Friday, 19 June 2026

یاروں میں اب وہ طرز وفا بھی نہیں رہا

 یاروں میں اب وہ طرز وفا بھی نہیں رہا

اب وہ شکایتوں کا مزہ بھی نہیں رہا

چہرے کا ان کے اب وہ نمک بھی پگھل گیا

موسم ہمارے دل کا ہرا بھی نہیں رہا

دل توڑتے ہیں جیسے کوئی پھول توڑ دے

پاس و لحاظ ان کو ذرا بھی نہیں رہا

Thursday, 18 June 2026

جو رضائے مصطفیٰ رب کی رضا جانے فقط

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جو رضائے مصطفیٰؐ، رب کی رضا جانے فقط

دل وہی ان کی اطاعت کا مزہ جانے فقط

ابتدا ہے نور جس کی ، نورِ اول جس کا نور

بس خدائے پاک اس کی انتہا جانے فقط

چاہے اپنا ہو پرایا ہو کوئی دشمن یا دوست

ہر کسی کو وہ سزاوارِ دعا جانے فقط

ہے راہ حق یہی یہی رستہ رسول کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہے راہِ حق یہی، یہی رستہ رسولﷺ کا

منشا ہے جو خدا کا، ہے منشا رسولﷺ کا

لازم ہے ہم پہ مِدحتِ آقائے نامدارﷺ

یہ ساری کائنات ہے صدقہ رسول ﷺ کا

دونوں جہاں میں صلِ علیٰ کی ہے باز گشت

ہوتا ہے جن و اِنس میں چرچا رسولﷺ کا

چاند دریا پار کر کے آ رہا ہے

 چاند دریا پار کر کے آ رہا ہے


آ گئی ہے رت بہار

سبز پتے سبز تتلی سبز منظر انتظار

عطر آگیں ہیں ہوائیں

پیڑ کی گردن پہ ہنستا ہے تری یادوں کا ہار

ایک سایہ پیڑ پر چڑھتا ہوا

میں خوش کیسے رہ سکتا ہوں

 میں خوش کیسے رہ سکتا ہوں


سب کے پاس سب کچھ ہے

سب کی مرادیں پوری ہو گئیں

سب کے خواب

تعبیر کا رس پا کر رسیلے ہو گئے

اور میں؟

درد دل کی دوا نہ ہو جائے

 درد دل کی دوا نہ ہو جائے

زندگی بے مزا نہ ہو جائے

لطف دیتی ہے کیا امید وفا

بے وفا با وفا نہ ہو جائے

کیسے بیتاب ان کو دیکھوں گا

آہ یا رب رسا نہ ہو جائے

Wednesday, 17 June 2026

پل دو پل کی جو آشنائی تھی

 پل دو پل کی جو آشنائی تھی

مجھ کو لگتا تھا کل خدائی تھی

میں نے ٹھکرا دیا تھا دنیا کو 

جب یہاں تو پلٹ کے آئی تھی

پھر کسی دوسرے کے ہو جانا 

یہ بتا مجھ میں کیا برائی تھی؟