کچھ اور ہے مجھ کو غم دوراں تو نہیں ہے
مضطر ہے دل شوق پریشاں تو نہیں ہے
لٹنے کی تمنا ہے مِرے گوہر دل میں
مفلس تو نہیں بے سر و ساماں تو نہیں ہے
کل ہو گی قیامت وہ یقیں بھی نہیں کرتا
ظالم کوئی کافر ہے مسلماں تو نہیں ہے
کچھ اور ہے مجھ کو غم دوراں تو نہیں ہے
مضطر ہے دل شوق پریشاں تو نہیں ہے
لٹنے کی تمنا ہے مِرے گوہر دل میں
مفلس تو نہیں بے سر و ساماں تو نہیں ہے
کل ہو گی قیامت وہ یقیں بھی نہیں کرتا
ظالم کوئی کافر ہے مسلماں تو نہیں ہے
حکام کے آگے پیچھے پھر، حکام سے تیری یاری ہو
اک آدھ منسٹر کا بھی تو اے یار اگر درباری ہو
پھر تو ہی تو ہو دنیا میں، پھر تیری نمبر داری ہو
کیا رنگ برنگی کاریں ہیں کیا رنگ رنگیلے بنگلے ہیں
اس رنگ برنگی دنیا میں کچھ تو بھی ہاتھ یہاں رنگ لے
کچھ یہ رنگ لے، کچھ وہ رنگ لے
گناہ عشق میں اس بات کی تسکین ہوتی ہے
ہوا ہو جرم گہرا تو سزا سنگین ہوتی ہے
کھلے رکھتے ہو دروازے دریچے بارہا تم کیوں
سنو دنیا تماشوں کی بڑی شوقین ہوتی ہے
سفر میں دھوپ ہے تو کیا اداسی اوڑھ لو گے تم
ملے سائے جو تھے ان کی بڑی توہین ہوتی ہے
عقل بڑی بے رحم تھی اس نے
دل کو اس کے دُکھ کی گھڑی میں
تنہا چھوڑ دیا
جسم نے لیکن ساتھ دیا
دُکھ کے گہرے ساگر میں
دل کو چھاتی سے لِپٹائے
تخت میرا ہے تاج کس کا ہے
میرا اپنا مزاج کس کا ہے
روشنی کی مجھے نہیں حاجت
ماں کے آگے سراج کس کا ہے
دیکھتے ہیں رُتوں کی پیشانی
کل بھی کس کا تھا آج کس کا ہے
جس روِش پہ بے دھڑک زندگی کا راج تھا
اس سڑک پہ اب کوئی سنتری بٹھا گیا
خوف کی زمین پر کون باغبان تھا
خانہ دار تار کی بیل اِک اُگا گیا
اندر دھنستی دیواروں کے پار کہیں پر
ننگی بھُوکی خلقت میں کوئی
جنونِ عشق کی یہ فتنہ سامانی نہیں جاتی
نہیں جاتی ہماری چاک دامانی نہیں جاتی
مصیبت یوں کبھی دنیا میں پہچانی نہیں جاتی
نہیں آتی بلا جو سر پہ وہ مانی نہیں جاتی
گمانِ بد نہ کر اے محتسب رِندوں کی حالت پر
کہ ہو کر چاک دامن پاک دامانی نہیں جاتی