دشتِ تخیّلات میں جب بھی سفر ہوا
جانے کہاں کہاں سے ہمارا گزر ہوا
لوگو کی تلخیوں کا کچھ ایسا اثر ہوا
دل کے ہر ایک گوشے میں رقصِ شرر ہوا
اس کی طرف سے میں تو ہوا بے خبر مگر
میری طرف سے وہ نہ کبھی بے خبر ہوا
دشتِ تخیّلات میں جب بھی سفر ہوا
جانے کہاں کہاں سے ہمارا گزر ہوا
لوگو کی تلخیوں کا کچھ ایسا اثر ہوا
دل کے ہر ایک گوشے میں رقصِ شرر ہوا
اس کی طرف سے میں تو ہوا بے خبر مگر
میری طرف سے وہ نہ کبھی بے خبر ہوا
لوگ مِلتے ہیں گلے یوں دلِ بیزار کے ساتھ
جیسے دیوار مِلی ہو کسی دیوار کے ساتھ
شہر میں کچھ تو ہیں اس بات پہ دُشمن میرے
اس کی دیوار ملی ہے مِری دیوار کے ساتھ
چھت کے بارے میں بھی ہم سوچ ہی لیتے شاید
ایک دیوار ہی بن جاتی جو دیوار کے ساتھ
اے کاش
مجھ سے اب دیکھی نہیں جاتیں
تیری نمناک آنکھیں
تیرے یہ بے تاب آنسو
مجھ کو کر دیتے ہیں بے کل
دل میرا کہتا ہے مجھ سے
کانچ کے خواب
جب تِرے کانچ کے
خواب کی کِرچیاں
میرے دل کی زمیں پر
پھواروں کی مانند برسنے لگیں
اور دھنسنے لگیں
ان کی تاثیر سے
جہاں سے دوشِ عزیزاں پہ بار ہو کے چلے
یہ سُوئے مُلکِ عدم شرمسار ہو کے چلے
ہمارے دیکھنے کو خُوش ابھی سے ہیں اعداء
ذرا نہ دیکھ سکے،۔ اشکبار ہو کے چلے
پہنچ ہی جاؤ گے مے خانہ میں خضر تم بھی
ہمارے ساتھ جو یاروں کے یار ہو کے چلے
کچھ تغافل ہے تو کچھ ناز و اداکاری ہے
قہر کا قہر ہے دلداری کی دلداری ہے
التفات نگہ ناز سے بچ کر رہنا
جذبۂ عشق تِرے قتل کی تیاری ہے
شفقتیں زندہ ہیں اخلاص کی بنیادوں پر
اب بھی کچھ لوگوں میں پہلے سی رواداری ہے
چراغ وقت کے ہاتھوں میں جل کے گِرتے ہیں
مِرے خیال پہ موسم بدل کے گرتے ہیں
لبوں پہ برف کی تہہ، آنکھ میں دہکتا شور
سوال شام کے کاسے میں ڈھل کے گرتے ہیں
خموشیوں میں ہیں مدفون کتنے صدیوں کے گِیت
زباں جو کھولوں تو لمحے پِگھل کے گرتے ہیں