لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا
اِذن ملنا غمِ دل کہنے کا، آسان ہے کیا
کسی کی یاد مِرے دل میں اذاں دیتی ہے
میرے دل میں جو بسا ُہے وہ مسلمان ہے کیا
آگ لگتی ہے تو ہوتا ہے دُھواں بھی ہر سُو
اب تلک میری محبت سے وہ انجان ہے کیا
لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا
اِذن ملنا غمِ دل کہنے کا، آسان ہے کیا
کسی کی یاد مِرے دل میں اذاں دیتی ہے
میرے دل میں جو بسا ُہے وہ مسلمان ہے کیا
آگ لگتی ہے تو ہوتا ہے دُھواں بھی ہر سُو
اب تلک میری محبت سے وہ انجان ہے کیا
انجانے رشتوں کا موسم آیا ہے
کون ہے اپنا یوں بھی کون پرایا ہے
دھرتی کے سُورج نے آگ لگائی ہے
آسمان پر انسانوں کا سایا ہے
ہم مخلوق میں بہتر ہیں، یہ دعویٰ ہے
ہم نے ہی آئینوں کو شرمایا ہے
وہ دکھے گا ضرور دیکھیں تو
وہ وہاں اور دور دیکھیں تو
دل کہیں بعد ہے مگر پہلے
ہے نظر کا قصور دیکھیں تو
جس نے دیکھا ہے آنکھ بھر کے مجھے
اس نظر کا غرور دیکھیں تو
موسم ہجرت میں جو اپنوں سے بیگانے رہے
وہ شب ظلمت میں کتنے جانے پہچانے رہے
ہوش والوں کو تماشے دیکھتے ہی منتظر
دل پہ پتھر رکھ کے ہم اک عمر دیوانے رہے
فاتح شب کی ہوس میں روشنی پہ مر مٹے
خودکشی کی آڑ میں بے خوف پروانے رہے
زوال عظمت انساں کا مرثیہ ہوں میں
سر کشیدہ پہ دستار بے انا ہوں میں
سگ زمانہ سے آگے نکل گیا ہوں میں
اب اپنے سامنے تنہا کھڑا ہوا ہوں میں
مرے وجود میں در آیا کیسا سناٹا
کہ ریگزار میں گم گشتہ اک صدا ہوں میں
کچھ عشقِ بُتاں کچھ فکرِ جہاں دل یاس کا مارا کیا کہیے
کشتی کو تلاطم کا خطرہ، اور دُور کِنارہ کیا کہیے
اپنوں کے ہمیشہ جور و سِتم غیروں کا سہارا کیا کہیے
کس طور کیا ہے دنیا میں دو روز گُزارا کیا کہیے
بھٹکا ہوا آنسُو پلکوں کی چلمن میں لرزتا ہے ایسے
جیسے کہ گھٹا کے آنچل میں اُلجھا ہوا تارا کیا کہیے
آموختے کا جال زباں سے لپٹ گیا
بدلی ہوا تو حرف کا پانسہ پلٹ گیا
مجھ سے نکل کے ہیبت شب کا تھا سامنا
سایہ وفور خوف سے پلٹا چمٹ گیا
صد تلخیوں کی شاخ پہ بیٹھی تھی موج نیم
برگد سے آ کے جھونکا ہوا کا پلٹ گیا