سر کھپائیں نہ زمانے والے
ہم سمجھ میں نہیں آنے والے
بارِ غم، بارِ جنوں، بارِ خِرد
ہم تو ہیں بوجھ اُٹھانے والے
کیا کہیں جان کہاں ہاری تھی
کب یہ قِصے ہیں سُنانے والے
سر کھپائیں نہ زمانے والے
ہم سمجھ میں نہیں آنے والے
بارِ غم، بارِ جنوں، بارِ خِرد
ہم تو ہیں بوجھ اُٹھانے والے
کیا کہیں جان کہاں ہاری تھی
کب یہ قِصے ہیں سُنانے والے
یہ وہم ہے کہ کسی وہم کا پتا بھی ہو
جو تُو بھی ساتھ رہے اور مِرا خُدا بھی ہو
سفر کا شوق ہے تجھ کو تو پھر یہ شرط ہے کیوں
رِدائے ابر ہو، سبزہ ہو، اور ہوا بھی ہو
کچھ اس طرح سے گُزر جا جنوں کی منزل سے
کہ ہوش بھی نہ ہو گُم اور کچھ نشہ بھی ہو
تیرے دِیدار کو آتے ہیں چلے جاتے ہیں
دو گھڑی عِید مناتے ہیں چلے جاتے ہیں
ہم کو جو تیری طلب ہے تو فقط اتنی ہے
تجھ کو آنکھوں میں بساتے ہیں چلے جاتے ہیں
کبھی بھُولے سے تِرے ہاتھ جو چھُو لیں ہم کو
رُوح میں پھُول کھِلاتے ہیں چلے جاتے ہیں
میں نابینا چاند نگر کے انجانے رستے ہیں
ہیرے جیسے آنکھوں والے لوگ جہاں بستے ہیں
اپنا بدن خود زہر سے اپنے نیلا ہوتا جائے
ہم کیسے انسان ہیں آخر اپنا تن ڈستے ہیں
کون ہوس کا رستہ روکے سب کے لبوں پہ مہریں
چاندی کی تلواریں ان کی سونے کے دستے ہیں
دُنیا نئی نئی ہے زمانے نئے نئے
عُنواں نئے نئے ہیں فسانے نئے نئے
شمعِ حیاتِ نَو کو جلانے کے واسطے
تخلیق بُت کیے ہیں خُدا نے نئے نئے
دُنیا میں زندہ رہنے کا ڈھنگ آ گیا مجھے
جب سے پڑے ہیں صدمے اُٹھانے نئے نئے
ادا شناس تو تھے جانِ جاں، بس آئے ہیں
تِری گلی سے فقط جسم واپس آئے ہیں
کس آئینے میں جہاں دِیدگاں کی دِیدن ہو
کثیر پیشِ نظر بیش تر پس آئے ہیں
ذرا سی رنجشِ بیجا کا کیا ہُوا مذکور
مخالفین بہ اندازِ کرگس آئے ہیں
ہُو کے عالم میں بھی اک شور سُنائی دے گا
جو سماعت کو بہت میٹھا سُجھائی دے گا
حیف نفرت کے جزیروں میں بھٹکتے رہ کر
ایک انسان محبت کی دُہائی دے گا
ایک دن لوگ محبت سے شناسا ہوں گے
اور یہ ساز بہت دُور سنائی دے گا