Wednesday, 10 June 2026

عشق کے دور میں کچھ ایسے بھی پہلو آئے

 عشق کے دور میں کچھ ایسے بھی پہلو آئے

ہنسنا چاہا تو مِری آنکھوں میں آنسو آئے

اک تو وہ پھول ہی کاغذ کے اٹھا لایا ہے

اس پہ یہ ضد ہے کہ ان پھولوں سے خوشبو آئے

تُو کہاں تھا کہ تجھے ڈھونڈنے میرے گھر تک

کبھی بھنورے، کبھی تتلی، کبھی جگنو آئے

جگمگاتے شہر کی رعنائیوں میں کھو گیا

 جگمگاتے شہر کی رعنائیوں میں کھو گیا

تھا وہ سُورج سا مگر پرچھائیوں میں کھو گیا

آنے والے وقت نے سمجھا اُسے اپنا نقیب

وہ پرِ پرواز کیوں پہنائیوں میں کھو گیا

میرا چہرہ اپنے پس منظر سے خُود واقف نہ تھا

بھِیڑ میں تو ساتھ تھا، تنہائیوں میں کھو گیا

مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے

 مجھے اُس سے محبت ہو گئی ہے

جسے مُجھ سے عداوت ہو گئی ہے

مشینی شہر میں دو چار لمحے

بہت نایاب فُرصت ہو گئی ہے

میں بیکاری کے دوزخ میں پڑا ہوں

مِرے گھر میں قیامت ہو گئی ہے

وہ دل شکار کرے یا جگر نشانہ کرے

 وہ دل شکار کرے یا جگر نشانہ کرے

جفا کرے تو کرے ہاں کوئی دغا نہ کرے

وہ پھر حسیں ہی نہیں جو کبھی جفا نہ کرے

وہ اہلِ دل نہیں جو عمر بھر وفا نہ کرے

خدا کسی کو کسی سے کبھی جدا نہ کرے

بچھڑ کے تجھ سے میں پل بھر جیوں خدا نہ کرے

سجدۂ شکر تو کر ہی لیں اذاں سے پہلے

 ان کی نظروں سے ملی داد فغاں سے پہلے

قلب بیدار دیا ہم کو زباں سے پہلے

اور بھی آئے ہیں عقال یہاں مارکس کے بعد

جیسے گزرے ہیں حسیں نورجہاں سے پہلے

جھوٹ اور سچ کو تو پھر دیکھیں گے پہلے یہ کہیں

آپ نے بات سنی ہے یہ کہاں سے پہلے

Tuesday, 9 June 2026

دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں

 واپسی


میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہے

دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں

دور سے گھر نظر آیا روشن

ساری بستی میں ملا ایک مرا گھر بے خواب

پاس پہنچا تو وہ دیکھا 

رقیب جاں نظر کا نور ہو جائے تو کیا کیجے

 رقیبِ جاں نظر کا نُور ہو جائے تو کیا کیجے

زیاں دل کو اگر منظور ہو جائے تو کیا کیجے

وفا کرنے سے وہ مجبور ہو جائے تو کیا کیجے

محبت رُوح کا ناسُور ہو جائے تو کیا کیجے

وہی چرچے وہی قصے ملی رُسوائیاں ہم کو

انہی قصوں سے وہ مشہور ہو جائے تو کیا کیجے