دل میں اک اضطراب رہنے دو
زخم میرے گلاب رہنے دو
پیاس کا ایک دشت ہے مجھ میں
چشم کو زیر آب رہنے دو
اپنے احسان ہی جتاتے رہو
میرے غم کا حساب رہنے دو
دل میں اک اضطراب رہنے دو
زخم میرے گلاب رہنے دو
پیاس کا ایک دشت ہے مجھ میں
چشم کو زیر آب رہنے دو
اپنے احسان ہی جتاتے رہو
میرے غم کا حساب رہنے دو
یہ کس کا گھر جلا ہے ذرا فکر سی تو ہے
بستی میں تھوڑی دیر مگر روشنی تو ہے
دریا میں کون ڈوب گیا، یہ نہ سوچیے
ساحل پہ آج تھوڑی سی رونق لگی تو ہے
خوش ہو رہا ہے میرِ سپہ جنگ ہار کر
عزت چلی گئی ہے تو کیا زندگی تو ہے
فرش مقتل کو سجاؤ چاہ سے ارمان سے
رقص کرنے آئے ہیں ہم اک نئے عنوان سے
دل ہے روشن زندگی کے اک نئے عرفان سے
اپنا رشتہ کٹ چکا ہے کفر سے ایمان سے
تنگ دامانی سے اپنی شرم آئے خود ہمیں
درد کا رشتہ جو توڑیں ہم کسی انسان سے
چلی ہے جانبِ صحرا ہوئی ہے گھر سے بے گھر زیست
ذرا معلوم کیجے ہو گئی ہے کیا قلندر زیست
یہ سچ ہے بلبلہ ہے آپ کا اس کی نہیں وقعت
کرو محسوس تو خود میں ہے بے شک اک سمندر زیست
تعاقب میں ہوں تیرے آج تک، تو مل نہیں پائی
تمنا ہے مری عرصے سے دیکھوں تجھ کو چھو کر زیست
اشکِ تاباں میں حُسن سحر کی جھلک، زخم دل صورتِ گلستاں دوستو
زندگی موتیوں کی جھمکتی لڑی، زندگی رنگِ گُل کا بیاں دوستو
مل گئے ہیں جو ہم اور تم راہ میں، آؤ آپس میں کچھ دیر دکھ بانٹ لیں
کس نے دیکھی ہے کل آنے والی سحر، تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں دوستو
کوئے دلدار کی لالہ گوں سر زمیں، مانگتی ہے خلوصِ وفا کا یقین
اور تو کوئی سوغات ممکن نہیں، نذر کرتے چلو نقد جاں دوستو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محمدﷺ کا نگر ہے اور میں ہوں
درِ آقاﷺ پہ سر ہے اور میں ہوں
جبیں پر ہے غبارِ خاکِ طیبہ
نظاروں پر نظر ہے اور میں ہوں
تصورکے چمن زاروں میں دیکھا
مِرا نورِ نظر ہے، اور میں ہوں
ایک نڈھال نظم
تالیوں کی گونج
زائل ہو چکی
ہال خالی ہو چکا
داد کے بکسے اُلٹ کر چل دئیے
لوگ میری چیختی نظموں کی
بولی دے چکے