Friday, 22 May 2026

وقت رخصت جو اثر تھا وہ اثر باقی ہے

 وقتِ رُخصت جو اثر تھا وہ اثر باقی ہے

کُھل گئی آنکھ مگر خواب کا ڈر باقی ہے

مِل گئے یوں تو ہمیں پھر در و دیوار نئے

گھر کے لُٹ جانے کا احساس مگر باقی ہے

کیسے ٹوٹے گا تِرے چاہے سے رشتہ دل کا

جب تلک تیغ ہے تیری، مِرا سر باقی ہے

کب عہد وفا ہو گا اے جان وفا جاناں

 کب عہدِ وفا ہو گا اے جانِ وفا جاناں 

کب برسے گی شانوں پہ زُلفوں کی گھٹا جاناں 

اُمید کے زِنداں سے کب خواب رِہا ہوں گے 

اُترے گا خلاؤں سے کب رزقِ بقاء جاناں 

مٹی مِری دھرتی کے رنگوں کو ترستی ہے 

اُبھرے گا ہتھیلی پہ کب رنگِ حِنا جاناں 

جب میں دل کا حساب لکھتا ہوں

 جب میں دل کا حساب لِکھتا ہوں

غم کو اپنے گُلاب لکھتا ہوں

کوئی اُمید جب نہیں ہوتی

خُود کے خط کا جواب لکھتا ہوں

اتنا مایوس اس نے کر ڈالا

اس کا جلوہ حجاب لکھتا ہوں

اسے پانے کی کرتے ہو دعا تو

 اسے پانے کی کرتے ہو دُعا تو

مگر اس سے بھی کل جی بھر گیا تو

یقیناً آج ہم اک ساتھ ہوتے

اگر کرتے ذرا سا حوصلہ تو

چلے ہو رہنما کر عِلم کو تم

تمہیں اس عِلم نے بھٹکا دیا تو

ترے بدن کو ہوا چھو کے جب بھی آتی ہے

 تِرے بدن کو ہوا چھُو کے جب بھی آتی ہے

غزل کا کوئی حسیں شعر گُنگناتی ہے

زمیں ترانۂ دوزخ ابھی بھی گاتی ہے

نئی صدی ہے کہ شہنائیاں بجاتی ہے

یہ اور میرے ارادوں کو پُختہ کر دے گی

جو برق میرے نشیمن پہ دندناتی ہے

Thursday, 21 May 2026

نظر نظر اذیتیں معاملے عذاب کے

 نظر نظر اذیتیں مُعاملے عذاب کے

حقیقتوں میں گُھل گئے جو ذائقے تھے خواب کے

کوئی بھی دور بے بسی کا رُخ نہیں بدل سکا

ضعیفی میں ہی کٹ گئے وہ دن سبھی شباب کے

نہ پیٹ بھر کے کھا سکے نہ پی سکے نہ جی سکے

گنوا دی عُمر فرق میں گنُاہ اور ثواب کے

آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہم

 آپ سے شکوۂ بیداد نہیں کرتے ہم

ہونٹ سی لیتے ہیں فریاد نہیں کرتے ہم

مُژدۂ ذوق اسیری کہ وہ فرماتے ہیں

قیدِ غم سے تجھے آزاد نہیں کرتے ہم

مُسکرا دیتے ہیں جب کوئی بلا آتی ہے

کسی صُورت غمِ اُفتاد نہیں کرتے ہم