جنت نظیر شہر پر کس کی نظر لگی
سن کر تمہارا نام میرے دل میں تھی خوشی
گلگت میرے حسین شہر! تجھ پہ ہو سلام
لکھتا رہا ہوں تجھ پر میں نوحہ کبھی کبھی
ناحق لہو بہا ہے جس سے دوستو
رزقِ حلال، امن و اماں بھی چلی گئی
جنت نظیر شہر پر کس کی نظر لگی
سن کر تمہارا نام میرے دل میں تھی خوشی
گلگت میرے حسین شہر! تجھ پہ ہو سلام
لکھتا رہا ہوں تجھ پر میں نوحہ کبھی کبھی
ناحق لہو بہا ہے جس سے دوستو
رزقِ حلال، امن و اماں بھی چلی گئی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو تِرے در پہ، دِوانے سے آئے بیٹھے ہیں
وہ اپنی لو بھی تجھی سے لگائے بیٹھے ہیں
فقط حضورﷺ کا اُسوہ ہے جن کے پیش نظر
جبینیں اپنی ادب سے جھکائے بیٹھے ہیں
طلب سے بڑھ کے ملی ان کو ہے پذیرائی
ردائیں اوڑھ کے جو منہ چھپائے بیٹھے ہیں
وقت کی قیمت کیا ہے
کیوں چہرہ دیکھتے ہیں لوگ
ہزاروں میں پہچانتے ہیں لوگ
چھپتا ہے دل ہر کس و ناکس سے
کہتے ہیں روشنی میں آ
کہا ہوا سنا
سنائیں کس طرح
نوحہ
میرے کتے
مجھ سے بہتر جینے والے
آج تو میری خاطر بھونک
میرے حال پہ نوحہ کہہ
جو دھرتی افلاک ہلا دے
جس پر میں تقسیم ہوا ہوں
تھکن سے چُور بے کنار سو گئی
ندی کی نیند بستیاں ڈبو گئی
اگر یہ آنکھیں بُجھ نہیں گئی تو پھر
یہ رات بے چراغ کیسے ہو گئی
لِپٹ گئی ہے بازاؤں سے بیل سی
وہ قینچی جو ہاتھ میں تھی کھو گئی
جھک گیا پائے جاناں پہ سر ہی تو ہے
کھو گئی بجلیوں میں نظر ہی تو ہے
یہ جہاں پتھروں کا نگر ہی تو ہے
سانس لینا یہاں اک ہنر ہی تو ہے
چین سے رہنے دیتا نہیں ایک جا
یہ ہمارا جنون سفر ہی تو ہے
اب کسی پار اُتر جانے کو جی چاہتا ہے
زندگی یوں ہے کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
شوق کے ساتھ ہوا کھانے میں اک عُمر کٹی
اب جو سچ پوچھو تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے
کشتئ جاں سے اُترنا ہی پڑے گا اک دن
بس اسی خوف سے ڈر جانے کو جی چاہتا ہے