تمہارے ہاتھ سے چھوٹے تو اتنے عام ہوئے
ہمارے ہاتھ، موتیوں کے پھر نہ دام ہوئے
ذرا یہاں بھی فراخ دستی ہونی چاہیے تھی
ہماری باری پہ صاحب وہ سبک گام ہوئے
ازل سے داغ لگا ہے ہمارے بخت جلا
بازئ عشق بھی ہارے اور بدنام ہوئے
تمہارے ہاتھ سے چھوٹے تو اتنے عام ہوئے
ہمارے ہاتھ، موتیوں کے پھر نہ دام ہوئے
ذرا یہاں بھی فراخ دستی ہونی چاہیے تھی
ہماری باری پہ صاحب وہ سبک گام ہوئے
ازل سے داغ لگا ہے ہمارے بخت جلا
بازئ عشق بھی ہارے اور بدنام ہوئے
مسلکوں کے نصاب پڑھ ڈالے
نفرتوں کے جواب پڑھ ڈالے
اُن کے چہروں پہ جو تعصب تھا
اُس کے سب پیچ و تاب پڑھ ڈالے
آج کچلے تھے اس نے مقتل میں
جس قدر بھی گلاب پڑھ ڈالے
تاجر کی موت
ہمیشہ کی تجارت سیم و زر کی
کوئی اب چال چل عقل و ہنر کی
بسر کی زندگی عیش و طرب میں
خبر کب تھی اجل کے نامہ بر کی
مآلِ زندگی سوچا نہ تاجر
عجب ماحول میں تُو نے بسر کی
واجب الاحترام ہوتے ہیں
چند ایسے بھی نام ہوتے ہیں
دوستوں کی زبان چلتی ہے
دشمنوں سے کلام ہوتے ہیں
اک ریاست کا نام لو جس میں
چور، عالی مقام ہوتے ہیں
آج کی رات انمول سوغات ہو گئی
میرے بِچھڑے بابا سے
میری خواب میں ہی ملاقات ہو گئی
ان کو دیکھا، انہیں چھُوا
میرے بابا کی شفقت کی برسات ہو گئی
ہائے بچھڑنے والوں سے اک دن مُلاقات ہونی ہی چاہیے
انتظار
سُلجھی زُلفوں
اُلجھی سوچوں والی لڑکی
دھڑکتے دل کی بے تابی سے
ہر آہٹ پہ چونک ہے جائے
گھڑی کی ٹِک ٹِک سُنتی جائے
نرم گداز سے صوفوں پر
خود اپنے آپ کو زنجیر کرتا رہتا ہے
وہ میرے خواب کی تعبیر کرتا رہتا ہے
عجب نہیں کہ اسے میری آرزو ہی نہ ہو
کہ اب وہ آنے میں تاخیر کرتا رہتا ہے
نئے مکان کی وسعت نہ اس کو راس آئی
وہ اب بھی ذہن میں تصویر کرتا رہتا ہے