Wednesday, 15 July 2026

جوان موسم تھا ہم نے یہ دل کسی کے آنگن میں رکھ دیا تھا

 جوان موسم تھا ہم نے یہ دل کسی کے آنگن میں رکھ دیا تھا

یہ دل کے نازک معاملے ہیں ہمارا اس میں قصور کیا تھا

بچھڑ کے مجھ سے وہ مطمئن ہے یہ ساری جھوٹی کہانیاں ہیں

میں جب بھی گزرا تھا اس گلی سے تو وہ دریچہ کُھلا ہوا تھا

خدا گواہ کہ مہ رخوں سے کبھی تقاضے کیے نہ شکوے

وفائیں کرنا، دعائیں دینا ہی ہم فقیروں کا مدعا تھا

ہر سمت تھی بہار خزاں کا گزر نہ تھا

ہر سمت تھی بہار خزاں کا گزر نہ تھا

لیکن ہمارے ساتھ کوئی راہبر نہ تھا

جس نے خِرد کی راہ دکھائی بہار میں

وہ راہ میں جنوں کی مِرا ہمسفر نہ تھا

قیدِ حیات و موت میں کیوں اتنی الجھنیں

ایسا تو راستہ یہ کوئی پُر خطر نہ تھا

نیند اب رات بھر نہیں آتی

 جیسے مدھوبن کی بالا


نیند اب رات بھر نہیں آتی

اک خوشی بھی ادھر نہیں آتی

شبِ فُرقت کٹے گی ہائے کب

کیوں آخر سحر نہیں آتی

جگمگا جاتی ہے شہر سارا

روشنی میرے گھر نہیں آتی

مخالفوں کے جلو میں وہ آج شامل تھا

 مخالفوں کے جلو میں وہ آج شامل تھا

وفا پرست رُتوں کا جو شخص حاصل تھا

وہ میری ذات کی پہچان بھی تعارف بھی

مِرے لہو میں بہ رنگِ حیات شامل تھا

حسین رات تھی ہاتھوں میں ہاتھ تھے ہم تھے

کنارِ آب خموشی تھی، ماہِ کامل تھا

عموماً وقت اچھا ہو تو سارے ٹھیک ملتے ہیں

 کہانی ٹھیک بنتی ہے نظارے ٹھیک ملتے ہیں 

عموماً وقت اچھا ہو تو سارے ٹھیک ملتے ہیں 

وجہ اک دوست یہ بھی ہے تعلق کو بڑھانے کی 

کہ ہم دونوں کے آپس میں ستارے ٹھیک ملتے ہیں 

تمہارا یوں مُکر جانا،۔ اچانک یوں بدل جانا 

تو مطلب مجھ کو خوابوں میں اشارے ٹھیک ملتے ہیں 

اداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیں

 اداس راتیں ہیں خواب سارے اُجڑ چکے ہیں

ہے آنکھ ویراں کہ سب نظارے اجڑ چکے ہیں

مِری زمیں پہ گُلوں کے چہرے جُھلس گئے ہیں

مِرے فلک کے وہ چاند تارے اجڑ چکے ہیں

جو میرے آنسُو شُمار کرتے، جو پیار کرتے

وفا کے پیکر سبھی سہارے اجڑ چکے ہیں

یوں تو معلوم نہیں کیا ہے حقیقت اپنی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یوں تو معلوم نہیں کیا ہے حقیقت اپنی

مُستند ہے درِ حسّان سے نسبت اپنی

کوئی پُوچھے تو حوالہ تِرا دے دیتے ہیں

یوں تِرے نام سے ہو جاتی ہے عزت اپنی

نعت ہو، شعر ہو، نغمہ ہو، ثنا خوانی ہو

ان تک آواز تو پہنچے کسی صُورت اپنی