میں کیوں ہوتی

فریب غیر کے نقشے جمائے جاتے ہیں