مٹی لذتِ داستاں کیا بتائیں
کہاں لڑکھڑائی زباں کیا بتائیں
محبت کی راہیں، ارے توبہ توبہ
بہر گام سو امتحاں کیا بتائیں
غمِ ہجر کی تلخیوں کو نہ پوچھو
غمِ ہجر کی تلخیاں کیا بتائیں
مٹی لذتِ داستاں کیا بتائیں
کہاں لڑکھڑائی زباں کیا بتائیں
محبت کی راہیں، ارے توبہ توبہ
بہر گام سو امتحاں کیا بتائیں
غمِ ہجر کی تلخیوں کو نہ پوچھو
غمِ ہجر کی تلخیاں کیا بتائیں
زمانے میں کب ہیں محبت کی باتیں
لبوں پر نہیں ہیں یہ چاہت کی باتیں
تمہیں کچھ ضرورت نہیں بولنے کی
سنو کربلا کی مودت کی باتیں
کتابوں میں ایسی حقیقت کہاں ہے
جہاں میں ہیں رائج کدورت کی باتیں
تنہا گزارتا ہوں اپنے گھر میں روز شپ
میرے لیے مرا گھر زنداں نہیں ہوا
اے دوست اِس بےحد جدید دور میں
لٹنے کا اب ذرا سا گماں نہیں ہوا
شیخ کو دھاندلی والے شاہ کی پڑی
گاؤں میں کوئی بھی حیراں نہیں ہوا
خلش
تیری یہ بے رخی
اب نہ سہ پاؤں گی
ہے گِلہ گر کوئی
تو بتا دے ذرا
موڑ کر منہ نہ بول
بے رخی سے تِری
گو اور بھی غم شامل غم ہو کے رہیں گے
ہم فاتح ہر رنج و الم ہو کے رہیں گے
بیباکئ تحریر یہ دستورِ خدا وند
اک روز مِرے ہاتھ قلم ہو کے رہیں گے
اے مرد سخن جرم سخن خوب ہیں لیکن
یہ جرم تِرے خوں سے رقم ہو کے رہیں گے
راہ وفا میں جو بھی کوئی جانشیں بنے
تجھ سا بنے تو خیر ہے مجھ سا نہیں بنے
شاید ہمارے واسطے کوئی نہیں بنا
شاید کسی کے واسطے ہم بھی نہیں بنے
ساری زمیں کے واسطے اک آسماں بنا
سو آسماں کے واسطے ہم بھی مکیں بنے
گھماؤ وقت کا جب ٹھیک کرنے آیا تھا
میں ایک سائے پہ تحقیق کرنے آیا تھا
شعور ماپتا اک خواب میری وحشت سے
تمہارے ہجر کی تصدیق کرنے آیا تھا
بُرا بھلا نہ کہو! روشنی کے مُنکر کو
یہ کائنات کی توثیق کرنے آیا تھا