Sunday, 2 August 2026

جو تذکرہ نہ محبت کا چار سو کرتے

 جو تذکرہ نہ محبت کا چار سُو کرتے

ذرا سی دیر تو ہم سے وہ گفتگو کرتے

کچھ اور ہوتے جو امکاں حیات کے روشن

بڑی خوشی سے تمنائے رنگ و بُو کرتے

صِلہ ملا نہ وفا کا جب آج تک ہم کو

تو اور کیا تِری دنیا میں آرزو کرتے

ہے نام تو خورشید خاں کہتے ہیں سب جلدی میاں

 جلدی میاں


ہے نام تو خورشید خاں

کہتے ہیں سب جلدی میاں

ہر کام میں گڑبڑ کریں

کمروں میں وہ کھڑبڑ کریں

ہیں دیر سے وہ جاگتے

اسکول جائیں بھاگتے

گر جاں جدا ہو جسم سے مدینے میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سمجھوں گا کہ حاصل ہوا مقصد حیات

گر جاں جدا ہو جسم سے مدینے میں

اور رُوح کرے طواف کعبے کا

اے کاش حشر میں مِلے

یوں میری محنتوں کا صلہ

آپﷺ مُسکرا کے دیکھیں مجھے

گزرے گی کیا جمال رخ یار دیکھ کر

 گُزرے گی کیا جمالِ رُخِ یار دیکھ کر

حیرت ہے حُسن حسرتِ دیدار دیکھ کر

نا سازیٔ جہاں کی تو پروا کبھی نہ تھی

جی بُجھ گیا ہے تم کو دلآزار دیکھ کر

اس دلفگار شوق کی حسرت نہ پوچھیے

مجروح ہو گیا ہو جو تلوار دیکھ کر

دل ہاتھ ہیں اور دعا تیری یاد

 دل ہاتھ ہیں اور دُعا تیری یاد

ہم جیسوں کا حوصلہ تیری یاد

کچھ یوں بھی خموش ہو گیا ہوں

کرتی ہے مُکالمہ تیری یاد

پُوچھو کبھی میرے آنسوؤں سے

کس درجہ ہے خُوشنما تیری یاد

Saturday, 1 August 2026

خوش فہمیوں میں رہ کے جو حد سے نکل گئے

 خوش فہمیوں میں رہ کے جو حد سے نکل گئے

بونے سمجھ رہے ہیں وہ قد سے نکل گئے

اب ہم کو چھُو نہ پائے گی دنیا تِری ہوس

ہم تیری خواہشات کی زد سے نکل گئے

آنتیں ہی بھر رہی ہیں لہو سے مِرا شِکم

اب بھُوک کے محاذ رسد سے نکل گئے

چھیڑ چھاڑ اچھی نہیں اچھا برا ہو جائے گا

 چھیڑ چھاڑ اچھی نہیں اچھا بُرا ہو جائے گا

مان جا، ورنہ کوئی جھگڑا کھڑا ہو جائے گا

میں کہ بے نامی میں بھی خُوش اور وہ اہمیت طلب

ہم اگر ٹکرا گئے تو حادثہ ہو جائے گا

آخری پردہ بھی اس کو میری آنکھوں نے دیا

کیا خبر تھی وہ یہاں تک بے حیا ہو جائے گا