کرنی ہو گر تو کیجیو جام و سبو کی بات
مت لائیو زباں پہ مگر آرزو کی بات
مقدور بھی یہی ہے کہ پردے پڑے رہیں
اپنی کہاں بساط کریں رو بہ رو کی بات
دیکھیں گے پھر سے بزم میں جلوہ نما اسے
سنتے رہیں گے بیٹھ کے اس ماہ رو کی بات
کرنی ہو گر تو کیجیو جام و سبو کی بات
مت لائیو زباں پہ مگر آرزو کی بات
مقدور بھی یہی ہے کہ پردے پڑے رہیں
اپنی کہاں بساط کریں رو بہ رو کی بات
دیکھیں گے پھر سے بزم میں جلوہ نما اسے
سنتے رہیں گے بیٹھ کے اس ماہ رو کی بات
پھولوں میں جھلک حسن رخ یار کی نکلی
ہم خوش ہیں کوئی شکل تو دیدار کی نکلی
الفاظ سے خوشبو تِرے کردار کی نکلی
جب بات مسیحا تِرے گفتار کی نکلی
نیلام ہوئے چاند ہر اک شہر میں لیکن
رونق نہ کہیں مصر کے بازار کی نکلی
وہ ایک شخص جو پورا مِرا نہیں بنتا
خدا تو بنتا ہے پر آسرا نہیں بنتا
کہیں پہ واسطہ ہونے کے باوجود سُنو
کسی حوالے سے بھی واسطہ نہیں بنتا
ہماری آنکھ سے دل تک رسائی کیسے ہو
عطا بغیر یہاں راستہ نہیں بنتا
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو*/تروینی/ترائلے
کھلتی خوبانیوں کی خوشبو سے
شام مہکی ہے میرے آنگن میں
ماں کے ہونٹوں پہ کانپتی ہے دعا
محمد امین
میری چاہتوں کے سفر کا حاصل
دنیا والوں کے سبھی طعنے
ویران دن، اداس راتیں
جسم و جاں کے سب عذاب
تیرے تحفے
میرے نام
منور بلوچ
زندگی سے سفر نہیں جاتا
کیوں مقدر سنور نہیں جاتا
شوقِ آوارگی ہے اس کو بھی
رات بھر میں بھی گھر نہیں جاتا
دے رہا ہے مجھے اذیت یہ
وقت یہ بھی گزر نہیں جاتا
یقیں تو پھر یقیں رہا گماں کا کیا گماں گیا
حدودِ دو جہاں کو تج حضورِ لا مکاں گیا
اٹھی نقابِ رخ اُدھر، اِدھر سے شور اٹھا کہ دل
ابھی ابھی یہیں تو تھا کہاں گیا کہاں گیا
جدارِ کعبۂ یقیں میں پھر دراڑ آئے گی
بس اس امیدِ ناز میں یہ دل کشاں کشاں گیا