ایسا ہوا کہ آج پھر آئے وہ خواب میں
یہ خاکسار رہ گیا اُلجھا حساب میں
جس دن سے بن گیا ہوں میں ہڈی کباب میں
وہ شوخ پڑ گیا ہے عجب پیچ و تاب میں
دل کے بجائے کیسے وہ پہلو میں آ گیا
اے شیخ جی پڑھا یہ سبق کس کتاب میں
ایسا ہوا کہ آج پھر آئے وہ خواب میں
یہ خاکسار رہ گیا اُلجھا حساب میں
جس دن سے بن گیا ہوں میں ہڈی کباب میں
وہ شوخ پڑ گیا ہے عجب پیچ و تاب میں
دل کے بجائے کیسے وہ پہلو میں آ گیا
اے شیخ جی پڑھا یہ سبق کس کتاب میں
میں زخمِ آبلہ پائی سے تنگ آتا نہیں
ملال کیسا کوئی میرے سنگ آتا نہیں
اُسی کو آتا ہے ہر کارگرِ رمزِ حیات
مجھے تو جینے کا کوئی بھی ڈھنگ آتا نہیں
میں بے دلی پہ مگر روز مُسکراتا ہوں
عجیب شخص ہوں میں خود سے تنگ آتا نہیں
انسان اپنے نفسِ ستم گر کو مارتا
جس حال میں بھی عمر گزرتی گزارتا
زاہد نے کچھ بھی قدر نہ کی تیرے حُسن کی
حُورانِ خُلد کو تِری صُورت پہ وارتا
اس بُوالہوس کو حُسن و وفا کی تمیز کیا
دُشمن ہمارے سامنے شیخی بگھارتا
سب بدلتا ہے
بس انسان نہیں بدلتا
لوگ بدلتے ہیں
آنکھیں بدلتی ہیں
اُمید بدلتی ہے
رُخ بدلتے ہیں
جو میرے پیار میں اُلجھا ہوا دکھائی دے
خدا کبھی نہ مِری قید سے رہائی دے
مِری بہو کو جو کوئی بھی منہ دکھائی دے
تو ساتھ نقد کے زیور کوئی طلائی دے
عجیب شخص سے پالا پڑا ہے اے بھابی
میں کچھ کہوں تو اسے کچھ کا کچھ سنائی دے
کسی کسی پہ تو کُھلتا ہے عاشقی کا مزاج
کوئی کوئی تو سمجھتا ہے روشنی کا مزاج
وفورِ محفلِ یاراں سے دشتِ مجنوں تک
بدلتا رہتا ہے تیزی سے آدمی کا مزاج
ذرا سی ٹھیس سے منظر ہی ٹوٹ جاتا ہے
جمال آئینہ خانہ ہے زندگی کا مزاج
آخرش خوابِ پریشاں کو کہاں تک دیکھوں
ہر طرف رات کا سایہ ہے جہاں تک دیکھوں
اب تو عادت ہے سرِ شام بکھر جانے کی
ٹُوٹ جانا تو مقدر ہے یہاں تک دیکھوں
ہے تِرے شہر میں زخموں کی نمائش کا رواج
پھر تِرا شوق لبِ زخمِ گُماں تک دیکھوں