Monday, 1 June 2026

خواب قربان کیا ہے میں نے

 خواب قُربان کِیا ہے میں نے 

خُود کو وِیران کیا ہے میں نے 

کچھ بھی باقی نہ بچا اپنے لیے

جب بھی مِیزان کیا ہے میں نے 

عشق کی راہ میں  چلتے چلتے

اپنا نُقصان کیا ہے میں نے

ان سے کیا پوچھتے ہو لوگ تو کم جانتے ہیں

 ان سے کیا پوچھتے ہو لوگ تو کم جانتے ہیں

اپنے حالات کو اچھی طرح ہم جانتے ہیں

ہم نے جانا ہے تجھے اپنی محبت کا خُدا

لوگ نادان ہیں پتھر کا صنم جانتے ہیں

تُو نے منہ پھیر لیا راہ میں ہم سے جب کہ

ہم تِری آنکھ کا جُھکنا بھی ستم جانتے ہیں

بلا عنوان افسانہ کہے گا تم بھی سن لینا

 بِلا عُنوان افسانہ کہے گا تم بھی سُن لینا

خِرد کی بات دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا

رموزِ عشق دیوانہ کہے گا تم بھی سن لینا

وہ کعبہ کو صنم خانہ کہے گا تم بھی سن لینا

دلِ غم آشنا جب تنگ آ کر زندگانی سے

شبِ فُرقت کا افسانہ کہے گا تم بھی سن لینا

تم نے پکارا اور ہم چلے آئے

 فلمی گیت


تم نے پکارا اور ہم چلے آئے

دل ہتھیلی پر لے آئے رے

تم نے پکارا اور ہم چلے آئے

جان ہتھیلی پر لے آئے رے

تم نے پکارا ۔۔۔۔

Sunday, 31 May 2026

یہ دن تو جاگتی راتوں کے دن ہیں

 یہ دن تو جاگتی راتوں کے دن ہیں

ادھوری سی ملاقاتوں کے دن ہیں

مجھے معلوم ہے جھُوٹی ہیں پھر بھی

یہ تیری دلنشیں باتوں کے دن ہیں

میں خُود شرما رہی ہوں سوچ کر بھی

یہ کیسی ان کہی باتوں کے دن ہیں

خود کو دے کر سزا بھی دیکھیں گے

 خُود کو دے کر سزا بھی دیکھیں گے

تُجھ سے ہو کر جُدا بھی دیکھیں گے

کیسے کرتے ہیں ہم سے صَرفِ نظر

ان کی ہم یہ ادا بھی دیکھیں گے

اب کے ساون کی سُرمئی رُت میں

جُگنوؤں کی ضیا بھی دیکھیں گے

زباں دراز سے حسن کلام کرتے ہوئے

 زباں دراز سے حُسنِ کلام کرتے ہوئے 

میں تھک گیا ہوں اسے رام رام کرتے ہوئے 

وہ کر رہا ہے غلط، عِلم اس کو بھی ہے یہ

وہ رو رہا ہے مجھے اِنہدام کرتے ہوئے

ہُوا تھا حُکم؛ بُجھا دو ابھی چراغوں کو

کہ کوئی دیکھ نہ لے ٭انہزام کرتے ہوئے