Tuesday, 28 April 2026

کسی کے عشق کِسی کے گمان میں رہ کر

 کسی کے عشق کِسی کے گمان میں رہ کر

زمیں کو بھول گیا آسمان میں رہ کر

ابھی ہے وقت کے ہم اپنا فیصلہ کر لیں

بہت خسارے کیے درمیان میں رہ کر

کے ہم وہ تیر ہیں مقصد سے ہٹ نہیں سکتے

نشانہ سادھتے ہیں ہم کمان میں رہ کر

وہ میرا ہو کے مری دسترس سے باہر ہے

 وہ میرا ہو کے مِری دسترس سے باہر ہے

مجھی میں رہتا ہے اور میرے بس سے باہر ہے

وہ نُور ہے تو نہایا نہیں بدن اس میں

وہ حرف ہے تو ابھی دسترس سے باہر ہے

میں ڈھونڈتا ہوں جسے اور ہے وہ آوازہ

وہ اک صدا جو بساطِ جرس سے باہر ہے

کوئی کرن نہ کرن کا کہیں نشاں ہے میاں

 کوئی کِرن نہ کِرن کا کہیں نشاں ہے میاں

یہ روشنی ہے تو پھر تیرگی کہاں ہے میاں

نمازیوں کو بتاؤ،۔ نمازیوں سے کہو

یہ مسجدوں کی نہیں دشت کی اذاں ہے میاں

ہمارے عہد کی راتیں ہیں چاندنی سے تہی

ہمارے عہد کا سُورج دُھواں دُھواں ہے میاں

Monday, 27 April 2026

دیکھے نہ فقیری کو کوئی شک سے ہماری

 دیکھے نہ فقیری کو کوئی شک سے ہماری

دیوار میں در بنتا ہے  دستک سے ہماری

بازار میں بیٹھے ہیں لیے ٹوٹا ہوا دل

اب بحث تو بنتی نہیں گاہک سے ہماری

ہم خاک نشینوں کی سمجھ میں نہیں آتا

اس شہر کو کیا ملتا ہے چشمک سے ہماری

فلک پر اک ردائے شام رکھ کر آ گیا ہوں

 فلک پر اک ردائے شام رکھ کر آ گیا ہوں

ستاروں کو سحر کے نام رکھ کر آ گیا ہوں

میں کیا اٹھا ہوں محفل سے کہ اب کے روئے محفل

خموشی سے ڈھکا کہرام رکھ کر آ گیا ہوں

اور اب چاہو تو ٹھکرا دو مِری یہ بھی جسارت

تمہارے در سے کوئی کام رکھ کر آ گیا ہوں

ٹوٹے ہوئے دلوں کی اجازت نہیں ملی

 ٹُوٹے ہوئے دِلوں کی اِجازت نہیں مِلی

ہم کو بڑے گھروں کی محبت نہیں ملی

آسائشیں تو دشت کی ساری ملیں مجھے

آوارگی میں قیس کی وحشت نہیں ملی

کیسے تجھے بتاتی کہاں رہ گئی تھی میں

اک لمحہ تیری یاد سے فُرصت نہیں ملی

تیری آنکھوں میں جھلملاؤں کہیں

 تیری آنکھوں میں جھلملاؤں کہیں

ساتھ رہ کر نظر نہ آؤں کہیں

اور مت فاصلے بڑھا مجھ سے

میں تُجھے بھُول ہی نہ جاؤں کہیں

جانے کس موڑ پر ضرورت ہو

آ بھی جانا جو میں بلاؤں کہیں