Monday, 27 July 2026

تیرے نام سے ابتدا کر رہا ہوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تیرے نام سے ابتداء کر رہا ہوں

میرے رب میں تیری ثناء کر رہا ہوں

گُناہوں سے مجھ کو بچا دے تُو مولا

میں تُجھ سے یہی اِلتجا کر رہا ہوں

میں کمزور ہوں کر دے مجھ پہ عنایت

میں تُجھ سے یہی استدعا کر رہا ہوں

نہ بڑھ جائے حد سے خبردار دیکھو

 نہ بڑھ جائے حد سے خبردار دیکھو

یہ تقلیدِ مغرب کی رفتار دیکھو

بچایا جو کچھ سینما میں گنوایا

ذرا قومِ مُسلم کے اطوار دیکھو

اصول اور آئین کا فُقدان یکسر

پھر اس پر عزائم کا طومار دیکھو

تم ہی کہہ دو کہاں اور کدھر جائیں گے

 اُٹھ کے در سے  تمہارے اگر جائیں گے

تم ہی کہہ دو کہاں اور کدھر جائیں گے

جاں دے دیں گے ہم تم پہ مر جائیں گے

جاں نثاروں میں نام اپنا کر جائیں گے

تیرے عاصی بھی ہیں تجھ سے اُلفت بھی ہے

قہر بھی تیرا، تیری رحمت بھی ہے

روایت آپ ہی جدت کے حق میں بیٹھ گئی

 روایت آپ ہی جِدّت کے حق میں بیٹھ گئی

قدیم دور کی پٹڑی سڑک میں بیٹھ گئی

ہمارے مِلتے ہی قطبی ستارا ڈُوب گیا

وہ رہنمائی کی حسرت فلک میں بیٹھ گئی

وہ لالٹین جو سِگنل کے پاس ٹُوٹ گئی

وہ پوری آنکھ ادھوری دھنک میں بیٹھ گئی

پھول بہت مہنگے ہو گئے ہیں

 پھُول بہت مہنگے ہو گئے ہیں 

تم پھُول خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے 

یہ بھی پتہ ہے کہ تم میں پھُول چُرانے کا پتہ نہیں

تم تو پتا ہِلے تو ڈر جاتے ہو 

لیکن تم نے اپنے سر پر قبرستان اُٹھا رکھا ہے

جس کے بھار سے تمہاری گردن ٹُوٹ رہی ہے

Sunday, 26 July 2026

وہ ان گنت خط میں نے تمہیں لکھے تھے

 لاعنوان


وہ ان گنت خط

جو کتنی ہی زندگیوں میں

میں نے تمہیں لکھے تھے

اور تم نے ہر ایک خط

مسکراتے ہنستے روتے

کئی کئی بار پڑھا

اب یہاں زیست کے آثار نہیں دیکھو گے

 اب یہاں زیست کے آثار نہیں دیکھو گے

تم مِرے شہر میں دِیوار نہیں دیکھو گے

حالتِ جنگ میں بیٹھا ہوں قلمدان لیے

اب مِرے ہاتھ میں تلوار نہیں دیکھو گے

جن درختوں کی طبیعت میں ذرا خم نہ ہو

اُن درختوں کو ثمر بار نہیں دیکھو گے