Friday, 29 May 2026

تم آؤ تو میرے خواب لیتی آنا

 ایک خط کی چند سطریں


تم آؤ تو میرے خواب لیتی آنا

جو میں نے تمہارے تکیے تلے رکھے تھے

اور میری آنکھیں بھی

اور ہاں، ہاتھ بھی

میرے بوسے بھی 

زندگی کو اک سزا کہنا پڑا

 اک سِتمگر کو خُدا کہنا پڑا

ناروا کو بھی روا کہنا پڑا

یورشِ رنج و مصائب الاماں

زندگی کو اک سزا کہنا پڑا

چارہ گر جب کچھ نہ درماں کر سکے

دردِ دل 💔 کو لا دوا کہنا پڑا

دریچے پر دیے رکھے ہوئے ہیں

 درِیچے پر دِیے رکھے ہُوئے ہیں

اندھیرے کمرے کو گھیرے ہوئے ہیں

اگر میں دُھوپ میں تنہا کھڑا ہوں

تو اتنے سائے کیوں اُبھرے ہوئے ہیں

ہر اک انسان اچھا لگ رہا ہے

ہم اپنے آپ سے رُوٹھے ہوئے ہیں

Thursday, 28 May 2026

کسی کی یاد مرے دل میں اس طرح آئی

 کسی کی یاد مِرے دل میں اس طرح آئی

بجی ہو جیسے کسی غم کدے میں شہنائی

تمام عُمر فراموش ہی رہی ہم سے

بوقتِ مرگ مگر زندگی کی یاد آئی

بڑے خلوص سے اپنے ہی خون کی پوشاک

تمہارے خنجرِ عُریاں کو ہم نے پہنائی

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

  انا للہ و انا الیہ راجعون، معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر آج اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے


ہمارا دل سویرے کا سنہرا جام ہو جائے

چراغوں کی طرح آنکھیں جلیں جب شام ہو جائے

کبھی تو آسماں سے چاند اترے جام ہو جائے

تمہارے نام کی اک خوبصورت شام ہو جائے

عجب حالات تھے یوں دل کا سودا ہو گیا آخر

محبت کی حویلی جس طرح نیلام ہو جائے

اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو

 انا للہ و انا الیہ راجعون، معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر آج اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے


اب تیرے میرے بیچ ذرا فاصلہ بھی ہو

ہم لوگ جب ملیں تو کوئی دوسرا بھی ہو

تُو جانتا نہیں مِری چاہت عجیب ہے

مجھ کو منا رہا ہے، کبھی خود خفا بھی ہو

تُو بے وفا نہیں ہے مگر بے وفائی کر

اُس کی نظر میں رہنے کا کچھ سلسلہ بھی ہو

ہم ہواؤں کے پل سے گزرتے ہیں

 وصال


ہم ہواؤں کے پل سے گزرتے ہیں

ہماری آواز کی بازگشت اک اک موڑ پر ہے

دیکھو تو سہی

زمین کی ہر سلوٹ میں ایک قبر ہے

مگر ہم قبروں کے پتھر نہیں ہیں