اگرچہ کام تو مُشکل تھا، کام کرنا پڑا
دِیا🪔 جلا کے ہوا سے کلام کرنا پڑا
شجر🌴 کی مثل بنانا پڑا بدن اپنا
پھر اس کا سایہ پرِندوں کے نام کرنا پڑا
بہت ہی نِرخ گِرانے پڑے مجھے اپنے
جو چیز خاص رہی اس کو عام کرنا پڑا
اگرچہ کام تو مُشکل تھا، کام کرنا پڑا
دِیا🪔 جلا کے ہوا سے کلام کرنا پڑا
شجر🌴 کی مثل بنانا پڑا بدن اپنا
پھر اس کا سایہ پرِندوں کے نام کرنا پڑا
بہت ہی نِرخ گِرانے پڑے مجھے اپنے
جو چیز خاص رہی اس کو عام کرنا پڑا
زندگی غم شناس تھی ہی نہیں
تم جو تھے کوئی پیاس تھی ہی نہیں
صرف رنگینیاں تھیں چاروں طرف
شام کوئی اُداس تھی ہی نہیں
اِک عجب بے حِسی کا عالم تھا
کوئی جینے کی آس تھی ہی نہیں
نظم "اور ایک دل" سے اقتباس
اے مجنوں کے مریدو
فرہاد کے وارثو
تمہارا دل
تمہارے محبوب کی محبت سے شاد رہے
تمہاری آنکھیں
راولپنڈی شہر
دل کا دروازہ کھلا رہنے دو
جانے کس وقت پلٹ آئے وہ جانے والا
صبح کو بھولا سر شام پلٹ آئے تو بھولا نہ کہو
دل کا دروازہ کھلا رہنے دو
یہ ضروری ہے بہت
سبب دردِ جگر یاد آیا
یعنی وہ تیرِ نظر یاد آیا
جِھلملانے لگے پلکوں پہ نجوم
پھر کوئی رشکِ قمر یاد آیا
اپنی منزل کے نشاں پاتے ہی
مجھ کو آغازِ سفر یاد آیا
عجب تماشا سا چل رہا ہے
غریب ہاتھوں کو مل رہا ہے
پنپ رہی ہے منافقت بھی
عروج پستی میں ڈھل رہا ہے
اِسی لیے تو وہ مر رہا ہے
حسد کی بھٹی میں جل رہا ہے
نہ دن اپنا نہ شب اپنی نہ دل اپنا نہ جاں اپنی
اسی انداز سے کاٹی ہے یہ عُمرِ رواں اپنی
وہ اس کی چشم آہو کو جو دیکھا سُرمہ سا میں نے
سکوں کھویا خرد کھوئی وہ طرز زندگاں اپنی
رُخِ گُلنار پر خال سیہ اس کا وہ تابندہ
وہ اک تصویر جادو اور نگاہِ ناتواں اپنی