Friday, 3 April 2026

ہمارے سر پہ ہے سایہ فگن رحمت محمد کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہمارے سر پہ ہے سایہ فگن رحمت محمدﷺ کی

ہمارے دل میں ہے جلوہ کناں صورت محمدﷺ کی

گوارا ہی نہیں عشاق کو فرقت محمدﷺ کی

رہے دونوں جہاں میں یا خدا قربت محمدﷺ کی

زہے قسمت اشارا پا کے ان کی چشم رحمت کا

غلاموں کو لبھا کر لے چلی جنت محمدﷺ کی

مری محبت کی بے خودی کو تلاش حق جلال دینا

 مِری محبت کی بے خودی کو تلاشِ حقِ جلال دینا

کبھی جو پابندۂ سِتم ہوں مجھے بھی عزمِ مقال دینا

محبتوں کی یہ شوخیاں ہیں یہ اعتمادِ وفا ہے میرا

بِگڑ کے فہرستِ عاشقاں سے کہیں نہ مجھ کو نکال دینا

رہِ محبت کی سختیوں سے جو رنگِ رُخ تھا جھلس چکا ہے

تمہاری اُلفت پہ مر رہے ہیں مِرا بھی چہرا اُجال دینا

Thursday, 2 April 2026

کبھی مکان سے باہر نکل کے دیکھ ذرا

 کبھی مکان سے باہر نکل کے دیکھ ذرا

تڑپ رہا ہے کہاں کون چل کے دیکھ ذرا

لبوں پہ کیسے مسرت کا جام چھلکے گا

خزاں رسیدہ چمن کو بدل کے دیکھ ذرا

سیاہ رنگ بتا دے گا کیسے چہرے کو

تصورات کے شعلوں میں جل کے دیکھ ذرا

تیرے مرے میان جو دیوار بھی نہیں

 تیرے مِرے میان جو دیوار بھی نہیں

دنیا میں ایسا اور کوئی معیار بھی نہیں

ہم نے ازل سے جھوٹ کو ہی جھوٹ ہے کہا

یہ کیا ہوا جو ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

جو دشت کربلا کے ستم دیکھتا نہیں

اس کی نظر میں طاقتِ دیدار بھی نہیں

رند تڑپیں گے ہر اک جام دہائی دے گا

 ساعتِ ہجر کو ارژنگ نوائی دے گا

وہ اگر ہے اسی منظر میں دکھائی دے گا

اب گلابی میں کہاں جلوۂ گلزارِ ارم

رند تڑپیں گے ہر اک جام دہائی دے گا

خلوتِ ناز سے دوری نے رکھا گرمِ سفر

مر ہی جاؤں گا اگر مجھ کو رسائی دے گا

وائرس زباں پہ یہ کسیلا پن کہاں سے آ گیا

 وائرس


ابھی ابھی تو لب ملے تھے کتنے پیارسے

زباں پہ یہ کسِیلا پن کہاں سے آ گیا

مسیحِ وقت تم بتاؤ کیا ہوا

ذرا سی دیر کے لیے پلک جھپک گئی

تو راکھ کس طرح جَھڑی

ادھورا لوٹ کے آنا پڑا مدینے سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ادھورا لوٹ کے آنا پڑا مدینے سے

نہ ساتھ آیا مِرے دل مِرا مدینے سے

وہاں قیام سخاوت کے تاجدار کا ہے

ملے گا سب کو طلب سے سوا مدینے سے

عظیم خلق پہ فائز مرے رسولِ کریمﷺ

پھر ایک بار ہو لطف و عطا مدینے سے