جوان موسم تھا ہم نے یہ دل کسی کے آنگن میں رکھ دیا تھا
یہ دل کے نازک معاملے ہیں ہمارا اس میں قصور کیا تھا
بچھڑ کے مجھ سے وہ مطمئن ہے یہ ساری جھوٹی کہانیاں ہیں
میں جب بھی گزرا تھا اس گلی سے تو وہ دریچہ کُھلا ہوا تھا
خدا گواہ کہ مہ رخوں سے کبھی تقاضے کیے نہ شکوے
وفائیں کرنا، دعائیں دینا ہی ہم فقیروں کا مدعا تھا