دل کو پابند رنگ و بُو کر کے
آبرُو کھوئی آرزُو کر کے
خود کو کھو بیٹھے اپنے ہاتھوں سے
کیا ملا ان کی جستجُو کر کے
خدمتِ خلق سے ہوئے مخدوم
آبرُو پائی آبرُو کر کے
دل کو پابند رنگ و بُو کر کے
آبرُو کھوئی آرزُو کر کے
خود کو کھو بیٹھے اپنے ہاتھوں سے
کیا ملا ان کی جستجُو کر کے
خدمتِ خلق سے ہوئے مخدوم
آبرُو پائی آبرُو کر کے
یوں سانس لے رہے ہیں کہ جینا محال ہے
زندہ ہیں پھر بھی ہم، یہ ہمارا کمال ہے
تُو لاکھ شیشہ گر سہی، اتنا مجھے بتا
جائے گا کیسے شیشۂ دل میں جو بال ہے
پھر زخمِ دل سے تازہ لہو پھُوٹنے لگا
باقی ابھی تو مرحلۂ اندمال ہے
جو الفت میں مٹا رسوا ہوا سارے زمانے میں
یہی حاصل تو ہوتا ہے کسی سے دل لگانے میں
بجز آزار و غم کے نفع کیا ہے دل لگانے میں
دھرا ہے اور کیا عشق و محبت کے فسانے میں
یہی خواہش ہے ان کی خون ہو میری تمنا کا
شبِ وعدہ نہ ہوں مشغول کیوں مہندی لگانے میں
دلگیر ہیں، بس اس لیے دلشاد نہیں ہم
کہنے کو تو آزاد ہیں، آزاد نہیں ہم
اب کون سِکھائے ہمیں تہذیب و تمدن
اک قوم ہیں جنگل میں تو آباد نہیں ہم
برتر نہیں کوئی بھی فقط حسب و نسب سے
سوچو ذرا اک باپ کی اولاد نہیں ہم؟
زندگی پہ اب اپنا اعتبار مشکل ہے
خواب میں ہی مل جاؤ انتظار مشکل ہے
عمر مختصر پہ ہے بوجھ کتنے کاموں کا
اس جہان میں دیکھو تم سے پیار مشکل ہے
تھک کے بیٹھنے والے سوچ اس کے دل کا بھی
تجھ سے زیادہ جس پر اب تیری ہار مشکل ہے
ہم آستانۂ پیرِ مغاں سے آتے ہیں
کہ لامکاں سے بھی اونچے مکاں سے آتے ہیں
ہماری جان فدا جس کے اک اشارے پر
ہم اپنی جان کے اس پاسباں سے آتے ہیں
میں تجھ پہ جان سے صدقے تصورِ جاناں
مِری لحد میں یہ جلوے کہاں سے آتے ہیں
کیوں ملاتا ہے ہاں میں ہاں سمجھ لیتے
کاش اس حقیقت کو نکتہ داں سمجھ لیتے
غم کی بے پناہی نے کھول دی گِرہ دل کی
ورنہ دردِ پنہاں کو وہ کہاں سمجھ لیتے
نالۂ شبِ ہجراں، کتنا درد آگیں ہے
کاش اس اذیت کو جانِ جاں سمجھ لیتے