زعفرانی کلام ہاتھ کی روانی
یہ ہے آج ہی رات کی داستاں
کہ تھے میہماں میرے اک مہرباں
دکھاؤں میں حضرت کے کھانے کا ڈھنگ
لکھوں ان کے لقمے اڑانے کا رنگ
پلیٹوں میں ہلچل مچاتا ہوا
وه چمچے سے چمچا لڑاتا ہوا
زعفرانی کلام ہاتھ کی روانی
یہ ہے آج ہی رات کی داستاں
کہ تھے میہماں میرے اک مہرباں
دکھاؤں میں حضرت کے کھانے کا ڈھنگ
لکھوں ان کے لقمے اڑانے کا رنگ
پلیٹوں میں ہلچل مچاتا ہوا
وه چمچے سے چمچا لڑاتا ہوا
افیمی سو رہا ہے
افیمی ظلم کو تقدیر کہہ کر سو رہا ہے
سو ہرن کو شیر کھا جائے
عقابوں کے جھپٹتے غول سہمے میمنے کو نوچتے جائیں
کوئی بکری کسی چیتے کو
تھوڑی گھاس کے بدلے سبھی اعضا کھلا بیٹھے
ہزاروں مکھیوں کی سخت محنت سے بنا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جہالت مٹ گئی ساری، قرینے میں نظام آیا
جہاں میں جب بصد عزت مرا خیرالانامؐ آیا
زمانے میں نبیؐ کی ہو گئی جلوہ گری جس دم
زمیں کو آسماں کا با ادب اس دم سلام آیا
صدائیں گونج اٹھیں ہر طرف ان کی ولادت پر
مبارک ہو مبارک وہ رسولوں کا امامﷺ آیا
رقص
کھولتے آب میں
رقص کرتے ہوئے بلبلے
قابلِ غور ہیں
کیا تپش ہے جو ان کو بناتی ہے اور
اتنا مجبور کرتی ہے کہ
ناچتے ناچتے
ہم نے پہلا جرم اپنی پیدائش کے دن کیا تھا
ہمارے سانس لینے سے پہلے
چیخ کر رونے پر پابندی لگا دی گئی تھی
چپ میں لپیٹ کر ہمیں ہماری ماؤں کے حوالے کر دیا گیا
اس سے پہلے انہیں
بے آواز گیت یاد کروائے گئے
اسی باعث زیادہ ہنس رہا ہوں
میں بالکل بے ارادہ ہنس رہا ہوں
سجے ہیں زخم سینے پر ہزاروں
مگر میں حسبِ وعدہ ہنس رہا ہوں
نہیں ہے مطمئن منزل پہ کوئی
میں ہو کر وقفِ جادہ ہنس رہا ہوں
دیکھے گا کوئی خاک یہ ملبہ وجود کا
کس کو کھنڈر ملے گا مِری باش و بود کا
الجھا ہوا خدا بھی ہے دام دوام میں
ہے سلسلہ حدود سے باہر قیود کا
اک عمر کی بسی ہوئی خوشبو نکل گئی
اعلان کر رہا ہے تعفّن وجود کا