بُلاوے
بارہا آئے ہیں
آوازوں کے ساحل سے
مگر میں
یخ بستہ کشتی کی طرح
گُم سُم پڑا ہوں
سماعت کے سمندر میں
بُلاوے
بارہا آئے ہیں
آوازوں کے ساحل سے
مگر میں
یخ بستہ کشتی کی طرح
گُم سُم پڑا ہوں
سماعت کے سمندر میں
اجنبی راہگزر سوچتی ہے
کوئی دروازہ کھلے
ہر طرف درد کے لمبے سائے
راستے پھیل گئے دور گئے
دھڑکنیں تیز ہوئیں اور بھی تیز
اجنبی راہگزر سوچتی ہے
عاشقِ خستہ حال اُٹھ حُسن سے رسم و راہ کر
جیسے بھی تجھ سے بن پڑے یار سے اب نباہ کر
❤میرا خزانۂ وفا لُوٹ لیا رقیب نے❤
سارے جہاں کو چھوڑ کر اس کی طرف نگاہ کر
پردے ہٹا کے آج وہ خوب ہنسے رقیب سے
تُو بھی ذرا سنبھل ہی جا یار کے دل میں راہ کر
درست ہے کہ مِرا حال اب زبوں بھی نہیں
مقامِ سجدہ کہ یہ جام سر نگوں بھی نہیں
نہیں کہ شورشِ بزمِ طرب فزوں بھی نہیں
دلیلِ شورشِ جاں اک چراغ خوں بھی نہیں
حدیثِ شوق ابھی مختصر ہے چپ رہیے
ابھی بہار کا کیا غم ابھی جنوں بھی نہیں
خواب کی رات سے نکل آئی
اپنے جذبات سے نکل آئی
وہ ملاقات جو تصوّر تھی
اس ملاقات سے نکل آئی
میرے بس سے نکل گئے حالات
میں بھی حالات سے نکل آئی
جو مِرا ہمنوا نہیں ہوتا
وہ تِرے شہر کا نہیں ہوتا
شاخ پر ہیں ہرے بھرے پتّے
پھُول لیکن ہرا نہیں ہوتا
آج بھی آہنی جنُوں کا حق
پتھروں سے ادا نہیں ہوتا
آپ سے مل کے ہمیشہ ہی خوشی ہوتی ہے
مِرے ہر زخم کے ٹیسوں میں کمی ہوتی ہے
آپ کہتے تھے میں آسودہ ہوں اپنے گھر میں
پھر یہ کیوں آپ کی آنکھوں میں نمی ہوتی ہے
اب مِرے ہجر کو اوقات کے خانے میں نہ رکھ
ایک لمحہ بھی یہاں ایک صدی ہوتی ہے