محبت کی راہوں میں بے چارگی ہے
انا پرستوں نے اپنی انا وار دی ہے
تمہیں کیسے راس آئے گی یہ محبت
تم ہی نے کہا تھا کہ آوارگی ہے
پرندوں نے جنگل میں پیغام بھیجا
یہاں اک قفس میں فراوانگی ہے
محبت کی راہوں میں بے چارگی ہے
انا پرستوں نے اپنی انا وار دی ہے
تمہیں کیسے راس آئے گی یہ محبت
تم ہی نے کہا تھا کہ آوارگی ہے
پرندوں نے جنگل میں پیغام بھیجا
یہاں اک قفس میں فراوانگی ہے
نیلا آسمان
میری بچی نے مجھ سے کل پُوچھا
بابا یہ آسماں ہے نیلا کیوں؟
میں نے سوچا پر اس سے کہہ نہ سکا
یہ سوال اس کے دل میں آیا کیوں؟
کیوں یہ باتیں ہیں اتنی دلآویز
دولت درد کمانے کے لیے زندہ ہیں
لطف جینے کا اٹھانے کے لیے زندہ ہیں
فرق یہ کم ہے کہ تم اپنے لیے جیتے ہو
اور ہم سارے زمانے کے لیے زندہ ہیں
ٹوٹ کر بھی تو ہیں پیوستہ شجر سے اب تک
ہم نئی زندگی پانے کے لیے زندہ ہیں
کٹارِ عشق
سنو یہ جو ہجر کی کٹار ہے
بڑی تیز اس کی دھار ہے
یہ کلیجہ کاٹے جا رہی ہے
زیست کو دور لیے جا رہی ہے
ان نینوں میں اب ہر وقت برسات ہے
چاروں طرف اماوس کی سیاه رات ہے
پیاری لڑکی
بقول تمہارے
بے شک تم اور میں
آنے والے چند ماہ و برس میں
عمر کی اس منزل پر ہوں گے
جس پر پہنچ کے ہر راہی
جو طے نہیں ہے وہی شدہ لگے ہے مجھے
یہ زندگی تو کوئی حادثہ لگے ہے مجھے
کسی کی زلفِ پریشاں سے چاک داماں تک
غرض جنوں کا وہی سلسلہ لگے ہے مجھے
وہ شخص جس نے ہزاروں ستم کیے ایجاد
کہیں سے وہ بھی ستایا ہوا لگے ہے مجھے
نیا سفر ہے، کوئی کارواں ہے کہ نہیں؟
راستے پر کسی منزل کا نشاں ہے کہ نہیں؟
چراغ بجھنے لگے ہیں صبح کی ٹھنڈک سے
اب اگلی دھوپ میں بھی سائباں ہے کہ نہیں؟
تمہارے شہر کی ویرانی جاں لیوا ہے
تم ہی بتاؤ یہاں امن و اماں ہے کہ نہیں؟