Thursday, 23 April 2026

اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے

 اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے

عشق کی راکھ کو سینے سے لگایا ہم نے

درد کی آگ کو شعلوں سے شناسا کر کے

لذت ہجر کی حدت کو چھپایا ہم نے

روح کی پیاس بجھانے کا ارادہ باندھا

وادیٔ عشق میں اک پھول کھلایا ہم نے

بے قراری بھی ہے قرار بھی ہے

 بے قراری بھی ہے قرار بھی ہے

ہر سکون جانِ اضطرار بھی ہے

کسی پیماں شکن کے وعدوں پر

کیا کریں ہم کو اعتبار بھی ہے

دل میں ہے خواہشِ ستائش بھی

حسن کا ذکر ناگوار بھی ہے

Wednesday, 22 April 2026

میری فریاد کے انداز اڑائے کس نے

 مصرعۂ طرح  پر ایک غزل کے چند اشعار 

"گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مِرے صیاد کی ہے"


میری فریاد کے انداز اُڑائے کس نے 

ہاں میں سمجھا یہ صدا بُلبلِ ناشاد کی ہے 

قبر پر بھی میری آئے ہو تو ہیں ساتھ رقیب 

حد بھی ظالم! ستم و جور کی بیداد کی ہے 

دیکھ عشّاق کی فوجوں کو ذرا بام پہ آ 

یہ حکومت فقط اک حُسنِ خُدا داد کی ہے 

درون ذات ہوس کا اسیر زندہ ہے

 درُونِ ذات ہوس کا اسِیر زندہ ہے

کمانِ دستِ زُلیخا میں تِیر زندہ ہے

زمانہ ساز مِری انجمن میں آتے ہیں 

سرِ مزارِ جنُوں اک فقِیر زندہ ہے

نشان مِٹتے رہے آندھیوں کے موسم میں

تِرے غُبار سے کھینچی لکِیر زندہ ہے

افسوس مرے ہاتھ سے بن کر نہیں بنتا

 افسوس مِرے ہاتھ سے بن کر نہیں بنتا

میں روز بناتا ہوں وہ پیکر نہیں بنتا

دیوار و در و بام بنائے تو ہیں لیکن

دیوار و در و بام سے تو گھر نہیں بنتا

حالات بناتے ہیں اسے جیسا بنائیں

میں چاہتا ہوں جیسا یہ منظر نہیں بنتا

وابستہ تیری یاد ہے یوں زندگی کے ساتھ

 وابستہ تیری یاد ہے یوں زندگی کے ساتھ

جیسے اک اجنبی ہو کسی اجنبی کے ساتھ

غم بھی تِرا شریک رہا ہے خوشی کے ساتھ

اشک آ گئے ہیں آنکھ میں اکثر ہنسی کے ساتھ

ساقی! مجھے شراب نہ دے اس کا غم نہیں

لیکن مجھے جواب نہ دے بے رخی کے ساتھ

ہم تیرے لیے آئے ہیں ہستی میں عدم سے

 ہم تیرے لیے آئے ہیں ہستی میں عدم سے

اے جانِ جہاں اب نہ چھپا خود کو تو ہم سے

اک چشم ِ کرم ہم پہ بھی اے خسروِ خوباں

زندہ ہے دل و روح تیرے حسن کے دم سے

تم چھوڑ گئے راہ میں اس آبلہ پا کو

روتا ہے لپٹ کر وہ تیرے نقشِ قدم سے