Tuesday, 6 October 2026

بوجھل ہوں سر پہ بوجھ اٹھایا ہوا تو ہے

 بوجھل ہوں سر پہ بوجھ اٹھایا ہوا تو ہے

مشکل میں ہوں خدا کو بتایا ہوا تو ہے

اور اب تو یار دوست بھی کرنے لگے سوال

کچھ دن سے ایک رنگ سا آیا ہوا تو ہے 

اس نے بھی ایک بیل اگائی ہے اس طرف

ہم نے بھی ایک پیڑ لگایا ہوا تو ہے

کوفہ مزاج شہر میں رونے کا فائدہ

 کوفہ مزاج شہر میں رونے کا فائدہ؟

بس دیکھتے ہیں دور سے ماتم تماش بین

درویش کی دھمال پہ فتوے لگائیں گے

مرشد کے التفات سے برہم تماش بین

گھنگرو کی خستگی پہ سبھی معترض تو ہیں

ٹخنوں کے زخم دیکھتے ہیں کم تماش بین

گئے ہیں دیس کو ہم اپنے چھوڑ کر بھی نہیں

 گئے ہیں دیس کو ہم اپنے چھوڑ کر بھی نہیں

مہاجرت کے لیے شرط اب سفر بھی نہیں

اسی جہان میں رہتے ہیں خوبرو ایسے

یقین مجھ کو ہوا اس کو دیکھ کر بھی نہیں

مرے وجود میں گھل مل کے کر گیا تنہا

وہ ایک شخص جو آیا کبھی نظر بھی نہیں

فرصت مرہمی نہ تھی زخم چھلا چھلا رہا

 فرصتِ مرہمی نہ تھی، زخم چِھلا، چِھلا رہا

صبح سے شام تک وہی کام کا سِلسلہ رہا

ذہن میں وحشتیں نہ ہوں، دل تو ہو پر زِ درد و غم

مانا کہ خام تھا جنوں، شوق بھی بے صِلہ رہا؟

جوشِ نمو بھی ہے بجا، لمحے بھی ہیں طرب فزا

خدشہ سا دل میں ہے کہ وقت، سَم تو نہیں پلا رہا

وہ دشمن ہو گیا اچھا ہوا ہے

 وہ دُشمن ہو گیا اچھا ہُوا ہے

یہ لمحہ دل پہ اب لِکھا ہوا ہے

مگر سچ ہے کہ وہ بہکا ہوا ہے

مگر اے دل وہ کیوں بہکا ہوا ہے

بلائیں لے رہے تھے لوگ سارے

مگر بچہ ہے پھر سہما ہوا ہے

Monday, 5 October 2026

سوختہ کشتی کا ملبہ میں مرا دل اور شام

 سوختہ کشتی کا ملبہ میں مرا دل اور شام

غمزدہ اترے ہوئے دریا کا ساحل اور شام

رات کے اک پیشرس تارے کی دھڑکن تیز تیز

آنکھ میں سہمے ہوئے خوابوں کی جھلمل اور شام

خستگی سے چُور پاؤں حسرتِ واماندگی

کہر میں ڈُوبی ہوئی موہوم منزل اور شام

ہماری زیست میں کچھ ایسے مہ و شاں گزرے

 ہماری زیست میں کچھ ایسے مہ و شاں گزرے

زمیں پہ جیسے ستاروں کے کارواں گزرے

متاع زیست سمجھ کر اسے سمیٹ لیا

تِرے لیے جو ستم ہائے آسماں گزرے

خود اپنے حال پہ آنکھوں میں آ گئے آنسو

تِرے خیال میں کیا کیا نہیں گُماں گزرے