Wednesday, 12 August 2026

دل تباہی کا پتہ دیتا ہے

 دل تباہی کا پتہ دیتا ہے

کوئی شعلوں کو ہوا دیتا ہے

جب حسیں خواب میسر آئے

کوئی زنجیر ہِلا دیتا ہے

کوئی پلکوں سے اُٹھاتا ہے مجھے

کوئی نظروں سے گِرا دیتا ہے

تیرا غم بھی میرے ہی غم جیسا ہے

 تیرا غم بھی میرے ہی غم جیسا ہے

لگتا اب تُو بھی خُوش اچھا خاصا ہے

تُو ہے جفا کا اور وفا کا میں قائل

تیرا اپنا، میرا اپنا رستہ ہے

لوگ اس کو پتھر مارنے لگتے ہیں

پھل سے جب بھی کوئی شجر بھر جاتا ہے

فصل بہار ہو چکی پھول کوئی کھلا نہیں

 فصلِ بہار ہو چکی، پھُول کوئی کِھلا نہیں

میں ہی خِزاں نصیب تھا، تجھ سے کوئی گِلہ نہیں

کچھ تو بہ پاسِ دوستی، ضبطِ خُوشی کی جہد کر

بار پہ میری ہنس مگر، ایسے تو کِھلکھلا نہیں

ہم نے یہ سوچ کر کِیا فرضِ نیاز سے گریز

ترک پر کیوں عتاب ہو، کرنے پہ جب صِلہ نہیں

ہوا کے دوش پہ کس کے پیام آتے ہیں

 ہوا کے دوش پہ کس کے پیام آتے ہیں

ہمارے گھر کے در و بام مہک جاتے ہیں

میں سُوکھی ڈال ہوں لیکن تمہاری یادوں کے

پرندے آ کے سرِ شام بیٹھ جاتے ہیں

ہماری آنکھوں میں یوں انتظار روشن ہے

ندی میں جیسے کئی دِیپ جِھلملاتے ہیں

کیا کبھی بھی یہاں نہ ہو گی سحر

 درد بے درماں


اپنے خوابوں کی راکھ پر بیٹھے

عمر ہی رائیگاں گُزرنے پر

اک تہی دست ہجومِ دل زدگاں

سوچتا ہے مآل رنجِ سفر


مالکِ دو جہاں! شہِ شاہاں

کب تلک تیرگی رہے گی یہاں؟

Tuesday, 11 August 2026

عشق جائی کہاں سے آئی ہے

 عشق جائی کہاں سے آئی ہے

یہ جُدائی کہاں سے آئی ہے

جب گئی تھی جوان لڑکی تھی

بوڑھی مائی کہاں سے آئی ہے

میں نکمّا ہوں مانتا بھی ہوں

کامیابی کہاں سے آئی ہے

صدائے آفریں اٹھی تھی جست ایسی تھی

 صدائے آفریں اُٹھی تھی جست ایسی تھی

خبر نہ تھی کہ مقدر شکست ایسی تھی

نظر ہٹا نہ سکا رائے کس طرح لیتا

وہ سب کو دیکھ رہا تھا نشست ایسی تھی

اسے خیال یہ گُزرا کہ گر گئی دِیوار

دلِ حزیں کی صدائے شکست ایسی تھی