یاروں میں اب وہ طرز وفا بھی نہیں رہا
اب وہ شکایتوں کا مزہ بھی نہیں رہا
چہرے کا ان کے اب وہ نمک بھی پگھل گیا
موسم ہمارے دل کا ہرا بھی نہیں رہا
دل توڑتے ہیں جیسے کوئی پھول توڑ دے
پاس و لحاظ ان کو ذرا بھی نہیں رہا
یاروں میں اب وہ طرز وفا بھی نہیں رہا
اب وہ شکایتوں کا مزہ بھی نہیں رہا
چہرے کا ان کے اب وہ نمک بھی پگھل گیا
موسم ہمارے دل کا ہرا بھی نہیں رہا
دل توڑتے ہیں جیسے کوئی پھول توڑ دے
پاس و لحاظ ان کو ذرا بھی نہیں رہا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو رضائے مصطفیٰؐ، رب کی رضا جانے فقط
دل وہی ان کی اطاعت کا مزہ جانے فقط
ابتدا ہے نور جس کی ، نورِ اول جس کا نور
بس خدائے پاک اس کی انتہا جانے فقط
چاہے اپنا ہو پرایا ہو کوئی دشمن یا دوست
ہر کسی کو وہ سزاوارِ دعا جانے فقط
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے راہِ حق یہی، یہی رستہ رسولﷺ کا
منشا ہے جو خدا کا، ہے منشا رسولﷺ کا
لازم ہے ہم پہ مِدحتِ آقائے نامدارﷺ
یہ ساری کائنات ہے صدقہ رسول ﷺ کا
دونوں جہاں میں صلِ علیٰ کی ہے باز گشت
ہوتا ہے جن و اِنس میں چرچا رسولﷺ کا
چاند دریا پار کر کے آ رہا ہے
آ گئی ہے رت بہار
سبز پتے سبز تتلی سبز منظر انتظار
عطر آگیں ہیں ہوائیں
پیڑ کی گردن پہ ہنستا ہے تری یادوں کا ہار
ایک سایہ پیڑ پر چڑھتا ہوا
میں خوش کیسے رہ سکتا ہوں
سب کے پاس سب کچھ ہے
سب کی مرادیں پوری ہو گئیں
سب کے خواب
تعبیر کا رس پا کر رسیلے ہو گئے
اور میں؟
درد دل کی دوا نہ ہو جائے
زندگی بے مزا نہ ہو جائے
لطف دیتی ہے کیا امید وفا
بے وفا با وفا نہ ہو جائے
کیسے بیتاب ان کو دیکھوں گا
آہ یا رب رسا نہ ہو جائے
پل دو پل کی جو آشنائی تھی
مجھ کو لگتا تھا کل خدائی تھی
میں نے ٹھکرا دیا تھا دنیا کو
جب یہاں تو پلٹ کے آئی تھی
پھر کسی دوسرے کے ہو جانا
یہ بتا مجھ میں کیا برائی تھی؟