ہجر کے دور میں حالات بدل جاتے ہیں
پھول مر جاتے ہیں سب پات بدل جاتے ہیں
تو نے دیکھا ہے کبھی درد کے صحراؤں میں
دھوپ بڑھنے لگے تب ساتھ بدل جاتے ہیں
ہم پہ وہ وقت ہے اب چاہے خوشی آئے کہ غم
آنکھ نم ہوتی ہے جذبات بدل جاتے ہیں
ہجر کے دور میں حالات بدل جاتے ہیں
پھول مر جاتے ہیں سب پات بدل جاتے ہیں
تو نے دیکھا ہے کبھی درد کے صحراؤں میں
دھوپ بڑھنے لگے تب ساتھ بدل جاتے ہیں
ہم پہ وہ وقت ہے اب چاہے خوشی آئے کہ غم
آنکھ نم ہوتی ہے جذبات بدل جاتے ہیں
فریاد کہ وہ شوخ ستمگار نہ آیا
مجھ قتل کوں لے ہاتھ میں تلوار نہ آیا
میں پنبہ نمن نرم کیا بستر تن کوں
وہ پیو قدم دھرنے کو یکبار نہ آیا
چھٹ آہ پچھے کون مِرے درد کا احوال
مجھ دکھ کی خبر لینے وہ غمخوار نہ آیا
وہ جس کے ہجر میں ہم جاگتے تھے سوئے نہیں
کمال یہ ہے کہ اس سے بچھڑ کے روئے نہیں
وہ جن کے بیج سدا زخم زخم فصلیں دیں
ہماری آنکھوں میں وہ ایسے خواب بوئے نہیں
اسے کہو کہ اسے ڈھونڈنے نہ نکلیں گے
سو اتنا ذہن میں رکھیے کہ ہم کو کھوئے نہیں
اب مکیں اور ہیں گھر بار پرانا ہی ہے
بس حوالے نئے ہیں پیار پرانا ہی ہے
روز گھڑیال میں تاریخ بدل جاتی ہے
صبح کی میز پہ اخبار پرانا ہی ہے
رنگ موسم کے تغیر سے اڑا چہرے کا
دل مرے جسم میں سرکار پرانا ہی ہے
تڑپ رہا ہے دل بے قرار آ جاؤ
بس ایک بار اے جان بہار آ جاؤ
تمہارے آنے سے لوٹ آئے گی چمن میں بہار
خزاں اڑانے لگی ہے غبار آ جاؤ
لگا دی آگ گلستاں میں دشمنوں نے مگر
بجھائیں آگ جو ہیں جاں نثار آ جاؤ
کہیں بھی حُسن کو دیکھا تو یاد آئے تم
کسی بھی باغ سے گزرا تو یاد آئے تم
میں اپنی سوچ میں کھویا ہوا تھا گھنٹوں سے
کسی نے آ کے جھنجھوڑا تو یاد آئے تم
بھلے نہ پیار سے دیکھا کبھی ہمیں تم نے
کسی نے پیار سے دیکھا تو یاد آئے تم
کوئی تو پھول کسی شاخ سے پکارے مجھے
پسند آتے ہیں خوشبو کے استعارے مجھے
مجھی سے عام ہوا ہے یہ شہر میں اور تم
سکھا رہے ہو محبت کا کھیل پیارے، مجھے
وہ دیکھتا رہے ہر حال میں مرا رستہ
وہ اپنی آنکھ کے ہر خواب سے گزارے مجھے