Thursday, 10 September 2026

خوبروئی بھی دلآزار بھلا کیا ہو گی

 خوبروئی بھی دلآزار بھلا کیا ہو گی

ہر گلی مصر کا بازار بھلا کیا ہو گی

اب تیری یاد بھی اک بجھتے دیے کی لو ہے

دل میں پھر روشنی بیدار بھلا کیا ہو گی

ٹھہرے پانی کا بھی ہم ساتھ نہیں دے سکتے

چڑھتے دریاؤں کی رفتار بھلا کیا ہو گی

فغاں کے ساتھ ترے راحت قرار چلے

 فغاں کے ساتھ تِرے راحت قرار چلے

نوا گرانِ وفا ہمتوں کو ہار چلے

یہ کیا کہ پھول کِھلے اور زخم رسنے لگے

ملے سکوں بھی اگر بادِ نو بہار چلے

یہ ملتفت سی نگاہیں فروغ‌ جام کے ساتھ

چلے یہ دور چلے اور بار بار چلے

Wednesday, 9 September 2026

لہو سے تر جو خنجر ہیں یہ نفرت کی تمازت ہے

 لہو سے تر جو خنجر ہیں یہ نفرت کی تمازت ہے

کہ اب جنگل سے بھی بدتر مِرے شہروں کی حالت ہے

کسی دن توڑنے والوں کو یہ احساس ہو اے کاش

مہکتا پھول ٹہنی پر محبت کی علامت ہے

بڑائی ہے میاں ساری کی ساری عقل و دانش سے

وگرنہ آدمی میں کب پہاڑوں جیسی طاقت ہے

زمینی خلد سے رخصت ہوئی

 مادرِ مخلوق غم آسا؛ مدر ٹریسا


زمینی خُلد سے رخصت ہوئی مادر

بشر زادی

فرشتہ خصلتوں والی

مسیحا دردمندوں کی

دریدہ جسم کا مرہم

بِلکتی روح کی تسکین

رفتہ رفتہ بن نہ جائے پیار افسانہ ترا

 رفتہ رفتہ بن نہ جائے پیار افسانہ ترا

دیکھ کر کہتے ہیں مجھ کو لوگ دیوانہ ترا

شمع کی لو پر ہی جل جانا جسے مقصود ہے

وہ کہیں کیوں جاں بچائے ہٹ کے پروانہ ترا

ہم ترے در سے چلے جائیں گے اک دن نا مراد

کیا کہے گا پھر تجھے ہر اپنا بیگانہ ترا

صدقے والشمس کے ماتھے پہ نکلتا ہوا دن

 صدقے والشمس کے ماتھے پہ نکلتا ہوا دن

صدقے والليل کے شانوں پہ بکھرتی ہوئی شام

میلی اس درجہ ہوئی تین ہی پہروں میں کہ بس

شب سے پہنی نہ گئی دن کی اتاری ہوئی شام

سُرمئی جسم کے اک ہجر کے مارے ہوئے چاند

اور اسی جسم کے اک لمس پہ واری ہوئی شام

دن گزرا آشفتہ سر خاموش ہوئے

 دن گزرا آشفتہ سر خاموش ہوئے

شام ہوئی اور بام و در خاموش ہوئے

شام ہوئی اور سورج رستہ بھول گیا

کیسے ہنستے بستے گھر خاموش ہوئے

بولتی آنکھیں چپ دریا میں ڈوب گئیں

شہر کے سارے تہمت گر خاموش ہوئے