نہ دہر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہو گی
تمہارے در پہ ادا میری بندگی ہو گی
نگاہ یار مِری سمت پھر اٹھی ہو گی
سنبھل سکوں گا نہ میں ایسی یہ بیخودی ہو گی
نگاہ پھیر کے جا تو رہا ہے تُو لیکن
تِرے بغیر بسر کیسے زندگی ہو گی
نہ دہر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہو گی
تمہارے در پہ ادا میری بندگی ہو گی
نگاہ یار مِری سمت پھر اٹھی ہو گی
سنبھل سکوں گا نہ میں ایسی یہ بیخودی ہو گی
نگاہ پھیر کے جا تو رہا ہے تُو لیکن
تِرے بغیر بسر کیسے زندگی ہو گی
ہے کوچۂ الفت میں وحشت کی فراوانی
جب قیس کو ہوش آیا لیلٰی ہوئی دیوانی
پیش آئی وہی آخر جو کچھ کہ تھی پیش آئی
قسمت میں ازل ہی سے لکھی تھی پریشانی
دل اس کو دیا میں نے یہ کس کو دیا میں نے
غفلت سی مِری غفلت، نادانی سی نادانی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تضمین بر کلام رضا
آس دل میں ہے مِرے جلوۂ خضرائی کی
آنکھ سے حسرتیں گِرتی ہیں تمنّائی کی
میں نے غم، غم نے مِرے ساتھ شناسائی کی
’’ قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی‘‘
’’مشکل آسان الٰہی مِری تنہائی کی‘‘
ہے غم سے دل فگار غزل کس طرح کہوں
آنکھیں ہیں اشکبار، غزل کس طرح کہوں
گھیرے ہوئے ہیں موت کی پرچھائیاں مجھے
ہوں زندگی پہ بارِ، غزل کس طرح کہوں
آ، شاہدِ بہارِ وفا، جانِ زندگی
دامن ہے تار تار، غزل کس طرح کہوں
دعائیں مانگنے والوں کا انتشار ہے کیا
یہ ماہ و سال کا اڑتا ہوا غبار ہے کیا
کوئی سبب ہے کہ یا رب سکون ہے اتنا
مجھے خبر ہی نہیں ہے کہ انتظار ہے کیا
اگر ہو دور تو قائم ہے دید کا رشتہ
اگر قریب ہو منظر تو اختیار ہے کیا
کوئی خوشی نہ کوئی غم ہے کیا کیا جائے
بڑا عجیب سا عالم ہے کیا کیا جائے
ذرا سکوں ہو میسر تو کوئی بات بنے
یہاں تو گردش پیہم ہے کیا کیا جائے
کہیں سے چیخ بھی اٹھی تو رہ گئی دب کر
کہ گھنگھرؤں کی چھما چھم ہے کیا کیا جائے
خراب حال وفا کو رلائے جاتے ہیں
نظر چرائے ہوئے مسکرائے جاتے ہیں
وفا شعار سہی غیر مجھ سے کیوں کہیے
یہ روز کس لیے قصے سنائے جاتے ہیں
وفا کی قدر تری انجمن میں کیوں ہوتی
فریب غیر کے نقشے جمائے جاتے ہیں