دل کی تسکین ہے کسی آس میں تپتے رہنا
عمر بھر گھر کے ہی بَن باس میں تپتے رہنا
ابر کا ایک بھی ٹُکڑا نہ یہاں اُترے گا
گُلستاں کو ہے اسی آس میں تپتے رہنا
ہائے گُلدانوں کے ان پھُولوں کی تقدیر جنہیں
سائباں ہوتے ہوئے گھاس میں تپتے رہنا
دل کی تسکین ہے کسی آس میں تپتے رہنا
عمر بھر گھر کے ہی بَن باس میں تپتے رہنا
ابر کا ایک بھی ٹُکڑا نہ یہاں اُترے گا
گُلستاں کو ہے اسی آس میں تپتے رہنا
ہائے گُلدانوں کے ان پھُولوں کی تقدیر جنہیں
سائباں ہوتے ہوئے گھاس میں تپتے رہنا
سلوک دوست سے بیزار کیا ہُوا ہوں میں
خیال یہ ہے بُلندی سے گِر گیا ہوں میں
محبتوں کا حسیں دور آنے والا ہے
یہ رُخ بھی ان کی عداوت کا دیکھتا ہوں میں
مِرے شعور میں ماحول کی ہے بے چینی
نوائے وقت ہوں، اک درد کی صدا ہوں میں
میری چاہت دور ہو کر دیکھتے
مجھ کو پانا تھا تو کھو کر دیکھتے
داستانِ عشق 💓 لکھنا تھا اگر
انگلیاں خوں میں ڈبو کر دیکھتے
نیند کو کیوں کہہ دیا اک مسئلہ
زلف کے سائے میں سو کر دیکھتے
نروان سے اقتباس
دھیان کی کیاریوں میں
سویٹ پیز کے پھول مسکرا رہے ہیں
اور شانت رو حس دھوپ کی کلیوں سے
آنکھ مچولی کھیل رہی ہیں
آؤ ہم تنہائی کے سمندر میں اتر جائیں
خوشبوؤں کی امین ہے اے دوست
تُو گُلِ یاسمین ہے اے دوست
پھول بن کر مہک اٹھے ہیں زخم
درد کتنا حسین ہے اے دوست
میرے لب ہیں جبینِ جاناں پر
یہ تصور کا سین ہے اے دوست
یہ سچ ہے کلمۂ حق ان کو ناگوار ہُوا
یہ اک قصور مگر ہم سے بار بار ہوا
قصاص مانگنے نکلے تھے آج شہر کے لوگ
یہ حادثہ پسِ دیوارِ شہریار ہوا
مِرے لہو نے دیا آب و رنگ پھولوں کو
ہر ایک قطرۂ خوں قاصدِ بہار ہوا
کیوں بھٹکتی صحرا میں گھر بھی اک خرابہ تھا
بے نشاں اداسی کا بے اماں احاطہ تھا
جب کبھی نظر آیا خواب میں نظر آیا
وہ جہاں پہ رہتا تھا کون سا علاقہ تھا
داخلی کشاکش سے با خبر تو ہو جاتا
ذہن سوچتا کیا تھا دل کا کیا تقاضہ تھا