اب کیسا گِلہ، اُن سے شکایت کیسی؟
لکھ دی ہے مِرے خُوں سے عبارت کیسی
ہیں رنج و غم و درد مجاور میرے
کیسا ہے کرم ان کا، عنایت کیسی
سر خم ہے یہاں صرف صداقت کی کمی ہے
یہ دَیر و حرم کیسے، عبادت کیسی
اب کیسا گِلہ، اُن سے شکایت کیسی؟
لکھ دی ہے مِرے خُوں سے عبارت کیسی
ہیں رنج و غم و درد مجاور میرے
کیسا ہے کرم ان کا، عنایت کیسی
سر خم ہے یہاں صرف صداقت کی کمی ہے
یہ دَیر و حرم کیسے، عبادت کیسی
محرومیوں کا مُجھ کو جو عادی بنا دیا
میں پُوچھتا ہوں تُجھ سے دیا بھی تو کیا دیا
ہاں اے ہجوم اشک! یہ اچھا نہیں ہُوا
تُو نے ہمارے ضبط کا رُتبہ گھٹا دیا
کیسے اماں ملے گی ہمیں تیز دُھوپ سے
سُورج نے ہر درخت کا سایہ جلا دیا
بھُوکے بچوں کے نوالوں میں نظر آتی ہے
زندگی ہاتھ کے چھالوں میں نظر آتی ہے
اپنی اُنگلی سے زمانے کو نچانے والے
تیری دُنیا بھی وبالوں میں نظر آتی ہے
تیرے بارے میں جو سوچوں تو کبھی اے جاناں
تیری تمثیل غزالوں میں نظر آتی ہے
چہرے پہ کوئی رنگ ٹھہرنے نہیں دیتا
غم مجھ کو کسی طور سنورنے نہیں دیتا
ہر لحظہ تِری یاد کا بِپھرا ہوا طُوفاں
دریائے محبت کو اُترنے نہیں دیتا💢
اے شہرِ سلاسل! تِرا انصاف کا وعدہ
پژمُردہ اُمیدوں کو بھی مرنے نہیں دیتا
کتنا رنجیدہ تھا وہ اب کے جدا ہوتے ہوئے
جانے اس نے کیا کہا تھا مجھ سے پھر روتے ہوئے
اب تو وہ منظر بھی جیسے ہو گیا ہے خواب خواب
دیکھنا آغوشِ شب میں چاند کو سوتے ہوئے
کھلنے لگتے تھے مِرے احساس کے صحرا میں پھول
مسکرا دیتا تھا وہ جب بھی خفا ہوتے ہوئے
ہم کو معلوم ہے، کیا دستِ حِنائی دے گا
قُرب بوئیں گے تو وہ فصلِ جُِدائی دے گا
جتنے بیٹھے ہیں مُنڈیروں پہ شکستہ پر ہیں
اُڑنے والوں کو بھلا کون رہائی دے گا
آنکھ نِیلم کی، بدن کانچ کا، دل پتھر کا
اپنے شہکار کو کون اِتنی صفائی دے گا
اب غم ہے جُدائی کا نہ مِلنے کی خُوشی ہے
وہ یہ بھی نہ سمجھیں کہ محبت میں کمی ہے
ہنگامے ہزاروں تھے میری ذات کے باہر
اس گھر میں سوا میرے کوئی تھا نہ کوئی ہے
رہ رہ کے مہک اُٹھتا ہے تنہائی کا صحرا
محسوس یہ ہوتا ہے مِرے ساتھ کوئی ہے