Wednesday, 30 September 2026

اس کی جو ہمہ وقت ضرورت نہیں ہوتی

 اس کی جو ہمہ وقت ضرورت نہیں ہوتی

سو ہم سے غمِ یار کی عزت نہیں ہوتی

لاحق ہو جنہیں اپنوں سے ہی جان کا خطرہ

ان کے لیے کوئی صبر کی آیت نہیں ہوتی

ماں باپ کو یہ کہہ کے نکالا گیا گھر سے

اب ہم سے مزید آپ کی خدمت نہیں ہوتی

بڑھ چلا عشق تو دل چھوڑ کے دنیا اٹھا

 بڑھ چلا عشق تو دل چھوڑ کے دنیا اٹھا 

خود بخود جوش مے ناب سے شیشہ اٹھا

دست نازک سے زر گل کا بھی اٹھنا ہے محال 

یہ تو فرمائیے کس وجہ سے توڑا اٹھا

جب پکارے لب جاں بخش سے وہ مر گئے ہم 

نا توانوں سے نہ بار دم عیسیٰ اٹھا

آپ کہتے ہیں تو ہم ترک وفا کرتے ہیں

 آپ کہتے ہیں تو ہم ترک وفا کرتے ہیں

آپ کے حکم پہ خود پر بھی جفا کرتے ہیں

آپ کا ساتھ نباہا تھا خوشی میں، غم میں

آپ کی یاد بھی اب دل سے جدا کرتے ہیں

وصل میں آپ کے تو آدمی بھی نہ بن سکے

آپ سے ہو کے جدا خود کو خدا کرتے ہیں

سبق بس کھیلنے کھانے کا جس کو یاد ہوتا ہے

 سبق بس کھیلنے کھانے کا جس کو یاد ہوتا ہے

بڑا ہو کر وہ لڑکا ایک دن استاد ہوتا ہے

نہ آئے ماسٹر جس دن پڑھانے میرے درجے میں

ذرا سی دیر کو اس دن میرا دل شاد ہوتا ہے

جو مولیٰ بخش سے وہ پیٹتے ہیں مجھ کو مکتب میں

کوئی سمجھائے ان کو وقت بھی برباد ہوتا ہے

مدت سے جسم برف میں جکڑا ہوا سا ہے

مدت سے جسم برف میں جکڑا ہوا سا ہے

ماحول میرے سینے میں بیٹھا ہوا سا ہے

کہرے میں آنکھ پھوٹ گئی تب خبر ملی

سورج مری تلاش میں نکلا ہوا سا ہے

ہر آنکھ مجھ پہ پڑتی ہے تلوار کی طرح

ہر شخص میرے خوں میں نہایا ہوا سا ہے

Tuesday, 29 September 2026

تو دیا میں باتی ہوں

 ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


تُو دِیا میں باتی ہوں

ساتھ نہ چھوڑوں گی

سوگندھ یہ کھاتی ہوں


سیما پیروز

عجب ماہ و سال میں پھنس گیا

 میں اور خوابوں کا اندوختہ


عجب ماہ و سال میں پھنس گیا

بکھری بکھری بے ترتیب چیزوں میں

لمحہ لمحہ بکھر گیا

بس ایک جھونکا کبھی غبار کا

اِس سمت سے اُس سمت تک

الگ کر دیتا ہے