رنگ کو رقص میں لاؤں کیسے
پھول کو تتلی بناؤں کیسے🌹
آگ خُوشبو میں لگاؤں کیسے
شاخ صندل کی جلاؤں کیسے
روشنی آنکھ کو نم رکھتی ہے
یاد کا دِیپ 🛋 جلاؤں کیسے
رنگ کو رقص میں لاؤں کیسے
پھول کو تتلی بناؤں کیسے🌹
آگ خُوشبو میں لگاؤں کیسے
شاخ صندل کی جلاؤں کیسے
روشنی آنکھ کو نم رکھتی ہے
یاد کا دِیپ 🛋 جلاؤں کیسے
کوئی بھی بات نہ تھی واردات سے پہلے
مِری ہی ذات تھی اس کائنات سے پہلے
کچھ اتنا ظُلم ہوا ہے کہ مجھ کو لگتا ہے
کوئی بھی رات نہ گُزری تھی رات سے پہلے
اگر وہ چھُوٹ گیا بات یہ نئی تو نہیں
مِلے تھے ہات بہت اس کے ہات سے پہلے
یہ وہ جہاں نہیں جہاں آزار ہی نہ ہو
گلزار کون ہے وہ جہاں خار ہی نہ ہو
اچھا ہے ان سے کوئی سروکار ہی نہ ہو
جن دوستوں میں جوہر ایثار ہی نہ ہو
اس بزم شب کے حشر پہ روتا ہے وقت بھی
جو انقلاب دہر سے بیدار ہی نہ ہو
یہ بات یہاں کی ہے نہ یہ بات وہاں کی
دلدادہ ہوں بچپن سے ہی میں اردو زباں کی
ہم شعر کہا کرتے ہیں غم اور خوشی کے
باتیں نہیں کرتے ہیں فقط باغِ جِناں کی
دنیا کے حوادث ہمیں سونے نہیں دیتے
"دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی"
دنیا کی محبت میں مِلا کچھ بھی نہیں ہے
دو روز کی ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
کہتے تھے کہ ہم بچھڑے تو مر جائیں گے دونوں
بچھڑے ہیں تو دونوں کو ہوا کچھ بھی نہیں ہے
انصاف کا پیمانہ تو ہے زندہ ضمیری ⚖
بے حِس ہوں تو پھر اچھا بُرا کچھ بھی نہیں ہے
وہ چشمِ فسُوں کار تماشائی ہو جیسے
لگتا ہے کہ صدیوں کی شناسائی ہو جیسے
یہ آنکھ سے گِرتے ہوئے آنسو تو نہیں ہیں
اک یاد جزیرے سے سے پلٹ آئی ہو جیسے
گویائی بھی ایسی تھی کہ سُنتے رہیں چُپ چاپ
خاموشی بھی ایسی تھی کہ گویائی ہو جیسے
خواب تلاشی
وہ میری آنکھوں میں
بھاری جُوتوں سمیت آ کر
یہ پُوچھتے ہیں
یہ عکس کیا ہے
کہاں سے آیا ہے
کیسے منظر سے