دوستی میں دل جو ٹوٹا دشمنی اچھی لگی
روشنی میں لٹ گئے تو تیرگی اچھی لگی
دیکھ کر اونچے مکانوں میں امیروں کے چلن
ہم کو اپنی جھونپڑی میں مفلسی اچھی لگی
زندگی سے کوئی دلچسپی نہ تھی ہم کو مگر
حادثے میں بچ گئے تو زندگی اچھی لگی
دوستی میں دل جو ٹوٹا دشمنی اچھی لگی
روشنی میں لٹ گئے تو تیرگی اچھی لگی
دیکھ کر اونچے مکانوں میں امیروں کے چلن
ہم کو اپنی جھونپڑی میں مفلسی اچھی لگی
زندگی سے کوئی دلچسپی نہ تھی ہم کو مگر
حادثے میں بچ گئے تو زندگی اچھی لگی
اتنی گستاخی تو اے صیاد کر لیتا ہوں میں
قید غم سے روح کو آزاد کر لیتا ہوں میں
بیٹھے بیٹھے تجھ کو جس دم یاد کر لیتا ہوں میں
مایۂ صبر و سکوں برباد کر لیتا ہوں میں
وائے نادانی کہ پیدا کر کے تجھ سے بد ظنی
آپ اپنے دل کو خود ناشاد کر لیتا ہوں میں
نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہے
امید وصل ہی پر ان دنوں گزارا ہے
نہ دیکھوں تجھ کو تو آتا نہیں کچھ آہ نظر
تو میری پتلی کا آنکھوں کی یار تارا ہے
مجھے جو بام پہ شب کو بلائے ہے وہ ماہ
مگر عروج پہ کیا ان دنوں ستارا ہے
مجھے ٹالنے کی خاطر تجھے چاہیے بہانہ
تجھے کب روا تھا مجھ سے یہ سلوک عامیانہ
تِری ہر ادا انوکھی مِرے قلب و جاں میں اترے
مِری روح کی غذا ہے تِرے ذکر کا ترانہ
کوئی جرم کر کے ثابت مجھے پھر سزا سناتا
نہیں میری جان ہر گز یہ طریق عادلانہ
دربارِ شاہ میں یوں نہ سر کو جھکا کے بیٹھ
اے دوست اٹھ فقیر کی محفل میں آ کے بیٹھ
مت رو، گزار دھوپ کو بادل کی اوٹ سے
بن جائے گی دھنک تُو ذرا مسکرا کے بیٹھ
پاتے ہیں ماہتاب کی لو سے مٹھاس پھل
نادان اس کی نظروں سے نظریں ملا کے بیٹھ
سوچا ہے کئی بار مگر اب تو یقیں ہے
ہر طرح سے دل میرا تِرے زیرِ نگیں ہے
کچھ پل کے لیے سوچا کہ میں تجھ کو بھلا دوں
آواز یہ اک آئی کہ کیا جینا نہیں ہے؟
تم اس کو محبت کہو یا دے دو کوئی نام
بے ساختہ در تیرے جھکی میری جبیں ہے
نظر سے جام پیہم پی رہا ہوں
عجب عالم ہے جس میں جی رہا ہوں
گزر آیا جنوں کی منزلوں سے
اب اپنے چاکِ دل کو سی رہا ہوں
خوشا قسمت غرورِ عشق بن کر
نگاہوں میں خود اپنی ہی رہا ہوں