Saturday, 16 May 2026

اپنی ناکام محبت پہ ہنسی آتی ہے

 اپنی ناکام محبت پہ ہنسی آتی ہے

دل کی بگڑی ہوئی قسمت پہ ہنسی آتی ہے

میں نے سمجھا تھا سہارا جسے اپنے دل کا

آج مجھ کو اسی اُلفت پہ ہنسی آتی ہے

ڈھل گئی جو کسی بے ربط سے افسانے میں

دل کی اس تازہ حقیقت پہ ہنسی آتی ہے

عجیب یہ جہان ہے عجیب یہ حیات ہے

 عجیب یہ جہان ہے، عجیب یہ حیات ہے

نہ آج تک سمجھ سکے جو رازِ کائنات ہے

لُٹی لُٹی سی آس ہے، گُھٹی گُھٹی سے آرزُو

وہی ہیں بے قراریاں، وہی سیاہ رات ہے

تِرے حسیں خیال میں گُزار دی ہے زندگی

جو پا سکے نہ ہم اگر تجھے تو اور بات ہے

نظر چراتا ہے یوں بھی کچھ آسماں مجھ سے

 نظر چراتا ہے یوں بھی کچھ  آسماں مجھ سے 

میں دو جہان سے واقف ہوں دو جہاں مجھ سے

وفورِ درد کے پاتال تک میں جب پہنچا 

فلک نے کھینچ لیا تب مِرا نشاں مجھ سے

عجیب ہے یہ تعلق کہ دور رہ کر بھی

یہاں میں اُس سے الجھتا ہوں وہ وہاں مجھ سے

کبھی کبھی تری چاہت پہ یہ گماں گزرا

 کبھی کبھی تِری چاہت پہ یہ گُماں گُزرا 

کہ جیسے سر سے ستاروں کا سائباں گزرا 

چراغ ایسے جلا کر بُجھا گیا کوئی 

تمام دِید کا عالم دُھواں دُھواں گزرا 

جنونِ شوق میں سجدوں کی آبرُو بھی گئی 

مجھے خبر نہ ہوئی کب وہ آستاں گزرا 

مرے سامنے جو صلیب ہے

 مِرے سامنے جو صلِیب ہے

وہ صلیب میرا نصیب ہے

جسے زندگی کی طلب نہیں

وہی زندگی کے قریب ہے

اسے غم ملیں یا ملے خوشی

یہ تو آدمی کا نصیب ہے

دیدۂ اشک بار نے مارا

 دیدۂ اشکبار نے مارا

آہِ بے اختیار نے مارا

دے دِلا کر فریبِ رنگ و بُو

ایک جانِ بہار نے مارا

خُلد کی حُسن کاریاں توبہ

رُوئے رنگینِ یار نے مارا

عادتاً مایوس اب تو شام ہے

 عادتاً مایُوس اب تو شام ہے

ہِجر تو بس مُفت ہی بدنام ہے

آج پھر دُھندلا گیا میرا خیال

آج پھر الفاظ میں کُہرام ہے

الگنی پر ٹانگ کر دن کا لباس

رات کو اب چین ہے آرام ہے