غمِ دو روزہ نے آرام سے رہنے نہ دیا
مجھ کو جی بھر کے تِرا جور بھی سہنے نہ دیا
خُود نُمائی کی ہوا ایسی چلی، جس نے کہِیں
ایک بھی پردہ نشیں پردے میں رہنے نہ دیا
مُوجزن دل میں سمندر تھے، مگر اُن کے حضُور
ضبطِ کم بخت نے اک اشک بھی بہنے نہ دیا
غمِ دو روزہ نے آرام سے رہنے نہ دیا
مجھ کو جی بھر کے تِرا جور بھی سہنے نہ دیا
خُود نُمائی کی ہوا ایسی چلی، جس نے کہِیں
ایک بھی پردہ نشیں پردے میں رہنے نہ دیا
مُوجزن دل میں سمندر تھے، مگر اُن کے حضُور
ضبطِ کم بخت نے اک اشک بھی بہنے نہ دیا
خِزاں کی زد پہ تھا دُشمن کی بھی نِگاہ میں تھا
وہ سایہ دار شجر جو ہماری راہ میں تھا
زمانہ یاد بھی کرتا تو کس طرح ہم کو
ہمارا نام فقیروں میں تھا نہ شاہ میں تھا
بُلندیوں سے گِرا تو زمین بھی نہ مِلی
وجود اپنا سنبھالے ہوئے وہ چاہ میں تھا
کچھ اس مقام سے اب دل💗 کا کارواں گُزرے
یقیں کی حد سے جو گُزرے تو بے زباں گزرے
👁یہ اتفاق کہاں ہے کہ آنکھ 👁 بھر آئی
محبتوں میں کوئی کیسے بے نشاں گزرے
مُجھی سے ہو کے گُزرتی ہے راہ دُنیا کی
سو مُجھ سے ہو کے زمیں اور آسماں گزرے
تمہیں تو کچھ پتہ ہو گا تمہیں تو کچھ خبر ہو گی
بتاؤ اے شبِ ہجراں! تمہاری کب سحر ہو گی
یقیناً شہ رگِ ہستی سے بھی نزدیک تر ہو گی
بھلا کیونکر وہ چشمِ ناز ہم سے بے خبر ہو گی
وہ کب آئیں گے کب پردہ رُخِ زیبا سے اُٹھے گا
یہ شب کیا اے غمِ دوراں یونہی تنہا بسر ہو گی
اب کیسا گِلہ، اُن سے شکایت کیسی؟
لکھ دی ہے مِرے خُوں سے عبارت کیسی
ہیں رنج و غم و درد مجاور میرے
کیسا ہے کرم ان کا، عنایت کیسی
سر خم ہے یہاں صرف صداقت کی کمی ہے
یہ دَیر و حرم کیسے، عبادت کیسی
محرومیوں کا مُجھ کو جو عادی بنا دیا
میں پُوچھتا ہوں تُجھ سے دیا بھی تو کیا دیا
ہاں اے ہجوم اشک! یہ اچھا نہیں ہُوا
تُو نے ہمارے ضبط کا رُتبہ گھٹا دیا
کیسے اماں ملے گی ہمیں تیز دُھوپ سے
سُورج نے ہر درخت کا سایہ جلا دیا
بھُوکے بچوں کے نوالوں میں نظر آتی ہے
زندگی ہاتھ کے چھالوں میں نظر آتی ہے
اپنی اُنگلی سے زمانے کو نچانے والے
تیری دُنیا بھی وبالوں میں نظر آتی ہے
تیرے بارے میں جو سوچوں تو کبھی اے جاناں
تیری تمثیل غزالوں میں نظر آتی ہے