عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اک لطف بیکراں ہے رکوع و سجود میں
ہیں لذتیں کمال قیام و قعود میں
روحوں سے جسم تک ہے تعفّن مچا ہوا
کتنا بڑا زياں ہے محبت کے سود میں
محشور ہوں گے اپنے عمل کے سبب کئی
قوم شعیب و لوط میں، عاد و ثمود میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اک لطف بیکراں ہے رکوع و سجود میں
ہیں لذتیں کمال قیام و قعود میں
روحوں سے جسم تک ہے تعفّن مچا ہوا
کتنا بڑا زياں ہے محبت کے سود میں
محشور ہوں گے اپنے عمل کے سبب کئی
قوم شعیب و لوط میں، عاد و ثمود میں
چاند اپنی وسعتوں میں گم شدہ رہ جائے گا
ہم نہ ہوں گے تو کہاں کوئی دیا رہ جائے گا
رفتہ رفتہ ذہن کے سب قمقمے بجھ جائیں گے
اور اک اندھے نگر کا راستہ رہ جائے گا
تتلیوں کے ساتھ ہی پاگل ہوا کھو جائے گی
پتیوں کی اوٹ میں کوئی چھپا رہ جائے گا
دستِ قاتل جب ہوا موزوں نگینے کے لیے
دُھول بھی رکھی گئی پھر آبگینے کے لیے
کوچۂ دیوانگی سے جب سے نکلے اہلِ دل
عشق کی ذِلّت سنبھالی خوں پسینے کے لیے
کیا مجالِ تشنگی جو آئے اپنے روبرو
غم کا ساغر ساتھ رکھا ہم نے پینے کے لیے
مجھی سے پوچھ رہا تھا مِرا پتا کوئی
بتوں کے شہر میں موجود تھا خدا کوئی
خموشیوں کی چٹانوں کو توڑنے کے لیے
کسی کے پاس نہیں تیشۂ صدا کوئی
درخت ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے تھے
مِرے جنوں کا مبارک تھا مرحلہ کوئی
گزشتہ لفظوں کے معبدوں میں قدیم لہجے پڑے ہوئے ہیں
ابھی زباں کے موہنجو داڑو میں کچھ صحیفے پڑے ہوئے ہیں
یہاں نشیب و فراز کیسا،۔ جو بھاگنا ہے تو بھاگنا ہے
ہماری قسمت ہمارے سائے ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں
خیال رستوں پہ چلتے چلتے جنازے گِرنے لگے زمیں پر
کسی نے بس اتنا کہہ دیا تھا زمیں پہ سِکّے پڑے ہوئے ہیں
جشن بپا ہے کٹیاؤں میں، اونچے ایواں کانپ رہے ہیں
مزدروں کے بگڑے تیور دیکھ کے سلطاں کانپ رہے ہیں
جاگے ہیں افلاس کے مارے، اُٹھے ہیں بے بس دکھیارے
سینوں میں طوفاں کا تلاطم، آنکھوں میں بجلی کے شرارے
چوک چوک پر گلی گلی میں سرخ پھریرے لہراتے ہیں
مظلوموں کے باغی لشکر سیل صفت اُمڈے آتے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپﷺ کا اسمِ گرامی اِس قدر اچھا لگے
باغ میں سب سے حسیں جیسے شجر اچھا لگے
عرش کی جانب سفر ہو یا مدینے کی طرف
آپﷺ کا عزمِ سفر اور ہمسفر اچھا لگے
احترام اُن کا بجا اپنی جگہ لیکن مجھے
اپنے ماں اور باپ سے اپنا عمر اچھا لگے