تم نے مجھے دیمک کہا
میں نے تمہارے غم چاٹ لیے
تم نے مجھے کتیا کہا
میں تمہارے گناہوں کی محافظ ہوئی
تم نے مجھے ڈائن کہا
میں تمہارا گندہ خون چوسنے لگی
تم نے مجھے دیمک کہا
میں نے تمہارے غم چاٹ لیے
تم نے مجھے کتیا کہا
میں تمہارے گناہوں کی محافظ ہوئی
تم نے مجھے ڈائن کہا
میں تمہارا گندہ خون چوسنے لگی
اجاڑ گھر کا کوئی غم نہیں تو کچھ بھی نہیں
کسی آنکھ اگر نم نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ آندھیاں یہ خرمنوں پہ بجلیوں کی لپک
مزاجِ یار جو برہم نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ الجھنیں یہ مصائب، یہ غم و رنج و الم
تیرے گیسو کا اگر خم نہیں تو کچھ بھی نہیں
مجھ کو شامل کر کہانی نے بھرم سا رکھ لیا
ایک بوڑھے کی جوانی نے بھرم سا رکھ لیا
دودھ ماں نے کچھ زیادہ ہی دیا بچے کو آج
اس کو کیا معلوم پانی نے بھرم سا رکھ لیا
یہ مکاں اجداد کا ہے کیسے بیچوں میں اسے
باپ دادا کی نشانی نے بھرم سا رکھ لیا
میں خود گیا نہ اس کی ادا لے گئی مجھے
مقتل میں رسم پاس وفا لے گئی مجھے
اندر سے کھوکھلا جو تھا بیلون کی طرح
چاہا جدھر ہوا نے اڑا لے گئی مجھے
اک حرف تھا جو تم نے سنا ان سنا کیا
اب ڈھونڈتے پھرو کہ صدا لے گئی مجھے
وطن کو کیوں وطن سمجھوں، نہ جب لطف وطن پایا
نہ کوئی مونس و ہمدم، نہ کوئی ہم سخن پایا
تجھے دیکھا کیے اے عہد نو، پڑھ پڑھ کے تاریخیں
وہی انسان پائے اور وہی عُہد کہن کو پایا
خدا کا شکر، ان دولت بھرے اونچے مکانوں پر
ہمیشہ کلبۂ احزاں کو اپنے خندہ زن پایا
کسی کے وعدۂ فردا کو آزماتی رہی
تمام عمر محبت کے غم چھپاتی رہی
گزشتہ زخموں کی اتنی کسک تو باقی ہے
کبھی کبھی تو تیری یاد مجھ کو آتی رہی
بڑے سکون سے اس نے گزار دی اپنی
میں زندگی سے بھی اکثر فریب کھاتی رہی
کوئی رستہ بتانے والا نہیں
تم نہیں کوئی آنے والا نہیں
وہ جو تجھ سے ذرا بھی بیر رکھے
میں اسے منہ لگانے والا نہیں
روٹھنا ہے تو یہ سمجھ لینا
میں تو تجھ کو منانے والا نہیں