Thursday, 28 May 2026

ہم ہواؤں کے پل سے گزرتے ہیں

 وصال


ہم ہواؤں کے پل سے گزرتے ہیں

ہماری آواز کی بازگشت اک اک موڑ پر ہے

دیکھو تو سہی

زمین کی ہر سلوٹ میں ایک قبر ہے

مگر ہم قبروں کے پتھر نہیں ہیں

لگا ہے آئینہ نظر چرانے ہم کو دیکھ کر

 لگا ہے آئینہ نظر چُرانے ہم کو دیکھ کر

نظر اسے بھی کچھ لگا ہے آنے ہم کو دیکھ کر

شمس جو نکلتا صحن سے تھا لے ہماری تاب

لگا ہے مینڈھ کا دیا بُجھانے ہم کو دیکھ کر

ہماری پانے کو جھلک گُزاری پوری شب ادھر

لگا گلی کا موڑ وہ بھُلانے ہم کو دیکھ کر

غیبی دنیاؤں سے تنہا کیوں آتا ہے

 غیبی دنیاؤں سے تنہا کیوں آتا ہے

دو ہونٹوں کے بیچ یہ دریا کیوں آتا ہے

جیسے میں اپنی آنکھوں میں ڈوب رہا ہوں

غیروں کو اکثر یہ سپنا کیوں آتا ہے

میری راتوں کے سارے اسرار سمیٹے

مجھ سے پہلے میرا سایا کیوں آتا ہے

Wednesday, 27 May 2026

یہ دل میرا اداس ہے تجھ کو پتہ تو ہے

 یہ دل میرا اُداس ہے تجھ کو پتہ تو ہے

لیکن تُو آس پاس ہے تجھ کو پتہ تو ہے

پہلی صفیں اور مسندیں ہوتی ہیں کس لیے

تُو بھی تو خاص الخاص ہے تجھ کو پتہ تو ہے

مُہرے بدل بدل کر پھر ڈوریاں ہلانا

یہ مشغلے ہیں کس کے تجھ کو پتہ تو ہے

دل کے ہر ایک گوشے میں رقص شرر ہوا

 دشتِ تخیّلات میں جب بھی سفر ہوا

جانے کہاں کہاں سے ہمارا گزر ہوا

لوگو کی تلخیوں کا کچھ ایسا اثر ہوا

دل کے ہر ایک گوشے میں رقصِ شرر ہوا

اس کی طرف سے میں تو ہوا بے خبر مگر

میری طرف سے وہ نہ کبھی بے خبر ہوا

لوگ ملتے ہیں گلے یوں دل بیزار کے ساتھ

 لوگ مِلتے ہیں گلے یوں دلِ بیزار کے ساتھ

جیسے دیوار مِلی ہو کسی دیوار کے ساتھ

شہر میں کچھ تو ہیں اس بات پہ دُشمن میرے

اس کی دیوار ملی ہے مِری دیوار کے ساتھ

چھت کے بارے میں بھی ہم سوچ ہی لیتے شاید

ایک دیوار ہی بن جاتی جو دیوار کے ساتھ

مجھ سے اب دیکھی نہیں جاتیں تیری نمناک آنکھیں

 اے کاش


مجھ سے اب دیکھی نہیں جاتیں

تیری نمناک آنکھیں

تیرے یہ بے تاب آنسو

مجھ کو کر دیتے ہیں بے کل

دل میرا کہتا ہے مجھ سے