ایک صاحب نے نجومی سے کہا یہ تو بتا
کہہ رہا ہے کیا ستارہ اب مِری تقدیر کا؟
ہوتی ہے دائیں ہتھیلی میں مِرے کھجلی بہت
یہ بتا میرا مقدر کیا مجھے دِکھلائے گا
زائچہ دیکھا نجومی نے تو بتلایا انہیں
یہ نشانی ہے تجھے پیسہ بہت مل جائے گا
ایک صاحب نے نجومی سے کہا یہ تو بتا
کہہ رہا ہے کیا ستارہ اب مِری تقدیر کا؟
ہوتی ہے دائیں ہتھیلی میں مِرے کھجلی بہت
یہ بتا میرا مقدر کیا مجھے دِکھلائے گا
زائچہ دیکھا نجومی نے تو بتلایا انہیں
یہ نشانی ہے تجھے پیسہ بہت مل جائے گا
دُنیائے حُسن و عشق کے سب رنگ و بُو سفید تھے
اس مے کدے کے بام و در، جام و سبُو سفید تھے
ہم نے تو اپنے خُون سے لکھی وفا کی داستاں
ان کو سمجھ نہ آ سکی جن کے لہُو سفید تھے
آنکھیں جو محوِ خواب تھیں تیرے سیاہ پوش کی
شب تھی، کہ تیرے شہر کے سب کُوبُکو سفید تھے
آنکھ کی راہ سے بُجھتے ہوئے لمحے اُترے
اقرباء جتنے تھے کشتی کے وہ سارے اترے
اس سے کہتے ہو کہ پھر لوٹنا ہو گا چھت پر
سانس کی لے کو جو تھامے ہوئے زینے اترے
چھا گئی بچوں کے چہرے پہ نئی ہریالی
آج پھر پیڑوں سے آنگن میں پرندے اترے
چمکتے آنکھ سے آنسو تمہارے دو ہی دیکھے ہیں
زمین و آسمانوں میں ستارے دو ہی دیکھے ہیں
جو دیکھو ڈوب کر تو پھر کنارا تیسرا بھی ہے
بظاہر تم نے دریا کے کنارے دو ہی دیکھے ہیں
بس اک تھا میرے ہاتھوں میں اور اک تھا تیرے ہاتھوں میں
تو میں نے سارے بچپن میں غبارے دو ہی دیکھے ہیں
پیاری لڑکی
سُنو پیاری لڑکی
میری ہتھیلی پر خُوشی کی تتلیوں کے سب رنگ سجے ہیں
اگر اجازت ہو تو
تمہارے اُداس چہرے پر مل دوں؟
پیاری لڑکی
دوستو آ کر ہمیں سمجھائیے
ان کے آنے تک ذرا بہلائیے
ان نگاہِ ناز سے پینے کے بعد
کیوں عبث اب میکدے میں جائیے
نَو گرفتارانِ اُلفت سے ہمیں
وارداتِ عشق پھر سُنوائیے
نوحہ پڑھنے والا کوئی نہیں
موت میرے دروازے پر
دستک نہیں دیتی
حالانکہ اُسے ہمارا گلی نمبر معلوم ہے
ابھی کل کی بات ہے
ہمسایوں کی نئی نویلی دُلہن بھگا لے گئی