زمیں تھی تنگ کُھلا آسمان کیا رکھتے
ہم اپنے سر پہ کوئی سائبان کیا رکھتے
بہت طویل تھا انجان چاہتوں کا سفر
کہ چل رہے تھے مُسلسل تکان کیا رکھتے
جہاں بھی چھاؤں نظر آ گئی، پڑاؤ کیا
اک عُمر دشت میں گُزری مکان کیا رکھتے
زمیں تھی تنگ کُھلا آسمان کیا رکھتے
ہم اپنے سر پہ کوئی سائبان کیا رکھتے
بہت طویل تھا انجان چاہتوں کا سفر
کہ چل رہے تھے مُسلسل تکان کیا رکھتے
جہاں بھی چھاؤں نظر آ گئی، پڑاؤ کیا
اک عُمر دشت میں گُزری مکان کیا رکھتے
مُصیبت تم پر آ جائے تو رب سے گُفتگو کرنا
کوئی نُِقصان پہنچائے تو رب سے گفتگو کرنا
ہو موسم قحط سالی کا یا بن موسم کی بارش ہو
یا بادل آگ برسائے تو رب سے گفتگو کرنا
نمازوں اور تلاوت میں تمہارا دل نہ لگتا ہو
تمہیں شیطان بہکائے تو رب سے گفتگو کرنا
گرداب میں کشتی ہے اور دُور کنارا ہے
اب ڈُوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے
ہم نے بھی ہرے نازک پودوں کی طرح اکثر
ہر دور مُصیبت کا ہنس ہنس کے گُزارا ہے
دل چونک سا جاتا ہے اپنی بھی صدا سُن کر
یادوں کے جھروکوں سے تُو نے بھی پکارا ہے
چہرے
نفسیات کے ماہرِ دِیں کی جانکاری ہے
پیری اور مُریدی بھی شاعری بھی جاری ہے
چہرے پر ریاکاری، جیب تولتی آنکھیں
ہر گھڑی نصیحت کی ہاتھ میں پٹاری ہے
تول کر کریں باتیں، ناپ کر قدم رکھیں
مُسکراہٹیں عنقا، بات کاروباری ہے
ہم نے محکم جنہیں جانا وہ ستارے ٹُوٹے
موج ساحل سے جو گُزری تو کنارے ٹوٹے
اہل دل سوچ رہے ہیں یہ بڑے کرب کے ساتھ
ہم ہی زنجیر ہوئے، دل بھی ہمارے ٹوٹے
آج ہر ذہن میں روشن میں تفکّر کے چراغ
دل وہ شعلہ ہے کہ جس سے یہ شرارے ٹوٹے
ہے دُھوپ چھاؤں کی مانند زندگی میری
ثبات غم کو نہیں عارضی خُوشی میری
اسی کو اب مِری ہر بات زہر لگتی ہے
کبھی پسند نہ تھی جس کو خامشی میری
تِری نظر کا سہارا بڑا سہارا تھا
جہاں میں کر نہ سکا کوئی ہمسری میری
بھُوک سے بچے بِلکتے ہیں نہ جانے کتنے
اور پانی میں بہا دیتے ہیں دانے کتنے
اک تمنّا کا ہوا خُون تو کیا غم اے دوست
دفن ہیں سینے میں ارمان نہ جانے کتنے
کبھی اوروں کی کبھی اپنی حماقت کے طُفیل
ہاتھ آتے رہے ہنسنے کے بہانے کتنے