Friday, 27 March 2026

منظر دیکھے ان کے حرم کے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


منظر دیکھے ان کے حرم کے

بھاگ جگے ہیں چشمِ نم کے

نورِ اول ذاتِ محمدﷺ

وہ مصداق ہیں لوح و قلم کے

ان کے شہر کے ذرے ہوتے

بوسے لیتے ان کے قدم کے

اتنی چاہت سے بھلا کون صدا دے گا تجھے

 اتنی چاہت سے بھلا، کون صدا دے گا تجھے

جو بھی تو مانگےگا دل سے، وہ خدا دے گا تجھے

رات بھر نیند نہ جانے، کیوں گریزاں مجھ سے

وحشت دل کے لیيے کون، دوا دے گا مجھے

کوئی انساں نہ رہا، سب ہی تھے حیوان یہاں

آخر کار وہ تنگ آ کے، وبا دے گا تجھے

چپ چاپ سہو شکوہ نا کرو

 عزمِ مصمم


چپ چاپ سہو

شکوہ نا کرو

کوئی کچھ بھی کہے

سب سنتے رہو

جس حال میں

جینا مشکل ہو

تم اپنے آپ پر احسان کیوں نہیں کرتے

 تم اپنے آپ پر احسان کیوں نہیں کرتے

کیا ہے عشق تو اعلان کیوں نہیں کرتے

سجائے پھرتے ہو محفل نہ جانے کس کس کی

کبھی پرندوں کو مہمان کیوں نہیں کرتے

وہ دیکھتے ہی نہیں جو ہے منظروں سے الگ

کبھی نگاہ کو حیران کیوں نہیں کرتے

ہم پیڑ کی شاخوں کو ہلانے میں لگے ہیں

 ہم پیڑ کی شاخوں کو ہلانے میں لگے ہیں

جھولی میں کوئی پھول گرانے میں لگے ہیں

کچھ میں بھی تو جینے کے بہت حق میں نہیں ہوں

کچھ دکھ بھی مرا ہاتھ بٹانے میں لگے ہیں

اُس پار کے لوگوں سے ہمیں بھی ہے عقیدت

ہم پھول نہیں اشک بہانے میں لگے ہیں

Thursday, 26 March 2026

عاشق کوئی سنا ہے کہ محفل میں آ گیا

 کیسا یہ خوف شہر سے جنگل میں آ گیا

بُو اپنی گُل سمیٹ کے کونپل میں آ گیا

مُٹھی میں بھر کے ریت اُڑا دی فقیر نے

سارے کا سارا دشت ہی ہلچل میں آ گیا

مجھ سے بچھڑ کے اس کی بھی حالت بُری ہوئی

ہر ایک اشک دونوں کا بادل میں آ گیا

کتنی حسیں ہے شام چلو شاعری کریں

 کتنی حسیں ہے شام چلو شاعری کریں

چھوڑو یہ تام جھام چلو شاعری کریں

اس شغل میں نہ وقت نہ موسم کی شرط ہے

ہو صبح یا کہ شام چلو شاعری کریں

مرحوم شاعروں کا جو مل جائے کچھ کلام

سرقے کا لے کے جام چلو شاعری کریں