بے حجابانہ کبھی دعوت دیدار بھی دے
لذت عشق بھی دے عشق کا آزار بھی دے
مسند علم و ادب پر متمکن فرما
نغمہ و شعر بھی دے خامۂ گلکار بھی دے
طاق ہر بزم میں رکھ شمع بنا کر مجھ کو
اور پروانہ صفت لذت آزار بھی دے
بے حجابانہ کبھی دعوت دیدار بھی دے
لذت عشق بھی دے عشق کا آزار بھی دے
مسند علم و ادب پر متمکن فرما
نغمہ و شعر بھی دے خامۂ گلکار بھی دے
طاق ہر بزم میں رکھ شمع بنا کر مجھ کو
اور پروانہ صفت لذت آزار بھی دے
اسی کو حق ہے تمنائے لطف یار کرے
جو آپ اپنی محبت پہ اعتبار کرے
بہت بجا یہ ترا مشورہ ہے اے واعظ
بھری بہار میں پرہیز بادہ خوار کرے
فسردگی سے بدل دے شگفتگی دل کی
جو چاہے ایک اشارے میں چشمِ یار کرے
جو مجھ پہ قرض ہے واجب اسے اتار نہ لوں
ملے خوشی بھی جو کوئی تو مستعار نہ لوں
یہ مجھ سے ہو نہیں سکتا کڑی مسافت میں
ہو سر میں شوق مگر خوفِ ریگزار نہ لوں
غنیمِ شہر کی سازش ہے مُنکشف مجھ پر
مصالحت کا اب احسان بار بار نہ لوں
عشق میں ڈوبا تو پھر میں نہ دوبارہ نکلا
یہ وہ دریا تھا کہ جس کا نہ کنارہ نکلا
اک فقط تجھ سے ہی امید فراموشی تھی
تجھ سے اے دل نہ مگر کام ہمارا نکلا
جان و دل پہ مرے بن آئی ہے اس الفت میں
عشق کے سودے میں کیوں اتنا خسارہ نکلا
خیال پرسش فردا سے گھبرانا نہیں آتا
گنہ کرتا ہوں لیکن مجھ کو پچھتانا نہیں آتا
یقین دعویٔ الفت نہیں مانا نہیں آتا
مگر یہ بھی تو ہے جھوٹوں کو جھٹلانا نہیں آتا
طبیعت ہے غیور ایسی کہ تشنہ کام رہتا ہوں
لگی لپٹی کسی کی سن کے پی جانا نہیں آتا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قلبِ مضطر کو ملے چین اے شاہِ کونین
ہو کرم صدقۂ سبطین اے شاہِ کونینﷺ
میرا ہر دن بھی گزرتا ہے تری یادوں میں
ہجر میں روتی ہے ہر رین اے شاہِ کونین
مانگتے رہتے ہیں نظارہ طیبہ ہر دم
میرے یہ ترسے ہوئے نین اے شاہِ کونین
جنت آباد کو ویران کرتے جائیں گے
گلستاں کو پاسباں شمشان کرتے جائیں گے
خانۂ جنت میں آدم زاد کا مسکن نہ ہو
اس غرض سے خود کو وہ شیطان کرتے جائیں گے
تم لگا کر آگ گلشن کو بھلے کر دو تباہ
ہم تو آتشدان کو گلدان کرتے جائیں گے