Monday, 13 April 2026

ہجر کے دور میں حالات بدل جاتے ہیں

 ہجر کے دور میں حالات بدل جاتے ہیں 

پھول مر جاتے ہیں سب پات بدل جاتے ہیں 

تو نے دیکھا ہے کبھی درد کے صحراؤں میں 

دھوپ بڑھنے لگے تب ساتھ بدل جاتے ہیں 

ہم پہ وہ وقت ہے اب چاہے خوشی آئے کہ غم 

آنکھ نم ہوتی ہے جذبات بدل جاتے ہیں 

مجھ دکھ کی خبر لینے وہ غمخوار نہ آیا

 فریاد کہ وہ شوخ ستمگار نہ آیا

مجھ قتل کوں لے ہاتھ میں تلوار نہ آیا

میں پنبہ نمن نرم کیا بستر تن کوں

وہ پیو قدم دھرنے کو یکبار نہ آیا

چھٹ آہ پچھے کون مِرے درد کا احوال

مجھ دکھ کی خبر لینے وہ غمخوار نہ آیا

وہ جس کے ہجر میں ہم جاگتے تھے سوئے نہیں

 وہ جس کے ہجر میں ہم جاگتے تھے سوئے نہیں

کمال یہ ہے کہ اس سے بچھڑ کے روئے نہیں

وہ جن کے بیج سدا زخم زخم فصلیں دیں

ہماری آنکھوں میں وہ ایسے خواب بوئے نہیں

اسے کہو کہ اسے ڈھونڈنے نہ نکلیں گے

سو اتنا ذہن میں رکھیے کہ ہم کو کھوئے نہیں

اب مکیں اور ہیں گھر بار پرانا ہی ہے

 اب مکیں اور ہیں گھر بار پرانا ہی ہے

بس حوالے نئے ہیں پیار پرانا ہی ہے

روز گھڑیال میں تاریخ بدل جاتی ہے

صبح کی میز پہ اخبار پرانا ہی ہے

رنگ موسم کے تغیر سے اڑا چہرے کا

دل مرے جسم میں سرکار پرانا ہی ہے

بس ایک بار اے جان بہار آ جاؤ

 تڑپ رہا ہے دل بے قرار آ جاؤ

بس ایک بار اے جان بہار آ جاؤ

تمہارے آنے سے لوٹ آئے گی چمن میں بہار

خزاں اڑانے لگی ہے غبار آ جاؤ

لگا دی آگ گلستاں میں دشمنوں نے مگر

بجھائیں آگ جو ہیں جاں نثار آ جاؤ

Sunday, 12 April 2026

کہیں بھی حسن کو دیکھا تو یاد آئے تم

 کہیں بھی حُسن کو دیکھا تو یاد آئے تم

کسی  بھی باغ سے گزرا تو یاد آئے تم

میں اپنی سوچ میں کھویا ہوا تھا گھنٹوں سے

کسی نے آ کے جھنجھوڑا تو یاد آئے تم

بھلے نہ پیار سے دیکھا کبھی ہمیں تم نے

کسی نے پیار سے دیکھا تو یاد آئے تم

کوئی تو پھول کسی شاخ سے پکارے مجھے

کوئی تو پھول کسی شاخ سے پکارے مجھے

پسند آتے ہیں خوشبو کے استعارے مجھے

مجھی سے عام ہوا ہے یہ شہر میں اور تم

سکھا رہے ہو محبت کا کھیل پیارے، مجھے

وہ دیکھتا رہے ہر حال میں مرا رستہ

وہ اپنی آنکھ کے ہر خواب سے گزارے مجھے