اک چھوٹا سا یاد نگر ہے
اور یادوں میں اس کا گھر ہے
میں تو مر جانے والا ہوں
مرنے والوں سے کیا ڈر ہے
بیٹھے بیٹھے دن گزرا ہے
کیسا اب درپیش سفر ہے
اک چھوٹا سا یاد نگر ہے
اور یادوں میں اس کا گھر ہے
میں تو مر جانے والا ہوں
مرنے والوں سے کیا ڈر ہے
بیٹھے بیٹھے دن گزرا ہے
کیسا اب درپیش سفر ہے
کوشش امتزاج کرتا ہوں
حسن کو ہم مزاج کرتا ہوں
میری مشکل کو کوئی کیا سمجھے
کس طرح کل کو آج کرتا ہوں
میں سمجھتا ہوں بے دلی اپنی
جس طرح کام کاج کرتا ہوں
اسرار بڑی دیر میں یہ مجھ پہ کُھلا ہے
انوار کا منبع مِرے سینے میں چُھپا ہے
کیا سوچ کے بھر آئی ہیں یہ جھیل سی آنکھیں
کیا سوچ کے دریا کے کنارے تُو کھڑا ہے
بُجھتے ہوئے اس دِیپ کا تم حوصلہ دیکھو
جو صبح تلک تیز ہواؤں سے لڑا ہے
لبوں پہ حرف سجاؤ دلوں کو وسعت دو
ہمارے حوصلۂ غم کی کوئی قیمت دو
کسی خیال کے سائے میں رک گئے ہیں لوگ
انہیں چمکتی ہوئی دھوپ کی خبر مت دو
یہ زندگی کا جہنم،۔ یہ گرم و تند ہوا
کہیں سے اس میں بھی شب بھر کی ایک جنت دو
وہ جب سے ہات مجھ سے کر گیا ہے
حسیں لوگوں سے دل بس بھر گیا ہے
یہ ظالم ظلم کرتے جا رہے ہیں
مِرے اندر کا انساں مر گیا ہے
مِرے کچھ خواب بھی وحشت بھرے تھے
نِگاہیں دیکھ کر وہ ڈر گیا ہے
اٹھتی نہیں زبان ستمگر کے رُوبرُو
بُت بن گیا ہوں اس بُتِ کافر کے روبرو
رعبِ جمالِ یار نے مبہوت کر دیا
پیکر کھڑا ہو جیسے صنم گر کے روبرو
ہم اس کے گیان دھیان میں جلووں کی آس میں
آسن جمائے بیٹھے ہیں اس گھر کے روبرو
جب سے دل میں تِرے بخشے ہوئے غم ٹھہرے ہیں
محرم اور بھی اپنے لیے ہم ٹھہرے ہیں
غم کہ ہر دور میں ٹھہرائے گئے حاصلِ زیست
اور اس دور میں ہم صاحبِ غم ٹھہرے ہیں
ہم تِری راہ میں اُٹھے ہیں بڑے عزم کے ساتھ
گردشِ دہر بھی ٹھہری ہے جو ہم ٹھہرے ہیں