عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محمدﷺ کا نگر ہے اور میں ہوں
درِ آقاﷺ پہ سر ہے اور میں ہوں
جبیں پر ہے غبارِ خاکِ طیبہ
نظاروں پر نظر ہے اور میں ہوں
تصورکے چمن زاروں میں دیکھا
مِرا نورِ نظر ہے، اور میں ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محمدﷺ کا نگر ہے اور میں ہوں
درِ آقاﷺ پہ سر ہے اور میں ہوں
جبیں پر ہے غبارِ خاکِ طیبہ
نظاروں پر نظر ہے اور میں ہوں
تصورکے چمن زاروں میں دیکھا
مِرا نورِ نظر ہے، اور میں ہوں
ایک نڈھال نظم
تالیوں کی گونج
زائل ہو چکی
ہال خالی ہو چکا
داد کے بکسے اُلٹ کر چل دئیے
لوگ میری چیختی نظموں کی
بولی دے چکے
جب تغافل کا سلسلہ ہی نہیں
عشق کا پھر تو کچھ مزہ ہی نہیں
آنکھوں آنکھوں میں گفتگو تو ہوئی
کچھ زباں سے کہا گیا ہی نہیں
موسمِ گُل نے لی ہے انگڑائی
وحشتِ دل تجھے پتہ ہی نہیں
ہمارا غم نہ رہا غم خوشی خوشی نہ رہی
وہ کیا گئے کہ محبت کی زندگی نہ رہی
الٹ سکے نہ کسی مہہ جبیں کے رخ سے نقاب
ہمارے ذوق نظر میں یہ بات بھی نہ رہی
میں ان سے آج سکون حیات مانگ نہ لوں
پھر اس روش پہ توجہ رہی رہی نہ رہی
دیکھ ناصح یہ اثر ہے تِرے سمجھانے کا
جانبِ دشتِ جنوں رُخ ہُوا دیوانے کا
دل ازل ہی سے پرستار ہے میخانے کا
ساقیا! مے کا میں طالب ہوں نہ پیمانے کا
اپنی سرشار نگاہوں سے پِلا، اے ساقی
بھول کر نام نہ لوں پھر کبھی میخانے کا
پھر تیز ہوا چلتے ہی بے کل ہوئیں شاخیں
کس درد کے احساس سے بوجھل ہوئیں شاخیں
کیا سوچ کے رقصاں ہیں سر شام کھلے سر
کس کاہش بے نام سے پاگل ہوئیں شاخیں
گرتے ہوئے پتوں کی تڑپتی ہوئی لاشیں
صد طنطنۂ زیست کا مقتل ہوئیں شاخیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پہلا ثنا گوئے نبیؐ رحمان ہے، ایمان ہے
سر چشمۂ نعتِ نبیؐ قرآن ہے، ایمان ہے
سرکارﷺ کو اللہ کا عرفان ہے، ایمان ہے
اس بات کا سو فیصدی ایقان ہے، ایمان ہے
وحئ الہٰی میں تردد کا گزر ممکن نہیں
سرکارؐ جو بھی آپ کا فرمان ہے، ایمان ہے