Monday, 25 May 2026

سیاسی نفرتوں کی زد میں آئیں گے ہمیں کب تک

 سیاسی نفرتوں کی زد میں آئیں گے ہمِیں کب تک

بھِگو کر شاہ رکھے گا لہُو میں آستِیں کب تک

کئی کنکر وفا کی جھیل میں میں پھینک آیا ہوں

اُبھر کر سطح پہ آئیں گے دیکھیں تہ نشیں کب تک

بھرم کے پاؤں کی زنجیر کو سچ توڑ ہی دے گا

کسی کے جھُوٹ پر کوئی کرے گا بھی یقیں کب تک

تو کہے تو میں تیری آنکھوں میں ڈوب جاؤں

 تو کہے تو


تُو کہے تو

میں تیری آنکھوں میں

ڈوب جاؤں صنم سدا کے لیے

تیری آنکھوں کے گہرے ساگر میں

تیرنا مجھ کو اچھا لگتا ہے

آپ مجھ سے ملے نہیں ہوتے

 آپ مجھ سے مِلے نہیں ہوتے

اتنے شاید گِلے نہیں ہوتے

بات کرنی مجھے بھی آتی ہے

ہونٹھ سب کے سِلے نہیں ہوتے

آ بھی جاؤ اُداس رہتا ہوں

اور مجھ سے گِلے نہیں ہوتے

رخ سبھی وفاؤں کا جانب اس کی موڑ دے

 رُخ سبھی وفاؤں کا جانب اس کی موڑ دے

غیر کا جو رستہ ہے اس کو آج چھوڑ دے

عشق میں انا کا پاس جو ضرور رکھنا ہے

پھر یہ تیرے بس کا کام ہے نہیں یہ چھوڑ دے

آبرو رہی تِری اور وصل بھی نصیب

ہو تِرے نصیب میں یہ اُمید توڑ دے

الفت میں اور تو کوئی چارا نہ ہو سکا

 اُلفت میں اور تو کوئی چارا نہ ہو سکا

ہم اس کے ہو گئے جو ہمارا نہ ہو سکا

جاتے ہیں لوگ کُوئے محبت میں بار بار

ہم سے تو پھر یہ عزم دوبارا نہ ہو سکا

جلوے سے پیشتر ہی کیا اس نے دل طلب

اتنا بھی اعتبار ہمارا نہ ہو سکا

Sunday, 24 May 2026

خوشی جو سایۂ غم میں رہے پھر وہ خوشی کیوں ہو

 خُوشی جو سایۂ غم میں رہے پھر وہ خُوشی کیوں ہو

گرہن جو چاند کو لگ جائے تو پھر چاندنی کیوں ہو

ادائے حُسن دلکش کو ذرا سمجھے تو یہ دُنیا

توجہ اس میں پنہاں ہے یہ ان کی بے رُخی کیوں ہو

اسے کچھ اور ہی کہیے کہ دل دُکھتا ہے یہ سُن کر

جب اس میں موت شامل ہے تو پھر یہ زندگی کیوں ہو

کوئی پہرہ لگا نہیں ہوتا

 کوئی پہرہ لگا نہیں ہوتا

میں ہی پھر بھی رہا نہیں ہوتا

خون دل کا ہوا تو یہ جانا

نقش کیوں دیر پا نہیں ہوتا

وقت کیوں ہے غبار آنکھوں میں

عکس بھی آشنا نہیں ہوتا