Sunday, 31 May 2026

دل کی تسکین ہے کسی آس میں تپتے رہنا

 دل کی تسکین ہے کسی آس میں تپتے رہنا

عمر بھر گھر کے ہی بَن باس میں تپتے رہنا

ابر کا ایک بھی ٹُکڑا نہ یہاں اُترے گا

گُلستاں کو ہے اسی آس میں تپتے رہنا

ہائے گُلدانوں کے ان پھُولوں کی تقدیر جنہیں

سائباں ہوتے ہوئے گھاس میں تپتے رہنا

سلوک دوست سے بیزار کیا ہوا ہوں میں

 سلوک دوست سے بیزار کیا ہُوا ہوں میں

خیال یہ ہے بُلندی سے گِر گیا ہوں میں

محبتوں کا حسیں دور آنے والا ہے

یہ رُخ بھی ان کی عداوت کا دیکھتا ہوں میں

مِرے شعور میں ماحول کی ہے بے چینی

نوائے وقت ہوں، اک درد کی صدا ہوں میں

میری چاہت دور ہو کر دیکھتے

 میری چاہت دور ہو کر دیکھتے

مجھ کو پانا تھا تو کھو کر دیکھتے

داستانِ عشق 💓 لکھنا تھا اگر

انگلیاں خوں میں ڈبو کر دیکھتے

نیند کو کیوں کہہ دیا اک مسئلہ

زلف کے سائے میں سو کر دیکھتے

Saturday, 30 May 2026

آؤ ہم تنہائی کے سمندر میں اتر جائیں

 نروان سے اقتباس


دھیان کی کیاریوں میں

سویٹ پیز کے پھول مسکرا رہے ہیں

اور شانت رو حس دھوپ کی کلیوں سے

آنکھ مچولی کھیل رہی ہیں

آؤ ہم تنہائی کے سمندر میں اتر جائیں

خوشبوؤں کی امین ہے اے دوست

 خوشبوؤں کی امین ہے اے دوست

تُو گُلِ یاسمین ہے اے دوست

پھول بن کر مہک اٹھے ہیں زخم

درد کتنا حسین ہے اے دوست

میرے لب ہیں جبینِ جاناں پر

یہ تصور کا سین ہے اے دوست

یہ سچ ہے کلمۂ حق ان کو ناگوار ہوا

 یہ  سچ ہے کلمۂ حق ان کو ناگوار ہُوا

یہ اک قصور مگر ہم سے بار بار ہوا

قصاص مانگنے نکلے تھے آج شہر کے لوگ

یہ حادثہ پسِ دیوارِ شہریار ہوا

مِرے لہو نے دیا آب و رنگ پھولوں کو

ہر ایک قطرۂ خوں قاصدِ بہار ہوا

Friday, 29 May 2026

کیوں بھٹکتی صحرا میں گھر بھی اک خرابہ تھا

کیوں بھٹکتی صحرا میں گھر بھی اک خرابہ تھا

بے نشاں اداسی کا بے اماں احاطہ تھا

جب کبھی نظر آیا خواب میں نظر آیا

وہ جہاں پہ رہتا تھا کون سا علاقہ تھا

داخلی کشاکش سے با خبر تو ہو جاتا

ذہن سوچتا کیا تھا دل کا کیا تقاضہ تھا