Saturday, 14 February 2026

یہ ہے آج ہی رات کی داستاں

 زعفرانی کلام ہاتھ کی روانی


یہ ہے آج ہی رات کی داستاں

کہ تھے میہماں میرے اک مہرباں

دکھاؤں میں حضرت کے کھانے کا ڈھنگ

لکھوں ان کے لقمے اڑانے کا رنگ

پلیٹوں میں ہلچل مچاتا ہوا

وه چمچے سے چمچا لڑاتا ہوا

افیمی ظلم کو تقدیر کہہ کر سو رہا ہے

 افیمی سو رہا ہے


افیمی ظلم کو تقدیر کہہ کر سو رہا ہے

سو ہرن کو شیر کھا جائے

عقابوں کے جھپٹتے غول سہمے میمنے کو نوچتے جائیں

کوئی بکری کسی چیتے کو 

تھوڑی گھاس کے بدلے سبھی اعضا کھلا بیٹھے

ہزاروں مکھیوں کی سخت محنت سے بنا 

جہالت مٹ گئی ساری قرینے میں نظام آیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جہالت مٹ گئی ساری، قرینے میں نظام آیا

جہاں میں جب بصد عزت مرا خیرالانامؐ آیا

زمانے میں نبیؐ کی ہو گئی جلوہ گری جس دم

زمیں کو آسماں کا با ادب اس دم سلام آیا

صدائیں گونج اٹھیں ہر طرف ان کی ولادت پر

مبارک ہو مبارک وہ رسولوں کا امامﷺ آیا

Friday, 13 February 2026

موت کے بعد پھر رقص ہی رقص ہے

 رقص


کھولتے آب میں

رقص کرتے ہوئے بلبلے

قابلِ غور ہیں

کیا تپش ہے جو ان کو بناتی ہے اور

اتنا مجبور کرتی ہے کہ

ناچتے ناچتے

ہم نے پہلا جرم اپنی پیدائش کے دن کیا تھا

ہم نے پہلا جرم اپنی پیدائش کے دن کیا تھا

ہمارے سانس لینے سے پہلے

چیخ کر رونے پر پابندی لگا دی گئی تھی

چپ میں لپیٹ کر ہمیں ہماری ماؤں کے حوالے کر دیا گیا

اس سے پہلے انہیں

بے آواز گیت یاد کروائے گئے

اسی باعث زیادہ ہنس رہا ہوں

 اسی باعث زیادہ ہنس رہا ہوں

میں بالکل بے ارادہ ہنس رہا ہوں

سجے ہیں زخم سینے پر ہزاروں

مگر میں حسبِ وعدہ ہنس رہا ہوں

نہیں ہے مطمئن منزل پہ کوئی

میں ہو کر وقفِ جادہ ہنس رہا ہوں

دیکھے گا کوئی خاک یہ ملبہ وجود کا

 دیکھے گا کوئی خاک یہ ملبہ وجود کا

کس کو کھنڈر ملے گا مِری باش و بود کا

الجھا ہوا خدا بھی ہے دام دوام میں

ہے سلسلہ حدود سے باہر قیود کا

اک عمر کی بسی ہوئی خوشبو نکل گئی

اعلان کر رہا ہے تعفّن وجود کا