یہ بہت آساں ہے سب پر تبصرا کرتے رہو
بات تو جب ہے کہ اپنا سامنا کرتے رہو
ہر نفس پر زندگی کا حق ادا کرتے رہو
روز مرنا ہے تو جینے کی دعا کرتے رہو
ہر قدم پر منزلیں آواز دیں گی خود تمہیں
شرط یہ ہے اپنے ہونے کا پتا کرتے رہو
یہ بہت آساں ہے سب پر تبصرا کرتے رہو
بات تو جب ہے کہ اپنا سامنا کرتے رہو
ہر نفس پر زندگی کا حق ادا کرتے رہو
روز مرنا ہے تو جینے کی دعا کرتے رہو
ہر قدم پر منزلیں آواز دیں گی خود تمہیں
شرط یہ ہے اپنے ہونے کا پتا کرتے رہو
ساقی کی نظر عیش گریزاں تو نہیں ہے
یہ گردشِ مے گردشِ دوراں تو نہیں ہے
گلشن میں کہیں جشنِ بہاراں تو نہیں ہے
گل چاک گریباں سہی خنداں تو نہیں ہے
اے چارہ گرو! چارہ گری کھیل نہ سمجھو
یہ چاکِ جگر، چاکِ گریباں تو نہیں ہے
تنہائی مل سکی نہ گھڑی بھر کسی کے ساتھ
سایہ بھی میرے ساتھ رہا روشنی کے ساتھ
روشن ہوا نہ کوئی دریچہ مِرے بغیر
اک ربط خاص رکھتا ہوں میں اس گلی کے ساتھ
دو دن کی زندگی میں بھی دھڑکا تھا حشر کا
کرتے رہے گناہ مگر بے دلی کے ساتھ
حدِ نظر سراب ہے پانی تو ہے نہیں
صحرا کی گرد ہم نے اُڑانی تو ہے نہیں
چلتا نہیں ہے اس پہ ہمارا کچھ اختیار
یہ زندگی ہے کوئی کہانی تو ہے نہیں
کیوں دیکھ بھال اِس کی کریں ہم تمام عمر
یہ زخم کوئی اس کی نشانی تو ہے نہیں
کوئی مقتول جفا ہو جیسے
یعنی تصویر وفا ہو جیسے
بارہا یوں بھی ہوا ہے محسوس
کوئی مجھ میں ہی چھپا ہو جیسے
کتنا مستغنیٔ درماں ہے یہ
درد خود اپنی دوا ہو جیسے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سر رسوا کی ہے عزت مرے سرکارﷺ کی چوکھٹ
"دلِ مضطر کی ہے راحت مرے سرکار کی چوکھٹ"
اگرچہ ہے زمیں پر، اس کا ہے لیکن مقام اعلیٰ
رکھے ہے عرش کی رفعت مِرے سرکار کی چوکھٹ
اجالا فرش پر جس سے ہے طلعت عرش پر جس سے
دو عالم کی تو ہے زینت مرے سرکار کی چوکھٹ
کبھی وہ رنج کے سانچے میں ڈھال دیتا ہے
کبھی خوشی وہ مجھے بے مثال دیتا ہے
جواب سوچتی رہتی ہوں میں کئی دن تک
وہ اک سوال ہوا میں اچھال دیتا ہے
ہمارے پیار سا دنیا میں پیار سب کا ہو
ہمارے پیار کی یہ جگ مثال دیتا ہے