Thursday, 18 June 2026

میں خوش کیسے رہ سکتا ہوں

 میں خوش کیسے رہ سکتا ہوں


سب کے پاس سب کچھ ہے

سب کی مرادیں پوری ہو گئیں

سب کے خواب

تعبیر کا رس پا کر رسیلے ہو گئے

اور میں؟

درد دل کی دوا نہ ہو جائے

 درد دل کی دوا نہ ہو جائے

زندگی بے مزا نہ ہو جائے

لطف دیتی ہے کیا امید وفا

بے وفا با وفا نہ ہو جائے

کیسے بیتاب ان کو دیکھوں گا

آہ یا رب رسا نہ ہو جائے

Wednesday, 17 June 2026

پل دو پل کی جو آشنائی تھی

 پل دو پل کی جو آشنائی تھی

مجھ کو لگتا تھا کل خدائی تھی

میں نے ٹھکرا دیا تھا دنیا کو 

جب یہاں تو پلٹ کے آئی تھی

پھر کسی دوسرے کے ہو جانا 

یہ بتا مجھ میں کیا برائی تھی؟

سونپتے ہیں تجھے ہجر کے شہر کو

 سونپتے ہیں تجھے


تم اچانک گئیں

میں رہا سوچتا

کون جانے بھلا

کب یہ رستے مڑیں

ہم دوبارہ ملیں

رخ حیرانئ منظر ہی اسے یاد نہ تھا

رُخِ حیرانئ منظر ہی اُسے یاد نہ تھا

میرے آئینے کا جوہر ہی اسے یاد نہ تھا

یاد تھیں اس کو سب آرام گہیں دُنیا کی

مُجھ شبستان کا بستر ہی اسے یاد نہ تھا

میں نے دِکھلائے اسے نقش و نگارِ ہستی

اپنی معدومی کا پیکر ہی اسے یاد نہ تھا

اپنے حصار جسم سے باہر بھی دیکھتے

 اپنے حصار جسم سے باہر بھی دیکھتے

ہم آئینے کے سامنے ہو کر بھی دیکھتے

عکس فلک سے ٹوٹتا کیسے جمود آپ

پتھر گرا کے جھیل کے اندر بھی دیکھتے

کرتے پلٹ کے اپنے ہی سائے سے گفتگو

صحرا میں زرد‌‌ رنگ سمندر بھی دیکھتے

دل میں خیال کچھ ہے زباں پر ہے کچھ بیاں

 دل میں خیال کچھ ہے زباں پر ہے کچھ بیاں

کیوں کر بھلا کسی کی رذالت ہو یوں عیاں

خلوت میں یوں تو ہوتے ہیں دونوں بہت قریب

لیکن حجاب رہتا ہے دونوں کے درمیاں

اسلاف جس کے سوز سے رہتے تھے مضطرب

پیدا ہمارے دل میں کہاں ہیں وہ گرمیاں