جینے کا مزا ہے نہ ہے مرنے میں سکوں اب
لے جائے کہاں دیکھیے صحرا کو جنوں اب
ہو جائے نہ یہ شہر بیاباں کبھی اک دن
جلوہ نہ تِرے حسن کا باقی نہ فسوں اب
شکوہ ہے غم دل کا گِلہ دہر کا تھوڑا
گزری جو شب ہجر میں کیسے نہ کہوں اب
جینے کا مزا ہے نہ ہے مرنے میں سکوں اب
لے جائے کہاں دیکھیے صحرا کو جنوں اب
ہو جائے نہ یہ شہر بیاباں کبھی اک دن
جلوہ نہ تِرے حسن کا باقی نہ فسوں اب
شکوہ ہے غم دل کا گِلہ دہر کا تھوڑا
گزری جو شب ہجر میں کیسے نہ کہوں اب
کیسی بے بس تنہائی نے گھیر لیا ہے راتوں کو
اپنی قسمت کون کہ جس سے کہیے دل کی باتوں کو
گرتی بلڈنگ، بہتی لاشیں، اکھڑے پیڑ، پرندے بے گھر
کون ہے جو مطلوب نہیں ان شِدت کی برساتوں کو
شاید یہ اک بات ہی میرے حق میں فالِ نیک ہوئی
تجھ سے مِل کر بھُول گیا ہوں سارے رشتے ناتوں کو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سر پہ سرکارؐ کی خاک کفِ پا رکھی ہے
ایسا لگتا ہے کہ رحمت کی ردا رکھی ہے
شرم سے میں نے نظر اپنی جُھکا رکھی
ہے سامنے ان کے مری فرد خطا رکھی ہے
تشنگی سرِ محشر کا ہمیں خوف نہیں
ہم نے لو ساقئ کوثر سے لگا رکھی ہے
خطا کو کب اہلِ کرم دیکھتے ہیں
ہنرمند عیبوں کو کم دیکھتے ہیں
جو اہلِ ہُنر ہیں، ہنر دیکھتے ہیں
نہ دولت نہ جاہ و حشم دیکھتے ہیں
کھنچی آج تیغِ دو دم دیکھتے ہیں
ہے سر کس کا ہوتا قلم دیکھتے ہیں
شیشۂ ساعت کا غبار
میں زندہ تھا
مگر میں تیرے سرخ نیلگوں، سفید بلبلے میں قید تھا
ہوا وسیع تھی، مگر حدود سے رہا نہ تھی
نہ میرے پر شکستہ تھے نہ میری سانس کم
تھا بلبلے کی کائنات میں مرا ہی دم قدم
مگر مِری اڑان سرخ نیلگوں سفید مقبرے کے
دور فضا میں ایک پرندہ کھویا ہوا اڑانوں میں
اس کو کیا معلوم زمیں پر چڑھے ہیں تیر کمانوں میں
پھول توڑ کے لوگ لے گئے اونچے بڑے مکانوں میں
اب ہم کانٹے سجا کے رکھیں مٹی کے گلدانوں میں
بے در و بام ٹھکانا جس میں دھول دھوپ سناٹا غم
وہی ہے مجھ وحشی کے گھر میں جو کچھ ہے ویرانوں میں
موت دیوانہ کو آئی ہے بیاباں کے پاس
ہاتھ رکھے ہوئے ہے اپنا گریباں کے پاس
عشق رکھتا ہے حسینوں سے مجھے فکر یہ ہے
نام کو عقل نہیں ہے دل ناداں کے پاس
اپنے جتنے ہیں وہ بیگانہ ہوئے عسرت میں
کوئی ملنے نہیں آتا ہے پریشاں کے پاس