Monday, 6 April 2026

حادثے میں بچ گئے تو زندگی اچھی لگی

 دوستی میں دل جو ٹوٹا دشمنی اچھی لگی

روشنی میں لٹ گئے تو تیرگی اچھی لگی

دیکھ کر اونچے مکانوں میں امیروں کے چلن

ہم کو اپنی جھونپڑی میں مفلسی اچھی لگی

زندگی سے کوئی دلچسپی نہ تھی ہم کو مگر

حادثے میں بچ گئے تو زندگی اچھی لگی

اتنی گستاخی تو اے صیاد کر لیتا ہوں میں

 اتنی گستاخی تو اے صیاد کر لیتا ہوں میں

قید غم سے روح کو آزاد کر لیتا ہوں میں

بیٹھے بیٹھے تجھ کو جس دم یاد کر لیتا ہوں میں

مایۂ صبر و سکوں برباد کر لیتا ہوں میں

وائے نادانی کہ پیدا کر کے تجھ سے بد ظنی

آپ اپنے دل کو خود ناشاد کر لیتا ہوں میں

نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہے

 نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہے

امید وصل ہی پر ان دنوں گزارا ہے

نہ دیکھوں تجھ کو تو آتا نہیں کچھ آہ نظر

تو میری پتلی کا آنکھوں کی یار تارا ہے

مجھے جو بام پہ شب کو بلائے ہے وہ ماہ

مگر عروج پہ کیا ان دنوں ستارا ہے

مجھے ٹالنے کی خاطر تجھے چاہیے بہانہ

 مجھے ٹالنے کی خاطر تجھے چاہیے بہانہ

تجھے کب روا تھا مجھ سے یہ سلوک عامیانہ

تِری ہر ادا انوکھی مِرے قلب و جاں میں اترے

مِری روح کی غذا ہے تِرے ذکر کا ترانہ

کوئی جرم کر کے ثابت مجھے پھر سزا سناتا

نہیں میری جان ہر گز یہ طریق عادلانہ

دربار شاہ میں یوں نہ سر کو جھکا کے بیٹھ

 دربارِ شاہ میں یوں نہ سر کو جھکا کے بیٹھ

اے دوست اٹھ فقیر کی محفل میں آ کے بیٹھ

مت رو، گزار دھوپ کو بادل کی اوٹ سے

بن جائے گی دھنک تُو ذرا مسکرا کے بیٹھ

پاتے ہیں ماہتاب کی لو سے مٹھاس پھل

نادان اس کی نظروں سے نظریں ملا کے بیٹھ

سوچا ہے کئی بار مگر اب تو یقیں ہے

 سوچا ہے کئی بار مگر اب تو یقیں ہے 

ہر طرح سے دل میرا تِرے زیرِ نگیں ہے

کچھ پل کے لیے سوچا کہ میں تجھ کو بھلا دوں

آواز یہ اک آئی کہ کیا جینا نہیں ہے؟

تم اس کو محبت کہو یا دے دو کوئی نام

بے ساختہ در تیرے جھکی میری جبیں ہے

Sunday, 5 April 2026

عجب عالم ہے جس میں جی رہا ہوں

 نظر سے جام پیہم پی رہا ہوں

عجب عالم ہے جس میں جی رہا ہوں

گزر آیا جنوں کی منزلوں سے

اب اپنے چاکِ دل کو سی رہا ہوں

خوشا قسمت غرورِ عشق بن کر

نگاہوں میں خود اپنی ہی رہا ہوں