رُخِ حیرانئ منظر ہی اُسے یاد نہ تھا
میرے آئینے کا جوہر ہی اسے یاد نہ تھا
یاد تھیں اس کو سب آرام گہیں دُنیا کی
مُجھ شبستان کا بستر ہی اسے یاد نہ تھا
میں نے دِکھلائے اسے نقش و نگارِ ہستی
اپنی معدومی کا پیکر ہی اسے یاد نہ تھا
رُخِ حیرانئ منظر ہی اُسے یاد نہ تھا
میرے آئینے کا جوہر ہی اسے یاد نہ تھا
یاد تھیں اس کو سب آرام گہیں دُنیا کی
مُجھ شبستان کا بستر ہی اسے یاد نہ تھا
میں نے دِکھلائے اسے نقش و نگارِ ہستی
اپنی معدومی کا پیکر ہی اسے یاد نہ تھا
اپنے حصار جسم سے باہر بھی دیکھتے
ہم آئینے کے سامنے ہو کر بھی دیکھتے
عکس فلک سے ٹوٹتا کیسے جمود آپ
پتھر گرا کے جھیل کے اندر بھی دیکھتے
کرتے پلٹ کے اپنے ہی سائے سے گفتگو
صحرا میں زرد رنگ سمندر بھی دیکھتے
دل میں خیال کچھ ہے زباں پر ہے کچھ بیاں
کیوں کر بھلا کسی کی رذالت ہو یوں عیاں
خلوت میں یوں تو ہوتے ہیں دونوں بہت قریب
لیکن حجاب رہتا ہے دونوں کے درمیاں
اسلاف جس کے سوز سے رہتے تھے مضطرب
پیدا ہمارے دل میں کہاں ہیں وہ گرمیاں
خیال آتا ہے جس دم دل میں چبھتا ہے سناں ہو کر
کہ کیوں ہے قبضۂ اغیار میں ہندوستاں ہو کر
شہیدانِ وطن کا خون اک دن رنگ لائے گا
چمن میں پھوٹ کر نکلے گا رنگِ ارغواں ہو کر
فقط دار و رسن ہی کامیابی کا ذریعہ ہے
مقاصد تک یہ پہنچائے گی ہم کو نردباں ہو کر
کتنا فرق ہو گا
تم سُہاگ کے بستر پر فتح مندی سے چُور ہو جاؤ گے
اپنا جھنڈا گاڑو گے
بے خبر سو جاؤ گے
اور میں
میرے ہاتھ ٹھنڈے رہیں گے
دل کو پابند رنگ و بُو کر کے
آبرُو کھوئی آرزُو کر کے
خود کو کھو بیٹھے اپنے ہاتھوں سے
کیا ملا ان کی جستجُو کر کے
خدمتِ خلق سے ہوئے مخدوم
آبرُو پائی آبرُو کر کے
یوں سانس لے رہے ہیں کہ جینا محال ہے
زندہ ہیں پھر بھی ہم، یہ ہمارا کمال ہے
تُو لاکھ شیشہ گر سہی، اتنا مجھے بتا
جائے گا کیسے شیشۂ دل میں جو بال ہے
پھر زخمِ دل سے تازہ لہو پھُوٹنے لگا
باقی ابھی تو مرحلۂ اندمال ہے