Tuesday, 2 June 2026

سانسوں کی جائیداد بھی لکھ دو اسی کے نام

 سانسوں کی جائیداد بھی لکھ دو اسی کے نام

سارے جہان لکھے ہیں جس آدمی کے نام

کوثر نگاریوں کے سلیقے ہیں جا ں فروز

شیشہ گری کا حسن ہے تشنہ لبی کے نام

صدیوں کی پیاس شہر میں بے نام ہو گئی

صحرا بھی سر جھکائے ہیں دریا دلی کے نام

نہ ہوتی حال دل کہنے کی گر ہمت تو اچھا تھا

 نہ ہوتی حال دل کہنے کی گر ہمت تو اچھا تھا

نہ سُنتے کاش وہ شرحِ غمِ اُلفت تو اچھا تھا

مِری بیتابیٔ دل بڑھ گئی ہے الاماں کتنی

نکلتی گر نہ شوقِ دِید کی حسرت تو اچھا تھا

وہ راحت بیزیاں ثابت ہوئی کتنی حباب آسا

کبھی ہوتا نہ اتمامِ شبِ فُرقت تو اچھا تھا

اچھا اور برا تو اک پیمانہ ہوتا ہے

 اچھا اور برا تو اک پیمانہ ہوتا ہے

لیکن سرخی میں سارا میخانہ ہوتا ہے

آنسو پینا بھی کارِ مستانہ ہوتا ہے

پینے سے پہلے تھوڑا چھلکانا ہوتا ہے

ہم کو دیوانہ ہونا ہے سو ہم ہوتے ہیں

تُو تو میرے یار بس ایک بہانہ ہوتا ہے

دیکھے ذرا کوئی کہ ہوں کیسا ملنگ میں

 دیکھے ذرا کوئی کہ ہوں کیسا ملنگ میں

برسات میں چلا ہوں اڑانے پتنگ میں

حیران آپ ہی نہیں ہیں دیکھ کر مجھے

اپنا مزاج دیکھ کے خود بھی ہوں دنگ میں

کیا پوچھتے ہیں آپ مِرے دل کی کیفیت

دن رات اپنے آپ سے لڑتا ہوں جنگ میں

Monday, 1 June 2026

ٹوٹتے ارادوں کی اس عجیب دنیا میں

 بے صدا کی چوکھٹ پر


ٹوٹتے ارادوں کی اس عجیب دنیا میں

آنکھ کے جھپکتے ہی سب بکھرنے لگتا ہے

خواب جھڑنے لگتا ہے

رتجگوں کے نرغے میں

خواہشوں کا پنچھی جب بے تکان اُڑتا ہے

خود ہی مسمار کر رہا ہوں میں

 آخری وار کر رہا ہوں میں

اپنا انکار کر رہا ہوں میں

آڑ اپنے ہی جسم کی لے کر

روح کو تار کر رہا ہوں میں

اپنے دکھ بانٹ کر زمانے میں

کتنا ایثار کر رہا ہوں میں

دل پر دل کا وار اگر ہو جائے تو

 آنکھوں کی تکرار اگر ہو جائے تو

دل پر دل کا وار اگر ہو جائے تو

میں تو اس کی پریم پجارن ہوں لیکن

اس کو مجھ سے پیار اگر ہو جائے تو

 دنیا داری ساری دل کی بدولت ہے

سوچو دل 💗بیمار اگر ہو جائے تو