Friday, 31 July 2026

سچ یہ ہے کہ آپ کہیں بھی رہتے ہوں

 ندی


سچ یہ ہے

کہ آپ کہیں بھی رہتے ہوں

یہاں تک کہ سال کے سخت ترین دنوں میں

ندی جو اس وقت نہیں ہے آپ کے گھر میں

لیکن کہیں نہ کہیں ضرور ہو گی

کسی چٹائی میں

ہم خدا کہتے ہیں سب جس کو صنم کہتے ہیں

  ہم خدا کہتے ہیں سب جس کو صنم کہتے ہیں

تم نہ کہنا اسے اللہ جو ہم کہتے ہیں

رنج کہتے ہیں کسے کس کو الم کہتے ہیں

ہم تو اس کو بھی تِرا فضل و کرم کہتے ہیں

پڑ کے بیمار عیادت کو بلایا تجھ کو

دیکھ او رشک مسیحا اسے دم کہتے ہیں

خود سے بھی بات کرنے کی مہلت نہیں مجھے

 یہ جھوٹ ہے کہ تم سے محبت نہیں مجھے

لیکن غمِ معاش سے فرصت نہیں مجھے

میں ہوں مشینی دور کا مصروف آدمی

خود سے بھی بات کرنے کی مہلت نہیں مجھے

یہ زندگی ہے صبح کے اخبار کی طرح

دن بھر کے بعد جس کی ضرورت نہیں مجھے

خدا کے حکم سے مٹی کے پیکر بول اٹھے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خدا کے حکم سے مٹی کے پیکر بول اٹھے ہیں

نبیﷺ کے لمس سے بے جان پتھر بول اٹھے ہیں

ہے ان کی رحمۃ اللعالمینی کا یقیں شاید

کہ مداحِ رُسل کافر بھی اکثر بول اٹھے ہیں

محمد مصطفیٰﷺ ہیں خود ہمارے رہنما، ربی

خدا کے سامنے سارے پیمبر بول اٹھے ہیں

میرا مزاج دعاؤں جیس

 میرا مزاج دعاؤں جیسا

وہ شخص پتھر کے خداؤں جیسا

مرادیں کیسے بر آتی

وہ غرو پرور اناؤں جیسا

میں ہوں وہ ساون 

جو جم کے برسے

یہ توبہ کا میری گھٹا بن کے چھانا

 یہ توبہ کا میری گھٹا بن کے چھانا

چھلکتا برستا ہوا جام 🍷 لانا

یہ وقتِ قبولِ دُعائے سحر ہے

ذرا بچ کے ہاتھوں سے دامن بچانا

غرورِ تغافل کے انداز والے

تِرا امتحاں ہے مِرا آزمانا

Thursday, 30 July 2026

ہو گئی جو خطا خدا بخشے

 ہو گئی جو خطا خُدا بخشے

کر رہا ہوں دعا خدا بخشے

جس نے کی بے رُخی خدا پوچھے

کر گیا جو وفا خدا بخشے

وہ نہیں بخشے جو منافق تھے

جن میں تھی کچھ حیا خدا بخشے