Wednesday, 24 June 2026

جا نہ تو حسرت دیدار ابھی باقی ہے

 جا نہ تُو حسرتِ دیدار ابھی باقی ہے

اک رمق مجھ میں دمِ یار ابھی باقی ہے

کیوں نہ دیکھوں انہیں نظروں سے خریدار کی میں

حُسن کی گرمئ بازار ابھی باقی ہے

سب ہوئے حسرت و ارماں تو شبِ غم میں شہید

رہ گیا اک یہ گُنہ گار ابھی باقی ہے

غم بھی مل جائیں گے مسکرانے کے بعد

 یہ کسے تھی خبر دل لگانے کے بعد

غم بھی مل جائیں گے مسکرانے کے بعد

کس جہاں میں خدا جانے وہ کھو گئے

مجھ کو اک بار صورت دکھانے کے بعد

جان پایا ہوں میں وہ ہے پتھر جگر

اپنی آنکھوں سے آنسو بہانے کے بعد

اک پریشانی الگ تھی اور پشیمانی الگ

 اک پریشانی الگ تھی اور پشیمانی الگ

عمر بھر کرتے رہے ہم دودھ اور پانی الگ

ریت ہی دونوں جگہ تھی زیر مہر و زیر آب

مصرع اولیٰ سے کب تھا مصرع ثانی الگ

دشت میں پہلے ہی روشن تھی ببولوں پر بہار

دے رہے ہیں شہر میں کانٹوں کو سب پانی الگ

Tuesday, 23 June 2026

وہ کوئی بیان نہیں بلکہ ایک سوال تھا

 سوال


جب میں نے کہا تھا تم سے

کہ مجھے تم سے محبت نہیں

اور ایک گہری سانس لی تھی تم نے

وہ کوئی بیان نہیں بلکہ ایک سوال تھا

جواب تھی؛ وہی گہری سانس

برنگ شمع رو رو کر بسر کی

 برنگِ شمع رو رو کر بسر کی

شبِ غم اس طرح ہم نے سحر کی

بتائیں کیا کہ کس نے لے لیا دل

خدا جانے کہ آفت تھی کِدھر کی

کہاں تک ساقیا! جورِ تغافل؟

خبر لے اپنے مست بے خبر کی

دیوار رہگزار اگر راستہ نہ دے

 دیوارِ رہ گزار اگر راستہ نہ دے

ڈر ہے مِرا جنون اِسے بھی گِرا نہ دے

یہ جو تِرے خیال میں گُم ہے تِرا فقیر

اُنگلی پہ کائنات کو اِک دن گُھما نہ دے

اِس واسطے ہوا سے میں کرتا نہیں کلام

یہ شوخ سارے شہر کو جا کر بتا نہ دے

شہر انا تھا میں دروازہ تھے تم بھی

 منظر منظر قریہ قریہ تھے تم بھی

خاک نژادو پھول ستارہ تھے تم بھی

اب شہر صد جبر میں ساکت ہم ٹھہرے

عہد تحیر میں نا رفتہ تھے تم بھی

میں صدیوں کی آرائش کرنے والا

میرے مساعی کے پروردہ تھے تم بھی