Wednesday, 22 April 2026

ہماری بات انہیں اتنی ناگوار لگی

 ہماری بات انہیں اتنی ناگوار لگی

گلوں کی بات چھڑی اور ان کو خار لگی

بہت سنبھال کے ہم نے رکھے تھے پاؤں مگر

جہاں تھے زخم وہیں چوٹ بار بار لگی

قدم قدم پہ ہدایت ملی سفر میں ہمیں

قدم قدم پہ ہمیں زندگی ادھار لگی

مری ہی پشت سے آیا ہے وار میری طرف

 مری ہی پشت سے آیا ہے وار میری طرف 

کھڑے ہوئے تھے سبھی  دوست یار میری طرف  

ہوائیں کھا گئیں ہیں طاقچوں میں رکھے دیے 

بڑھا ہے آندھیوں کا اب حصار میری طرف

حضورِ یار میں نم جب فصیلِ چشم ہوئی 

بڑھا وہ بن کے مِرا غمگسار میری طرف

Tuesday, 21 April 2026

وہ جس کے ہونے سے رونقیں تھیں

 وہ جس کے ہونے سے رونقیں تھیں

اداسیاں مجھ کو دان کر کے 

نئے سفر پر نکل گیا ہے

بچھڑ گیا ہے

میں اب ملوں گا اسے وہاں پر

جہاں پہ نفرت رواج ہے نہ زمین والوں کی کوئی سازش

آگ میں جو تپایا جاتا ہوں

 آگ میں جو تپایا جاتا ہوں

زر خالص بنایا جاتا ہوں

قصر ہی قصر ہیں خداؤں کے

کس طرف کو بہایا جاتا ہوں

بارش سنگ سرخ جاری ہے

میں مسلسل نہایا جاتا ہوں

یہ ضرورت عجیب لگتی ہے

 یہ ضرورت عجیب لگتی ہے

مجھ کو عورت عجیب لگتی ہے

جب بھی بجھتے چراغ دیکھے ہیں

اپنی شہرت عجیب لگتی ہے

سرحدوں پر سروں کی فصلیں ہیں

یہ زراعت عجیب لگتی ہے

ظہور شان رسالت مآب کیا کہنا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ظہور شان رسالت مآبؐ کیا کہنا

نمود حُسنِ حقیقت مآب کیا کہنا

تمہارا حُسن ہوا لا جواب کیا کہنا

 تمہاری ذات ہوئی انتخاب کیا کہنا

فرشتے آتے ہیں در پر ادب سے سربسجود

وہ بارگاہِ الہیٰ جناب کیا کہنا

کچھ بھی ہو مگر دل کی اطاعت نہ کریں گے

 کچھ بھی ہو مگر دل کی اطاعت نہ کریں گے

سوچا ہے کہ اب اور محبت نہ کریں گے

غیروں کی طرح اس سے سلوک اب کے کریں گے

اس بار ملے گا تو مروت نہ کریں گے

سچ بول کے رسوائی ہی رسوائی ملی ہے

اب سب سے بیاں اپنی حقیقت نہ کریں گے