Sunday, 4 October 2026

کہ میں سادہ سی لڑکی تھی

 جوانی کتنی چھوٹی ہے


کہ میں سادہ سی لڑکی تھی

نہ بنتی تھی سنورتی تھی

مِرا بس دوش اتنا ہے

کہ میں خوابوں پہ مرتی تھی

نہ اشکوں سے مراسم تھے

میں ہر حالت پہ ہسنتی تھی

لاکھ میں نے تجھے چھپانا ہے

 لاکھ میں نے تجھے چھپانا ہے

تیری خوشبو نے پھیل جانا ہے

ہم کو سچ بولنے کی عادت ہے

ہم نے نقصان تو اٹھانا ہے

ہم سلامت رہیں گے باہر سے

ہم نے اندر سے ٹوٹ جانا ہے

غلط ہے ماضی کسی کا کسی کا حال غلط

 تمام عمر ہی کھاتا رہا جو مال غلط

بتاؤ کیسے نہ اٹھے گی اس کی آل غلط

کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہیں بزمِ خوباں میں

غلط ہے ماضی کسی کا کسی کا حال غلط

تمہارے حسن کو تشبیہ دوں تو کس شے سے

تمہارے حسن نے کر دی ہے ہر مثال غلط

Saturday, 3 October 2026

میں دل کے درد میں تڑپنے والا

 جہاں میں رہتا ہوں

وہاں استنبول کے پانیوں کو چوم کر ہوائیں آتی ہیں

یونس ایمرے کی داستان محبت میں

خالدہ ادیب خانم کے رتجگوں میں گونجتی

سنگدل قدموں کی آہٹیں، اداس صفحوں کی سرسراہٹیں سناتی ہیں

گھنے جنگلوں میں بارش کی بوندیں اذیت میں سسکتی ہیں

تمہاری بزم میں محروم جام ہم بھی تھے

 تمہاری بزم میں محروم جام ہم بھی تھے

فقط رقیب نہیں تشنہ کام ہم بھی تھے

فقیہ شہر نے گمراہ کر دیا ورنہ

صفت شناس حلال و حرام ہم بھی تھے

عمامہ بند و قبا پوشگاں کا ذکر ہی کیا

ترے حضور میں با احترام ہم بھی تھے

رات بنجر ہوئی کوئی اکھوا نہیں پھوٹتا

 رات بنجر ہوئی


کوئی اکھوا نہیں پھُوٹتا

رات کی زرد ٹہنی کی کمزور بانہیں کسی پھُول کی آرزو سے تہی

رات بنجر ہوئی کوکھ جیسی ہوئی، یعنی بے آرزو

کوئی ہنگامہ خیزی نہ سیلِ بلا خیز کا سامنا

ایک تیرہ شبی جس میں ذوقِ نمو کا گُزر تک نہیں

Friday, 2 October 2026

جاؤ دل پہ بندش لگا سکتا ہے کون

 جہاں تم نے چھوڑا ہے


جاؤ

دل پہ بندش لگا سکتا ہے کون؟

جاؤ اسی کی طرف جاؤ

جس کے خوابوں آنکھیں مخمور ہیں تمہاری

جاؤ اسی کی طرف جاؤ

میں تو یہیں ہوں