شیشۂ ساعت کا غبار
میں زندہ تھا
مگر میں تیرے سرخ نیلگوں، سفید بلبلے میں قید تھا
ہوا وسیع تھی، مگر حدود سے رہا نہ تھی
نہ میرے پر شکستہ تھے نہ میری سانس کم
تھا بلبلے کی کائنات میں مرا ہی دم قدم
مگر مِری اڑان سرخ نیلگوں سفید مقبرے کے
شیشۂ ساعت کا غبار
میں زندہ تھا
مگر میں تیرے سرخ نیلگوں، سفید بلبلے میں قید تھا
ہوا وسیع تھی، مگر حدود سے رہا نہ تھی
نہ میرے پر شکستہ تھے نہ میری سانس کم
تھا بلبلے کی کائنات میں مرا ہی دم قدم
مگر مِری اڑان سرخ نیلگوں سفید مقبرے کے
دور فضا میں ایک پرندہ کھویا ہوا اڑانوں میں
اس کو کیا معلوم زمیں پر چڑھے ہیں تیر کمانوں میں
پھول توڑ کے لوگ لے گئے اونچے بڑے مکانوں میں
اب ہم کانٹے سجا کے رکھیں مٹی کے گلدانوں میں
بے در و بام ٹھکانا جس میں دھول دھوپ سناٹا غم
وہی ہے مجھ وحشی کے گھر میں جو کچھ ہے ویرانوں میں
موت دیوانہ کو آئی ہے بیاباں کے پاس
ہاتھ رکھے ہوئے ہے اپنا گریباں کے پاس
عشق رکھتا ہے حسینوں سے مجھے فکر یہ ہے
نام کو عقل نہیں ہے دل ناداں کے پاس
اپنے جتنے ہیں وہ بیگانہ ہوئے عسرت میں
کوئی ملنے نہیں آتا ہے پریشاں کے پاس
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جو لب پر مِرے یا نبیؐ یا نبیﷺ ہے
اسی سے تو ہر بات میری بنی ہے
میں کیوں دربدر جا کے دامن پساروں
نبیﷺ مل گئے اب مجھے کیا کمی ہے
انہیں غیب کا علم رب نے ہے بخشا
نبیﷺ پر عیاں ہر خفی و جلی ہے
زخم مہکے تو محبت کا مزا یاد آیا
بھُولنا چاہا تو وہ حد سے سِوا یاد آیا
پھر خیالوں کی ہری شاخ پہ کلیاں مہکیں
پھر وہی شوخ،۔ وہی جانِ وفا یاد آیا
میں نے آئینہ اُٹھایا تھا کہ سب چیخ اُٹھے
عکس تو عکس ہی تھے لوگوں کو کیا یاد آیا
بہت نڈھال بہت بد حواس لگتی ہے
یہ بھیڑ شہر کی کتنی اداس لگتی ہے
تلاش آب میں مقصد نہ فوت ہو جائے
سفر ہو سخت تو رک رک کے پیاس لگتی ہے
وہ جس سے ہم نے ہمیشہ ہی دوریاں رکھیں
اب اس کی بات میں مجھ کو مٹھاس لگتی ہے
ہے بہار زندگانی چند روز
رونقِ عہدِ جوانی چند روز
رنج و غم میں زندگی ساری کٹی
پر نہ دیکھی شادمانی چند روز
جب کیے ہم پر کیے جور و ستم
کہ نہ تم نے مہربانی چند روز