وقت پھیلا گیا غُبار تو پھر؟
تم بھی غم کا ہوئے شکار تو پھر
کثرتِ گُل سے شاخ ہی ٹُوٹے
بوجھ بن جائیں برگ و بار تو پھر
کیوں مسلتے ہو روندتے ہو پُھول
رُوٹھ جائے اگر بہار تو پھر
وقت پھیلا گیا غُبار تو پھر؟
تم بھی غم کا ہوئے شکار تو پھر
کثرتِ گُل سے شاخ ہی ٹُوٹے
بوجھ بن جائیں برگ و بار تو پھر
کیوں مسلتے ہو روندتے ہو پُھول
رُوٹھ جائے اگر بہار تو پھر
اپنے پندار کو کھویا نہیں جاتا مجھ سے
میں جو چاہوں بھی تو رویا نہیں جاتا مجھ سے
مبتلا ہو مرا ہمسایہ کسی غم میں اگر
جاگتا رہتا ہوں سویا نہیں جاتا مجھ سے
حادثوں میں بھی رہی ہے مرے ہونٹوں پہ ہنسی
غم کو خوشیوں میں سمویا نہیں جاتا مجھ سے
تیرا شکار تجھی پر جھپٹ بھی سکتا ہے
جو زخم کھا کے گیا ہے پلٹ بھی سکتا ہے
ابھی بساط بچھی،۔ ابھی غرور نہ کر
سنبھل کے چل کہ یہ پانسہ پلٹ بھی سکتا ہے
وہ شخص جس کا تکلم تمہیں پسند نہیں
وہ شخص سینکڑوں لہجوں میں بٹ بھی سکتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خالقِ کُل نے بھی کی ثنائے نبیﷺ
رحمتِ دو جہاں بن کے آئے نبیﷺ
آپﷺ کی زیست قرآن کی تفسیر ہے
معجزے کیوں نہ ہم کو دکھائے نبیﷺ
اپنی اپنی جگہ سب نے تعظیم دی
تھے شجر اور حجر آشنائے نبیﷺ
اگر میں کھڑا ہوتا ہوں
تو چھت سے ٹکراتا ہوں
اگر سیدھا ہوتا ہوں
تو دیوار سامنے آ جاتی ہے
کسی صورت میں نے یہاں زندگی گزاری ہے
یہیں، محدود ہو کر
چل دئیے بزم سے جانے کا اِشارہ جو ہوا
ہم سے ٹالا نہ گیا،۔ حکم تمہارا جو ہوا
تم نہ سمجھو گے جدائی کی اذیت کو ابھی
تم کو اغیار کی بانہوں کا سہارا جو ہوا
عشق میں حرفِ مُکرر کا میں قائل تو نہیں
تم ہی سے ہو گا یہ بالفرض دوبارہ جو ہوا
جینے کا مزا ہے نہ ہے مرنے میں سکوں اب
لے جائے کہاں دیکھیے صحرا کو جنوں اب
ہو جائے نہ یہ شہر بیاباں کبھی اک دن
جلوہ نہ تِرے حسن کا باقی نہ فسوں اب
شکوہ ہے غم دل کا گِلہ دہر کا تھوڑا
گزری جو شب ہجر میں کیسے نہ کہوں اب