Monday, 22 June 2026

اگرچہ کام تو مشکل تھا کام کرنا پڑا

 اگرچہ کام تو مُشکل تھا، کام کرنا پڑا

دِیا🪔 جلا کے ہوا سے کلام کرنا پڑا

شجر🌴 کی مثل بنانا پڑا بدن اپنا

پھر اس کا سایہ پرِندوں کے نام کرنا پڑا

بہت ہی نِرخ گِرانے پڑے مجھے اپنے

جو چیز خاص رہی اس کو عام کرنا پڑا

زندگی غم شناس تھی ہی نہیں

 زندگی غم شناس تھی ہی نہیں

تم جو تھے کوئی پیاس تھی ہی نہیں

صرف رنگینیاں تھیں چاروں طرف

شام کوئی اُداس تھی ہی نہیں

اِک عجب بے حِسی کا عالم تھا

کوئی جینے کی آس تھی ہی نہیں

تمہاری محبت سدا سہاگن رہے

 نظم "اور ایک دل" سے اقتباس


اے مجنوں کے مریدو

فرہاد کے وارثو

تمہارا دل 

تمہارے محبوب کی محبت سے شاد رہے

تمہاری آنکھیں 

دل کا دروازہ کھلا رہنے دو

 راولپنڈی شہر


دل کا دروازہ کھلا رہنے دو

جانے کس وقت پلٹ آئے وہ جانے والا

صبح کو بھولا سر شام پلٹ آئے تو بھولا نہ کہو

دل کا دروازہ کھلا رہنے دو

یہ ضروری ہے بہت

سبب درد جگر یاد آیا

 سبب دردِ جگر یاد آیا

یعنی وہ تیرِ نظر یاد آیا

جِھلملانے لگے پلکوں پہ نجوم

پھر کوئی رشکِ قمر یاد آیا

اپنی منزل کے نشاں پاتے ہی

مجھ کو آغازِ سفر یاد آیا

Sunday, 21 June 2026

عجب تماشا سا چل رہا ہے

 عجب تماشا سا چل رہا ہے

غریب ہاتھوں کو مل رہا ہے

پنپ رہی ہے منافقت بھی

عروج پستی میں ڈھل رہا ہے

اِسی لیے تو وہ مر رہا ہے

حسد کی بھٹی میں جل رہا ہے

نہ دن اپنا نہ شب اپنی نہ دل اپنا نہ جاں اپنی

 نہ دن اپنا نہ شب اپنی نہ دل اپنا نہ جاں اپنی

اسی انداز سے کاٹی ہے یہ عُمرِ رواں اپنی

وہ اس کی چشم آہو کو جو دیکھا سُرمہ سا میں نے

سکوں کھویا خرد کھوئی وہ طرز زندگاں اپنی

رُخِ گُلنار پر خال سیہ اس کا وہ تابندہ

وہ اک تصویر جادو اور نگاہِ ناتواں اپنی