خوبروئی بھی دلآزار بھلا کیا ہو گی
ہر گلی مصر کا بازار بھلا کیا ہو گی
اب تیری یاد بھی اک بجھتے دیے کی لو ہے
دل میں پھر روشنی بیدار بھلا کیا ہو گی
ٹھہرے پانی کا بھی ہم ساتھ نہیں دے سکتے
چڑھتے دریاؤں کی رفتار بھلا کیا ہو گی
خوبروئی بھی دلآزار بھلا کیا ہو گی
ہر گلی مصر کا بازار بھلا کیا ہو گی
اب تیری یاد بھی اک بجھتے دیے کی لو ہے
دل میں پھر روشنی بیدار بھلا کیا ہو گی
ٹھہرے پانی کا بھی ہم ساتھ نہیں دے سکتے
چڑھتے دریاؤں کی رفتار بھلا کیا ہو گی
فغاں کے ساتھ تِرے راحت قرار چلے
نوا گرانِ وفا ہمتوں کو ہار چلے
یہ کیا کہ پھول کِھلے اور زخم رسنے لگے
ملے سکوں بھی اگر بادِ نو بہار چلے
یہ ملتفت سی نگاہیں فروغ جام کے ساتھ
چلے یہ دور چلے اور بار بار چلے
لہو سے تر جو خنجر ہیں یہ نفرت کی تمازت ہے
کہ اب جنگل سے بھی بدتر مِرے شہروں کی حالت ہے
کسی دن توڑنے والوں کو یہ احساس ہو اے کاش
مہکتا پھول ٹہنی پر محبت کی علامت ہے
بڑائی ہے میاں ساری کی ساری عقل و دانش سے
وگرنہ آدمی میں کب پہاڑوں جیسی طاقت ہے
مادرِ مخلوق غم آسا؛ مدر ٹریسا
زمینی خُلد سے رخصت ہوئی مادر
بشر زادی
فرشتہ خصلتوں والی
مسیحا دردمندوں کی
دریدہ جسم کا مرہم
بِلکتی روح کی تسکین
رفتہ رفتہ بن نہ جائے پیار افسانہ ترا
دیکھ کر کہتے ہیں مجھ کو لوگ دیوانہ ترا
شمع کی لو پر ہی جل جانا جسے مقصود ہے
وہ کہیں کیوں جاں بچائے ہٹ کے پروانہ ترا
ہم ترے در سے چلے جائیں گے اک دن نا مراد
کیا کہے گا پھر تجھے ہر اپنا بیگانہ ترا
صدقے والشمس کے ماتھے پہ نکلتا ہوا دن
صدقے والليل کے شانوں پہ بکھرتی ہوئی شام
میلی اس درجہ ہوئی تین ہی پہروں میں کہ بس
شب سے پہنی نہ گئی دن کی اتاری ہوئی شام
سُرمئی جسم کے اک ہجر کے مارے ہوئے چاند
اور اسی جسم کے اک لمس پہ واری ہوئی شام
دن گزرا آشفتہ سر خاموش ہوئے
شام ہوئی اور بام و در خاموش ہوئے
شام ہوئی اور سورج رستہ بھول گیا
کیسے ہنستے بستے گھر خاموش ہوئے
بولتی آنکھیں چپ دریا میں ڈوب گئیں
شہر کے سارے تہمت گر خاموش ہوئے