Sunday, 8 February 2026

جشن بپا ہے کٹیاؤں میں اونچے ایواں کانپ رہے ہیں

 جشن بپا ہے کٹیاؤں میں، اونچے ایواں کانپ رہے ہیں

مزدروں کے بگڑے تیور دیکھ کے سلطاں کانپ رہے ہیں

جاگے ہیں افلاس کے مارے، اُٹھے ہیں بے بس دکھیارے

سینوں میں طوفاں کا تلاطم، آنکھوں میں بجلی کے شرارے

چوک چوک پر گلی گلی میں سرخ پھریرے لہراتے ہیں

مظلوموں کے باغی لشکر سیل صفت اُمڈے آتے ہیں

آپ کا اسم گرامی اس قدر اچھا لگے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آپﷺ کا اسمِ گرامی اِس قدر اچھا لگے

باغ میں سب سے حسیں جیسے شجر اچھا لگے

عرش کی جانب سفر ہو یا مدینے کی طرف

آپﷺ کا عزمِ سفر اور ہمسفر اچھا لگے

احترام اُن کا بجا اپنی جگہ لیکن مجھے

اپنے ماں اور باپ سے اپنا عمر اچھا لگے

یعنی بے گھر ہوا میں شہر میں اک گھر لے کر

 لوگ کیوں ڈھونڈ رہے ہیں مجھے پتھر لے کر

میں تو آیا نہیں کردار پیمبر لے کر

مجھ کو معلوم ہے معدوم ہوئی نقد وفا

پھر بھی بازار میں بیٹھا ہوں مقدر لے کر

روح بے تاب ہے چہروں کا تاثر پڑھ کر

یعنی بے گھر ہوا میں شہر میں اک گھر لے کر

چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا

 زعفرانی کلام


چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا

شیخ و مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جا

چار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ

کھا ڈبل روٹی، کلرکی کر، خوشی سے پھول جا

یہ موجودہ طریقے راہی ملکِ عدم ہوں گے

نئی تہذیب ہو گی اور نئے ساماں بہم ہوں گے

Saturday, 7 February 2026

میکدۂ نگاہ سے جام پلا گیا کوئی

 زعفرانی کلام


مے کدۂ نگاہ سے جام پلا گیا کوئی

آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے الو بنا گیا کوئی

جذبۂ عشق کی کہاں قدر جہاں میں آج کل

سنتے ہی صرف مدعا تھانے چلا گیا کوئی

کوئے صنم میں گم تھا میں اپنے تصورات میں

ہارن بجا کے کار کا مجھ کو ڈرا گیا کوئی

لوگ ہم سے روز کہتے ہیں یہ عادت چھوڑئیے

 زعفرانی کلام


لوگ ہم سے روز کہتے ہیں یہ عادت چھوڑئیے

یہ تجارت ہے خلافِ آدمیت، چھوڑئیے

اس سے بد تر لت نہیں ہے کوئی یہ لت چھوڑئیے

روز اخباروں میں چھپتا ہے کہ رشوت چھوڑئیے


کس کو سمجھائیں، اسے کھو دیں تو پھر پائیں گے کیا

ہم اگر رشوت نہیں لیں گے تو پھر کھائیں گے کیا

گلے بازی کے لیے ملک میں مشہور ہیں ہم

 زعفرانی کلام


گلے بازی کے لیے ملک میں مشہور ہیں ہم

شعر کہنے کا سوال آئے تو مجبور ہیں ہم

اپنے اشعار سمجھنے سے بھی معذور ہیں ہم

فن سے غالب کے بہت دور بہت دور ہیں ہم

اپنی شہرت کی الگ راہ نکالی ہم نے

کسی دیواں سے غزل کوئی چرا لی ہم نے