Friday, 13 February 2026

ہم نے پہلا جرم اپنی پیدائش کے دن کیا تھا

ہم نے پہلا جرم اپنی پیدائش کے دن کیا تھا

ہمارے سانس لینے سے پہلے

چیخ کر رونے پر پابندی لگا دی گئی تھی

چپ میں لپیٹ کر ہمیں ہماری ماؤں کے حوالے کر دیا گیا

اس سے پہلے انہیں

بے آواز گیت یاد کروائے گئے

اسی باعث زیادہ ہنس رہا ہوں

 اسی باعث زیادہ ہنس رہا ہوں

میں بالکل بے ارادہ ہنس رہا ہوں

سجے ہیں زخم سینے پر ہزاروں

مگر میں حسبِ وعدہ ہنس رہا ہوں

نہیں ہے مطمئن منزل پہ کوئی

میں ہو کر وقفِ جادہ ہنس رہا ہوں

دیکھے گا کوئی خاک یہ ملبہ وجود کا

 دیکھے گا کوئی خاک یہ ملبہ وجود کا

کس کو کھنڈر ملے گا مِری باش و بود کا

الجھا ہوا خدا بھی ہے دام دوام میں

ہے سلسلہ حدود سے باہر قیود کا

اک عمر کی بسی ہوئی خوشبو نکل گئی

اعلان کر رہا ہے تعفّن وجود کا

تو امر واقعہ یہ ہے یہ بیوہ ہو گئی تھی

 امر واقعہ


تو امر واقعہ یہ ہے

یہ بیوہ ہو گئی تھی

اور اس نے ناسمجھ بچوں کو یوں ہی بھیک سے پالا ہے پوسا ہے

جواں بیٹے ہیں اب اپنا کماتے ہیں

انہیں تو معاشرے میں زندہ رہنا ہے

نہیں کافی سلیقہ نعت میں بس خوش بیانی کا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت 


نہیں کافی سلیقہ نعت میں، بس خوش بیانی کا

مرے آقاﷺ عطا ادراک ہو، لفظ و معانی کا

جھڑی ایسی لگی، آقاؐ کی رحمت جوش میں آئی

نصیبہ کھل گیا پل میں، مری آنکھوں کے پانی کا

وہ راحت پائی ہے اس نے درِ سرکارؐ پر آ کر

نہیں کوئی ارادہ دل کا اب نقلِ مکانی کا

Thursday, 12 February 2026

بے خیالی میں نہ جانے کیا سے کیا لکھتی رہی

 بے خیالی میں نہ جانے کیا سے کیا لکھتی رہی

ایک پتھر کو محبت کا خدا لکھتی رہی

بارہا مظلوم غنچوں کو تڑپتا دیکھ کر

زرد پتوں پر لہو سے کربلا لکھتی رہی

کارواں لٹنے پہ اب خود سے بہت بیزار ہوں

جانے کیوں میں رہزنوں کو رہنما لکھتی رہی

کہ ہجرت کیا ہے

 کسے معلوم ہے اک دن

مجھے پھر ایک ان دیکھے جزیرے کی طرف چپ چاپ جانا ہے

جہاں صندل کے قد آور درختوں تلے

کچھ لوگ میرے منتظر ہوں گے

انہیں تشویش ہو گی مجھ سے پوچھیں گے

کہ ہجرت کیا ہے؟