Tuesday, 10 February 2026

جان لو یہ ریاست مریض ہے

 مرگ دھرنا


تفنگ کو قلم پہ فوقیت ملے تو جان لو یہ ریاست مریض ہے

ستمگروں کے راج میں ستم زدوں پہ احتجاج فرض ہے

یہ جانتے ہوئے کہ رونے والوں کو حق نہیں ملتا

چیخ لازم ہے بہرحال

اپنے بچوں کے قتل پر ماؤں کی مانگ کچھ نہیں ہوتی

پاک کس عیب سے وہ پیکر تنویر نہ تھا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پاک کس عیب سے وہ پیکرِ تنویر نہ تھا

حسنِ بے پردہ پہ کب پردۂ تطہیر نہ تھا

سینۂ سنگ دلاں میں بھی کیا گھر جس نے

غمزۂ ابروئے رحمت تھا کوئی تیر نہ تھا

آپ اُس وقت بھی تھے قصرِ حقیقت کا جمال

جب کہ اک پایہ بھی سنسار کا تعمیر نہ تھا

مستقبل اک بچہ ہے حال کی گود تک آتے آتے

 مستقبل


مستقبل اک بچہ ہے

حال کی گود تک آتے آتے

رخساروں پر اس کے سبزے کی چادر چھا جاتی ہے

پھر کروٹ لیتی ہے خزاں کی زہر میں ڈوبی کالی کالی تیز نگاہ

رخ پہ طمانچے لگتے ہیں

درد کے صحرا میں اک لڑکا جو کل تک اک بچہ تھا

انہیں معلوم ہے سب کچھ

 پہلی دنیا کی اقوام


انہیں معلوم ہے کیسے کہاں پہ جنگ کے بادل اٹھانا ہیں

کہاں جھکڑ چلانا ہیں

کسے آگے بڑھانا ہے

کسے پیچھے ہٹانا ہے

زمیں کی گیند کو کیسے گھمانا ہے

مقابل کس کو لانا ہے

تمہیں میں بھولنا چاہوں گا تو مر جاؤں گا

 تمہیں جب دیکھتا ہوں تو

مری آنکھوں پہ رنگوں کی پھواریں پڑنے لگتی ہیں

تمہیں سنتا ہوں 

تو مجھ کو قدیمی مندروں سے گھنٹیوں

اور مسجدوں سے ورد کی آواز آتی ہے 

تمہارا نام لیتا ہوں 

Monday, 9 February 2026

ہماری شکلیں آگ سے دھلے آئینوں نے مسخ کر دیں

 آگ سے دُھلے آئینے


ہماری شکلیں آگ سے دُھلے آئینوں نے مسخ کر دیں

پھول کمہلانے کی تکلیف جلنے سے بہرحال کم ہے 

بستی بستی پناہ ڈھونڈتے رسول

اور درزوں میں چھپے دھوکے

آسمان کس قدر دل گرفتہ ہے 

کیا بارہ بجے کے بعد سو جانا چاہیے

 آدھی رات کو

کیا بارہ بجے کے بعد سو جانا چاہیے؟

رات کے احترام میں

رات چلتے چلتے چھت تک آ گئی ہے

ایک بلب تھک کے اونگھ رہا ہے

اسے نیند کا پتھر مار کر بجھا دو