شان نیاز عشق دکھاتے چلے گئے
ہم بتکدوں کو کعبہ بناتے چلے گئے
دیتا ہے کون بادۂ سرجوش بے طلب؟
ان کا کرم کہ جام بڑھاتے چلے گئے
میں جلوہ جلوہ کچھ انہیں پہچانتا گیا
وہ پردہ پردہ سامنے آتے چلے گئے
شان نیاز عشق دکھاتے چلے گئے
ہم بتکدوں کو کعبہ بناتے چلے گئے
دیتا ہے کون بادۂ سرجوش بے طلب؟
ان کا کرم کہ جام بڑھاتے چلے گئے
میں جلوہ جلوہ کچھ انہیں پہچانتا گیا
وہ پردہ پردہ سامنے آتے چلے گئے
کون کہتا ہے غم مصیبت ہے
یہ بھی مولا کی خاص رحمت ہے
لوگ کیوں زندگی پہ مرتے ہیں
میرے حق میں تو یہ قیامت ہے
حیلہ جوئی ہے اس کی رحمت کی
کب عبادت کوئی عبادت ہے
اک بڑے خواب کی فریاد بھی ہو سکتی ہے
زندگی موت سے آزاد بھی ہو سکتی ہے
پیاس اک پیاس جسے ماں کی دُعا ملتی پے
شہرِ مکٌہ کی وہ بُنیاد بھی ہو سکتی ہے
تُو مکمل سی کمی ہے کہ محبت ہے؟
یا فقیری کی یہ رُوداد بھی ہو سکتی ہے؟
نہ ارماں لے کے آیا ہوں نہ حسرت لے کے آیا ہوں
دل بے تاب میں تیری محبت لے کے آیا ہوں
نگاہوں میں ترے جلووں کی کثرت لے کے آیا ہوں
یہ عالم ہے کہ اک دنیائے حیرت لے کے آیا ہوں
لبوں پر خامشی آنکھوں میں آنسو دل میں بے تابی
میں ان کی بزم عشرت سے قیامت لے کے آیا ہوں
آج بے مہر و ستمگار نے پوچھا ہے مزاج
فخر سے عرشِبریں پر مِرا پہونچا ہے مزاج
کبھی بے گانہ وشی اور مدارات کبھی
کبھی عجب قسم کا اس شوخ نے پایا ہے مزاج
خاک میں مل کے ہوئے خاک بالآخر جن کا
عُجب و پندار سے افلاک پہ دیکھا ہے مزاج
مِرا مولیٰ منور یوں زمیں کی خاک کرتا ہے
کہ پل میں کم نظر کو صاحبِ ادراک کرتا ہے
وہی تاریک ذہنوں میں اُگاتا ہے نئے سُورج
وہی روشن دماغوں کو خس و خاشاک کرتا ہے
صبا کو جو بنا دیتا ہے صرصر اک اشارے میں
چراغوں کو وہی تو سرکش و بے باک کرتا ہے
خوبروئی بھی دلآزار بھلا کیا ہو گی
ہر گلی مصر کا بازار بھلا کیا ہو گی
اب تیری یاد بھی اک بجھتے دیے کی لو ہے
دل میں پھر روشنی بیدار بھلا کیا ہو گی
ٹھہرے پانی کا بھی ہم ساتھ نہیں دے سکتے
چڑھتے دریاؤں کی رفتار بھلا کیا ہو گی