Thursday, 7 May 2026

ہجر کی نار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

 عشق بہار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

ہجر کی نار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

اک تیری تصویر لگائی ہے گھر میں

اب دیوار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

اس کے سارے مہرے بھی تو میرے تھے

مجھ کو ہار بھی اپنی اپنی لگتی ہے

Wednesday, 6 May 2026

رہزن نے کارواں کو قسطوں میں کر کے لوٹا

وہ اک قدم پہ چھوٹا یہ دو قدم پہ چھوٹا

رہزن نے کارواں کو قسطوں میں کر کے لوٹا

کتنا اداس ہو کر بیٹھا ہوا ہے کوئی

اتنی تو بات طے ہے ساتھی کسی کا چھوٹا

تڑپی ہے آسماں پر جو اس طرح سے بجلی

لگتا ہے اس جہاں میں پھر دل کسی کا ٹوٹا

عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تک

 عقل پہنچی جو روایات کے کاشانے تک

ایک ہی رسم ملی کعبہ سے بُت خانے تک

وادئ شب میں اُجالوں کا گزر ہو کیسے

دل جلائے رہو پیغامِ سحر آنے تک

یہ بھی دیکھا ہے کہ ساقی سے ملا جام مگر

ہونٹ ترسے ہوئے پہنچے نہیں پیمانے تک

اے گنبد خضرا ہے تری یاد بھی کیا یاد

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے گُنبدِ خضرا ہے تِری یاد بھی کیا یاد

جب یاد تِری آئی تو کچھ بھی نہ رہا یاد

سب کھنچ کے سِمٹ جائیں گے دامانِ نبیؐ میں

آقاﷺ کے غلاموں کو ہے آقاﷺ کا پتا یاد

تُو چاہے تو بخشش کے لیے یہ بھی بہت ہے

دل میں تِری پیارے کی ہے اے میرے خدا یاد

دل میں چھپائی دوسری عورت

 نظم "دل میں چُھپائی دوسری عورت" سے اقتباس


عورت ظالم ہے

وہ ظلم کرتی ہے خود کے ساتھ

بظاہر انجان لیکن

غم کا پہاڑا یاد کرتے کرتے ہر روز سسکتی ہے

اور تمام عمر نہیں بھول پاتی

خط کی ترجمانی ہے یہ غزل سناؤں گا

 خط کی ترجمانی ہے، یہ غزل سناؤں گا

آخری نشانی ہے، یہ غزل سناؤں گا

شاعروں نے بولا ہے، تازگی اذیت ہے

یہ غزل پرانی ہے، یہ غزل سناؤں گا

کیوں تمہارے کہنے پر وہ غزل سناؤں میں

تم نے میری مانی ہے، یہ غزل سناؤں گا

سر سے دوپٹے اٹھائے اور گلے میں ڈال کر

باپ کی نصیحت


 سر سے دوپٹے اُٹھائے اور گلے میں ڈال کر

باپ کی پگڑی گرانے کو چلی ہیں بیٹیاں

محرم و نامحرمی کی بندشیں سب توڑ کر

اجنبی محفل سجانے کو چلی ہیں بیٹیاں

عصمتیں لٹ جائیں گی پھر روئیں گی چلائیں گی

ہاتھ کچھ نہ آئے گا پھر وہ فقط پچھتائیں گی