کسی کے عشق کِسی کے گمان میں رہ کر
زمیں کو بھول گیا آسمان میں رہ کر
ابھی ہے وقت کے ہم اپنا فیصلہ کر لیں
بہت خسارے کیے درمیان میں رہ کر
کے ہم وہ تیر ہیں مقصد سے ہٹ نہیں سکتے
نشانہ سادھتے ہیں ہم کمان میں رہ کر
کسی کے عشق کِسی کے گمان میں رہ کر
زمیں کو بھول گیا آسمان میں رہ کر
ابھی ہے وقت کے ہم اپنا فیصلہ کر لیں
بہت خسارے کیے درمیان میں رہ کر
کے ہم وہ تیر ہیں مقصد سے ہٹ نہیں سکتے
نشانہ سادھتے ہیں ہم کمان میں رہ کر
وہ میرا ہو کے مِری دسترس سے باہر ہے
مجھی میں رہتا ہے اور میرے بس سے باہر ہے
وہ نُور ہے تو نہایا نہیں بدن اس میں
وہ حرف ہے تو ابھی دسترس سے باہر ہے
میں ڈھونڈتا ہوں جسے اور ہے وہ آوازہ
وہ اک صدا جو بساطِ جرس سے باہر ہے
کوئی کِرن نہ کِرن کا کہیں نشاں ہے میاں
یہ روشنی ہے تو پھر تیرگی کہاں ہے میاں
نمازیوں کو بتاؤ،۔ نمازیوں سے کہو
یہ مسجدوں کی نہیں دشت کی اذاں ہے میاں
ہمارے عہد کی راتیں ہیں چاندنی سے تہی
ہمارے عہد کا سُورج دُھواں دُھواں ہے میاں
دیکھے نہ فقیری کو کوئی شک سے ہماری
دیوار میں در بنتا ہے دستک سے ہماری
بازار میں بیٹھے ہیں لیے ٹوٹا ہوا دل
اب بحث تو بنتی نہیں گاہک سے ہماری
ہم خاک نشینوں کی سمجھ میں نہیں آتا
اس شہر کو کیا ملتا ہے چشمک سے ہماری
فلک پر اک ردائے شام رکھ کر آ گیا ہوں
ستاروں کو سحر کے نام رکھ کر آ گیا ہوں
میں کیا اٹھا ہوں محفل سے کہ اب کے روئے محفل
خموشی سے ڈھکا کہرام رکھ کر آ گیا ہوں
اور اب چاہو تو ٹھکرا دو مِری یہ بھی جسارت
تمہارے در سے کوئی کام رکھ کر آ گیا ہوں
ٹُوٹے ہوئے دِلوں کی اِجازت نہیں مِلی
ہم کو بڑے گھروں کی محبت نہیں ملی
آسائشیں تو دشت کی ساری ملیں مجھے
آوارگی میں قیس کی وحشت نہیں ملی
کیسے تجھے بتاتی کہاں رہ گئی تھی میں
اک لمحہ تیری یاد سے فُرصت نہیں ملی
تیری آنکھوں میں جھلملاؤں کہیں
ساتھ رہ کر نظر نہ آؤں کہیں
اور مت فاصلے بڑھا مجھ سے
میں تُجھے بھُول ہی نہ جاؤں کہیں
جانے کس موڑ پر ضرورت ہو
آ بھی جانا جو میں بلاؤں کہیں