عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کہیں پہ صدق کا چہرہ کہیں صفا کا رنگ
رواں ہے سورۂ والذکر میں ثنا کا رنگ
نہ ابتداء کی علامت نہ انتہا کا رنگ
خدا کے رنگوں میں پنہاں رہا انا کا رنگ
عجیب شہر ہے سر سبز ہے ہوا کا رنگ
گلی گلی سے عیاں حُسنِ نقشِ پا کا رنگ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کہیں پہ صدق کا چہرہ کہیں صفا کا رنگ
رواں ہے سورۂ والذکر میں ثنا کا رنگ
نہ ابتداء کی علامت نہ انتہا کا رنگ
خدا کے رنگوں میں پنہاں رہا انا کا رنگ
عجیب شہر ہے سر سبز ہے ہوا کا رنگ
گلی گلی سے عیاں حُسنِ نقشِ پا کا رنگ
مِرے اطراف یہ کیسی صدائیں رقص کرتی ہیں
کہ یوں لگتا ہے مجھ میں اپسرائیں رقص کرتی ہیں
اسی امید پر شاید کبھی خوشبو کوئی اترے
مِری یادوں کے آنگن میں ہوائیں رقص کرتی ہیں
میسر ہی نہیں آتی مجھے اک پل بھی تنہائی
کہ مجھ میں خواہشوں کی خادمائیں رقص کرتی ہیں
پھر وہی وقت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
تاج ہو تخت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
تِیرہ بختی کی کوئی حد بھی تو سکتی ہے
پھر وہ خوش بخت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
فاصلہ کم ہی سہی سرحدِ جاں تک لیکن
یہ سفر سخت ہو ایسا بھی تو سکتا ہے
تُو پرندوں سے لدی شاخ بنا لے مجھ کو
زندگی اپنی طرف اور جھکا لے مجھ کو
مانتا ہوں کے مجھے عشق نہیں ہے تجھ سے
لیکن اس وہم سے اب کون نکالے مجھ کو
ایک معصوم سی تتلی کو مسلنے والے
تُو تو دیتا تھا حدیثوں کے حوالے مجھ کو
نہ دہر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہو گی
تمہارے در پہ ادا میری بندگی ہو گی
نگاہ یار مِری سمت پھر اٹھی ہو گی
سنبھل سکوں گا نہ میں ایسی یہ بیخودی ہو گی
نگاہ پھیر کے جا تو رہا ہے تُو لیکن
تِرے بغیر بسر کیسے زندگی ہو گی
ہے کوچۂ الفت میں وحشت کی فراوانی
جب قیس کو ہوش آیا لیلٰی ہوئی دیوانی
پیش آئی وہی آخر جو کچھ کہ تھی پیش آئی
قسمت میں ازل ہی سے لکھی تھی پریشانی
دل اس کو دیا میں نے یہ کس کو دیا میں نے
غفلت سی مِری غفلت، نادانی سی نادانی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تضمین بر کلام رضا
آس دل میں ہے مِرے جلوۂ خضرائی کی
آنکھ سے حسرتیں گِرتی ہیں تمنّائی کی
میں نے غم، غم نے مِرے ساتھ شناسائی کی
’’ قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی‘‘
’’مشکل آسان الٰہی مِری تنہائی کی‘‘