Friday, 28 August 2026

دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا

 دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا

اک شکستہ ناؤ سا میں تیز رو پانی میں تھا

مجھ سے ملنے کوئی آتا بھی تو ملتا کس طرح

میں تو گھر میں بند خود اپنی نگہبانی میں تھا

آدمیت کے عوض اس نے خریدا ہے لباس

آدمی تھا آدمی جب عہد عریانی میں تھا

خواب شیریں ہی کل اثاثہ ہے

 خوابِ شیریں ہی کُل اثاثہ ہے

اور حقیقت فقط تماشہ ہے

کل تلک یہ بھی ٹوٹ جائے گا

اک بھرم جو نیا تراشہ ہے

ہر گھڑے میں بھرے ہیں کچھ کنکر

اور ہر اک پرندہ پیاسا ہے

Thursday, 27 August 2026

نہیں ہے شہر میں آسان بے خطر جانا

 نہیں ہے شہر میں آسان بے خطر جانا

بنا کے راہگزر بھیڑ سے گزر جانا

مجھے ڈبو نہ سکیں گی یہ تند خُو موجیں

مِری سرشت میں ہے ڈُوب کر اُبھر جانا

بِچھا نہ راہ میں اپنی انا کی چنگاری

مجھے تو آتا ہے شعلوں سے بھی گزر جانا

گفتگو کھل کر نہیں کرتے کبھی یاروں کے بیچ

 گُفتگو کُھل کر نہیں کرتے کبھی یاروں کے بِیچ

مسئلے وہ حل کریں گے چار دیواروں کے بیچ

شہر کی اُونچی فصیلوں میں مِرے گھر کا وجود

ایک ننھا سا دِیا ہو جیسے کُہساروں کے بیچ

گُم ہوئی کتنی صدائیں، جل بُجھے ہونٹوں کے بول

کتنی آوازوں نے دم توڑا ہے نقّاروں کے بیچ

شب کے کالے گنبد میں اک نوری در تخلیق ہو

 شب کے کالے گُنبد میں اک نُوری در تخلیق ہو

قُدرت کے ہاتھوں سے کیا عُمدہ منظر تخلیق ہوا

پہلے آہن زاد چھُری سے نازک گردن کٹتی تھی

پھر دل پر برسانے کو لفظی خنجر تخلیق ہوا

قطرہ قطرہ جُثہ پگھلا ہاتھوں پر چھالے چمکے

ایک گھروندا رہنے قابل تب جا کر تخلیق ہوا

کہ دنیا سے گزر کے بھی یہ مائیں کام آتی ہیں

 نہ ہو ان کا جب سایہ دعائیں کام آتی ہیں

کہ دنیا سے گزر کے بھی یہ مائیں کام آتی ہیں

سکوتِ شب میں یادوں کی صدائیں کام آتی ہیں

مجھے تیرے دوپٹے کی ہوائیں کام آتی ہیں

یہ بیٹے زندگی میں آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں

مگر یہ بیٹیاں تو دائیں بائیں کام آتی ہیں

مجھ پر بھی بے اثر تھا اجالا کبھی کبھی

 مجھ پر بھی بے اثر تھا اُجالا کبھی کبھی

مجھ کو بھی راس آتا اندھیرا کبھی کبھی

بستی میں رہ کے جس کا تصوّر محال تھا

وہ لُطف دے گیا مجھے صحرا کبھی کبھی

سُورج بھی بدلیوں میں گرِفتار ہو گیا

ظُلمت سے بھی بُرا تھا سویرا کبھی کبھی