Saturday, 27 June 2026

جب چودھویں کا چاند نکلتا دکھائی دے

 جب چودھویں کا چاند نکلتا دکھائی دے

وہ گیروا لباس بدلتا دکھائی دے

دریائے زندگی کہ نگاہوں کا ہے قصور

ٹھہرا دکھائی دے کبھی چلتا دکھائی دے

پڑنے لگے جو زور ہوس کا تو کیا نگاہ

ہر زاویے سے جسم نکلتا دکھائی دے

میں کیسے مان لوں کہ عشق بس اک بار ہوتا ہے

 میں کیسے مان لوں کہ عشق بس اک بار ہوتا ہے

تجھے جتنی دفعہ دیکھوں مجھے ہر بار ہوتا ہے

فقط کٹنے کو یوں بھی کٹ رہی ہے زندگی لیکن

وہی ہے زندگی جس پل تِرا دیدار ہوتا ہے

تجھے پانے کی حسرت اور ڈر ناکامیابی کا

انہیں دو تین باتوں سے یہ دل دو چار ہوتا ہے

Friday, 26 June 2026

تمنا ہے تمنا میں تری جی سے گزر جائیں

 تمنا ہے تمنا میں تِری جی سے گُزر جائیں

یہی ہے آرزو اپنی اسی خواہش میں مر جائیں

گُناہوں میں سما جائیں، کلیجے میں اتر جائیں

مِری دنیائے ہستی میں تِرے جلوے بکھر جائیں

نہ دنیا میں ٹھکانہ ہے، نہ عقبیٰ میں ٹھکانہ ہے

تِرے بندے اگر جانا بھی چاہیں تو کدھر جائیں

زندگی تو اتنی بے رحم تو نہ تھی

 زندگی

زندگی

تُو اتنی بے رحم تو نہ تھی

جب میں نومولود تھی

جب پیر کے تلووں کو

زمین پہ رکھنا

اور رکھ کر سنبھلنا سیکھا تھا

کئے آنے میں اس نے بھی بہانے

کیے آنے میں اس نے بھی بہانے

کہ دیکھی تھی ادا تیری قضا نے

نہیں یہ آدمی کا کام واعظ

ہمارے بُت تراشے ہیں خُدا نے

نزاکت کو پسینہ آ نہ جائے

کسے باندھا تِرے بندِ قبا نے

اس پار تو رہتے تھے کہ اس پار ہوئے ہم

 اس پار تو رہتے تھے کہ اس پار ہوئے ہم

جاناں کی سہیلی کے بھی دلدار ہوئے ہم

یکطرفہ محبت میں بھی چین نہیں تھا

دوطرفہ محبت سے بھی بیزار ہوئے ہم

دل اب بھی یہ کہتا ہے حسینوں کا ہو میلہ

اس حُسن پرستی میں تو بیمار ہوئے ہم

وجہ شہرت تری آشفتہ سری میری ہے

 وجہِ شہرت تِری آشفتہ سری میری ہے

شہر تیرا ہی سہی، دربدری میری ہے

چُن لیا لاکھ خُداؤں میں پُرستش کے لیے

حُسن تیرا ہی سہی، دیدہ وری میری ہے

ہے خبر موسمِ سفّاک کی مجھ کو لیکن

بارشِ سنگ میں بھی شیشہ گری میری ہے