Monday, 13 July 2026

گریہ کرتا ہے کبھی چپ کبھی ہنستا ہے وہی

 گریہ کرتا ہے کبھی چپ کبھی ہنستا ہے وہی

میری وحشت مری حیرت کو سمجھتا ہے وہی

کبھی خوشبو کبھی بادل کبھی موج دریا

میرے اشعار میں سو رنگ بدلتا ہے وہی

کوئی گزرا تھا دبے پاؤں جہاں سے اک دن

راستہ خواب کی دہلیز سے ملتا ہے وہی

خموشیوں میں بہت سے سوال لایا ہے

 خموشیوں میں بہت سے سوال لایا ہے

شکایتوں کے لیے رخ نکال لایا ہے

یہ کہہ کے اس نے مجھے حیرتوں میں ڈال دیا

وہ میرے بیتے ہوئے ماہ و سال لایا ہے

ذرا سی دیر میں صدیوں کا بن گیا ضامن

یہ کس مزاج کا حرف کمال لایا ہے

رنگ لائی دعا معجزہ ہو گیا

 رنگ لائی دعا معجزہ ہو گیا

جو نہیں تھا میرا وہ میرا ہو گیا

ساتھ جینا ہے اور ساتھ مرنا ہے اب

فیصلہ کر لیا،۔ فیصلہ ہو گیا

ایسا لگتا ہے تم کو نظر لگ گئی

تم تو ایسے نہ تھے، تم کو کیا ہو گیا

چار تنکوں سے کہاں دشت میں گھر بنتا ہے

 پر تو بس ہمتِ پرواز سے پر بنتا ہے

سر میں سودا ہو مِری جان! تو سر بنتا ہے

لوٹ آئے ہیں پرندے مِری دیواروں پر

چار تنکوں سے کہاں دشت میں گھر بنتا ہے

وہ پری رخ مِرے خوابوں میں پلٹ آتا ہے

گنبدِ وقت میں جب رات کا در بنتا ہے

پڑی افتاد کچھ ایسی کہ دل سنبھلا نہیں ہے

 پڑی افتاد کچھ ایسی کہ دل سنبھلا نہیں ہے

"مگر تم نے مِری جاں مسئلہ سمجھا نہیں ہے"

قبیلہ ایک ہے اپنا تعلق اور کیا ہے

سو اپنے درمیاں ایسا کوئی جھگڑا نہیں ہے

بہت مضبوط ہیں اعصاب لیکن اے مِرے دل

تِرا ہر جبر سہ لوں، حوصلہ ایسا نہیں ہے

ہے یہاں تو زندگانی کی فضا روٹھی ہوئی

 ہے یہاں تو زندگانی کی فضا روٹھی ہوئی

پیار بھی روٹھا ہوا ہے اور وفا روٹھی ہوئی

بے حیائی کے قصیدے پڑھ رہی ہیں تتلیاں

بر سرِ گلشن ہے آنکھوں کی حیا روٹھی ہوئی

بد سلوکی کر رہے ہیں بچے اب ماں باپ سے

ہے دعا سے یوں بھی تاثیرِ وفا روٹھی ہوئی

طوفانوں کی آہٹ ہے تو ڈر جانے سے کیا ہو گا

 طوفانوں کی آہٹ ہے تو ڈر جانے سے کیا ہو گا

آؤ میرا ہاتھ پکڑ لو، گھبرانے سے کیا ہو گا

میٹھی میٹھی بات سے دل کو بہلانے سے کیا ہو گا

وقت پہ جب تم آئے نہیں تو اب آنے سے کیا ہو گا

اس نے مجھ کو دیکھ کے شاید ایسا ہی کچھ سوچا تھا

فرزانوں کی بھیڑ لگی ہے، دیوانے سے کیا ہو گا