Saturday, 13 June 2026

دوستو آ کر ہمیں سمجھائیے

 دوستو آ کر ہمیں سمجھائیے

ان کے آنے تک ذرا بہلائیے

ان نگاہِ ناز سے پینے کے بعد

کیوں عبث اب میکدے میں جائیے

نَو گرفتارانِ اُلفت سے ہمیں

وارداتِ عشق پھر سُنوائیے

Friday, 12 June 2026

شاید میری موت پر نوحہ پڑھنے والا کوئی نہیں

 نوحہ پڑھنے والا کوئی نہیں


موت میرے دروازے پر

دستک نہیں دیتی

حالانکہ اُسے ہمارا گلی نمبر معلوم ہے

ابھی کل کی بات ہے

ہمسایوں کی نئی نویلی دُلہن بھگا لے گئی

ایک مسافر کی مجبوری سمجھو ناں

 ایک مُسافر کی مجبوری سمجھو ناں

ذرے سے مہتاب کی دُوری سمجھو ناں

خانہ بدوشوں کی پُشتوں پہ رکھی ہے

روشن مُسقبل کی بوری سمجھو ناں

تم نے اُونچائی کی جانب پھینکا ہے

نیچے گِرنا بھی تو ضروری سمجھو ناں

کیوں یار چاہتا ہے بتا میرے یار اور

 کیوں یار چاہتا ہے بتا میرے یار اور؟

مجھ سا نہیں ملے گا تجھے غمگسار اور

جس کی طلب تھی مجھ کو وہی تو نہیں ملا

ویسے تو زندگی میں ملے بے شُمار اور

ممکن نہیں ہے زندہ رہوں اب کی بار میں

دشمن کا وار اور ہے، یاروں کا وار اور

تجھے تو لہر بھی موج رواں نظر آئی

 تجھے تو لہر بھی، موجِ رواں نظر آئی

رِدائے خواب میں تھی میں، کہاں نظر آئی

خیال تھا، مِرے گھر پر بہار اُتری ہے

کواڑ کھولے ہیں جب بھی، خزاں نظر آئی

مِرا یقین، محبت 💓ہے درمیاں اپنے

مگر یہ کارِ حقیقت ❤ گُماں نظر آئی

چاہے وہم و گمان میں رکھنا

 چاہے وہم و گمان میں رکھنا

مجھ کو تو اپنے دھیان میں رکھنا

ناز کرتا ہو آسماں جس پر

شان ایسی اڑان میں رکھنا

خواب آنکھوں میں پالنا لیکن

جان اپنی لگان میں رکھنا

دولت نہ کوئی جاہ و حشم مانگ رہا ہوں

 دولت نہ کوئی جاہ و حشم مانگ رہا ہوں

میں تجھ سے تِرا فضل و کرم مانگ رہا ہوں 

محبوب ہے مجھ کو تِری چوکھٹ کی غلامی 

دیکھو تو میں کیا دیدۂ نم مانگ رہا ہوں

ہو مجھ پہ عنایت تِری ہستی کے مطابق 

میں تجھ سے تِری شان سے کم مانگ رہا ہوں