عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
صد شکر مدینے کی ہے خیرات مسلسل
یہ ابرِ کرم برسا ہے دن رات مسلسل
وہ حکمِ خدا ہے جو کہا میرے نبیﷺ نے
ملتی رہی امت کو یہی بات مسلسل
مانگے بنا سر اپنا رکھو ان کے جو درپر
ملتی ہی رہے گی تمہیں خیرات مسلسل
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
صد شکر مدینے کی ہے خیرات مسلسل
یہ ابرِ کرم برسا ہے دن رات مسلسل
وہ حکمِ خدا ہے جو کہا میرے نبیﷺ نے
ملتی رہی امت کو یہی بات مسلسل
مانگے بنا سر اپنا رکھو ان کے جو درپر
ملتی ہی رہے گی تمہیں خیرات مسلسل
کیا ڈرائیں گی بجلیاں مجھ کو
جب نہیں فکرِ آشیاں مجھ کو
گلستاں کا تِرے نظام ہے کیا
دیکھنا ہے یہ باغباں مجھ کو
اب جھکانا ہے سرکشوں کا سر
کچھ نہیں فکرِ جسم و جاں مجھ کو
ایک اک مسجد، سارے مندر، ہر گُردوارا ڈُوب گیا
بجلی گھر کا باندھ بنا تو گاؤں ہمارا ڈوب گیا
بستی والوں سے کہتا تھا گھبرانا مت میں جو ہوں
ناؤ بنانے والا مانجھی وہ بے چارا ڈوب گیا
جانے کیسے اتنا پانی چھلکا چاند کٹورے سے
جس میں ہر اک جگمگ جگمگ ٹِم ٹِم تارا ڈوب گیا
کھل گئی کھڑکی اچانک پھر بھی مجھ کو ڈر نہ تھا
اب مری آنکھوں میں کوئی رات کا منظر نہ تھا
بہہ رہا تھا چار سو اک ریت کا دریا مگر
جس جگہ پر میں کھڑا تھا راستہ بنجر نہ تھا
شہر کے سارے مکاں لگنے لگے ہیں ایک سے
جس مکاں میں بھی گیا دیکھا میرا وہ گھر نہ تھا
میری آہ کا بھی اثر دیکھ لینا
زمانے کو زیر و زبر دیکھ لینا
یہی ہو گا اے چارہ گر دیکھ لینا
نہ جائے گا درد جگر دیکھ لینا
میرے بعد تجھ کو یہ میری وفائیں
رُلائیں گی آٹھوں پہر دیکھ لینا
جہاں ساری خدائی جا رہی تھی
وہاں سُولی سجائی جا رہی تھی
بس اتنا یاد ہے سُولی پہ مجھ کو
کوئی آیت سُنائی جا رہی تھی
وہ میری عُمر تھی پردے کے پیچھے
جو میرے ساتھ لائی جا رہی تھی
چمن میں ہم نے دیکھے ہیں
بہت ہی خوب صورت پھول
الگ رنگت بھی ہے ان کی
جدا خوشبو بھی ہے ان کی
ہوا چلتی ہے جب بھی تو
سبھی پھولوں کو آپس میں