Tuesday, 28 July 2026

اے دو جہاں کے مالک اعلیٰ ہے نام تیرا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

 

اے دو جہاں کے مالک اعلیٰ ہے نام تیرا

پر دل کی بستیوں میں دیکھا مقام تیرا

موقوف کب ہے جن و انس و ملائکہ پر

طائر بھی نام لیتے ہیں صبح و شام تیرا

تخصیص نعمتوں میں ابرار کی نہیں کچھ

اشرار پر بھی ہر دم ہے لطف عام تیرا

مانگتے ہیں تو ذرا سا تو نہیں مانگتے ہیں

 مانگتے ہیں تو ذرا سا تو نہیں مانگتے ہیں

اے سمندر! تِرا دریا تو نہیں مانگتے ہیں

کیا خبر دُھوپ نہ دے جائے وہ خیرات کے ساتھ

لوگ دِیوار سے سایہ تو نہیں مانگتے ہیں

وحشتیں بانٹتے پھرتے ہیں تِری گلیوں میں

بدلے میں کوئی سِکہ تو نہیں مانگتے ہیں

خدا معلوم کھاتے ہیں یہ آٹا کون سے مل کا

 مریدو یہ مُٹاپا دِیدنی ہے شیخِ کامِل کا

خُدا معلوم کھاتے ہیں یہ آٹا کون سے مِل کا

رہا مصروف پھر بھی رات بھر اختر شماری میں

اثر اُلٹا ہوا اے ڈاکٹر! مجھ پر تِری پِل کا

حیاتِ نو مبارک، اپنا ماضی یاد کر لیلیٰ

تِری موٹر کا شوفر، سارباں تھا تیری محمل کا

تخریب باغباں کی حقیقت چھپی رہی

 تخریبِ باغباں کی حقیقت چُھپی رہی

جب تک نقاب گُل کی چمن پر پڑی رہی

اُمید ناخُداؤں سے جب تک بندھی رہی

تب تک ہماری ناؤ بھنور میں پڑی رہی

جو جبر و اختیار کے بس میں پڑی رہی

کہیے وہ زندگی بھی کوئی زندگی رہی

درد دل کو داستاں در داستاں ہونے تو دو

 دردِ دل کو داستاں در داستاں ہونے تو دو

شہرِ قاتل میں ذرا امن و اماں ہونے تو دو

میری آہِ نِیم شب منزل نمائے شوق ہے

نالۂ دل کو رحیلِ کارواں ہونے تو دو

اور بھی نا قدردانئ ہُنر یاد آئے گی

ہمنشینوں کو ملال رفتگاں ہونے تو دو

قاتل یہاں بھی بھائی کا بھائی ہے دوستو

 قاتل یہاں بھی بھائی کا بھائی ہے دوستو

دنیا یہ کیسے موڑ پہ آئی ہے دوستو

مہر و وفا سے اب ہمیں رغبت نہیں رہی

محفل کدورتوں کی سجائی ہے دوستو

لُٹنے پہ گھر ہمارا وہ ایسے ہیں مطمئن

اُمید ان کی جیسے بر آئی ہے دوستو

امید کے چراغ سب بجھا کے ہم رکے نہیں

 اُمید کے چراغ سب بُجھا کے ہم رُکے نہیں

یوں عشق میں بساطِ جاں گنوا کے ہم رکے نہیں

تمہارا وصل کھینچ کر تو لا سکے نہ زندگی 

تمہارے ہِجر کو گلے لگا کے ہم رکے نہیں

سوال اور جواب کے، عذاب سے رِہا ہوئے

ورق ورق کتابِ جاں جلا کے ہم رکے نہیں