Monday, 28 September 2026

اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سے

 اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سے

اُڑ گئے ٹُکڑے فلک کے آہ کی تاثیر سے

راز اُلفت کے عیاں ہونے کا ڈر جاتا رہا

خامشی سیکھی ہے ہم نے بُلبل تصویر سے

چھیڑتا ہے کس لیے ناصح اسیرِ زُلف کو

دم اُلجھتا ہے تِری اُلجھی ہوئی تقریر سے

مشکل تری اڑان ہے سورج نظر میں رکھ

 مُشکل تِری اُڑان ہے سُورج نظر میں رکھ

تاریک آسمان ہے سورج نظر میں رکھ

جانا ہے روشنی کی طرف لوٹ کر تجھے

دو پل کا یہ جہان ہے سورج نظر میں رکھ

بے رنگ اس کے پھُول ہیں بے نُور ہر شجر

جنگل یہ گُلستان ہے سورج نظر میں رکھ

کب تھی وہ شے بہار میں کب تھی خزاں کے پاس

 کب تھی وہ شے بہار میں کب تھی خزاں کے پاس

جو اب ہمارے دور کے ہے گُلستاں کے پاس

کتنی ہیں بستیاں جو معلّق خلا میں ہیں

کتنے جہاں، رُکے ہوئے ہیں کہکشاں کے پاس

چٹیل ہیں رہگزاروں کے سینے کُھلے ہوئے

اب خاک بھی نہیں ہے کسی کارواں کے پاس

لذت درد جگر دوست بڑھا دیتا ہے

 لذتِ دردِ جگر دوست بڑھا دیتا ہے

زخم رِستا ہے تو کچھ اور مزا دیتا ہے

میرے زخموں پہ نمک روز چھِڑک دیتا ہے

جانے کس جرم کی وہ مجھ کو سزا دیتا ہے

تلخ باتوں سے مِرے دل کو دکھاتا ہے روز

میرا ہو کے مِرے زخموں کو ہوا دیتا ہے

قرآن معجزہ ہے بشارت حدیث ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


قرآن مُعجزہ ہے، بشارت حدیث ہے

خالق کو خلق سے ہے محبت، حدیث ہے

ہمسائے کے حقوق ادا ہونے چاہئیں

دُکھ سُکھ میں ہونی چاہیے شرکت، حدیث ہے

گندم کی بالیوں میں بشارت ہے اجر کی

تقسیم ہونی چاہیے دولت، حدیث ہے

آرزو تھی کہ کبھی ان کے روبرو ہوتے

 آرزُو تھی کہ کبھی اُن کے رُوبرُو ہوتے

اک عُمر گُزرے گی تکمیلِ آرزو ہوتے

ہمارے اشکِ ندامت🥹 لہُو لہُو ہوتے

ہم بھی گُلشن میں گُلوں جیسے سرخرُو ہوتے

ان سے باتیں تو خیالوں میں ہُوا کرتی ہیں

کاش ہم خُود سے کبھی محوِ گُفتگو ہوتے

Sunday, 27 September 2026

جو کر کے رفو پیرہن ناچتے ہیں

 جو کر کے رفُو پیرہن ناچتے ہیں

چھُپانے کو دردِ کُہن ناچتے ہیں

ذرا بھی نہیں فکر سُود و زیاں کی

سرِ دار کیا بانکپن ناچتے ہیں

ہُوا تذکرہ جو تِرے گیسوؤں کا

مِرے ساتھ اہلِ سُخن ناچتے ہیں