Tuesday, 8 September 2026

انا کی آنکھ سے دست سوال دیکھوں گا

 انا کی آنکھ سے دست سوال دیکھوں گا

لبوں کو سی کے طلب کا زوال دیکھوں گا

غزل کہوں گا، کریدوں گا دل کے زخموں کو

زوال اپنا، قلم کا کمال دیکھوں گا

دعا سلام کا رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا

میں دل کے شیشے میں جس وقت بال دیکھوں گا

میرا جیون کچھ کام نہ آیا

 فلمی گیت


میرا جیون کچھ کام نہ آیا

جیسے سُوکھے پیڑ کی چھایا


اپنوں کے ہوتے ہوئے تن میں بسی تنہائی

آنسُو بنا کے خُوشی آنکھوں سے میں نے برسائی

خُوشیوں کو روتے روتے

دُنیا میں اب تو میرا جی گھبرایا

ڈوب کے دیکھ لیا درد کی گہرائی میں

 ڈُوب کے دیکھ لیا درد کی گہرائی میں

آج کی رات گُزر جائے گی تنہائی میں

شمع دل لایا ہوں یہ سوچ کے محفل میں تِری

ہو کمی کچھ نہ تِری انجمن آرائی میں

بے سبب ہوگا مِرے ساتھ میں رُسوا وہ بھی

نام اس کا بھی ہے شامل میری رُسوائی میں

پلٹنے والوں کو ہم نے دیکھا تھا ان کے حلیے بتا رہے تھے

 پلٹنے والوں کو ہم نے دیکھا تھا ان کے حلیے بتا رہے تھے

سفر یہ مُشکل ترین تھا جس پہ ہم لوگ جا رہے تھے

گواہ رہنا اے دشت! تُو بھی، ملال ہم کو ذرا نہیں تھا

پُرانے زخموں کو درگُزر کر، نئے کی جگہیں بنا رہے تھے

جب اس نے دیکھا تو شہرِ دل میں عجیب ہلچل مچا کے رکھ دی

بدن کے بے حس تمام اعضاء، نظر کا نخرہ اُٹھا رہے تھے

Monday, 7 September 2026

چمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئی

 چمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئی

ہمارے گلستاں سے رنگ سارا لے گیا کوئی

ہمیں جو راہ دکھلاتا تھا جیون کے اندھیروں میں

ہمارے آسماں سے وہ ستارہ لے گیا کوئی

بہت ویران رہتا ہے فلک آنکھوں کا یہ جب سے

چرا کر اس سے اس کا ماہ پارہ لے گیا کوئی

کھوئے کھوئے حواس رہتے ہیں

 کھوئے کھوئے حواس رہتے ہیں

جانے ہم کیوں اداس رہتے ہیں

تجھ سے ہو کر جدا بھی اے ظالم

ہم تِرے آس پاس رہتے ہیں

تشنگی اپنی کم نہیں ہوتی

جام ہاتھوں کے پاس رہتے ہیں

شدت غم کا اب تو یہ عالم ہے

 شدت غم کا اب تو یہ عالم ہے

لب تو ہنستے ہیں، آنکھ پُرنم ہے

ہے تری یاد مونس شبِ غم

تُو نہیں سامنے تو کیا غم ہے

عشق محزوں کی خیر یو یا رب

آج ان کا مزاج برہم ہے