ہے میرے گِرد یقیناً کہیں حِصار سا کچھ
اور اس کو بھی ہے دُعاؤں پہ اعتبار سا کچھ
کہیں تو گوشۂ دل میں اُمید باقی ہے
کہیں ہے اس کی نظر میں بھی انتظار سا کچھ
کہا جب اس نے کے آنکھوں پہ اعتبار نہ کر
تو میں نے مانگ لیا دل پہ اختیار سا کچھ
ہے میرے گِرد یقیناً کہیں حِصار سا کچھ
اور اس کو بھی ہے دُعاؤں پہ اعتبار سا کچھ
کہیں تو گوشۂ دل میں اُمید باقی ہے
کہیں ہے اس کی نظر میں بھی انتظار سا کچھ
کہا جب اس نے کے آنکھوں پہ اعتبار نہ کر
تو میں نے مانگ لیا دل پہ اختیار سا کچھ
ڈر مجھے بھی لگتا ہے کم نظر زمانے سے
کیا کروں نہ مانے جب دل مِرا منانے سے
جل اُٹھا تھا پل بھر کو آپ کی عنایت سے
بُجھ گیا چراغِ دل آپ کے بُجھانے سے
وہ تو لا اُبالی ہے کیا اسے خبر ہو گی
ہم پہ کیا گزرتی ہے حالِ دل چُھپانے سے
نظروں کے یہ تیور لب و رُخسار کا لہجہ
غُنچوں میں چٹکنے لگا گُلزار کا لہجہ
آنکھوں کی جل پری نے خیالوں کی ریت پر
نٹ کھٹ سمندروں کے گھروندے بنائے تھے
گھر کے آنگن سے بھی اُٹھتا ہے غُبار
صرف گلیوں ہی میں دُھول اُڑتی نہیں
کوئی بھی ہنستا ہوا پھر نظر نہیں آیا
گیا وہ جب سے یہاں لوٹ کر نہیں آیا
تم اپنے آپ کو الفت شناس کہتے ہو
یہی تو مجھ میں ابھی تک ہنر نہیں آیا
کسی نے خاک اڑائی ہے بدگمانی کی
زمانہ بیت گیا وہ ادھر نہیں آیا
یہ دردِ عشق شروعات میں مزہ دے گا
پھر اس کے بعد یہ پاگل تجھے بنا دے گا
لگائے بیٹھے ہیں اُمید بے وفا سے ہم
وفا کا جام کبھی تو ہمیں پِلا دے گا
مِرا طبیب ہی جب مُبتلا ہے خود غم میں
مِرے مرض کی بھلا کیا مجھے دوا دے گا
جا نہ تُو حسرتِ دیدار ابھی باقی ہے
اک رمق مجھ میں دمِ یار ابھی باقی ہے
کیوں نہ دیکھوں انہیں نظروں سے خریدار کی میں
حُسن کی گرمئ بازار ابھی باقی ہے
سب ہوئے حسرت و ارماں تو شبِ غم میں شہید
رہ گیا اک یہ گُنہ گار ابھی باقی ہے
یہ کسے تھی خبر دل لگانے کے بعد
غم بھی مل جائیں گے مسکرانے کے بعد
کس جہاں میں خدا جانے وہ کھو گئے
مجھ کو اک بار صورت دکھانے کے بعد
جان پایا ہوں میں وہ ہے پتھر جگر
اپنی آنکھوں سے آنسو بہانے کے بعد