Friday, 17 April 2026

حادثے اب تو گھروں میں بھی ہوا کرتے ہیں

 اشک لہجے میں چھلک کر جو دعا کرتے ہیں

ان کی تکریم سدا،۔ بابِ رسا کرتے ہیں

کوئی محفل نہیں قندیلِ نوا سے روشن

یوں تو صحرا میں بگولے بھی صدا کرتے ہیں

ہے نگارانِ ستم سے مجھے نسبت ایسی

زخم خوشرنگ مِرے تن کی قبا کرتے ہیں

اے محبت عجیب چیز ہے تو

 اے محبت! عجیب چیز ہے تُو 

جان و دل سے سوا عزیز ہے تو 

تیری بیتابیاں ہیں رشک سکوں 

غیرت صد خِرد ہے تیرا جنوں 

تجھ سے لذت ہے اشک باری میں 

تجھ سے راحت ہے آہ و زاری میں 

میرے دروازے پہ آج ان کی سواری کیسے

 میرے دروازے پہ آج ان کی سواری کیسے

راستہ بھول گئی بادِ بہاری کیسے؟

تیشہ بردوش بہت ہیں کوئی فرہاد نہیں

جوئے شیر آج پہاڑوں سے ہو جاری کیسے

قاتلوں سے مِرے سرکار کی یاری کیسے

نیم وحشی ہے اگر صنفِ غزل جب یارو

گرا ہے بے خودی میں شمع پر پروانہ کہتے ہیں

 گِرا ہے بے خودی میں شمع پر پروانہ کہتے ہیں

ہم اس وارفتگی کو ذوق سے بیگانہ کہتے ہیں

بیاں کب کوئی اپنے عشق کی روداد کرتا ہے

مگر ہم اپنا قصّہ آج بے تابانہ کہتے ہیں

نہیں واقف کہ یہ گنجینۂ غم ہائے الفت ہے

مِرے مسکن کو میرے ہمنشیں ویرانہ کہتے ہیں

وہ جو پتھر ہیں وہی شیشوں سے وابستہ رہیں

 وہ جو پتھر ہیں وہی شیشوں سے وابستہ رہیں

ہم کہاں تک ٹوٹتے رشتوں سے وابستہ رہیں

آپ دہراتے رہیں سچی کتابوں کا کہا

اور لکیریں ان گنت چہروں سے وابستہ رہیں

رات دن جن کے لبوں پر روح کا پرچا رہے

ان کے دل میں ہے نئے جسموں سے وابستہ رہیں

آپ بھی چل کے طیبہ ذرا دیکھیے

  عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آپ بھی چل کے طیبہ ذرا دیکھیے

ہر طرف نورﷺ جلوہ نما دیکھیے

طٰہٰ، یٰسین اور خاتم الانیباءﷺ

رب نے کیا کیا لقب ہے دیا دیکھیے

کیا بیاں ہو بھلا عظمت مصطفیٰﷺ

مدح کرتا ہے خود کِبریا دیکھیے

کیسے اترے گا خمار آنکھوں کا

 کیسے اترے گا خمار آنکھوں کا

راس مجھ کو ہے حصار آنکھوں کا

تیرے چہرے کو جو دیکھے، کِھل جائے

جو بھی بیمار ہے یار آنکھوں کا

میرے ہونٹوں پہ ہے بات آنکھوں کی

میرے شعروں میں شمار آنکھوں کا