محبت میں جفا ہوتی رہی ہے
نہ جانے کیا خطا ہوتی رہی ہے
کسے معلوم میرے دل کی حالت
تِری محفل میں کیا ہوتی رہی ہے
متاعِ کارواں لُٹتے ہوئے بھی
تلاشِ رہنما ہوتی رہی ہے
محبت میں جفا ہوتی رہی ہے
نہ جانے کیا خطا ہوتی رہی ہے
کسے معلوم میرے دل کی حالت
تِری محفل میں کیا ہوتی رہی ہے
متاعِ کارواں لُٹتے ہوئے بھی
تلاشِ رہنما ہوتی رہی ہے
نئی صدی کے تقاضوں کا سامنا کرنا
پھر اس کے بعد وفا کا مطالبہ کرنا
لگام دوں اسے کیسے زبان ان پڑھ ہے
اسے تو آتا ہے سچ بات برملا کرنا
نئے زمانے کے بچوں کی شوخیاں دیکھو
شرارتوں میں بڑوں کا مقابلہ کرنا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تو بیاں اوصاف ہوں گے آپ کے تفصیل سے
ساتھ دینے کو کہوں گا میں اگر جبریلؑ سے
اور تو زادِ رہِ شہرِ نبیﷺ کچھ بھی نہ تھا
میں نے بس موتی نکالے آنکھ کی زنبیل سے
اک شبِ خوش بخت میں دیدارِ پیغمبرﷺ ہوا
اور مکمل ہو گیا میں خواب کی تکمیل سے
آگ گھی سے بُجھانا مُناسب نہیں
دل جلوں کو جلانا مناسب نہیں
مجھ پہ سارا زمانہ ہنسے تو ہنسے
پر تیرا مُسکرانا مناسب نہیں
جاں لُٹانا مناسب ہے پر عشق میں
آبرُو کو گنوانا مناسب نہیں
خون کی ندی بھی ہم نے پار کی
ہم سے باتیں کر رہے ہو دار کی
ہے یہاں کانٹوں سے اپنا واسطہ
کر رہا ہوں بات میں گُلزار کی
اک غریبِ شہر کو حق مل گیا
یہ خبر ہو گی کسی اخبار کی
اثر دِکھلائے گا خُوابِ سحر آہستہ آہستہ
دِلوں سے جائے گا راتوں کا ڈر آہستہ آہستہ
نہیں بربادیوں کے واسطے یہ شرط دُنیا میں
مگر آباد ہوتے ہیں نگر آہستہ آہستہ
کہاں پھیلی ہے خُوشبو دفعتاً افکارِ عالی کی
کِیا شاداب سوچوں نے سفر آہستہ آہستہ
گُنہگاروں کی بخشش گر انہیں منظور ہو جائے
سیاہی نامۂ عِصیاں کی خُود کافُور ہو جائے
گئی تھیں دُور تک چِھینٹیں لہُو کی ذبح کرنے میں
ہمارے قتل کا قِصہ نہ کیوں مشہُور ہو جائے
اسیرِ گیسُوئے پُر پیچ کو کیا لُطف جینے کا
شبِ فُرقت کی تاریکی اگر کافُور ہو جائے