لاعنوان
وہ ان گنت خط
جو کتنی ہی زندگیوں میں
میں نے تمہیں لکھے تھے
اور تم نے ہر ایک خط
مسکراتے ہنستے روتے
کئی کئی بار پڑھا
لاعنوان
وہ ان گنت خط
جو کتنی ہی زندگیوں میں
میں نے تمہیں لکھے تھے
اور تم نے ہر ایک خط
مسکراتے ہنستے روتے
کئی کئی بار پڑھا
اب یہاں زیست کے آثار نہیں دیکھو گے
تم مِرے شہر میں دِیوار نہیں دیکھو گے
حالتِ جنگ میں بیٹھا ہوں قلمدان لیے
اب مِرے ہاتھ میں تلوار نہیں دیکھو گے
جن درختوں کی طبیعت میں ذرا خم نہ ہو
اُن درختوں کو ثمر بار نہیں دیکھو گے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مرحبا صل علیٰ فخر امم وہ شاہ دیںﷺ
جن کے در کی خاک سے روشن ہے عالم کی جبیں
اے خوشا شمس الضحیٰ بدرالدجیٰ صدر العلیٰ
حضرت آدم کی پیشانی کے نور اولیں
دی شب معراج وہ رفعت انہیں اللہ نے
آپ کے قدموں کے نیچے آ گیا عرش بریں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے خُدا! دل کا حال کس سے کہوں
شرحِ رنج و ملال کس سے کہوں
لُطف و اخلاص و مہر و اُلفت کا
ہے زمانہ میں کال کس سے کہوں
اپنے لُطف و کرم سے بارِ الٰہ
دُور کر یہ وبال کس سے کہوں
پتلۂ خاک میں ہے بھید چھپا کیا کہیے
کھول دیں پھر تو ہو اک شور بپا کیا کہیے
ہم ہوں معدوم جہاں آپ ہوں ممکن ہی نہیں
کب ضیا شمس سے ہوتی ہے جدا کیا کہیے
تم کو ہی چھوڑ دیں یا خود کو ہی ہم کھو بیٹھیں
اتنی ہی بات میں ملتا ہے پتا کیا کہیے
نظر نیچی قدم دھیمے کلام آہستہ آہستہ
سلیقہ سیکھ لیتے ہیں غلام آہستہ آہستہ
ہماری جلد بازی نے ہمیں بہکا دیا ورنہ
ہمارے ساتھ چلتی خوش خرام آہستہ آہستہ
ابھی بیکار بیٹھا سب کے قصے سنتا رہتا ہوں
مِری مرضی کا مل جائے گا کام آہستہ آہستہ
بسی خیال میں اب تیری جلوہ گاہ تو ہے
بلا سے آنکھ نہیں ہے مگر نگاہ تو ہے
ہزار شکر عنایت کی اک نگاہ تو ہے
جو روز روز نہیں اب وہ گاہ گاہ تو ہے
حریمِ کعبہ کو گر میں پہونچ سکتا
مگر بُتوں ہی سے اک گونہ رسم و راہ تو ہے