عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
طیبہ کی حسیں شام و سحر مانگ رہے ہیں
رو رو کے دعاؤں کا اثر مانگ رہے ہیں
کچھ اور طلب کرنے کی جرأت ہی کہاں ہے
آقاﷺ سے فقط بوسۂ در مانگ رہے ہیں
ہر سال مدینے میں حضوری کی دعائیں
ہم دیکھ کے اللہ کا گھر مانگ رہے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
طیبہ کی حسیں شام و سحر مانگ رہے ہیں
رو رو کے دعاؤں کا اثر مانگ رہے ہیں
کچھ اور طلب کرنے کی جرأت ہی کہاں ہے
آقاﷺ سے فقط بوسۂ در مانگ رہے ہیں
ہر سال مدینے میں حضوری کی دعائیں
ہم دیکھ کے اللہ کا گھر مانگ رہے ہیں
رنگ چہرے پہ گُھلا ہو جیسے
آئینہ دیکھ رہا ہو جیسے
یاد ہے اس سے بچھڑنے کا سماں
شاخ سے پھُول جدا ہو جیسے
ہر قدم سہتے ہیں لمحوں کا عذاب
زندگی کوئی خطا ہو جیسے
گو غم کے کانٹوں سے بھری ہے
شاخِ تمنّا ہے تو ہری ہے
گھڑ لیے لوگوں نے افسانے
ہم نے تو بس آہ بھری ہے
کیا ہے وفا، انجامِ وفا کیا
درد سری ہے، دربدری ہے
بشر دُشمن بشر کا ہو گیا ہے
خُداوندا! یہ کیسا ماجرا ہے
خبر شہرِ سبا سے کون لائے
کہ اب رُوٹھی ہوئی بادِ صبا ہے
نہیں گر دیکھتا کوئی تو کیا غم
کہ جس کو دیکھنا تھا دیکھتا ہے
قیدِ تنہائی میں خود کو یوں سزا دیتا ہوں
اک غزل لکھتا ہوں اور ایک مٹا دیتا ہوں
شکوہ کرتا ہے غمِ زیست کا کوئی تو اسے
🍷بادۂ تلخیِٔ ایام پلا دیتا ہوں🍷
ہے دوائے غمِ دل صورتِ جاناں کی دید
غم جو بڑھتا ہے، دوا بھی میں بڑھا دیتا ہوں
کوئی ریت رقص میں مست تھی کہ ہوا چلی تھی سرُور سے
تِرے زاویے پہ ہی گُھومتا ہوا آ گیا کوئی دُور سے
تجھے اتنے پاس سے دیکھ لے کوئی اہل ہے نہ یہ سہل ہے
کبھی جسم گُھلتا ہے آگ میں، کبھی آنکھ جلتی ہے نُور سے
مجھے کوئی فکرِ فنا بھی کیا، میں تو جانتا ہوں بقا ہے کیا
تجھے ڈُھونڈنے سے نہیں ملا میں نے پا لیا ہے شعُور سے
نہیں پروا کوئی زمانے کی
کون کیا سوچتا ہے کس کے لیے
مقصد زیست کامیابی ہے
وقت کیا چاہتا ہے کس کے لیے
صنف نازک ہوں یوں تو کہنے کو
حوصلے ہیں چٹان کے مانند