Saturday, 10 October 2026

روز میں ٹوٹ پھوٹ جاتا ہوں

 روز میں ٹوٹ پھوٹ جاتا ہوں 

روز پھر خود کو میں بناتا ہوں 

روز میں خود سے روٹھ جاتا ہوں

اور پھر خود کو میں مناتا ہوں 

روز اک کام کرنا ہوتا ہے 

روز وہ کام بھول جاتا ہوں

آدمی کے مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

 زلف کے سنورنے میں دیر کتنی لگتی ہے 

آدمی کے مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

آنکھ سے بھلا دل کا فاصلہ ہی کتنا ہے 

سیڑھیاں اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے 

پتھروں پہ چلتا ہوں کانچ کا بدن لے کر 

کرچیاں بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے 

یہ شیر ہم پہ جھپٹتا ہے کھال نوچتا ہے

 یہ شیر ہم پہ جھپٹتا ہے، کھال نوچتا ہے 

ہمارے جسم کو تیرا خیال نوچتا ہے

کبھی سکون کی صُورت بھی خواب لگتی ہے

کہ نیند آتے ہی کوئی ملال نوچتا ہے 

یہ کس مقام پہ لے آئی زندگی ہم کو

ہمارا ظرف ہمارے سوال نوچتا ہے 

مان لیں گے وہ ہماری التجا لگتا نہیں

 مان لیں گے وہ ہماری التجا لگتا نہیں

معاف کر دیں گے ہماری ہر خطا لگتا نہیں

کہہ سکیں سچ بات کو وہ ہر بشر کے سامنے

آج کل لوگوں میں اتنا حوصلہ لگتا نہیں

صبح ہوتے ہی بدل جاتے ہیں ان کے فیصلے

دیرپا ہو گا کوئی بھی فیصلہ لگتا نہیں

لوگ پتھر کے ہیں پتھر ہی دکھائی دے گا

 لوگ پتھر کے ہیں پتھر ہی دکھائی دے گا

ہر طرف زخموں کا منظر ہی دکھائی دے گا

تشنگی آج کنارے سے گلے ملتی ہے

خواب میں اب تو سمندر ہی دکھائی دے گا

آگ نفرت کی جو سینے میں بھڑک اٹھے گی

شہر میں جلتا ہوا گھر ہی دکھائی دے گا

نظر بھر کی خطا میں عشق کر جانے کی جرأت ہے

 نظر بھر کی خطا میں عشق کر جانے کی جرأت ہے

تمہیں بس دیکھنا تھا، اب سنور جانے کی جرأت ہے

نہیں ہے فُرصتِ غم پھر تمہیں اپنا بنانے کی

مگر اب خامشی میں گُھٹ کے مر جانے کی جرأت ہے

میں اُٹھ کر آ گیا تھا جوگ میں یونہی تمہارے ہاں

میں ٹِلہ جوگیاں کا ہوں سو گھر جانے کی جرأت ہے

آنکھ سب رکھتے ہیں لیکن دیکھتا کوئی نہیں

 آہ بے تاثیر ہے نالہ رسا کوئی نہیں

درد وہ مجھ کو مِلا جس کی دوا کوئی نہیں

دیکھتا ہوں راہ میں مُڑ مُڑ کے ہر چہرے کو میں

ہمسفر کتنے ہیں لیکن ہمنوا کوئی نہیں

اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا عذابِ زندگی

آنکھ سب رکھتے ہیں لیکن دیکھتا کوئی نہیں