Thursday, 23 July 2026

آنسو ہیں اور دیدۂ خونبار دوستو

 آنسُو ہیں اور دیدۂ خُونبار دوستو

دامن ہے اور اشک گُہربار دوستو

آنکھوں میں چُبھ رہی ہے غمِ زندگی کی دُھوپ

بیٹھے ہیں زیرِ سایۂ دیوار دوستو

اب دل ہے اور ماتمِ صد شہرِ آرزو

اک سر ہے اور لاکھ خریدار دوستو

لذت جور ناروا کی قسم

 لذتِ جورِ ناروا کی قسم

دل ستم دوست ہے خدا کی قسم

نہ اٹھا بارِ منتِ الفاظ

نازکی ہائے مُدعا کی قسم

نغمۂ رُوح و نالے میں

اس گدائے اثر دُعا کی قسم

آنکھ میں خواب بے حجاب آئے

 آنکھ میں خواب بے حجاب آئے

اس سے کہہ دو کہ بے نقاب آئے

لا زمانے لہو کو گردش میں

تاکہ چہروں پہ پھر شباب آئے

شامِ محشر ہو جب نگاہوں میں

کیا سوال آئے، کیا جواب آئے

ہر بار صبر و ضبط کو بخشوں زبان کیوں

 ہر بار صبر و ضبط کو بخشوں زبان کیوں؟

ہر بار لازمی ہے مِرا امتحان یوں؟

میرے سوا ہیں اور بھی کتنے ہی سر بلند

میرے ہی سر پہ بوجھ تِرا آسمان کیوں؟

جل کر تو راکھ ہو چکے اے چشمِ نم، مگر

یاد آ رہے ہیں آج وہ سارے مکان کیوں؟

چمک کلی کی گلوں کی ادا بھی کتنی دیر

 چمک کلی کی گُلوں کی ادا بھی کتنی دیر

بہار نغمۂ بادِ صبا بھی کتنی دیر 

ان آندھیوں کو بھی ضِد ہے قدم نہ روکیں گی

رہے لبوں پہ کسی کے دُعا بھی کتنی دیر 

ہوا کی موج بھی کب تک کرے گی اپنا کام

جنُوں مزاجئ برگِ نوا بھی کتنی دیر 

Wednesday, 22 July 2026

شہرت کے ستائش کے طلبگار بہت تھے

 شہرت کے ستائش کے طلبگار بہت تھے

یہ لوگ کبھی ہم سے وفادار بہت تھے

میں نے ہی تِرے بعد سنبھالے اسے رکھا

ورنہ تو مِرے دل کے خریدار بہت تھے

کب میں نے کبھی چارہ گرو تم کو پکارا

مُشکل میں سہارے مجھے دو چار بہت تھے

یہ خاکسار رہ گیا الجھا حساب میں

 ایسا ہوا کہ آج پھر آئے وہ خواب میں

یہ خاکسار رہ گیا اُلجھا حساب میں

جس دن سے بن گیا ہوں میں ہڈی کباب میں

وہ شوخ پڑ گیا ہے عجب پیچ و تاب میں

دل کے بجائے کیسے وہ پہلو میں آ گیا

اے شیخ جی پڑھا یہ سبق کس کتاب میں