نئی زندگی کی ہوا چلی تو کئی نقاب اتر گئے
جنہیں انقلاب سے پیار تھا وہی انقلاب سے ڈر گئے
مجھے رہبروں سے ہے یہ گلہ کہ انہیں شعور سفر نہ تھا
کبھی راستوں میں الجھ گئے کبھی منزلوں سے گزر گئے
تجھے مرگ نو کی تلاش ہے مگر ارتقا کا پتہ نہیں
کوئی ایک شکل جو مٹ گئی تو ہزار نقش ابھر گئے