خواب قُربان کِیا ہے میں نے
خُود کو وِیران کیا ہے میں نے
کچھ بھی باقی نہ بچا اپنے لیے
جب بھی مِیزان کیا ہے میں نے
عشق کی راہ میں چلتے چلتے
اپنا نُقصان کیا ہے میں نے
خواب قُربان کِیا ہے میں نے
خُود کو وِیران کیا ہے میں نے
کچھ بھی باقی نہ بچا اپنے لیے
جب بھی مِیزان کیا ہے میں نے
عشق کی راہ میں چلتے چلتے
اپنا نُقصان کیا ہے میں نے
ان سے کیا پوچھتے ہو لوگ تو کم جانتے ہیں
اپنے حالات کو اچھی طرح ہم جانتے ہیں
ہم نے جانا ہے تجھے اپنی محبت کا خُدا
لوگ نادان ہیں پتھر کا صنم جانتے ہیں
تُو نے منہ پھیر لیا راہ میں ہم سے جب کہ
ہم تِری آنکھ کا جُھکنا بھی ستم جانتے ہیں
بِلا عُنوان افسانہ کہے گا تم بھی سُن لینا
خِرد کی بات دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا
رموزِ عشق دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا
وہ کعبہ کو صنم خانہ کہے گا تم بھی سن لینا
دلِ غم آشنا جب تنگ آ کر زندگانی سے
شبِ فُرقت کا افسانہ کہے گا تم بھی سن لینا
فلمی گیت
تم نے پکارا اور ہم چلے آئے
دل ہتھیلی پر لے آئے رے
تم نے پکارا اور ہم چلے آئے
جان ہتھیلی پر لے آئے رے
تم نے پکارا ۔۔۔۔
یہ دن تو جاگتی راتوں کے دن ہیں
ادھوری سی ملاقاتوں کے دن ہیں
مجھے معلوم ہے جھُوٹی ہیں پھر بھی
یہ تیری دلنشیں باتوں کے دن ہیں
میں خُود شرما رہی ہوں سوچ کر بھی
یہ کیسی ان کہی باتوں کے دن ہیں
خُود کو دے کر سزا بھی دیکھیں گے
تُجھ سے ہو کر جُدا بھی دیکھیں گے
کیسے کرتے ہیں ہم سے صَرفِ نظر
ان کی ہم یہ ادا بھی دیکھیں گے
اب کے ساون کی سُرمئی رُت میں
جُگنوؤں کی ضیا بھی دیکھیں گے
زباں دراز سے حُسنِ کلام کرتے ہوئے
میں تھک گیا ہوں اسے رام رام کرتے ہوئے
وہ کر رہا ہے غلط، عِلم اس کو بھی ہے یہ
وہ رو رہا ہے مجھے اِنہدام کرتے ہوئے
ہُوا تھا حُکم؛ بُجھا دو ابھی چراغوں کو
کہ کوئی دیکھ نہ لے ٭انہزام کرتے ہوئے