بادلوں سے ٹوٹ برسے آج پانی دیر تک
اے خدا اس شب رہے یہ رت سہانی دیر تک
جگنوؤں کی روشنی سے جھلملائیں راستے
چاندنی سے ہم کریں یہ بے ایمانی دیر تک
رات کی رنگین سڑکیں بھیگے بھیگے یہ شجر
کار کے شیشوں سے جھانکے زندگانی دیر تک
بادلوں سے ٹوٹ برسے آج پانی دیر تک
اے خدا اس شب رہے یہ رت سہانی دیر تک
جگنوؤں کی روشنی سے جھلملائیں راستے
چاندنی سے ہم کریں یہ بے ایمانی دیر تک
رات کی رنگین سڑکیں بھیگے بھیگے یہ شجر
کار کے شیشوں سے جھانکے زندگانی دیر تک
کہاں ہے وہ گُلِ خنداں ہمیں نہیں معلوم
نہ پُوچھ بلبلِ نالاں! ہمیں نہیں معلوم
فِراق ہی میں بسر ہو گئی ہماری عُمر
ہے کون وصل سے شاداں ہمیں نہیں معلوم
ہمیں تو ایک صدائے جرس ہی آتی ہے
ہوا ہے کون ہُدی خواں ہمیں نہیں معلوم
دُھواں دُھواں ہے سرِ آسماں خُدا حافظ
دھڑک رہا ہے دلِ ناتواں، خدا حافظ
نہ کوئی میرِ سفر ہے نہ کوئی منزل ہے
بھٹک رہا ہے مِرا کارواں، خدا حافظ
نہ ا،لتفات نہ پُرسش، نہ واسطہ نہ کلام
وہ ہو گئے ہیں بہت بد گُماں خدا حافظ
تُو میری عادتوں میں ذرا بھی نہ ڈھل سکا
پھر بھی چلوں گا ساتھ میں جتنا بھی چل سکا
تُو زندگی میں سامنے آئے گا جب کبھی
میں راستہ بدل لوں گا گر میں بدل سکا
دنیا میں کامیابی سمیٹوں گا ایک دن
جانی تِرے خیال سے گر میں نکل سکا
یاروں میں اب وہ طرز وفا بھی نہیں رہا
اب وہ شکایتوں کا مزہ بھی نہیں رہا
چہرے کا ان کے اب وہ نمک بھی پگھل گیا
موسم ہمارے دل کا ہرا بھی نہیں رہا
دل توڑتے ہیں جیسے کوئی پھول توڑ دے
پاس و لحاظ ان کو ذرا بھی نہیں رہا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو رضائے مصطفیٰؐ، رب کی رضا جانے فقط
دل وہی ان کی اطاعت کا مزہ جانے فقط
ابتدا ہے نور جس کی ، نورِ اول جس کا نور
بس خدائے پاک اس کی انتہا جانے فقط
چاہے اپنا ہو پرایا ہو کوئی دشمن یا دوست
ہر کسی کو وہ سزاوارِ دعا جانے فقط
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے راہِ حق یہی، یہی رستہ رسولﷺ کا
منشا ہے جو خدا کا، ہے منشا رسولﷺ کا
لازم ہے ہم پہ مِدحتِ آقائے نامدارﷺ
یہ ساری کائنات ہے صدقہ رسول ﷺ کا
دونوں جہاں میں صلِ علیٰ کی ہے باز گشت
ہوتا ہے جن و اِنس میں چرچا رسولﷺ کا