آبِ صحرا کا اشارہ سچ ہو
جو نظر آئے خدارا سچ ہو
یہ عصا روپ نہ بدلے اپنا
ربِ موسیٰ یہ سہارا سچ ہو
ساری دنیا کے جریدے جھوٹے
تیرے آنکھوں کا شمارہ سچ ہو
آبِ صحرا کا اشارہ سچ ہو
جو نظر آئے خدارا سچ ہو
یہ عصا روپ نہ بدلے اپنا
ربِ موسیٰ یہ سہارا سچ ہو
ساری دنیا کے جریدے جھوٹے
تیرے آنکھوں کا شمارہ سچ ہو
گماں فصیل کا یاروں کو اپنے قد پر ہے
مگر یہ شہر ہوائے ستم کی زد پر ہے
ہجومِ خلق کو سمجھے ہجوم سایوں کا
وہ ایک شخص فریبِ نظر کی حد پر ہے
کرن کرن کے بدن میں ہیں وحشتیں لرزاں
کہ اب کے جشنِ چراغاں کسی لحد پر ہے
امید و بیم و آس کے ساحل بدل گئے
آنکھیں بدل گئیں تو کبھی دل بدل گئے
صحرا کی اک طویل مسافت کے بعد جب
پہنچے جو محملوں کو تو محمل بدل گئے
زِنداں میں اور قفس میں بہار و خزاں کٹی
موسم کے ساتھ ساتھ سلاسل بدل گئے
حُرمتِ عشق تجھے داغ لگانے کا نہیں
بات بنتی نہ بنے بات سے جانے کا نہیں
یا خدا! خیر کہ ہم دونوں انا والے ہیں
وہ بلانے کا نہیں اور میں جانے کا نہیں
وحشتی ہوں سو گریبان کو آ سکتا ہوں
مجھ سے ڈرنے کا، مگر مجھ کو ڈرانے کا نہیں
آنکھیں
آنکھیں
خود بخود شرم سے
جھکنے لگیں
ہونٹ بات بے بات ہنسنے لگے
دراز زلفیں
شرارت پہ آمادہ ہونے لگیں
کیا مجھ بے نوا کے پاس
ایک دلِ درد مند لایا ہوں
خُمِ طیبہ سے جو بچ رہی تھی
شیشۂ دل میں بند لایا ہوں
ہمرہانِ رمیدہ خُو کے لیے
آنسوؤں کی کمند لایا ہوں
چراغ جلنے کو پانی میں کون رکھتا ہے
تضاد اپنی کہانی میں کون رکھتا ہے
جو تجھ کو ٹُوٹ کے چاہا تو ہم نہیں بھٹکے
یہ ضبطِ نفس جوانی میں کون رکھتا ہے
ہوا تو چلتی ہے آنچل تِرا اُڑانے کو
یہ پانیوں کو روانی میں کون رکھتا ہے