شدت غم کا اب تو یہ عالم ہے
لب تو ہنستے ہیں، آنکھ پُرنم ہے
ہے تری یاد مونس شبِ غم
تُو نہیں سامنے تو کیا غم ہے
عشق محزوں کی خیر یو یا رب
آج ان کا مزاج برہم ہے
شدت غم کا اب تو یہ عالم ہے
لب تو ہنستے ہیں، آنکھ پُرنم ہے
ہے تری یاد مونس شبِ غم
تُو نہیں سامنے تو کیا غم ہے
عشق محزوں کی خیر یو یا رب
آج ان کا مزاج برہم ہے
جائیے شیخ جی جائیے
منہ ہمارا نہ کھلوائیے
تاؤ کے بدلے غم کھائیے
ڈھب شریفانہ اپنائیے
پیار جیسی کوئی شے نہیں
پیار سے سب سے پیش آئیے
اندھیرا جھیل لیتا ہوں ستارے چھوڑ دیتا ہوں
میں طوفاں بھانپ کر پھر بھی کنارے چھوڑ دیتا ہوں
مجھے تنہا ہی رہنا ہے کسی سے کچھ نہیں کہنا
جو دل بیزار ہو جائے تو سارے چھوڑ دیتا ہوں
زیادہ دیر دل اک کام میں ٹک کر نہیں لگتا
میں پنجرہ کھول دیتا ہوں غبارے چھوڑ دیتا ہوں
وہ دل نہیں رہا وہ محبت نہیں رہی
اب زندگی سے کوئی شکایت نہیں رہی
اس بار کوئی زخم بھی گہرا نہیں لگا
مجھ پر ستمگروں کی عنایت نہیں رہی
جائیں کہاں سمیٹ کے اپنی اداسیاں
کہتے تھے گھر جسے وہ عمارت نہیں رہی
دھوپ کو سایۂ دیوار نہیں مانتا میں
زندگی تجھ کو وفادار نہیں مانتا میں
اس سے انسان کو جینے کا ہنر آتا ہے
گردشِ وقت کو بے کار نہیں مانتا میں
جاں بچانے کے لیے قتل کیا ہو جس نے
ایسے قاتل کو گنہ گار نہیں مانتا میں
دل کی لگی کو آج بجھا کر رہیں گے ہم
ہر دل کی آرزو کو مٹا کر رہیں گے ہم
سینے سے بار بار لگا کر رہیں گے ہم
ان کو گلے کا ہار بنا کر رہیں گے ہم
وقتِ سحر کی آس لگا کر رہیں گے ہم
طولِ شبِ فراق گھٹا کر رہیں گے ہم
مہمان دل میں پھر کوئی خانہ خراب ہے
آنکھیں شراب و جام ہیں چہرہ کتاب ہے
تعریف ہو گئی تِری،۔ تُو کامیاب ہے
میں کیا کروں کہ تُو بھی مِرا انتخاب ہے
وہ قہر ہے، ثواب ہے، کوئی عذاب ہے
لیکن جناب! تیرِ نظر کامیاب ہے