مدت سے آسمان کو دیکھا نہیں حضور
کوئی بھی حال پوچھنے آیا نہیں حضور
تعلیم مجھ کو ساری ہی معکوس دی گئی
لیکن میں ایک لفظ بھی بولا نہیں حضور
پتھر بنا دیا ہے مجھے ظلم و جور نے
میں نے خدا کے بارے میں سوچا نہیں حضور
مدت سے آسمان کو دیکھا نہیں حضور
کوئی بھی حال پوچھنے آیا نہیں حضور
تعلیم مجھ کو ساری ہی معکوس دی گئی
لیکن میں ایک لفظ بھی بولا نہیں حضور
پتھر بنا دیا ہے مجھے ظلم و جور نے
میں نے خدا کے بارے میں سوچا نہیں حضور
بچھڑا ہر ایک فرد بھرے خاندان کا
یہ مجھ کو ٭شاپ لگ گیا کس بے زبان کا
قدموں تلے تھے جتنے سمندر سرک گئے
اب کیا کروں گا دیکھ کے منہ بادبان کا
میرے وجود کے کوئی معنی نہیں رہے
تیکھا سا ایک تیر ہوں ٹوٹی کمان کا
خیال زلف عنبر بار میں آنسو نہاتے ہیں
اسی باعث ہماری آنکھ عنبر بار گریہ ہے
اٹھا سکتا ہوں ساتون آسمان کا بوجھ میں سر پر
مگر مجھ سے نہیں اٹھتا ہے یہ جو بار گریہ ہے
وطن میں آچ بس آو فغاں کی فصل کٹتی ہے
کلیسا ہو کہ مسجد ہو وہ لالہ زار گریہ ہے
پری تم ہو مری جاں حور تم ہو مہ لقا تم ہو
جہاں میں جتنے ہیں معشوق ان سب سے جدا تم ہو
سراپا ناز ہو لاکھوں میں یکتا دل ربا تم ہو
میں حیراں ہوں سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا تم ہو
خدا نے اپنے ہاتھوں سے تمہیں ایسا بنایا ہے
خدا کی شان بھی کہتی ہے ہاں شان خدا تم ہو
زمانہ چھوڑ کر گھر آ گئے ہیں
تِری محفل سے اٹھ کر آ گئے ہیں
حقیقت جان لی ہے تیری جب سے
تِرے خوابوں سے باہر آ گئے ہیں
کسی نے بھیجا ہے پیغام مجھ کو
مِری چھت پر کبوتر آ گئے ہیں
بُلاوے
بارہا آئے ہیں
آوازوں کے ساحل سے
مگر میں
یخ بستہ کشتی کی طرح
گُم سُم پڑا ہوں
اجنبی راہگزر سوچتی ہے
کوئی دروازہ کھلے
ہر طرف درد کے لمبے سائے
راستے پھیل گئے دور گئے
دھڑکنیں تیز ہوئیں اور بھی تیز
اجنبی راہگزر سوچتی ہے