Saturday, 18 April 2026

یہ بہت آساں ہے سب پر تبصرا کرتے رہو

 یہ بہت آساں ہے سب پر تبصرا کرتے رہو

بات تو جب ہے کہ اپنا سامنا کرتے رہو

ہر نفس پر زندگی کا حق ادا کرتے رہو

روز مرنا ہے تو جینے کی دعا کرتے رہو

ہر قدم پر منزلیں آواز دیں گی خود تمہیں

شرط یہ ہے اپنے ہونے کا پتا کرتے رہو

ساقی کی نظر عیش گریزاں تو نہیں ہے

 ساقی کی نظر عیش گریزاں تو نہیں ہے

یہ گردشِ مے گردشِ دوراں تو نہیں ہے

گلشن میں کہیں جشنِ بہاراں تو نہیں ہے

گل چاک گریباں سہی خنداں تو نہیں ہے

اے چارہ گرو! چارہ گری کھیل نہ سمجھو

یہ چاکِ جگر، چاکِ گریباں تو نہیں ہے

تنہائی مل سکی نہ گھڑی بھر کسی کے ساتھ

 تنہائی مل سکی نہ گھڑی بھر کسی کے ساتھ

سایہ بھی میرے ساتھ رہا روشنی کے ساتھ

روشن ہوا نہ کوئی دریچہ مِرے بغیر

اک ربط خاص رکھتا ہوں میں اس گلی کے ساتھ

دو دن کی زندگی میں بھی دھڑکا تھا حشر کا

کرتے رہے گناہ مگر بے دلی کے ساتھ

حد نظر سراب ہے پانی تو ہے نہیں

 حدِ نظر سراب ہے پانی تو ہے نہیں

صحرا کی گرد ہم نے اُڑانی تو ہے نہیں

چلتا نہیں ہے اس پہ ہمارا کچھ اختیار

یہ زندگی ہے کوئی کہانی تو ہے نہیں

کیوں دیکھ بھال اِس کی کریں ہم تمام عمر

یہ زخم کوئی اس کی نشانی تو ہے نہیں

کوئی مقتول جفا ہو جیسے

 کوئی مقتول جفا ہو جیسے

یعنی تصویر وفا ہو جیسے

بارہا یوں بھی ہوا ہے محسوس

کوئی مجھ میں ہی چھپا ہو جیسے

کتنا مستغنیٔ درماں ہے یہ

درد خود اپنی دوا ہو جیسے

سر رسوا کی ہے عزت مرے سرکار کی چوکھٹ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سر رسوا کی ہے عزت مرے سرکارﷺ کی چوکھٹ

"دلِ مضطر کی ہے راحت مرے سرکار کی چوکھٹ"

اگرچہ ہے زمیں پر، اس کا ہے لیکن مقام اعلیٰ

رکھے ہے عرش کی رفعت مِرے سرکار کی چوکھٹ

اجالا فرش پر جس سے ہے طلعت عرش پر جس سے

دو عالم کی تو ہے زینت مرے سرکار کی چوکھٹ

ہمارے پیار کی یہ جگ مثال دیتا ہے

 کبھی وہ رنج کے سانچے میں ڈھال دیتا ہے

کبھی خوشی وہ مجھے بے مثال دیتا ہے

جواب سوچتی رہتی ہوں میں کئی دن تک

وہ اک سوال ہوا میں اچھال دیتا ہے

ہمارے پیار سا دنیا میں پیار سب کا ہو

ہمارے پیار کی یہ جگ مثال دیتا ہے