Wednesday, 20 May 2026

جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے

 کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے

نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے

سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے

ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے

رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے

جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے

ہوش میں آ کہ بے خبر دور جنوں گزر گیا

 ہوش میں آ کہ بے خبر دورِ جنوں گُزر گیا

وہ نہ اب اس کی رہگزر دور جنوں گزر گیا

کھینچتے تھے شباب میں اشہب وقت کی زمام

شوق جوان ہے مگر دور جنوں گزر گیا

شانۂ فکر لایا ہوں چھین کے حادثات سے

گیسوئے زندگی سنور دور جنوں گزر گیا

درد جب آنکھ سے ٹپکے گا تو آنسو ہو گا

 درد جب آنکھ سے ٹپکے گا تو آنسو ہو گا

اور وہ آنسو  مِری رات کا جگنو ہو گا💔

کیا خبر تھی کہ صبا کا وہ سبک رو جھونکا

مجھ تلک آئے گا تو آگ بھری لُو ہو گا

میری آنکھوں میں سمٹ جائے تو وہ جسم گُلاب

مِری سانسوں میں بکھر جائے تو خُوشبو ہو گا

ایک کے بعد ایک کئی موتیں مر کر

 ایک کے بعد ایک کئی موتیں مر کر

اب میں زندہ ہو گیا ہوں

ایک میں ہی نہیں

یہاں میرے ارد گرد

اور بہت سے

کئی بار

میرے لفظوں سے میری تحریروں سے کیا ہونا ہے

 میرے لفظوں سے

میری تحریروں سے

کیا ہونا ہے؟ کُچھ بھی نہیں

ان نظموں میں

ان ساری کتابوں میں

ان باتوں میں کیا ہے؟

عمر رفتہ کا یہ خلاصہ ہے

 عُمرِ رفتہ کا یہ خلاصہ ہے

زِندگانی فقط تماشہ ہے 

آج کا ڈُوبتا ہوا یہ دن

ہجر کی عمر میں اضافہ ہے 

کیا بتاؤں میں اس کے بارے میں 

خوبصورت وہ بے تحاشہ ہے 

رنگ کو رقص میں لاؤں کیسے

 رنگ کو رقص میں لاؤں کیسے

پھول کو تتلی بناؤں کیسے🌹

آگ خُوشبو میں لگاؤں کیسے

شاخ صندل کی جلاؤں کیسے

روشنی آنکھ کو نم رکھتی ہے

یاد کا دِیپ 🛋 جلاؤں کیسے