روشن ہی رہا دل بھی مِرا شعلۂ شک سے
پیغام رساں رات بھی اترا نہ فلک سے
کچھ لطف لیا جائے نہ ملنے کی کسک سے
زخموں کو ملے حرفِ تسلی بھی نمک سے
چپ چاپ گزر جاتی ہے اب رات یوں مجھ میں
جیسے میں گزر جاتا ہوں سنسان سڑک سے
روشن ہی رہا دل بھی مِرا شعلۂ شک سے
پیغام رساں رات بھی اترا نہ فلک سے
کچھ لطف لیا جائے نہ ملنے کی کسک سے
زخموں کو ملے حرفِ تسلی بھی نمک سے
چپ چاپ گزر جاتی ہے اب رات یوں مجھ میں
جیسے میں گزر جاتا ہوں سنسان سڑک سے
کبھی جو شہرِ وفا میں جنوں کی بات چلے
ہمارے درد کا قصہ تمام رات چلے
نشاطِ جاں بھی نہیں شعلۂ نوا بھی نہیں
اٹھاؤ ساز کہ رقصِ غمِ حیات چلے
بہ صدا وقار پئیں زندگی کے پیمانے
بہ صد سرور غمِ زندگی کی بات چلے
دیکھ لے، خاک ہے کاسے میں کہ زر ہے سائیں
یہ جو داتا ہے، بڑا شعبدہ گر ہے سائیں
تُو مجھے اس کے خم و پیچ بتاتا کیا ہے
کُوئے قاتل تو مِری راہگزر ہے سائیں
یہ جہاں کیا ہے بس اک صفحۂ بے نقش و نگار
اور جو کچھ ہے تِرا حسنِ نظر ہے سائیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
درِ آقاﷺ پہ جو رہنے کی اجازت مل جائے
مجھ گہنگار کو بخشش کی بشارت مل جائے
بن ہی جائے گا مِرا کام سرِ روزِ جزا
کوئی دن اور ندامت کی جو مہلت مل جائے
کچھ نہیں چاہیے تجھ سے مجھے اے عمرِ رواں
نعت کہنے کی کوئی روز سہولت مل جائے
جو آ رہی ہے بدن سے کمال کی خوشبو
مری رگوں میں ہے رزق حلال کی خوشبو
اسی کے دم سے معطر ہے کاروان حیات
ہے میرے گھر میں جو اہل و عیال کی خوشبو
زباں پہ ہیں وہی کلمہ وہی ہے سوز مگر
کہاں سے لاؤں اذان بلال کی خوشبو
اپنی بیگم صاحبہ کے نام منظوم خط
میری بیوی اے مِرے دل کا سرور
میری عزت اور میرے گھر کا نور
اے میرے آرام و راحت کی جلیس
اے میرے وقتِ مصیبت کی انیس
تجھ کو بخشے ہیں خدا نے وہ صفات
تیرے دم سے رونق بزمِ حیات
شاعر نہیں بھولتے
ماں کا چہرہ اور پہلی محبت
ایک شام اور دو کرسیاں
پریشانی میں دیا گیا دلاسہ اور گال سے چپکا بوسہ
ایک سفر اور کوئی بمسفر
سیاہ رنگ اور فیض