Friday, 8 May 2026

شیشۂ ساعت کا غبار ہمیں شکست ہو گئی

 شیشۂ ساعت کا غبار


میں زندہ تھا

مگر میں تیرے سرخ نیلگوں، سفید بلبلے میں قید تھا

ہوا وسیع تھی، مگر حدود سے رہا نہ تھی

نہ میرے پر شکستہ تھے نہ میری سانس کم

تھا بلبلے کی کائنات میں مرا ہی دم قدم

مگر مِری اڑان سرخ نیلگوں سفید مقبرے کے

دور فضا میں ایک پرندہ کھویا ہوا اڑانوں میں

 دور فضا میں ایک پرندہ کھویا ہوا اڑانوں میں

اس کو کیا معلوم زمیں پر چڑھے ہیں تیر کمانوں میں

پھول توڑ کے لوگ لے گئے اونچے بڑے مکانوں میں

اب ہم کانٹے سجا کے رکھیں مٹی کے گلدانوں میں

بے در و بام ٹھکانا جس میں دھول دھوپ سناٹا غم

وہی ہے مجھ وحشی کے گھر میں جو کچھ ہے ویرانوں میں

Thursday, 7 May 2026

موت دیوانہ کو آئی ہے بیاباں کے پاس

 موت دیوانہ کو آئی ہے بیاباں کے پاس

ہاتھ رکھے ہوئے ہے اپنا گریباں کے پاس

عشق رکھتا ہے حسینوں سے مجھے فکر یہ ہے

نام کو عقل نہیں ہے دل ناداں کے پاس

اپنے جتنے ہیں وہ بیگانہ ہوئے عسرت میں

کوئی ملنے نہیں آتا ہے پریشاں کے پاس

جو لب پر مرے یا نبی یا نبی ہے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جو لب پر مِرے یا نبیؐ یا نبیﷺ ہے

اسی سے تو ہر بات میری بنی ہے

میں کیوں دربدر جا کے دامن پساروں

نبیﷺ مل گئے اب مجھے کیا کمی ہے

انہیں غیب کا علم رب نے ہے بخشا

نبیﷺ پر عیاں ہر خفی و جلی ہے

زخم مہکے تو محبت کا مزا یاد آیا

 زخم مہکے تو محبت کا مزا یاد آیا

بھُولنا چاہا تو وہ حد سے سِوا یاد آیا

پھر خیالوں کی ہری شاخ پہ کلیاں مہکیں

پھر وہی شوخ،۔ وہی جانِ وفا یاد آیا

میں نے آئینہ اُٹھایا تھا کہ سب چیخ اُٹھے

عکس تو عکس ہی تھے لوگوں کو کیا یاد آیا

بہت نڈھال بہت بد حواس لگتی ہے

 بہت نڈھال بہت بد حواس لگتی ہے

یہ بھیڑ شہر کی کتنی اداس لگتی ہے

تلاش آب میں مقصد نہ فوت ہو جائے

سفر ہو سخت تو رک رک کے پیاس لگتی ہے

وہ جس سے ہم نے ہمیشہ ہی دوریاں رکھیں

اب اس کی بات میں مجھ کو مٹھاس لگتی ہے

ہے بہار زندگانی چند روز

 ہے بہار زندگانی چند روز

رونقِ عہدِ جوانی چند روز

رنج و غم میں زندگی ساری کٹی

پر نہ دیکھی شادمانی چند روز

جب کیے ہم پر کیے جور و ستم

کہ نہ تم نے مہربانی چند روز