Sunday, 26 July 2026

وہ ان گنت خط میں نے تمہیں لکھے تھے

 لاعنوان


وہ ان گنت خط

جو کتنی ہی زندگیوں میں

میں نے تمہیں لکھے تھے

اور تم نے ہر ایک خط

مسکراتے ہنستے روتے

کئی کئی بار پڑھا

اب یہاں زیست کے آثار نہیں دیکھو گے

 اب یہاں زیست کے آثار نہیں دیکھو گے

تم مِرے شہر میں دِیوار نہیں دیکھو گے

حالتِ جنگ میں بیٹھا ہوں قلمدان لیے

اب مِرے ہاتھ میں تلوار نہیں دیکھو گے

جن درختوں کی طبیعت میں ذرا خم نہ ہو

اُن درختوں کو ثمر بار نہیں دیکھو گے

یا شفیع المذنبیں یا رحمتہ للعالمیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مرحبا صل علیٰ فخر امم وہ شاہ دیںﷺ

جن کے در کی خاک سے روشن ہے عالم کی جبیں

اے خوشا شمس الضحیٰ بدرالدجیٰ صدر العلیٰ

حضرت آدم کی پیشانی کے نور اولیں

دی شب معراج وہ رفعت انہیں اللہ نے

آپ کے قدموں کے نیچے آ گیا عرش بریں

اے خدا دل کا حال کس سے کہوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے خُدا! دل کا حال کس سے کہوں

شرحِ رنج و ملال کس سے کہوں

لُطف و اخلاص و مہر و اُلفت کا

ہے زمانہ میں کال کس سے کہوں

اپنے لُطف و کرم سے بارِ الٰہ

دُور کر یہ وبال کس سے کہوں

پتلۂ خاک میں ہے بھید چھپا کیا کہیے

 پتلۂ خاک میں ہے بھید چھپا کیا کہیے

کھول دیں پھر تو ہو اک شور بپا کیا کہیے

ہم ہوں معدوم جہاں آپ ہوں ممکن ہی نہیں

کب ضیا شمس سے ہوتی ہے جدا کیا کہیے

تم کو ہی چھوڑ دیں یا خود کو ہی ہم کھو بیٹھیں

اتنی ہی بات میں ملتا ہے پتا کیا کہیے

نظر نیچی قدم دھیمے کلام آہستہ آہستہ

 نظر نیچی قدم دھیمے کلام آہستہ آہستہ

سلیقہ سیکھ لیتے ہیں غلام آہستہ آہستہ

ہماری جلد بازی نے ہمیں بہکا دیا ورنہ

ہمارے ساتھ چلتی خوش خرام آہستہ آہستہ

ابھی بیکار بیٹھا سب کے قصے سنتا رہتا ہوں

مِری مرضی کا مل جائے گا کام آہستہ آہستہ

بسی خیال میں اب تیری جلوہ گاہ تو ہے

 بسی خیال میں اب تیری جلوہ گاہ تو ہے

بلا سے آنکھ نہیں ہے مگر نگاہ تو ہے

ہزار شکر عنایت کی اک نگاہ تو ہے

جو روز روز نہیں اب وہ گاہ گاہ تو ہے

حریمِ کعبہ کو گر میں پہونچ سکتا

مگر بُتوں ہی سے اک گونہ رسم و راہ تو ہے