اردو کا جنازہ ہے ذرا دُھوم سے نِکلے
فکر اب نالہ و شیون کی نہ دمساز کی ہے
نہ مسیحا کی ضرورت ہے نہ غمّاز کی ہے
پر کترنے پہ نہ خُوش ہو میرے صیّاد بہت
بازوئے فِکر میں، طاقت ابھی پرواز کی ہے
نسسِ باریکئ نُدرت کی حلاوت کی قسم
میری غزلوں میں جھلک اک نئے انداز کی ہے