Saturday, 9 May 2026

جینے کا مزہ ہے نہ ہے مرنے میں سکوں اب

 جینے کا مزا ہے نہ ہے مرنے میں سکوں اب

لے جائے کہاں دیکھیے صحرا کو جنوں اب

ہو جائے نہ یہ شہر بیاباں کبھی اک دن

جلوہ نہ تِرے حسن کا باقی نہ فسوں اب

شکوہ ہے غم دل کا گِلہ دہر کا تھوڑا

گزری جو شب ہجر میں کیسے نہ کہوں اب

Friday, 8 May 2026

کیسی بے بس تنہائی نے گھیر لیا ہے راتوں کو

 کیسی بے بس تنہائی نے گھیر لیا ہے راتوں کو

اپنی قسمت کون کہ جس سے کہیے دل کی باتوں کو

گرتی بلڈنگ، بہتی لاشیں، اکھڑے پیڑ، پرندے بے گھر

کون ہے جو مطلوب نہیں ان شِدت کی برساتوں کو

شاید یہ اک بات ہی میرے حق میں فالِ نیک ہوئی

تجھ سے مِل کر بھُول گیا ہوں سارے رشتے ناتوں کو

سر پہ سرکار کی خاک کفِ پا رکھی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سر پہ سرکارؐ کی خاک کفِ پا رکھی ہے

ایسا لگتا ہے کہ رحمت کی ردا رکھی ہے

شرم سے میں نے نظر اپنی جُھکا رکھی

ہے سامنے ان کے مری فرد خطا رکھی ہے

تشنگی سرِ محشر کا ہمیں خوف نہیں

ہم نے لو ساقئ کوثر سے لگا رکھی ہے

خطا کو کب اہل کرم دیکھتے ہیں

 خطا کو کب اہلِ کرم دیکھتے ہیں

ہنرمند عیبوں کو کم دیکھتے ہیں

جو اہلِ ہُنر ہیں، ہنر دیکھتے ہیں

نہ دولت نہ جاہ و حشم دیکھتے ہیں

کھنچی آج تیغِ دو دم دیکھتے ہیں

ہے سر کس کا ہوتا قلم دیکھتے ہیں

شیشۂ ساعت کا غبار ہمیں شکست ہو گئی

 شیشۂ ساعت کا غبار


میں زندہ تھا

مگر میں تیرے سرخ نیلگوں، سفید بلبلے میں قید تھا

ہوا وسیع تھی، مگر حدود سے رہا نہ تھی

نہ میرے پر شکستہ تھے نہ میری سانس کم

تھا بلبلے کی کائنات میں مرا ہی دم قدم

مگر مِری اڑان سرخ نیلگوں سفید مقبرے کے

دور فضا میں ایک پرندہ کھویا ہوا اڑانوں میں

 دور فضا میں ایک پرندہ کھویا ہوا اڑانوں میں

اس کو کیا معلوم زمیں پر چڑھے ہیں تیر کمانوں میں

پھول توڑ کے لوگ لے گئے اونچے بڑے مکانوں میں

اب ہم کانٹے سجا کے رکھیں مٹی کے گلدانوں میں

بے در و بام ٹھکانا جس میں دھول دھوپ سناٹا غم

وہی ہے مجھ وحشی کے گھر میں جو کچھ ہے ویرانوں میں

Thursday, 7 May 2026

موت دیوانہ کو آئی ہے بیاباں کے پاس

 موت دیوانہ کو آئی ہے بیاباں کے پاس

ہاتھ رکھے ہوئے ہے اپنا گریباں کے پاس

عشق رکھتا ہے حسینوں سے مجھے فکر یہ ہے

نام کو عقل نہیں ہے دل ناداں کے پاس

اپنے جتنے ہیں وہ بیگانہ ہوئے عسرت میں

کوئی ملنے نہیں آتا ہے پریشاں کے پاس