تب کہیں دے گا اذیت سے رہائی مجھ کو
ہجر کھا جائے گا جب ایک تہائی مجھ کو
اے خُدا مجھ کو بتا پھر میں کہاں جاؤں گا
تیری جنت بھی اگر راس نہ آئی مجھ کو
صرف اُلفت سے یہاں کام نہیں چلتا ہے
اس لیے تھوڑی لگی اپنی کمائی مجھ کو
تب کہیں دے گا اذیت سے رہائی مجھ کو
ہجر کھا جائے گا جب ایک تہائی مجھ کو
اے خُدا مجھ کو بتا پھر میں کہاں جاؤں گا
تیری جنت بھی اگر راس نہ آئی مجھ کو
صرف اُلفت سے یہاں کام نہیں چلتا ہے
اس لیے تھوڑی لگی اپنی کمائی مجھ کو
بدن ہے کانچ کانچ سا خطا کی تیز آنچ سا
پگھل رہا ہے آگ میں وجودِ عشقِ نام سے
ہوس کی اونچی شاخ پر ٹھکانہ ہے ہواؤں کا
گماں کا دیپ جل اٹھا خطوطِ حسنِ خام سے
دھنک بنی ہوئی حیا بدن کا رُوپ دھار کے
بدل رہی ہے پیرہن مقیمِ صُبح و شام سے
بس ہم نے ساتھ تِرا ہر دُعا میں مانگا ہے
کہ اپنی جاں سے زیادہ تُجھی کو چاہا ہے
زمانے بھر کے بہت لوگ تم نے دیکھے ہیں
ہمارے جیسا کہیں کوئی تم نے دیکھا ہے
اندھیری رات کے اے چاند تُو بتا مجھ کو
مِری طرح وہ کبھی تیرے ساتھ جاگا ہے
محوِ فریاد ہو گیا ہے دل
آہ، برباد ہو گیا ہے دل
سینہ کاری میں اپنے ناخن سے
رشکِ فرہاد ہو گیا ہے دل
دیکھتے دیکھتے ستم تیرا
سخت ناشاد ہو گیا ہے دل
عشق کی عمر جب اچھال کی تھی
کیوں تمنا تجھے زوال کی تھی
دو ٹکا تھا مِرے جواب کا مول
دُھوم ہر سو تِرے سوال کی تھی
دل جو ٹُوٹا تو یاد آیا ہمیں
چیز یہ کتنے دیکھ بھال کی تھی
جی رہا ہوں گو کہ جینے کا مزا باقی نہیں
جل رہی شمعِ ہستی اور ضیا باقی نہیں
گوشہ گوشہ جنتِ ارضی کا حبس آلود ہے
سانس کُھل کر لے سکیں اب وہ فضا باقی نہیں
ساتھ اُڑا کر لے گئیں اپنے ہوس کی آندھیاں
نقشِ پا کوئی سرِ دشتِ وفا باقی نہیں
دیکھ لڑکی تِری چاہتیں جُرم ہیں
تو کیا یہ سچ ہے کہ میری ہر بات خواب ہو گی
یہ میری ہستی جو اتنے طُوفان جھیلتی ہے سراب ہو گی
تو کیا یہ سچ ہے کہ ڈور سانسوں کی توڑ دو گے
زمانے والو
سُنا ہے تم مجھ کو دشتِ ویراں میں چھوڑ دو گے