گرمی سفر کی رختِ سفر سے نکل گئی
ایسے اُڑا کہ تاب شرر سے نکل گئی
دُنیا کا کیا بھروسہ کہ اکثر یہی ہوا
اک در سے آ کے دوسرے در سے نکل گئی
اک شہر سوچ کا بھی محبّت میں جل گیا
اُٹھی جو آگ دل سے وہ سر سے نکل گئی
گرمی سفر کی رختِ سفر سے نکل گئی
ایسے اُڑا کہ تاب شرر سے نکل گئی
دُنیا کا کیا بھروسہ کہ اکثر یہی ہوا
اک در سے آ کے دوسرے در سے نکل گئی
اک شہر سوچ کا بھی محبّت میں جل گیا
اُٹھی جو آگ دل سے وہ سر سے نکل گئی
ہے خاکداں پہ کہیں پر کہ آسمان میں ہے
مرا جہان اگر ہے تو کس جہان میں ہے
وفورِ بے خبری میں کبھی سنا ہی نہیں
جو حریت کا مکمل سبق اذان میں ہے
مِرے شعور نے پابند کر دیا ورنہ
سخن کا ایک سمندر مرے دہان میں ہے
اچھے لگو گے اور بھی اتنا کیا کرو
آنکھوں کو میری اپنے لیے آئینہ کرو
وعدے وفا کیے نہ کبھی تم نے جانِ جاں
دل پھر بھی چاہتا ہے کہ وعدہ نیا کرو
رہ کر تمہارے پاس بھی رہتا ہوں میں کہاں
مِل جاؤں پھر سے تم کو بس اتنی دعا کرو
ہر دم کی کشمکش سے نکل، راستہ بدل
اب اور ان کے ساتھ نہ چل، راستہ بدل
یہ خلفشار ذہن یہ خدشے یہ حجتیں
ان سب کا بس ہے ایک ہی حل، راستہ بدل
نخوت پرست لوگوں کو چھوڑ ان کے حال پر
وقت ان کے خود نکالے گا بل، راستہ بدل
کھول کر آنکھ تو سونے سے رہے
اب کسی اور کے ہونے سے رہے
آپ نے پاس تو رکھا تھا ، مگر
آپ کے پاس کھلونے سے رہے
کیا بتائیں کہ کسی یاد میں ہم
اتنا روئے ہیں کہ رونے سے رہے
آبِ صحرا کا اشارہ سچ ہو
جو نظر آئے خدارا سچ ہو
یہ عصا روپ نہ بدلے اپنا
ربِ موسیٰ یہ سہارا سچ ہو
ساری دنیا کے جریدے جھوٹے
تیرے آنکھوں کا شمارہ سچ ہو
گماں فصیل کا یاروں کو اپنے قد پر ہے
مگر یہ شہر ہوائے ستم کی زد پر ہے
ہجومِ خلق کو سمجھے ہجوم سایوں کا
وہ ایک شخص فریبِ نظر کی حد پر ہے
کرن کرن کے بدن میں ہیں وحشتیں لرزاں
کہ اب کے جشنِ چراغاں کسی لحد پر ہے