Tuesday, 15 September 2026

جنت نظیر شہر پر کس کی نظر لگی

 جنت نظیر شہر پر کس کی نظر لگی

سن کر تمہارا نام میرے دل میں تھی خوشی

گلگت میرے حسین شہر! تجھ پہ ہو سلام

لکھتا رہا ہوں تجھ پر میں نوحہ کبھی کبھی

ناحق لہو بہا ہے جس سے دوستو

رزقِ حلال، امن و اماں بھی چلی گئی

Monday, 14 September 2026

جو ترے در پہ دوانے سے آئے بیٹھے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جو تِرے در پہ، دِوانے سے آئے بیٹھے ہیں

وہ اپنی لو بھی تجھی سے لگائے بیٹھے ہیں

فقط حضورﷺ کا اُسوہ ہے جن کے پیش نظر

جبینیں اپنی ادب سے جھکائے بیٹھے ہیں

طلب سے بڑھ کے ملی ان کو ہے پذیرائی

ردائیں اوڑھ کے جو منہ چھپائے بیٹھے ہیں

پوچھتی ہے زندگی وقت کی قیمت کیا ہے

 وقت کی قیمت کیا ہے


کیوں چہرہ دیکھتے ہیں لوگ

ہزاروں میں پہچانتے ہیں لوگ

چھپتا ہے دل ہر کس و ناکس سے

کہتے ہیں روشنی میں آ

کہا ہوا سنا

سنائیں کس طرح

Sunday, 13 September 2026

نوحہ میرے کتے مجھ سے بہتر جینے والے

 نوحہ


میرے کتے

مجھ سے بہتر جینے والے

آج تو میری خاطر بھونک

میرے حال پہ نوحہ کہہ

جو دھرتی افلاک ہلا دے

جس پر میں تقسیم ہوا ہوں

تھکن سے چور بے کنار سو گئی

 تھکن سے چُور بے کنار سو گئی

ندی کی نیند بستیاں ڈبو گئی

اگر یہ آنکھیں بُجھ نہیں گئی تو پھر

یہ رات بے چراغ کیسے ہو گئی

لِپٹ گئی ہے بازاؤں سے بیل سی

وہ قینچی جو ہاتھ میں تھی کھو گئی

جھک گیا پائے جاناں پہ سر ہی تو ہے

 جھک گیا پائے جاناں پہ سر ہی تو ہے

کھو گئی بجلیوں میں نظر ہی تو ہے

یہ جہاں پتھروں کا نگر ہی تو ہے

سانس لینا یہاں اک ہنر ہی تو ہے

چین سے رہنے دیتا نہیں ایک جا

یہ ہمارا جنون سفر ہی تو ہے

اب کسی پار اتر جانے کو جی چاہتا ہے

 اب کسی پار اُتر جانے کو جی چاہتا ہے

زندگی یوں ہے کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

شوق کے ساتھ ہوا کھانے میں اک عُمر کٹی

اب جو سچ پوچھو تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

کشتئ جاں سے اُترنا ہی پڑے گا اک دن

بس اسی خوف سے ڈر جانے کو جی چاہتا ہے