کیسے حالات میں آ گئے، کیا کریں
ناتواں غم، تناور ہوئے، کیا کریں
یہ ہوا جانفزائی کا پیغام تھی
کیا کریں،ب جھ رہے ہیں دیے، کیا کریں
بے خبر تھے تو ہر کام آسان تھا
اب خبر کا تحیّر بہے، کیا کریں
کیسے حالات میں آ گئے، کیا کریں
ناتواں غم، تناور ہوئے، کیا کریں
یہ ہوا جانفزائی کا پیغام تھی
کیا کریں،ب جھ رہے ہیں دیے، کیا کریں
بے خبر تھے تو ہر کام آسان تھا
اب خبر کا تحیّر بہے، کیا کریں
اسمِ ظاہر سے تِرے جو کہ خبردار ہوا
تا ابد دِید سے پھر اپنی وہ بیزار ہوا
تیری وحدت میں خریداری کا دعویٰ کس کو
حُسن کا اپنے تُو ہی آپ خریدار ہوا
خُود کو کھو کے نہ لیا جس نے کبھی نام اللہ
حق اگر پُوچھو وہی مخزن اسرار ہوا
کہا جا چکا ہے سنا جا چکا ہے
مقدر میں کیا کیا لکھا جا چکا ہے
میں بیٹھا یہاں ہوں مگر یہ مرا دل
مدینے، نجف، کربلا جا چکا ہے
تجھے زعم ہے پارسائی کا لیکن
نگاہوں سے تجھ کو چھوا کا چکا ہے
ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
سہمی ہوئی آہوں نے
سب کچھ کہہ ڈالا
خاموش نگاہوں نے
ہمت رائے شرما
بد بلا ہے یہ بد بلا ہے عشق
پری خانم! بہت برا ہے عشق
حسن دریا ہے اے بوا خضرو
دل کی کشتی کا ناخدا ہے عشق
اے عزیز! دن پڑھا زلیخا نے
دل ہی یوسف تو بھیڑیا ہے عشق
خلش و سوز دلفگار ہی دی
دل میں شمشیر آبدار ہی دی
بے وفا سے معاملے کے لیے
اک طبیعت وفا شعار ہی دی
کیفیت دل کی بیان کرنے کو
ایک آواز دلفگار ہی دی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بُلند تر ہے فلک سے وقارِ کُوئے رسولﷺ
نہ کیوں ہو عرش نشیں خاکسارِ سُوئے رسولﷺ
بہ التجا متمنی ہے چند پھولوں کی
بہارِ خُلد نے دیکھی بہار کوئے رسولﷺ
وہ خاک رہتی ہے تاصبح کہکشاں بہ کنار
جہاں پہ خاک ہو خاکسارِ کوئے رسولﷺ