بغیر جنازے کے دفنائی گئی محبت
میں ایک صندوق اٹھائے چل رہا ہوں
جو ماں کی آخری نشانی ہے
جس میں کچھ چیزیں ہیں
ایک رومال جو پہلی محبوبہ کا تحفہ ہے
ایک تصویر جو میری نہیں
ایک زنجیر جو قید خانے میں
بغیر جنازے کے دفنائی گئی محبت
میں ایک صندوق اٹھائے چل رہا ہوں
جو ماں کی آخری نشانی ہے
جس میں کچھ چیزیں ہیں
ایک رومال جو پہلی محبوبہ کا تحفہ ہے
ایک تصویر جو میری نہیں
ایک زنجیر جو قید خانے میں
فلمی گیت عجیب ہے یہ زندگی
عجیب ہے یہ زندگی کبھی ہے غم کبھی خوشی
ہر ایک شے ہے بے یقیں ہر ایک چیز عارضی
یہ کارواں رکے کہاں کہ منزلیں ہیں بے نشاں
چھپے ہوئے ہیں راستے یہاں وہاں دھواں دھواں
خطر ہیں کتنے راہ میں سفر ہے کتنا اجنبی
عجیب ہے یہ زندگی
فلمی گیت
وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں
میرے ہر خواب کی تعبیر بنے بیٹھے ہیں
چاند ان آنکھوں کو دیکھے تو کنول بن جائے
رات ان ہونٹوں کو چھو لے تو غزل بن جائے
ان کی زلفوں کا حال مت پوچھو
مجھ سے میرا خیال مت پوچھو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خزاں کے مارے ہوئے جانبِ بہار چلے
قرارِ پانے زمانے کے بے قرار چلے
وہیں پہ تھام لیا ان کو دستِ رحمت نے
نبی کے در کی طرف جب گنہگار چلے
اے تاجدارِ جہاں! اے حبیبِﷺ رب کریم
وہ بھیک دو کہ غریبوں کا کاروبار چلے
نا آشنا
بہت سے قیمتی لمحے
جو راہ شوق میں گُزرے
جو خوابوں کے جزیرے میں
ستاروں جیسے روشن تھے
نہیں معلوم وہ لمحے، حقیقت تھے
عجیب سا میں
عجیب دنیا
رواج کے ساتھ چل رہا ہوں
نہ منطبق مجھ میں یہ زمانہ
نہ میں زمانے کو ہمنوا ہوں
جمیل احسن
آخری ساعت کے نام
کرن کے رتھ پر سوار ہو کر
ندی کی لہروں پہ چاند اپنی
تمام روداد لکھ چکا ہے
نئی اُڑانیں
طویل رستہ
بسیط سمتیں