میں خوش کیسے رہ سکتا ہوں
سب کے پاس سب کچھ ہے
سب کی مرادیں پوری ہو گئیں
سب کے خواب
تعبیر کا رس پا کر رسیلے ہو گئے
اور میں؟
میں خوش کیسے رہ سکتا ہوں
سب کے پاس سب کچھ ہے
سب کی مرادیں پوری ہو گئیں
سب کے خواب
تعبیر کا رس پا کر رسیلے ہو گئے
اور میں؟
درد دل کی دوا نہ ہو جائے
زندگی بے مزا نہ ہو جائے
لطف دیتی ہے کیا امید وفا
بے وفا با وفا نہ ہو جائے
کیسے بیتاب ان کو دیکھوں گا
آہ یا رب رسا نہ ہو جائے
پل دو پل کی جو آشنائی تھی
مجھ کو لگتا تھا کل خدائی تھی
میں نے ٹھکرا دیا تھا دنیا کو
جب یہاں تو پلٹ کے آئی تھی
پھر کسی دوسرے کے ہو جانا
یہ بتا مجھ میں کیا برائی تھی؟
سونپتے ہیں تجھے
تم اچانک گئیں
میں رہا سوچتا
کون جانے بھلا
کب یہ رستے مڑیں
ہم دوبارہ ملیں
رُخِ حیرانئ منظر ہی اُسے یاد نہ تھا
میرے آئینے کا جوہر ہی اسے یاد نہ تھا
یاد تھیں اس کو سب آرام گہیں دُنیا کی
مُجھ شبستان کا بستر ہی اسے یاد نہ تھا
میں نے دِکھلائے اسے نقش و نگارِ ہستی
اپنی معدومی کا پیکر ہی اسے یاد نہ تھا
اپنے حصار جسم سے باہر بھی دیکھتے
ہم آئینے کے سامنے ہو کر بھی دیکھتے
عکس فلک سے ٹوٹتا کیسے جمود آپ
پتھر گرا کے جھیل کے اندر بھی دیکھتے
کرتے پلٹ کے اپنے ہی سائے سے گفتگو
صحرا میں زرد رنگ سمندر بھی دیکھتے
دل میں خیال کچھ ہے زباں پر ہے کچھ بیاں
کیوں کر بھلا کسی کی رذالت ہو یوں عیاں
خلوت میں یوں تو ہوتے ہیں دونوں بہت قریب
لیکن حجاب رہتا ہے دونوں کے درمیاں
اسلاف جس کے سوز سے رہتے تھے مضطرب
پیدا ہمارے دل میں کہاں ہیں وہ گرمیاں