Friday, 10 July 2026

دیے پلکوں کے سارے بجھ رہے ہیں

 دِیے پلکوں کے سارے بُجھ رہے ہیں

سرِ شب ہی ستارے بجھ رہے ہیں

ان آنکھوں نے جنہیں روشن کیا تھا

وہ سب منظر ہمارے بجھ رہے ہیں

بہت کم ہو چلی ہے آتشِ خاک

زمیں تیرے شرارے بجھ رہے ہیں

سائباں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے

 سائباں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے

آسماں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے

میری آنکھوں میں نمی ہے تیری آنکھوں کی طرح

کیوں جہاں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے

شہر کے پکے مکاں میں روشنی کی لہر سے

اک مکاں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے

میرا دل جلاتے ہو بارشوں کے موسم میں

 میرا دل جلاتے ہو بارشوں کے موسم میں

کتنا یاد آتے ہو بارشوں کے موسم میں

کس کی کاغذی کشتی جھیل میں ڈبوتے ہو

اب کیسے ستاتے ہو بارشوں کے موسم میں

عقل کے پُجاری تو اِک ہوا سے ڈرتے ہیں

تم دِیے جلاتے ہو بارشوں کے موسم میں

ان مست انکھڑیوں کے اشارے نہیں رہے

 ان مست انکھڑیوں کے اشارے نہیں رہے

وہ پیارے پیارے اب تو نظارے نہیں رہے

ہم ان کے ہو گئے، وہ ہمارے نہیں رہے

وہ پیارے پیارے ان کے اشارے نہیں رہے

یہ خوب ہے نصیب کہ وہ غیر کے ہوئے

تھا جن پہ ناز اب وہ ہمارے نہیں رہے

تاجدار حرم ہو نگاہ کرم ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائیں گے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تاجدارِ حرم ہو نگاہ کرم ہم غریبوں کے دن بھی سنور جائیں گے

ہادئ بیکساں کیا کہے گا جہاں آپؐ کے در سے خالی اگر جائیں گے

خوفِ طوفاں کہیں بجلیوں کا ہے غم سخت مشکل ہے آقاؐ کہاں جائیں ہم

آپؐ بھی گر نہ لیں گے ہماری خبر ہم مصیبت کے مارے کدھر جائیں گے

در پہ ساقیٔ کوثرﷺ کے پینے چلو،۔۔ مے کشو آؤ آؤ مدینے چلو

یاد رکھو اگر اُٹھ گئی وہ نظر جتنے خالی ہیں سب جام بھر جائیں گے

Thursday, 9 July 2026

کبھی ہلکا کبھی گہرا ہماری آنکھ کا کاجل

 کبھی ہلکا، کبھی گہرا ہماری آنکھ کا کاجل

ہمارے غم سے وابستہ ہماری آنکھ کا کاجل

ہمارے سُرخ ہونٹوں کے تلے ہے اک طلسمی تِل

پھر اس پر کالے جادُو سا ہماری آنکھ کا کاجل

غزل میں بات ہوتی ہے غزال آنکھوں کے سُرمے کی

کوئی پھر کیوں نہیں لِکھتا ہماری آنکھ کا کاجل

اکتا گئی ہے روح فریب حیات سے

 اُکتا گئی ہے رُوح، فریبِ حیات سے

پرواز چاہتی ہے، اب اِس کائنات سے

بے رنگ ہو چکی مِری ہر ایک آرزو

بڑھ کر ہے درد میرا سبھی معجزات سے

​بُجھنے کو ہے چراغ اُمیدوں کے شہر کا

دل کو بھی کوئی ربط نہیں واردات سے