Tuesday, 20 October 2026

یہ مرے خواب کی تعبیر نہیں ہو سکتی

 یہ مِرے خواب کی تعبِیر نہیں  ہو سکتی

آپ کے ہاتھ میں شمشِیر نہیں ہو سکتی

مجھ پہ تنہائی میں حیرت کا غضب کُھلتا ہے

اب مِرے درد کی تشہِیر نہیں ہو سکتی

دیکھ کر شہر کو وِیران یہ سُورج نے کہا

وقت کے پاؤں میں زنجِیر نہیں ہو سکتی

تری پناہ سے نکلا تو بے نشاں آیا

 نکل کے تارِ بدن سے کنارِ جاں آیا

جو چھُوٹا کون و مکاں سے تو لامکاں آیا

نکل کے تارِ بدن سے قریبِ جاں آیا

جو چھُوٹا کون و مکاں سے تو لامکاں آیا

پِگھل گئے در و دِیوار سوزِ خلوت سے

نہ ایک آنسُو دمِ مرگِ نگہاں آیا

دلبر کا کیا گلہ کوئی غمخوار بھی نہیں

 دِلبر کا کیا گِلہ کوئی غمخوار بھی نہیں

پہلو میں آج تو دلِ ❤ بِیمار بھی نہیں

مرنا وہ جس کو حِیلہ و آزار بھی نہیں

قاتل وہ جس کے ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

تسکینِ دل محال ہے حالت کہے بغیر

اس پر سِتم کہ طاقتِ گُفتار بھی نہیں

اسیر لمحۂ موجود ہو گئے ہم بھی

 اسیر لمحۂ موجُود ہو گئے ہم بھی

خُود اپنی ذات کے سائے میں کھو گئے ہم بھی

لگاؤ سنگ صدا شیشۂ سکوت پہ آج

زمانے والو! پُکارو کہ سو گئے ہم بھی

لگے تو شاخ پہ اک برگِ زرد کی مانند

گِرے تو گردِ حقارت میں کھو گئے ہم بھی

کتنا بڑا مکان ہے چھوٹا ہے کتنا دل

 کتنا بڑا مکان ہے چھوٹا ہے کتنا دل

دولت کی ریل پیل ہے کھوٹا ہے کتنا دل

کیسی یہ چُپ لگی ہے قیامت کے شور میں

دُنیا کے اس ہجوم میں تنہا ہے کتنا دل

کچھ اس طرح ملال کے بادل گُزر گئے

اشکوں کی برشگال میں بھیگا ہے کتنا دل

نکتہ چینی جو فن کا ڈھب ٹھہرے

 نکتہ چینی جو فن کا ڈھب ٹھہرے

پھر کہاں ہم سا بے ادب ٹھہرے

زندگی تُو نے کیا دیا ہم کو

ہم تِرے در پہ بے سبب ٹھہرے

کیسے کہتا میں دل کی بات اُنہیں

وہ مِرے آس پاس کب ٹھہرے

حیرتوں کے سلسلے بڑھنے لگے

 حیرتوں کے سلسلے بڑھنے لگے

ہم چلے تو راستے بڑھنے لگے

زندگی نے اس قدر دھوکے دئیے

زندگی کے تجربے بڑھنے لگے

رفتہ رفتہ ہم ہوئے عاشق مزاج

رفتہ رفتہ تبصرے بڑھنے لگے