Wednesday, 11 March 2026

قربتوں میں کہیں فاصلہ رہ گیا

 میرے خوابوں کو مجھ سے گلہ رہ گیا

میں حقیقت میں ہی مبتلا رہ گیا

میں بھی قصے سناتا سفر کے مگر

یاد مجھ کو بس اک مرحلہ رہ گیا

رہ گئے کتنے کردار بھیتر مِرے

میرے بھیتر مِرا قافلہ رہ گیا

نفرت ہی چلو شدید کر لیں

 آ دکھ سے سکوں کشید کر لیں

پہلے بھی کیا مزید کر لیں

جذبے ہیں وہی قدیم لیکن

اظہار ذرا جدید کر لیں

چاہت نہیں ممکنات میں گر

نفرت ہی چلو شدید کر لیں

ریت پہ ساحل کی اپنے نقش پا چھوڑ آئے ہیں

 ریت پہ ساحل کی اپنے نقش پا چھوڑ آئے ہیں

اے ہوا تیرے لیے اپنا پتا چھوڑ آئے ہیں

لوٹ کر دیکھیں گے اس کے آگے اس نے کیا لکھا

ڈائری میں اس کی اک پنا مڑا چھوڑ آئے ہیں

یوں اثر انداز اکیلے پن کا دکھ ہم پہ ہوا

طوطے کے پنجرے کو آنگن میں کھلا چھوڑ آئے ہیں

اب نہ وہ سر ہے نہ سودا ہے نہ سودائی ہے

 اب نہ وہ سر ہے نہ سودا ہے نہ سودائی ہے

حُسن خود اپنے ہی جلووں کا تماشائی ہے

رات اندھیری ہے بیاباں بھی ہے تنہائی ہے

حسرت دید خدا جانے کہاں لائی ہے

جلوۂ حُسنِ بُتاں بُوئے گُل و نغمہ سا

اتنے پردوں میں بھی اس شوخ کی رُسوائی ہے

بیتے وقت کا چہرہ ڈھونڈتا رہتا ہے

 بیتے وقت کا چہرہ ڈھونڈتا رہتا ہے

دل پاگل ہے کیا کیا ڈھونڈتا رہتا ہے

خاموشی بھی ایک صدا ہی ہے جس کو

سننے والا گویا ڈھونڈتا رہتا ہے

شبنم شبنم پگھلی پگھلی یادیں ہیں

میرا غم تو صحرا ڈھونڈتا رہتا ہے

Tuesday, 10 March 2026

کیوں کسی سے وفا کی ہو امید

 ایسی مطلب پرست دنیا میں

کیوں کسی سے وفا کی ہو امید

چارہ گر اس نگر ملے کیونکر؟

درد کو اس نگر دوا کیوں ہو؟

یہ علاقہ ہے زیر دستوں کا

زیر دستوں سے التجا کیوں ہو؟

یار جب مرنا بھی آسان نہیں ہوتا تھا

 اس قدر پیار کا فقدان نہیں ہوتا تھا

پہلے میں اتنا پریشان نہیں ہوتا تھا

ہم سے حساس بھلا کیسے جیا کرتے تھے

یار جب مرنا بھی آسان نہیں ہوتا تھا

پڑ گیا ہے مری صحبت کا اثر اس پر بھی

ورنہ یہ دشت تو ویران نہیں ہوتا تھا