گریہ کرتا ہے کبھی چپ کبھی ہنستا ہے وہی
میری وحشت مری حیرت کو سمجھتا ہے وہی
کبھی خوشبو کبھی بادل کبھی موج دریا
میرے اشعار میں سو رنگ بدلتا ہے وہی
کوئی گزرا تھا دبے پاؤں جہاں سے اک دن
راستہ خواب کی دہلیز سے ملتا ہے وہی
گریہ کرتا ہے کبھی چپ کبھی ہنستا ہے وہی
میری وحشت مری حیرت کو سمجھتا ہے وہی
کبھی خوشبو کبھی بادل کبھی موج دریا
میرے اشعار میں سو رنگ بدلتا ہے وہی
کوئی گزرا تھا دبے پاؤں جہاں سے اک دن
راستہ خواب کی دہلیز سے ملتا ہے وہی
خموشیوں میں بہت سے سوال لایا ہے
شکایتوں کے لیے رخ نکال لایا ہے
یہ کہہ کے اس نے مجھے حیرتوں میں ڈال دیا
وہ میرے بیتے ہوئے ماہ و سال لایا ہے
ذرا سی دیر میں صدیوں کا بن گیا ضامن
یہ کس مزاج کا حرف کمال لایا ہے
رنگ لائی دعا معجزہ ہو گیا
جو نہیں تھا میرا وہ میرا ہو گیا
ساتھ جینا ہے اور ساتھ مرنا ہے اب
فیصلہ کر لیا،۔ فیصلہ ہو گیا
ایسا لگتا ہے تم کو نظر لگ گئی
تم تو ایسے نہ تھے، تم کو کیا ہو گیا
پر تو بس ہمتِ پرواز سے پر بنتا ہے
سر میں سودا ہو مِری جان! تو سر بنتا ہے
لوٹ آئے ہیں پرندے مِری دیواروں پر
چار تنکوں سے کہاں دشت میں گھر بنتا ہے
وہ پری رخ مِرے خوابوں میں پلٹ آتا ہے
گنبدِ وقت میں جب رات کا در بنتا ہے
پڑی افتاد کچھ ایسی کہ دل سنبھلا نہیں ہے
"مگر تم نے مِری جاں مسئلہ سمجھا نہیں ہے"
قبیلہ ایک ہے اپنا تعلق اور کیا ہے
سو اپنے درمیاں ایسا کوئی جھگڑا نہیں ہے
بہت مضبوط ہیں اعصاب لیکن اے مِرے دل
تِرا ہر جبر سہ لوں، حوصلہ ایسا نہیں ہے
ہے یہاں تو زندگانی کی فضا روٹھی ہوئی
پیار بھی روٹھا ہوا ہے اور وفا روٹھی ہوئی
بے حیائی کے قصیدے پڑھ رہی ہیں تتلیاں
بر سرِ گلشن ہے آنکھوں کی حیا روٹھی ہوئی
بد سلوکی کر رہے ہیں بچے اب ماں باپ سے
ہے دعا سے یوں بھی تاثیرِ وفا روٹھی ہوئی
طوفانوں کی آہٹ ہے تو ڈر جانے سے کیا ہو گا
آؤ میرا ہاتھ پکڑ لو، گھبرانے سے کیا ہو گا
میٹھی میٹھی بات سے دل کو بہلانے سے کیا ہو گا
وقت پہ جب تم آئے نہیں تو اب آنے سے کیا ہو گا
اس نے مجھ کو دیکھ کے شاید ایسا ہی کچھ سوچا تھا
فرزانوں کی بھیڑ لگی ہے، دیوانے سے کیا ہو گا