Thursday, 26 February 2026

تنور وقت کی حدت سے ڈر گئے ہم بھی

 تنور وقت کی حدت سے ڈر گئے ہم بھی

مگر تپش میں تپے تو نکھر گئے ہم بھی

جہاں پہنچ کے مسافر کے رخ بدلتے ہیں

رہ حیات کے اس موڑ پر گئے ہم بھی

جلا دیا تھا سفینہ اتر کے ساحل پر

جنون فتح میں کیا کیا نہ کر گئے ہم بھی

دوستوں کی بزم سے اس دن نکل جائیں

 دوستوں کی بزم سے، اُس دن نکل جائیں

اُن میں سے اکثر کہ جب تیور بدل جائیں

خاص کر دشمن کی تو حاجت نہیں رہتی

آستیں کے سانپ جب اپنوں میں مل جائیں

دیکھنا مڑ کر تو پھر عزت کا سودا ہے

چھوڑ کر ہم جب کوئی محفل نکل جائیں

مرنے والے کو جانتا ہے کیا

 بیٹھا سینے میں جھانکتا ہے کیا؟

دل کے اندر بھی راستہ ہے کیا؟

پیچھے مڑ مڑ کے دیکھنے والے

کوئی روزن سے دیکھتا ہے کیا؟

عشق الفت سے آگے کی شے ہے

سوچنا کیا تھا، سوچتا ہے کیا؟

دیکھو تو وہ خواب سہانا لگتا ہے

 دیکھو تو وہ خواب سہانا لگتا ہے

سوچو تو آسیب پرانا لگتا ہے

پہلے بھی کب تو نے سچی بات کہی

اب کے بھی یہ ایک بہانا لگتا ہے

جانے کون سا اصلی روپ ہے ساجن کا

پل میں اپنا پھر بیگانہ لگتا ہے

زندگی جاتے جاتے یہ کیا کہہ گئی

 زندگی جاتے جاتے یہ کیا کہہ گئی

موت کچھ فاصلے پر کھڑی رہ گئی

کوئی بھی سخت جاں تجھ سا دیکھا نہیں

جاتے جاتے مجھے ہر بلا کہہ گئی

جو زباں نے کہی وہ ادھوری رہی

بات پوری مری خامشی کہہ گئی

بات بنائیں بگڑ گئی دودھ میں دراڑ پڑ گئی

 دودھ میں دراڑ پڑ گئی


خون کیوں سفید ہو گیا

بھید میں ابھید کھو گیا

بٹ گئے شہید، گیت کٹ گئے

کلیجے میں کٹار گڑ گئی

دودھ میں دراڑ پڑ گئی

کھیتوں میں بارودی گندھ

Wednesday, 25 February 2026

میں پھر لوٹ چلی ہوں ان نظموں کی جانب

 میں پھر لوٹ چلی ہوں

ان نظموں کی جانب

جو قلم تک آتے آتے رہ گئیں

اس کتاب کی جانب

جو تمہاری بک بک سے ادھوری رہ گئی

اس برسات کی جانب