فصلِ بہار ہو چکی، پھُول کوئی کِھلا نہیں
میں ہی خِزاں نصیب تھا، تجھ سے کوئی گِلہ نہیں
کچھ تو بہ پاسِ دوستی، ضبطِ خُوشی کی جہد کر
بار پہ میری ہنس مگر، ایسے تو کِھلکھلا نہیں
ہم نے یہ سوچ کر کِیا فرضِ نیاز سے گریز
ترک پر کیوں عتاب ہو، کرنے پہ جب صِلہ نہیں