شک اور وہم کی عادت میں مارا جاؤں گا
میں اپنی فہم و فراست میں مارا جاؤں گا
میں مارا جاؤں گا اِس عجز و انکساری میں
لحاظ، شرم، مروّت میں مارا جاؤں گا
تِرا سوالِ محبت تو ٹھیک ہے، لیکن
میں اب جوابِ محبت میں مارا جاؤں گا
شک اور وہم کی عادت میں مارا جاؤں گا
میں اپنی فہم و فراست میں مارا جاؤں گا
میں مارا جاؤں گا اِس عجز و انکساری میں
لحاظ، شرم، مروّت میں مارا جاؤں گا
تِرا سوالِ محبت تو ٹھیک ہے، لیکن
میں اب جوابِ محبت میں مارا جاؤں گا
وہ آفتاب تھا روشن اساس چھوڑ گیا
عجیب شخص تھا مِلنے کی آس چھوڑ گیا
ضرورتوں کو بُلا کے ہوس کی سرحد پر
بنا کے مجھ کو ضعیف الحواس چھوڑ گیا
قضا کے رتھ سے اُترتے ہی ڈُوبتا سُورج
شبِ سیاہ کے ہاتھوں میں راس چھوڑ گیا
اک غزل تو مِرے ہاتھوں سے مثالی ہو جائے
کاش کے تُو مِرا محبوب خیالی ہو جائے
دیکھ لے تو مِری جانب جو اٹھا کر نظریں
چشمِ پُر نم جو تِری ہے وہ غزالی ہو جائے
چاند سے رخ پہ جو پھرتے ہو لگا کر گاگل
عید کر لے نہ کوئی کچھ کی دیوالی ہو جائے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بلائیے مِرے آقاﷺ مجھے مدینے میں
پڑا ہوں ہِند میں مرنے میں ہوں نہ جینے میں
جلا کے خاک سیہ کر دیا کلیجے کو
بھڑک کے آتشِ فرقت نے میرے سینے میں
یہی رہا غمِ فرقت تو مار ڈالے گا
گُھلا گُھلا کے مجھے سال چھ مہینے میں
کہارن
اک کہارن جا رہی تھی ہاتھ میں گاگر لیے
زیر لب کچھ گنگناتی کچھ نظر نیچی کیے
مست تھی اس کی ادائیں خوب تھا اس کا شباب
آنکھیں نرگس زلف سنبل عارض رنگیں گلاب
آ کے پنگھٹ پر کسی سے گفتگو کرنے لگی
ڈال کر رسی کو پانی کھینچ کر بھرنے لگی
دِیے پلکوں کے سارے بُجھ رہے ہیں
سرِ شب ہی ستارے بجھ رہے ہیں
ان آنکھوں نے جنہیں روشن کیا تھا
وہ سب منظر ہمارے بجھ رہے ہیں
بہت کم ہو چلی ہے آتشِ خاک
زمیں تیرے شرارے بجھ رہے ہیں
سائباں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے
آسماں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے
میری آنکھوں میں نمی ہے تیری آنکھوں کی طرح
کیوں جہاں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے
شہر کے پکے مکاں میں روشنی کی لہر سے
اک مکاں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے