Tuesday, 18 August 2026

ازل سے اپنے ہی ہونے کے انتظار میں ہوں

 ازل سے اپنے ہی ہونے کے انتظار میں ہوں

نمو پذیر ہوں لیکن تِرے حصار میں ہوں

کہاں پتا تھا کہ اپنا ہی پیش و پس ہوں میں

کسے خبر تھی کہ تنہا کھڑا قطار میں ہوں

تِرے وجود کی ہر دھوپ چھاؤں ہے جس میں

میں ریزہ ریزہ اسی خاک رہگزار میں ہوں

ساتھی میرے میرا ساتھ نبھانے کا وعدہ کر کے

 بِچهوڑا


ساتھی میرے

میرا ساتھ نِبھانے کا وعدہ کر کے

یہ آج تُو کس اور چل پڑا ہے

میں تنہا سی، سہمی سی

پُوچھ رہی ہوں سب سے

میرے جینے کی وجہ کہاں ہے؟

ہنر ہے تو دل میں اتر جائیے

 سرِ دارِ اُلفت ٹھہر جائیے

حدُودِ خِرد سے گُزر جائیے

نہ کیجے گدائی درِ یار کی 

ہُنر ہے تو دل میں اُتر جائیے

وفاؤں کی قیمت نہیں جس جگہ

اُدھر مُسکرا کر مُکر جائیے

محبت سے کنارہ کر رہے ہیں

 محبت سے کِنارہ کر رہے ہیں

وہ خُود اپنا خسارہ کر رہے ہیں

ہمارا حوصلہ کیا پوچھتے ہو؟

بغیر اس کے گُزارا کر رہے ہیں

جُھکائیں سر کہ آپ اہلِ زمیں ہیں

فلک کا کیا نظارہ کر رہے ہیں

Monday, 17 August 2026

یوں تو کہنے کے لیے غم ہیں بہت

 سورج کے آس پاس


آشنائے رازِ دل کم ہیں بہت

ایک ہی ہم ہیں تو پھر ہم ہیں بہت

اشک، مژگاں، رات اور تاروں کا حُسن

جگمگاتے دیدۂ نم ہیں بہت

چند سیّاروں پہ کیا موقوف ہے

منتظر اس دل کے عالم ہیں بہت

دکھ درد در و دیوار سبھی ایک ہوئے

 دکھ درد، در و دیوار سبھی ایک ہوئے

غم کے میلے میں خریدار سبھی ایک ہوئے

ایک پنچھی کو رِہا کر کے یہ احساس ہوا

جیسے صحرا میں سزاوار سبھی ایک ہوئے

کیسے تسلیم کروں پھُول کی یکتا قیمت

تیری فُرقت کا سِتم، خار سبھی ایک ہوئے

روز اول سے یہی کرتا رہا ہے آدمی

 روزِ اوّل سے یہی کرتا رہا ہے آدمی

سوچتا کم، اور زیادہ بولتا ہے آدمی

ہے یہ قاصر اپنے چہرے کو بدلنے سے مگر

آئینہ ہر زاویے سے دیکھتا ہے آدمی

کون سی منزل ہے اس کی اور جانا ہے کہاں

نِت نئے رستوں پہ چلتا جا رہا ہے آدمی