تڑپ رہا ہے دل بے قرار آ جاؤ
بس ایک بار اے جان بہار آ جاؤ
تمہارے آنے سے لوٹ آئے گی چمن میں بہار
خزاں اڑانے لگی ہے غبار آ جاؤ
لگا دی آگ گلستاں میں دشمنوں نے مگر
بجھائیں آگ جو ہیں جاں نثار آ جاؤ
تڑپ رہا ہے دل بے قرار آ جاؤ
بس ایک بار اے جان بہار آ جاؤ
تمہارے آنے سے لوٹ آئے گی چمن میں بہار
خزاں اڑانے لگی ہے غبار آ جاؤ
لگا دی آگ گلستاں میں دشمنوں نے مگر
بجھائیں آگ جو ہیں جاں نثار آ جاؤ
کہیں بھی حُسن کو دیکھا تو یاد آئے تم
کسی بھی باغ سے گزرا تو یاد آئے تم
میں اپنی سوچ میں کھویا ہوا تھا گھنٹوں سے
کسی نے آ کے جھنجھوڑا تو یاد آئے تم
بھلے نہ پیار سے دیکھا کبھی ہمیں تم نے
کسی نے پیار سے دیکھا تو یاد آئے تم
کوئی تو پھول کسی شاخ سے پکارے مجھے
پسند آتے ہیں خوشبو کے استعارے مجھے
مجھی سے عام ہوا ہے یہ شہر میں اور تم
سکھا رہے ہو محبت کا کھیل پیارے، مجھے
وہ دیکھتا رہے ہر حال میں مرا رستہ
وہ اپنی آنکھ کے ہر خواب سے گزارے مجھے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بتائیں کیا کہ ہمیں کیا ملا مدینے سے
خدا گواہ، ملا خود خدا مدینے سے
نگاہ ناز سے پایا جوازِ ہست و وجود
مِری ہے ہستی کا ہر سلسلہ مدینے سے
درِ کریم سے وابستگی ہے روحوں کی
ہمیں جو عشق ہے، بے انتہا مدینے سے
آرزوئے دل ناکام سے ڈر لگتا ہے
زندگانی تِرے پیغام سے ڈر لگتا ہے
پھر کسی جذبۂ گُمنام سے ڈر لگتا ہے
حُسنِ معصوم پہ الزام سے ڈر لگتا ہے
شیشۂ دل پہ کوئی ٹھیس نہ لگنے پائے
تلخیٔ مے سے نہیں جام سے ڈر لگتا ہے
بچ بچا کر دہر کے ہنگام سے
کٹ رہی ہے زندگی آرام سے
کردیا کتنوں کو شہرت یافتہ
ہم رہے گمنام کے گمنام سے
ہے تو اک شمع میرے بھی روبرو
ڈر رہا ہوں عشق کے انجام سے
نفسِ امارہ کے جب بھی پر کُھلے
آرزوؤں کے ہزاروں در کھلے
جاگتی آنکھوں کے جب منظر کھلے
کربِ ہجرت سے کئی خنجر کھلے
جذبۂ جہد و عمل زندہ رہے
منزلوں کے لاکھ بحر و بر کھلے