ہر اک موسم یہاں پر ہے تمہاری یاد کا موسم
کبھی بدلا نہیں ہے اس دل ناشاد کا موسم
یہ سناٹوں کے سوداگر کہاں برداشت کرتے ہیں
کہ ہو گونگوں کی بستی میں لبِ آزاد کا موسم
مِری دھرتی کی زرخیزی میں ظلم و جور پھلتے ہیں
ہمیشہ بے ثمر ٹھہرا ہے یاں فریاد کا موسم
ہر اک موسم یہاں پر ہے تمہاری یاد کا موسم
کبھی بدلا نہیں ہے اس دل ناشاد کا موسم
یہ سناٹوں کے سوداگر کہاں برداشت کرتے ہیں
کہ ہو گونگوں کی بستی میں لبِ آزاد کا موسم
مِری دھرتی کی زرخیزی میں ظلم و جور پھلتے ہیں
ہمیشہ بے ثمر ٹھہرا ہے یاں فریاد کا موسم
کتنے گرداب کھو گئے مجھ میں
میرے سب خواب کھو گئے مجھ میں
سادگی میری ڈھونڈ لائی تمہیں
تم تھے چالاک کھو گئے مجھ میں
ان کے ہونے سے میرا ہونا ہے
لفظ لولاک ہو گئے مجھ میں
زندگی بھر مجھ سے وہ برہم رہا
روبرو لیکن مِرا سر خم رہا
میرا دامن آنسوؤں سے نم رہا
دل کے جانے کا نہایت غم رہا
آسماں سے یوں اتر کر آ گئی
گلستاں شرمندۂ شبنم رہا
ذرا سی بات پر مجھ سے خفا ہونے لگا ہے
جو پیکر تھا وفا کا، بے وفا ہونے لگا ہے
خزاں میں پتی پتی مجھ کو ہوتا دیکھ کر وہ
ہوا کا ہاتھ تھامے، اب جدا ہونے لگا ہے
غم دنیا کی جھلسانے لگی ہے دھوپ ہم کو
خیال یار ہی اب تو ردا ہونے لگا ہے
تمہارے ہاتھ سے پتھر لگا ہے
چلو جیسے تمہیں بہتر لگا ہے
اسے دنیا سے دلچسپی ہوئی ہے
مجھے اس حادثے سے ڈر لگا ہے
نشانہ ہی غلط باندھا گیا تھا
ہدف پر بھی خطا ہو کر لگا ہے
ہجومِ دلبراں ہے میں نہیں ہوں
یہاں سارا جہاں ہے میں نہیں ہوں
جسے سُن کر زمانہ جُھومتا ہے
وہ میری داستاں ہے میں نہیں ہوں
نہاں کیا، حرفِ کُن کے بھید میں ہے
خدا ہی رازداں ہے میں نہیں ہوں
درونِ دل اگرچہ تیرگی ہے
شبِ ظلمت کے پیچھے روشنی ہے
نہیں مایوس ہونے کی ضرورت
محبت کے نگر میں بے کلی ہے
جہانِ رنگ و بُو کے رُوپ میں سب
غموں کی دُھوپ ہے اور بے بسی ہے