Sunday, 20 September 2026

کچھ عشق بتاں کچھ فکر جہاں

 کچھ عشقِ بُتاں کچھ فکرِ جہاں دل یاس کا مارا کیا کہیے

کشتی کو تلاطم کا خطرہ، اور دُور کِنارہ کیا کہیے

اپنوں کے ہمیشہ جور و سِتم غیروں کا سہارا کیا کہیے

کس طور کیا ہے دنیا میں دو روز گُزارا کیا کہیے

بھٹکا ہوا آنسُو پلکوں کی چلمن میں لرزتا ہے ایسے

جیسے کہ گھٹا کے آنچل میں اُلجھا ہوا تارا کیا کہیے

آموختے کا جال زباں سے لپٹ گیا

 آموختے کا جال زباں سے لپٹ گیا

بدلی ہوا تو حرف کا پانسہ پلٹ گیا

مجھ سے نکل کے ہیبت شب کا تھا سامنا

سایہ وفور خوف سے پلٹا چمٹ گیا

صد تلخیوں کی شاخ پہ بیٹھی تھی موج نیم

برگد سے آ کے جھونکا ہوا کا پلٹ گیا

تم سفینۂ وفا ہم بادباں بن جائیں گے

 تم سفینۂ وفا ہم بادباں بن جائیں گے

تم گُلوں کی آبرو ہم آشیاں بن جائیں گے

آستانِ رب کے سجدے تم کرو گے رات دن

دیکھنا اس در کے ہم ہی آستاں بن جائیں گے

شوق سے سنتے ہو بیٹھے داستاں تم دوستو

آنے والے کل میں ہم خود داستاں بن جائیں گے

حضرت دل جناب کی خاطر

 حضرتِ دل جناب کی خاطر

عاقبت ہے عذاب کی خاطر

ترکِ لذّات اور میں، توبہ

ایک روزِ حساب کی خاطر

حضرتِ شیخ آپ بھی پی لیں

اک ذرا سی ثواب کی خاطر

Saturday, 19 September 2026

کرنی ہو گر تو کیجیو جام و سبو کی بات

 کرنی ہو گر تو کیجیو جام و سبو کی بات

مت لائیو زباں پہ مگر آرزو کی بات 

مقدور بھی یہی ہے کہ پردے پڑے رہیں 

اپنی کہاں بساط کریں رو بہ رو کی بات

دیکھیں گے پھر سے بزم میں جلوہ نما اسے

سنتے رہیں گے بیٹھ کے اس ماہ رو کی بات

پھولوں میں جھلک حسن رخ یار کی نکلی

 پھولوں میں جھلک حسن رخ یار کی نکلی

ہم خوش ہیں کوئی شکل تو دیدار کی نکلی

الفاظ سے خوشبو تِرے کردار کی نکلی

جب بات مسیحا تِرے گفتار کی نکلی

نیلام ہوئے چاند ہر اک شہر میں لیکن

رونق نہ کہیں مصر کے بازار کی نکلی

وہ ایک شخص جو پورا مرا نہیں بنتا

 وہ ایک شخص جو پورا مِرا نہیں بنتا

خدا تو بنتا ہے پر آسرا نہیں بنتا

کہیں پہ واسطہ ہونے کے باوجود سُنو

کسی حوالے سے بھی واسطہ نہیں بنتا

ہماری آنکھ سے دل تک رسائی کیسے ہو

عطا بغیر یہاں راستہ نہیں بنتا