مُحبت اس لیے چھُپائی گئی
کہ پگڑی درمیان لائی گئی
دو خُوشیاں اُجاڑ دی گئیں
ایک عزت ہے بچائی گئی
محبت رزق تھی میرے لیے
عُمر بھر کی کمائی گئی
مُحبت اس لیے چھُپائی گئی
کہ پگڑی درمیان لائی گئی
دو خُوشیاں اُجاڑ دی گئیں
ایک عزت ہے بچائی گئی
محبت رزق تھی میرے لیے
عُمر بھر کی کمائی گئی
گھر گیا آ کر دکانداروں سے ہی تکرار میں
جانے کیا آیا تھا لینے گھر سے میں بازار میں
ناز تھا اس کو وفا پر،۔ ناز مجھ کو پیار پر
وصل کی تھی رات ساری کٹ گئی تکرار میں
آپ کا دے کر حوالہ کہتے ہیں ہم ناز سے
کچھ ہمارے لوگ بھی ہیں آج کل سرکار میں
اگر شوقِ جنوں ہو آزمانا
دِیوں کو تیز آندھی میں جلانا
ہماری ایک عادت بن گئی ہے
غم و یاس و الم میں مُسکرانا
کُچل کر گردشِ شام و سحر کو
بہت تیزی سے چلنا ہے زمانہ
سحر ہونے کو ہے
تو کیا ہُوا اگر آج
چہرے سے ہنسی غائب ہے
اُلجھا ہوا ہے ذہن میرا
نیند آنکھوں سے بھی خائف ہے
کہتے ہیں یہ سبھی لوگ مجھے
کہ شاید تمہیں کچھ ’’ایسا‘‘ ہوا ہے
حِدتیں دم توڑتی ہیں
بہت سردی ہے
اپنی سرد مہری چھوڑ دو
جانے بھی دو شِکوے گِلے
کوتاہیاں انسان کی فطرت میں شامل ہیں
سنو! سردی ہے
سردی میں ہر اک شے منجمد ہے
آپ سے قطع رسم و راہ نہ کی
زندگی مُفت میں تباہ نہ کی
یہ ہے عظمت مِری محبت کی
تم کو پایا تو اور چاہ نہ کی
عُمر بھر ہم فقط رہے محکوم
آرزوئے جلال و جاہ نہ کی
دل اسے دیکھ کے ایسے مِرے اندر ناچا
جیسے اک پیڑ ہواؤں سے لِپٹ کر ناچا
ایک خُوشبو کی لہر سے مِرا آنگن مہکا
ایک دستک ہوئی ایسی کہ مِرا گھر ناچا
ایک سایہ تھا مِرے جسم سے لگ کر بیٹھا
ایک سایہ مِرے اندر سے نکل کر ناچا