جو تذکرہ نہ محبت کا چار سُو کرتے
ذرا سی دیر تو ہم سے وہ گفتگو کرتے
کچھ اور ہوتے جو امکاں حیات کے روشن
بڑی خوشی سے تمنائے رنگ و بُو کرتے
صِلہ ملا نہ وفا کا جب آج تک ہم کو
تو اور کیا تِری دنیا میں آرزو کرتے
جو تذکرہ نہ محبت کا چار سُو کرتے
ذرا سی دیر تو ہم سے وہ گفتگو کرتے
کچھ اور ہوتے جو امکاں حیات کے روشن
بڑی خوشی سے تمنائے رنگ و بُو کرتے
صِلہ ملا نہ وفا کا جب آج تک ہم کو
تو اور کیا تِری دنیا میں آرزو کرتے
جلدی میاں
ہے نام تو خورشید خاں
کہتے ہیں سب جلدی میاں
ہر کام میں گڑبڑ کریں
کمروں میں وہ کھڑبڑ کریں
ہیں دیر سے وہ جاگتے
اسکول جائیں بھاگتے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سمجھوں گا کہ حاصل ہوا مقصد حیات
گر جاں جدا ہو جسم سے مدینے میں
اور رُوح کرے طواف کعبے کا
اے کاش حشر میں مِلے
یوں میری محنتوں کا صلہ
آپﷺ مُسکرا کے دیکھیں مجھے
گُزرے گی کیا جمالِ رُخِ یار دیکھ کر
حیرت ہے حُسن حسرتِ دیدار دیکھ کر
نا سازیٔ جہاں کی تو پروا کبھی نہ تھی
جی بُجھ گیا ہے تم کو دلآزار دیکھ کر
اس دلفگار شوق کی حسرت نہ پوچھیے
مجروح ہو گیا ہو جو تلوار دیکھ کر
دل ہاتھ ہیں اور دُعا تیری یاد
ہم جیسوں کا حوصلہ تیری یاد
کچھ یوں بھی خموش ہو گیا ہوں
کرتی ہے مُکالمہ تیری یاد
پُوچھو کبھی میرے آنسوؤں سے
کس درجہ ہے خُوشنما تیری یاد
خوش فہمیوں میں رہ کے جو حد سے نکل گئے
بونے سمجھ رہے ہیں وہ قد سے نکل گئے
اب ہم کو چھُو نہ پائے گی دنیا تِری ہوس
ہم تیری خواہشات کی زد سے نکل گئے
آنتیں ہی بھر رہی ہیں لہو سے مِرا شِکم
اب بھُوک کے محاذ رسد سے نکل گئے
چھیڑ چھاڑ اچھی نہیں اچھا بُرا ہو جائے گا
مان جا، ورنہ کوئی جھگڑا کھڑا ہو جائے گا
میں کہ بے نامی میں بھی خُوش اور وہ اہمیت طلب
ہم اگر ٹکرا گئے تو حادثہ ہو جائے گا
آخری پردہ بھی اس کو میری آنکھوں نے دیا
کیا خبر تھی وہ یہاں تک بے حیا ہو جائے گا