کہاں دنیا سے لڑنا ہے کہاں خود سے بغاوت ہے
اسے سمجھا رہا ہوں جو محبت کی روایت ہے
ہزاروں دکھ اٹھاتا ہوں، ہزاروں زخم کھاتا ہوں
مگر جاتی نہیں یہ مسکرانے کی جو عادت ہے
جہاں پر جب بھی جی چاہے زمیں پر بیٹھ جاتا ہوں
کہ میرے جسم کی مٹی کو مٹی سے محبت ہے
کہاں دنیا سے لڑنا ہے کہاں خود سے بغاوت ہے
اسے سمجھا رہا ہوں جو محبت کی روایت ہے
ہزاروں دکھ اٹھاتا ہوں، ہزاروں زخم کھاتا ہوں
مگر جاتی نہیں یہ مسکرانے کی جو عادت ہے
جہاں پر جب بھی جی چاہے زمیں پر بیٹھ جاتا ہوں
کہ میرے جسم کی مٹی کو مٹی سے محبت ہے
عادت کی تحویل میں کوئی کتنا پاگل ہو جاتا ہے
مجھ سے فون پکڑتے ہی وہ نمبر ڈائل ہو جاتا ہے
جتنی منت میں نے کی ہے تم سے ہجرت کرنے کی
اتنی دیر میں میرے ہمدم پیڑ بھی قائل ہو جاتا ہے
عورت پیار میں شاید مرد سے بڑھ کر اندھی ہوتی ہے
ورنہ اس کی نظروں سے تو پتھر گھائل ہو جاتا ہے
درد کی جب انتہا ہو جائے گی
انتہا خود ہی دوا ہو جائے گی
رابطہ رکھیے غموں سے خود بخود
زندگی غم آشنا ہو جائے گی
کر نہ اے دل شکوۂ جور و جفا
ورنہ توہین وفا ہو جائے گی
قصہ ان دنوں کا ہے جب ہمیں محبت تھی
خواب اک معمہ تھا نیند اک اذیت تھی
کیا عجیب رشتہ تھا آگ اور پانی کا
میں برستا بادل تھا اور وہ قیامت تھی
ہم کہ ایک دوجے پر اس طرح سے لازم تھے
مجھ کو اس کا نشہ تھا اس کو میری عادت تھی
زعفرانی غزل
یارو بتاؤ تم کو میں کیا کیا دبئی میں ہے
سارے زمانے بھرکا تماشہ دبئی میں ہے
شلوار پر بھی اس نے کندورہ چڑھا لیا
آدھا ہے اپنے ملک میں آدھا دبئی میں ہے
کل مرکز الغریر میں لڑنے لگے رقیب
لڑکی ہے لالو کھیت میں پھڈا دبئی میں ہے
اگر عِزت مِلے تو سر تکبّر سے اُٹھانا مت
کسی کی خاک کو تم اپنے پیروں سے اُڑانا مت
یہ نفرت بھی محبت کا پُرانا رُوپ لگتی ہے
محبت رُوپ بدلے تو کبھی دھوکے میں آنا مت
اگر یہ بن گیا تو پھر تمہیں ہی بانٹ کھائے گا
جو دریا عشق کا ہے اس پہ کوئی گھر بنانا مت
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مدینہ کے جس شام و سحر کی بات کرتے ہیں
باالفاظ دگر خلد نظر کی بات کرتے ہیں
ستاروں کی نہ ہم حُسنِ قمر کی بات کرتے ہیں
جمال حضرت خیرالبشرﷺ کی بات کرتے ہیں
مبارک ذکر جنت آپ کو اے حضرتِ واعظ
ہم اپنے جذبِ دل ذوقِ نظر کی بات کرتے ہیں