خلش
تیری یہ بے رخی
اب نہ سہ پاؤں گی
ہے گِلہ گر کوئی
تو بتا دے ذرا
موڑ کر منہ نہ بول
بے رخی سے تِری
خلش
تیری یہ بے رخی
اب نہ سہ پاؤں گی
ہے گِلہ گر کوئی
تو بتا دے ذرا
موڑ کر منہ نہ بول
بے رخی سے تِری
گو اور بھی غم شامل غم ہو کے رہیں گے
ہم فاتح ہر رنج و الم ہو کے رہیں گے
بیباکئ تحریر یہ دستورِ خدا وند
اک روز مِرے ہاتھ قلم ہو کے رہیں گے
اے مرد سخن جرم سخن خوب ہیں لیکن
یہ جرم تِرے خوں سے رقم ہو کے رہیں گے
راہ وفا میں جو بھی کوئی جانشیں بنے
تجھ سا بنے تو خیر ہے مجھ سا نہیں بنے
شاید ہمارے واسطے کوئی نہیں بنا
شاید کسی کے واسطے ہم بھی نہیں بنے
ساری زمیں کے واسطے اک آسماں بنا
سو آسماں کے واسطے ہم بھی مکیں بنے
گھماؤ وقت کا جب ٹھیک کرنے آیا تھا
میں ایک سائے پہ تحقیق کرنے آیا تھا
شعور ماپتا اک خواب میری وحشت سے
تمہارے ہجر کی تصدیق کرنے آیا تھا
بُرا بھلا نہ کہو! روشنی کے مُنکر کو
یہ کائنات کی توثیق کرنے آیا تھا
لاہور
آ شہر پرانے چلتے ہیں
یہاں رات کو جگنو ہوتے تھے
یہاں میلے ٹھیلے رنگ برنگ
یہاں تارے راہ سُجاتے تھے
یہاں رستہ پوچھنے والوں کو
منزل تک جان پہنچاتے تھے
بخشش کے لیے اپنی اتنا ہی تو ساماں ہے
بھیگی ہوئی پلکیں ہیں بھیگا ہوا داماں ہے
الفت ہی زمانے میں تسکین کا درماں ہے
اک لفظ محبت ہی ہر درد کا درماں ہے
یہ زیست خدا جانے کس بات پہ نازاں ہے
مٹی کے گھروندے میں کچھ دیر کی مہماں ہے
کرب در پردۂ طرب ہے ابھی
مسکراہٹ بھی زیر لب ہے ابھی
ہیں پریشاں حیات کے گیسو
نہ کرو ذکر صبح شب ہے ابھی
مل تو سکتا ہے آدمی میں خدا
آدمی آدمی ہی کب ہے ابھی