Wednesday, 13 May 2026

جنہیں انقلاب سے پیار تھا وہی انقلاب سے ڈر گئے

 نئی زندگی کی ہوا چلی تو کئی نقاب اتر گئے

جنہیں انقلاب سے پیار تھا وہی انقلاب سے ڈر گئے

مجھے رہبروں سے ہے یہ گلہ کہ انہیں شعور سفر نہ تھا

کبھی راستوں میں الجھ گئے کبھی منزلوں سے گزر گئے

تجھے مرگ نو کی تلاش ہے مگر ارتقا کا پتہ نہیں

کوئی ایک شکل جو مٹ گئی تو ہزار نقش ابھر گئے

Tuesday, 12 May 2026

گیلی لکڑی کو سلگا کر اشکوں سے عرضی لکھوں گا

 گیلی لکڑی کو سلگا کر اشکوں سے عرضی لکھوں گا

آج دھوئیں کے بادل پر میں بارش کو چٹھی لکھوں گا

اس زنداں کے کچھ قیدی ہی میری بات سمجھ پائیں گے

جب پتھر کی دیواروں پر مٹی سے مٹی لکھوں گا

مجھ جیسے کچھ دیوانے ہی زندہ دل ہوتے ہیں صاحب

میں اتنا کمزور نہیں جو پنکھا اور رسی لکھوں گا

تکمیل کائنات ہے میرے نبی کی ذات

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بحرِ تحیّرات ہے میرے نبیﷺ کی ذات

دکھ درد سے نجات ہے میرے نبیؐ کی ذات

جتنے بھی ان کی یاد میں لمحے گزر گئے

وہ دائمی حیات ہے میرے نبیؐ کی ذات

مل جائے گا سکوں تمہیں قلب و جگر کا یاں

تکمیلِ کائنات ہے میرے نبیؐ کی ذات

نغمۂ اسلام زندہ باد گایا جائے گا

 نغمۂ اسلام


نغمۂ اسلام زندہ باد گایا جائے گا

خوابِ غفلت سے مسلماں کو جگایا جائے گا

دیکھتی ہے خواب ہندو راج ہی کے کانگرس

خاک میں اس کے ارادوں کو ملایا جائے گا

سنگدل انگریز بھی سُن لے یہ گوشِ ہوش سے

راہ میں پتھر جو آئے گا ہٹایا جائے گا

عجیب شہر ستمگر ہے کیا کیا جائے

 عجیب شہر ستمگر ہے کیا کِیا جائے

لہو لہان کبوتر 🕊 ہے کیا کیا جائے

ٹھہر ٹھہر کے اسے پڑھ رہا ہوں میں لیکن

وہ ایک حرفِ مکرّر ہے کیا کیا جائے

بہت قریب سے مِلنے میں ڈر سا لگتا ہے

’’ہر آستین میں خنجر ہے کیا کیا جائے‘‘

دید جاناں جو عام ہو جائے

 دید جاناں جو عام ہو جائے

کارِ دنیا تمام ہو جائے

رُوٹھ جائے وہ صبح ہوتے ہی

اور منانے میں شام ہو جائے

میکدے میں نماز پڑھ لیں گے

کاش ساقی امام ہو جائے

کچھ یوں میں اپنے آپ سے کٹتا چلا گیا

 کچھ یُوں میں اپنے آپ سے کٹتا چلا گیا

بس خال و خد سے رہ گئے چہرہ چلا گیا

افسانہ میرے جہد کا اتنا سا تھا کہ میں

اندیشۂ یقین سے لڑتا چلا گیا

آیا نہیں پلٹ کے اُجالا کبھی یہاں

حالانکہ گھر سے کب کا اندھیرا چلا گیا