جہاں میں رہتا ہوں
وہاں استنبول کے پانیوں کو چوم کر ہوائیں آتی ہیں
یونس ایمرے کی داستان محبت میں
خالدہ ادیب خانم کے رتجگوں میں گونجتی
سنگدل قدموں کی آہٹیں، اداس صفحوں کی سرسراہٹیں سناتی ہیں
گھنے جنگلوں میں بارش کی بوندیں اذیت میں سسکتی ہیں
جہاں میں رہتا ہوں
وہاں استنبول کے پانیوں کو چوم کر ہوائیں آتی ہیں
یونس ایمرے کی داستان محبت میں
خالدہ ادیب خانم کے رتجگوں میں گونجتی
سنگدل قدموں کی آہٹیں، اداس صفحوں کی سرسراہٹیں سناتی ہیں
گھنے جنگلوں میں بارش کی بوندیں اذیت میں سسکتی ہیں
تمہاری بزم میں محروم جام ہم بھی تھے
فقط رقیب نہیں تشنہ کام ہم بھی تھے
فقیہ شہر نے گمراہ کر دیا ورنہ
صفت شناس حلال و حرام ہم بھی تھے
عمامہ بند و قبا پوشگاں کا ذکر ہی کیا
ترے حضور میں با احترام ہم بھی تھے
رات بنجر ہوئی
کوئی اکھوا نہیں پھُوٹتا
رات کی زرد ٹہنی کی کمزور بانہیں کسی پھُول کی آرزو سے تہی
رات بنجر ہوئی کوکھ جیسی ہوئی، یعنی بے آرزو
کوئی ہنگامہ خیزی نہ سیلِ بلا خیز کا سامنا
ایک تیرہ شبی جس میں ذوقِ نمو کا گُزر تک نہیں
جہاں تم نے چھوڑا ہے
جاؤ
دل پہ بندش لگا سکتا ہے کون؟
جاؤ اسی کی طرف جاؤ
جس کے خوابوں آنکھیں مخمور ہیں تمہاری
جاؤ اسی کی طرف جاؤ
میں تو یہیں ہوں
کب ہوئی ہے سحر ہم نہیں جانتے
رات ہے یا سحر ہم نہیں جانتے
کیسے ہو گی بسر ہم نہیں جانتے
آپ ہیں جان اگر تو جگر ہم بھی ہیں
فرق جان و جگر ہم نہیں جانتے
غم دل کی دوا کوئی نہیں ہے
ہمیں ان سے گلہ کوئی نہیں ہے
وفا کے راستوں میں کھو گیا دل
کہاں ڈھونڈوں پتا کوئی نہیں ہے
جھکا دوں گا میں سر قدموں پہ جس کے
وہ تم ہو دوسرا کوئی نہیں ہے
اک پھول جیسی شکل نظر آ گئی کوئی
خوشبو کے ساتھ ساتھ چلی تازگی کوئی
اس شہرِ بے چراغ کی وحشت پہ کیا کہوں
اپنا بھی لگ رہا ہے مجھے اجنبی کوئی
پتھر مزاج مجھ کو دکھانے سے پیشتر
ثابت تو کر، کہ تو بھی نہیں سامری کوئی