Tuesday, 9 June 2026

ہر اک خیال سے آگے ہر اک نگاہ سے دور

 ہر اک خیال سے آگے ہر اک نگاہ سے دُور

مِرا مقام محبت ہے رسم و راہ سے دور

فُغاں سے دور ہوں، نالے سے دور، آہ سے دور

میں آج تک ہوں محبت کے ہر گُناہ سے دور

ہزار طرح اُٹھی ہے نگاہِ اہلِ ہوس

ہوا نہ حُسن مگر عشق کی پناہ سے دور

سرخیاں پڑھ کے ان اخباروں کی ڈر لگتا ہے

 سرخیاں پڑھ کے ان اخباروں کی ڈر لگتا ہے

سارا عالم کسی بارود کا گھر لگتا ہے

بیٹھ جائیں گی یہ دیواریں کسی بھی لمحہ

اپنے گھر میں بھی تو رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے

اپنے ہمسائے کے حالات ہیں اپنے جیسے

اپنے ہی گھر کی طرح ان کا بھی گھر لگتا ہے

زخموں کو اپنے آپ ہی سہلا رہا ہوں میں

 ان کی نگاہ ناز سے شرما رہا ہوں میں

اس دل کو اپنے باتوں سے بہلا رہا ہوں میں

جب آئیں گے وہ پاس مرے ہو گی میری عید

ان کو تخیلات میں ٹہلا رہا ہوں میں

پوچھے نہ کوئی حال میرا اس دیار میں

زخموں کو اپنے آپ ہی سہلا رہا ہوں میں

Monday, 8 June 2026

حدیث نسواں لڑکوں کی طرح پاتی ہیں اسناد لڑکیاں

 حدیثِ نسواں


علم و ادب سے آج ہر اک گھر ہے بوستاں

فنی، تمدنی، ہوئیں حاصل ترقیاں

یہ اک کرشمہ شہ عثمان ہے اب یہاں

لڑکوں کی طرح پاتی ہیں اسناد لڑکیاں

بنیاد عہد شہ میں ہوئی گرل گائیڈ کی

محفل میں اس کی جا کے میں خاموش ہو گیا

 محفل میں اس کی جا کے میں خاموش ہو گیا

جو سوچ کے گیا تھا فراموش ہو گیا

احسان زندگی کا اٹھاتا کہاں تلک

سر کٹ گیا تو میں بھی سبکدوش ہو گیا

پردہ تھا شرم کا یہ سیاہی گناہ کی

میں ظلمتِ گناہ میں روپوش ہو گیا

کچھ اور ہے مجھ کو غم دوراں تو نہیں ہے

 کچھ اور ہے مجھ کو غم دوراں تو نہیں ہے

مضطر ہے دل شوق پریشاں تو نہیں ہے

لٹنے کی تمنا ہے مِرے گوہر دل میں

مفلس تو نہیں بے سر و ساماں تو نہیں ہے

کل ہو گی قیامت وہ یقیں بھی نہیں کرتا

ظالم کوئی کافر ہے مسلماں تو نہیں ہے

حکام کے آگے پیچھے پھر حکام سے تیری یاری ہو

 حکام کے آگے پیچھے پھر، حکام سے تیری یاری ہو

اک آدھ منسٹر کا بھی تو اے یار اگر درباری ہو

پھر تو ہی تو ہو دنیا میں، پھر تیری نمبر داری ہو

کیا رنگ برنگی کاریں ہیں کیا رنگ رنگیلے بنگلے ہیں

اس رنگ برنگی دنیا میں کچھ تو بھی ہاتھ یہاں رنگ لے

کچھ یہ رنگ لے، کچھ وہ رنگ لے