عشق کے دور میں کچھ ایسے بھی پہلو آئے
ہنسنا چاہا تو مِری آنکھوں میں آنسو آئے
اک تو وہ پھول ہی کاغذ کے اٹھا لایا ہے
اس پہ یہ ضد ہے کہ ان پھولوں سے خوشبو آئے
تُو کہاں تھا کہ تجھے ڈھونڈنے میرے گھر تک
کبھی بھنورے، کبھی تتلی، کبھی جگنو آئے
عشق کے دور میں کچھ ایسے بھی پہلو آئے
ہنسنا چاہا تو مِری آنکھوں میں آنسو آئے
اک تو وہ پھول ہی کاغذ کے اٹھا لایا ہے
اس پہ یہ ضد ہے کہ ان پھولوں سے خوشبو آئے
تُو کہاں تھا کہ تجھے ڈھونڈنے میرے گھر تک
کبھی بھنورے، کبھی تتلی، کبھی جگنو آئے
جگمگاتے شہر کی رعنائیوں میں کھو گیا
تھا وہ سُورج سا مگر پرچھائیوں میں کھو گیا
آنے والے وقت نے سمجھا اُسے اپنا نقیب
وہ پرِ پرواز کیوں پہنائیوں میں کھو گیا
میرا چہرہ اپنے پس منظر سے خُود واقف نہ تھا
بھِیڑ میں تو ساتھ تھا، تنہائیوں میں کھو گیا
مجھے اُس سے محبت ہو گئی ہے
جسے مُجھ سے عداوت ہو گئی ہے
مشینی شہر میں دو چار لمحے
بہت نایاب فُرصت ہو گئی ہے
میں بیکاری کے دوزخ میں پڑا ہوں
مِرے گھر میں قیامت ہو گئی ہے
وہ دل شکار کرے یا جگر نشانہ کرے
جفا کرے تو کرے ہاں کوئی دغا نہ کرے
وہ پھر حسیں ہی نہیں جو کبھی جفا نہ کرے
وہ اہلِ دل نہیں جو عمر بھر وفا نہ کرے
خدا کسی کو کسی سے کبھی جدا نہ کرے
بچھڑ کے تجھ سے میں پل بھر جیوں خدا نہ کرے
ان کی نظروں سے ملی داد فغاں سے پہلے
قلب بیدار دیا ہم کو زباں سے پہلے
اور بھی آئے ہیں عقال یہاں مارکس کے بعد
جیسے گزرے ہیں حسیں نورجہاں سے پہلے
جھوٹ اور سچ کو تو پھر دیکھیں گے پہلے یہ کہیں
آپ نے بات سنی ہے یہ کہاں سے پہلے
واپسی
میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہے
دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں
دور سے گھر نظر آیا روشن
ساری بستی میں ملا ایک مرا گھر بے خواب
پاس پہنچا تو وہ دیکھا
رقیبِ جاں نظر کا نُور ہو جائے تو کیا کیجے
زیاں دل کو اگر منظور ہو جائے تو کیا کیجے
وفا کرنے سے وہ مجبور ہو جائے تو کیا کیجے
محبت رُوح کا ناسُور ہو جائے تو کیا کیجے
وہی چرچے وہی قصے ملی رُسوائیاں ہم کو
انہی قصوں سے وہ مشہور ہو جائے تو کیا کیجے