Friday, 6 November 2026

یہ سیاہی نہیں مٹے گی

 مِرے لہو کے شناورو! بات یاد رکھنا

کہ بعد میرے لہو مِرے کا ہر ایک قطرہ

چراغ بن کر اندھیری راتوں کو مات دے گا

اور تم یہ بھی سوچ لینا

کہ صُبحِ صادق کی آنکھ والے

تمہارے چہرے پہ خون میرا

جرم اور بڑھتے ہیں جرم کے چھپانے سے

 بِجلیوں کو پالا ہے میں نے اک زمانے سے

روشنی نِکلتی ہے میرے آشیانے سے

جانتا ہوں اس کو میں ہے وہ مصلحت اندیش

ہاتھ تو مِلا لے گا، 💕 دل رہا ملانے سے

کس قدر یہ بہتر ہے قول اہلِ دانش کا

یہ حدیث بھی دیکھو حق ہے ہر زمانے میں

نہ دوستوں کے درمیان نہ دشمنوں کی زد میں ہوں

 نہ دوستوں کے درمیان نہ دُشمنوں کی زد میں ہوں

میں اپنے ہی سپاہیوں کی گولیوں کی زد میں ہوں

مِرے خلاف اک محاذ تو نہیں کُھلا ہُوا

میں بُزدلوں کی صف میں ہوں، مُنافقوں کی زد میں ہوں

محافظوں کے بھیس میں جو میرے آس پاس ہیں

یہ خُونخوار بھیڑیے ہیں، بھیڑیوں کی زد میں ہوں

سلگتے چیختے منظر سے کیسے دور رہوں

 سُلگتے چیختے منظر سے کیسے دُور رہُوں

رہوں الگ بھی تو اندر سے کیسے دور رہوں

فضا تو خود ہی ابھی ہے سُلگتے نیزوں پر

بتا کہ ایسے میں منظر سے کیسے دور رہوں

مجھے بنایا گیا آئینہ 𓑀 محبت 💖 سے

اب اس کے بعد بھی پتھر سے کیسے دور رہوں

Thursday, 5 November 2026

کہیں صبح و شام کے درمیاں کہیں ماہ و سال کے درمیاں

 کہیں صبح و شام کے درمیاں کہیں ماہ و سال کے درمیاں

یہ مِرے وجود کی سلطنت ہے عجب زوال کے درمیاں

ابھی صحنِ جاں میں بِچھی ہوئی جو بہار ہے اسے کیا کہوں

میں کسی عتاب کی زد میں ہوں تو کسی ملال کے درمیاں

ہیں کسی اِشارے کے مُنتظر کئی شہ سوار کھڑے ہوئے

کہ ہو گرم پھر کوئی معرکہ مِرے ضبطِ حال کے درمیاں

یہ ستم مت کیا کرو دیکھو

 یہ ستم مت کیا کرو دیکھو

حال دل سن لیا کرو دیکھو

عشق کا میں نے کب صِلہ چاہا

بے وفا مت کہا کرو دیکھو

بزم میں بے حجاب چل دینا

شرم کچھ تو کیا کرو دیکھو

غم دو روزہ نے آرام سے رہنے نہ دیا

 غمِ دو روزہ نے آرام سے رہنے نہ دیا

مُجھ کو جی بھر کے تِرا جور بھی سہنے نہ دیا

خُود نُمائی کی ہوا ایسی چلی، جس نے کہِیں

ایک بھی پردہ نشیں پردے میں رہنے نہ دیا

موجزن دل میں سمندر تھے، مگر اُن کے حضُور

ضبطِ کم بخت نے اک اشک بھی بہنے نہ دیا