Monday, 5 October 2026

سوختہ کشتی کا ملبہ میں مرا دل اور شام

 سوختہ کشتی کا ملبہ میں مرا دل اور شام

غمزدہ اترے ہوئے دریا کا ساحل اور شام

رات کے اک پیشرس تارے کی دھڑکن تیز تیز

آنکھ میں سہمے ہوئے خوابوں کی جھلمل اور شام

خستگی سے چُور پاؤں حسرتِ واماندگی

کہر میں ڈُوبی ہوئی موہوم منزل اور شام

ہماری زیست میں کچھ ایسے مہ و شاں گزرے

 ہماری زیست میں کچھ ایسے مہ و شاں گزرے

زمیں پہ جیسے ستاروں کے کارواں گزرے

متاع زیست سمجھ کر اسے سمیٹ لیا

تِرے لیے جو ستم ہائے آسماں گزرے

خود اپنے حال پہ آنکھوں میں آ گئے آنسو

تِرے خیال میں کیا کیا نہیں گُماں گزرے

آوازوں کے بلوے سے جب ننگے سر خاموشی گزری

 آوازوں کے بلوے سے جب ننگے سر خاموشی گزری

خاک اڑاتی ساتھ میں زندہ غیرت کی اک لاش بھی گزری

 کوچہ بہ کوچہ قریہ بہ قریہ پشتِ خمیدہ سے جکڑی

طوق و سلاسل کے ہمراہ زنجیر بھی شور مچاتی گزری

لاکھوں تماشائی آنکھوں کے بیچ جھکا کر اپنا سر

بے مقنع تصویر حیا کی آنکھ سے خون بہاتی گزری 

گردن سے جدا کر دو لو حاضر ہے مرا سر

 گردن سے جدا کر دو، لو حاضر ہے مِرا سر

میں کہہ نہیں سکتا کبھی قطرے کو سمندر

ہے جام سخن اصل میں آگاہی کا ساغر

کہتے ہیں جسے شاعری حکمت ہے سراسر

زردار! اگر تجھ کو خوشی چاہیے سچی

محتاج کی، مفلس کی، غریبوں کی مدد کر

تری اک چشم رحمت سے ترا بیمار بہتر ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تِری اِک چشمِ رحمت سے تِرا بیمار بہتر ہے

ہزاروں طِبی نسخوں سے نگاہِ یار بہتر ہے

جگہ مِل جائے گر پاپوش گاهِ یار میں مجھ کو

خوشا یہ مسندِ طاؤس سے صد بار بہتر ہے

شہنشاہی سے بڑھ کر ہے تِری پاپوش برداری

سکندر سے تِرا اِک خادمِ دربار بہتر ہے

Sunday, 4 October 2026

کہ میں سادہ سی لڑکی تھی

 جوانی کتنی چھوٹی ہے


کہ میں سادہ سی لڑکی تھی

نہ بنتی تھی سنورتی تھی

مِرا بس دوش اتنا ہے

کہ میں خوابوں پہ مرتی تھی

نہ اشکوں سے مراسم تھے

میں ہر حالت پہ ہسنتی تھی

لاکھ میں نے تجھے چھپانا ہے

 لاکھ میں نے تجھے چھپانا ہے

تیری خوشبو نے پھیل جانا ہے

ہم کو سچ بولنے کی عادت ہے

ہم نے نقصان تو اٹھانا ہے

ہم سلامت رہیں گے باہر سے

ہم نے اندر سے ٹوٹ جانا ہے