Friday, 17 July 2026

یہ دل تھا گور غریباں شمع جلی نہ جلی

 محبتیں تو مِلیں گو وفا مِلی نہ مِلی

سفر حسِین تھا منزل کا کیا ملی نہ ملی

نہ دوستوں سے توقع نہ دشمنوں سے گریز

یہ دل تھا گورِ غریباں، شمع جلی نہ جلی

عجب سا حبس ہے انسانیت کے ذہنوں میں

کسے ہو فِکر کہ بادِ صبا چلی نہ چلی

آنکھوں سے پی رت مستانی ہو گئی

 آنکھوں سے پی رُت مستانی ہو گئی

جام سے پینا رسم پرانی ہو گئی

کچھ ان کے بھی الہڑپن کی ہے خطا

تھوڑی ہم سے بھی نادانی ہو گئی

وقتِ سحر یہ کون چمن میں آ گیا

شرم سے شبنم پانی پانی ہو گئی

زمیں کے لب ہیں سلے اور آسماں خاموش

 زمیں کے لب ہیں سِلے اور آسماں خاموش

تماشا دیکھتا رہتا ہے یہ جہاں خاموش

جو نُکتہ چینی سدا کرتا تھا مخالف پر

ہوئی ہے آج اسی شخص کی زباں خاموش

اُداسیوں میں گِھری جب سے ماں کو پایا ہے

تبھی سے رہنے لگے ہیں دل اور جاں خاموش

محبت کو ریا کی قید سے آزاد کرنا ہے

 محبت کو ریا کی قید سے آزاد کرنا ہے

ہمیں پھر آرزؤں کا نگر آباد کرنا ہے

شکست فاش دینی ہے من و تو کے رویوں کو

مراسم کی بحالی کا ہنر ایجاد کرنا ہے

یہ کیا جبر تعلق ہے کہ پھر تیرے حوالے سے

کسی کو بھول جانا ہے کسی کو یاد رکھنا ہے

جسے میں خواب سمجھا تھا اچانک اصل ہو جائے

خواب


بہت آرام دہ دن تھا

تسلی کی نشستِ مہرباں پر

سر ٹکائے، پاؤں لٹکائے ہوئے

کہیں بیٹھا ہوا تھا میں

میرے آگے صبحِ (نو) کے طشت میں بکھرے ہوئے

اپنے اجداد کے گم گشتہ زمانوں کی طرح

 اپنے اجداد کے گُم گشتہ زمانوں کی طرح

یادِ ماضی ہے میرے دل میں خزانوں کی طرح

ہیں طیورانِ چمن یادِ خُدا میں مشغول

نخل کی شاخوں پہ ہرصبح اذانوں کی طرح 

اپنی پاکیزگیِ نفس کو میں پاتا ہوں

صحنِ احساس میں تسبیح کے دانوں کی طرح

زندگی کی چاہ میں بہت خاص ہو تم

 میرے من کی آس اور احساس ہو تم

زندگی کی چاہ میں بہت خاص ہو تم

نہ دیکھوں تجھے تو رہتا ہے دل مضطر

سوچوں تو مِرے سر کی دستار ہو تم

میں طالب تِرا تُو تسبیح مِری یادوں کی

اور دعاؤں میں مانگی گئی فریاد ہو تم