Tuesday, 31 March 2026

بچا لے شر اعداء سے تو رکھ اپنی حفاظت میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


الٰہی رحم، اب کیا دیر ہے تنزیل رحمت میں

مدد فرما مدد کا وقت ہے ہم ہیں مصیبت میں

گنہگار آنکھ میں بھر لائے ہیں آنسو ندامت کے

نہ اب آیا تو کب جوش آئے گا دریائے رحمت میں

کرم تیرا نہ ہو گا اے خدا! گر میری کشتی پر

تو یا رب غرق ہو جائے گی دریائے ہلاکت میں

تو اپنا حال غم دل کبھی سنا تو سہی

 میں منتظر ہوں، تُو کر ہجر کا گِلہ تو سہی

گزارے کیسے شب و روز یہ بتا تو سہی

میں ہم قدم ہی نہیں ہم سفر بھی ہوں تیری

میں اپنا ہاتھ بڑھاؤں گی لڑکھڑا تو سہی

پگھل نہ جاؤں تِرے جذبوں کی تپش سے میں

نگاہیں اپنی مِرے چہرے سے ہٹا تو سہی

چھوڑ دے ساری دنیا کسی کے لیے

 چھوڑ دے ساری دنیا کسی کے لیے

یہ مناسب نہیں ہے، آدمی کے لیے

پیار سے بھی ضروری کئی بات ہیں

پیار سب کچھ نہیں ہے، زندگی کے لیے

دل کو بے مول بیچو نہ جذبات میں

قدر باقی رہے، آدمی کے لیے

یہ درد لا زوال تمہیں کون دے گیا

 یہ درد لا زوال تمہیں کون دے گیا

سرمایۂ جمال تمہیں کون دے گیا

موسیقیوں کی چاندنی نکھری ہے لفظ لفظ

یہ عشرت خیال تمہیں کون دے گیا

اس وادیٔ سکون و مسرت کے باوجود

یہ رنج یہ ملال تمہیں کون دے گیا

اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کو

 اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کو

کہ سنبھلنا بھی نہ چاہوں تو سنبھالیں مجھ کو

غم دوراں غم جاناں غم جاں ایک ہوئے

ڈر رہا ہوں یہ کہیں مار نہ ڈالیں مجھ کو

منفرد میری طبیعت ہے یہ حالات کہیں

روش عام کے سانچے میں نہ ڈھالیں مجھ کو

Monday, 30 March 2026

مٹا دیتے ہیں ہستی کو ریا کاری نہیں کرتے

 مٹا دیتے ہیں ہستی کو ریا کاری نہیں کرتے

ترے بندے دکھاوے کی وفاداری نہیں کرتے

ہمالہ کی بلندی بھی قدم بوسی کو گر اترے

زمیں والے زمیں کے ساتھ غداری نہیں کرتے

ہماری تشنہ کامی خود ہوا دیتی ہے شدت کو

عجب بادل ہیں پیاسوں کی طرف داری نہیں کرتے

کیسا شہر معنی ہے کہ سب کچھ جل رہا ہے

 کیسا شہرِ معنی ہے کہ سب کچھ جل رہا ہے

مگر آئینۂ ادراک اب بھی کھل رہا ہے

فقیہِ وقت کے فتویٰ سے سچ دب سا گیا تھا

مگر ہر لفظ کے باطن میں سُورج پل رہا ہے

سلاسل اوڑھ کر بیٹھے ہیں اہلِ زر و مسند

ضمیرِ عصر پھر آہن کے سانچے میں ڈھل رہا ہے