تھی کوئی تمثیل گُل شاخِ گُماں سے بے خبر
عکس تھا ٹھہرا ہوا آبِ رواں سے بے خبر
جانے کیسی دُھن میں تھے ہم، بے خطر چلتے رہے
غلغلۂ شہر غوغائے سگاں سے بے خبر
غم سے بھر آئے اگر تو خُود سے ٹکراتا ہے دل
ٹُوٹتا ہے یہ سبو شیشہ گراں سے بے خبر
تھی کوئی تمثیل گُل شاخِ گُماں سے بے خبر
عکس تھا ٹھہرا ہوا آبِ رواں سے بے خبر
جانے کیسی دُھن میں تھے ہم، بے خطر چلتے رہے
غلغلۂ شہر غوغائے سگاں سے بے خبر
غم سے بھر آئے اگر تو خُود سے ٹکراتا ہے دل
ٹُوٹتا ہے یہ سبو شیشہ گراں سے بے خبر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہمیشہ ایک نیا راستہ وہاں سے مِلا
چراغِ نقشِ کفِ پا تِرا جہاں سے ملا
یہ کِن اُجالوں کی بستی کا تُو مسافر تھا
کہ آفتاب تِری گردِ ارواں سے ملا
خلا رہا نہ کہیں خلق اور خدا میں کوئی
کہ یوں زمیں کو دیا تُو نے آسماں سے ملا
لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا
اِذن ملنا غمِ دل کہنے کا، آسان ہے کیا
کسی کی یاد مِرے دل میں اذاں دیتی ہے
میرے دل میں جو بسا ُہے وہ مسلمان ہے کیا
آگ لگتی ہے تو ہوتا ہے دُھواں بھی ہر سُو
اب تلک میری محبت سے وہ انجان ہے کیا
انجانے رشتوں کا موسم آیا ہے
کون ہے اپنا یوں بھی کون پرایا ہے
دھرتی کے سُورج نے آگ لگائی ہے
آسمان پر انسانوں کا سایا ہے
ہم مخلوق میں بہتر ہیں، یہ دعویٰ ہے
ہم نے ہی آئینوں کو شرمایا ہے
وہ دکھے گا ضرور دیکھیں تو
وہ وہاں اور دور دیکھیں تو
دل کہیں بعد ہے مگر پہلے
ہے نظر کا قصور دیکھیں تو
جس نے دیکھا ہے آنکھ بھر کے مجھے
اس نظر کا غرور دیکھیں تو
موسم ہجرت میں جو اپنوں سے بیگانے رہے
وہ شب ظلمت میں کتنے جانے پہچانے رہے
ہوش والوں کو تماشے دیکھتے ہی منتظر
دل پہ پتھر رکھ کے ہم اک عمر دیوانے رہے
فاتح شب کی ہوس میں روشنی پہ مر مٹے
خودکشی کی آڑ میں بے خوف پروانے رہے
زوال عظمت انساں کا مرثیہ ہوں میں
سر کشیدہ پہ دستار بے انا ہوں میں
سگ زمانہ سے آگے نکل گیا ہوں میں
اب اپنے سامنے تنہا کھڑا ہوا ہوں میں
مرے وجود میں در آیا کیسا سناٹا
کہ ریگزار میں گم گشتہ اک صدا ہوں میں