Wednesday, 8 July 2026

بھول جائیں ہم اسے ایسا نظارہ تو نہیں

 بھُول جائیں ہم اسے ایسا نظارہ تو نہیں

یاد پر آتا رہے یہ بھی گوارہ تو نہیں

دل دھڑکتا ہے دھڑکتا ہے دھڑکتا ہے مِرا

وہ تمہارا، وہ تمہارا، وہ تمہارا تو نہیں

آج کل پتھر اُٹھا کر سوچتا ہے ہر کوئی

سامنے انسان ہے، لیکن ہمارا تو نہیں

اگرچہ نغمہ سرائی کا وقت بھی نہیں ہے

 اگرچہ نغمہ سرائی کا وقت بھی نہیں ہے

زمانے دیکھ لڑائی کا وقت بھی نہیں ہے

تمہارے شہر نے پاگل بنا لیا لیکن

کسی کو راہنمائی کا وقت بھی نہیں ہے

مِرے خدا کوئی مجھ سے بِچھڑ رہا ہے اور   

تُو جانتا ہے جُدائی کا وقت بھی نہیں ہے

لفظوں کہ وسیلے سے بیاں ہونے سے پہلے

 لفظوں کہ وسِیلے سے بیاں ہونے سے پہلے

آسان تھا یہ کام گِراں ہونے سے پہلے

تخلیق نے چھینا ہے مِرا حُسن بھی مجھ سے

اک راز تھا میں میرے عیاں ہونے سے پہلے

کس طرح کی بینائی تھی ان آنکھوں میں جانے

کچھ بھی نہ دِکھا جن کو دُھواں ہونے سے پہلے

یوں ہی اکثر مجھے سمجھا بجھا کر لوٹ جاتی ہے

 یوں ہی اکثر مجھے سمجھا بجھا کر لوٹ جاتی ہے

کسی کی یاد میرے پاس آ کر لوٹ جاتی ہے

میں بد قسمت وہ گلشن ہوں خزاں جس کا مقدر ہے

بہار آتی ہے دروازے سے آ کر لوٹ جاتی ہے

اسے اپنا بنانے میں بھی اک انجان سا ڈر ہے

دعا ہونٹوں تلک آتی ہے آ کر لوٹ جاتی ہے

Tuesday, 7 July 2026

درد کی اک کتاب ہے کوئی

 درد کی اک کتاب ہے کوئی

زندگی اضطراب ہے کوئی

تیرگی کی ادا بتاتی ہے

داؤں پر ماہتاب ہے کوئی

ہو گیا جس کو وہ ہوا تنہا

عشق بھی اک عذاب ہے کوئی

چہروں کی بھیڑ میں انسان کہاں ہیں

 چہروں کی بھِیڑ میں اِنسان کہاں ہیں

اے زمیں! تیرے نِگہبان کہاں ہیں؟

لو دِیے کی بھی ہے یہ پُوچھتی اب تو

بُجھا دیں مجھ کو جو طُوفان کہاں ہیں

ہے مِرے شہر میں ہر شے ہی میسّر

پُورے ہوتے مگر ارمان کہاں ہیں

ٹمٹماتا ہوا مندر کا دیا ہو جیسے

 ٹِمٹماتا ہوا مندر کا دِیا ہو جیسے

تیری آنکھوں میں کوئی خواب چُھپا ہو جیسے

پھیر لیں تم نے نگاہیں تو یہ محسوس ہوا

مجھ سے رُوٹھی ہوئی تاثیرِ دُعا ہو جیسے

گُونجتی ہے مِرے کانوں میں یوں آواز تِری

کوہ و صحرا میں اذانوں کی صدا ہو جیسے