روز میں ٹوٹ پھوٹ جاتا ہوں
روز پھر خود کو میں بناتا ہوں
روز میں خود سے روٹھ جاتا ہوں
اور پھر خود کو میں مناتا ہوں
روز اک کام کرنا ہوتا ہے
روز وہ کام بھول جاتا ہوں
روز میں ٹوٹ پھوٹ جاتا ہوں
روز پھر خود کو میں بناتا ہوں
روز میں خود سے روٹھ جاتا ہوں
اور پھر خود کو میں مناتا ہوں
روز اک کام کرنا ہوتا ہے
روز وہ کام بھول جاتا ہوں
زلف کے سنورنے میں دیر کتنی لگتی ہے
آدمی کے مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
آنکھ سے بھلا دل کا فاصلہ ہی کتنا ہے
سیڑھیاں اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے
پتھروں پہ چلتا ہوں کانچ کا بدن لے کر
کرچیاں بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
یہ شیر ہم پہ جھپٹتا ہے، کھال نوچتا ہے
ہمارے جسم کو تیرا خیال نوچتا ہے
کبھی سکون کی صُورت بھی خواب لگتی ہے
کہ نیند آتے ہی کوئی ملال نوچتا ہے
یہ کس مقام پہ لے آئی زندگی ہم کو
ہمارا ظرف ہمارے سوال نوچتا ہے
مان لیں گے وہ ہماری التجا لگتا نہیں
معاف کر دیں گے ہماری ہر خطا لگتا نہیں
کہہ سکیں سچ بات کو وہ ہر بشر کے سامنے
آج کل لوگوں میں اتنا حوصلہ لگتا نہیں
صبح ہوتے ہی بدل جاتے ہیں ان کے فیصلے
دیرپا ہو گا کوئی بھی فیصلہ لگتا نہیں
لوگ پتھر کے ہیں پتھر ہی دکھائی دے گا
ہر طرف زخموں کا منظر ہی دکھائی دے گا
تشنگی آج کنارے سے گلے ملتی ہے
خواب میں اب تو سمندر ہی دکھائی دے گا
آگ نفرت کی جو سینے میں بھڑک اٹھے گی
شہر میں جلتا ہوا گھر ہی دکھائی دے گا
نظر بھر کی خطا میں عشق کر جانے کی جرأت ہے
تمہیں بس دیکھنا تھا، اب سنور جانے کی جرأت ہے
نہیں ہے فُرصتِ غم پھر تمہیں اپنا بنانے کی
مگر اب خامشی میں گُھٹ کے مر جانے کی جرأت ہے
میں اُٹھ کر آ گیا تھا جوگ میں یونہی تمہارے ہاں
میں ٹِلہ جوگیاں کا ہوں سو گھر جانے کی جرأت ہے
آہ بے تاثیر ہے نالہ رسا کوئی نہیں
درد وہ مجھ کو مِلا جس کی دوا کوئی نہیں
دیکھتا ہوں راہ میں مُڑ مُڑ کے ہر چہرے کو میں
ہمسفر کتنے ہیں لیکن ہمنوا کوئی نہیں
اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا عذابِ زندگی
آنکھ سب رکھتے ہیں لیکن دیکھتا کوئی نہیں