ہر آنکھ پرکھتی رہی اندازِ دِگر سے
دیکھا نہ کسی نے بھی مجھے میری نظر سے
گم گشتہ مسافر ہوں، خبر یہ بھی نہیں ہے
منزل ہے مِری کون سی، آیا ہوں کدھر سے
دہلیز کو قدموں کی تھکن چُوم رہی تھی
میں شام کو گھر لوٹا جو دن بھر کے سفر سے
ہر آنکھ پرکھتی رہی اندازِ دِگر سے
دیکھا نہ کسی نے بھی مجھے میری نظر سے
گم گشتہ مسافر ہوں، خبر یہ بھی نہیں ہے
منزل ہے مِری کون سی، آیا ہوں کدھر سے
دہلیز کو قدموں کی تھکن چُوم رہی تھی
میں شام کو گھر لوٹا جو دن بھر کے سفر سے
آنسو
انہیں اشکوں سے تو اقوام و امم زندہ ہیں
ہیں ادب زندہ اگر نامہ غم زندہ ہیں
سوز جب تک ہے زبانوں میں قلم زندہ ہیں
طفلِ نو رو کے بتاتا ہے کہ ہم زندہ ہیں
سانس لینے نہیں پاتے کہ گُزر جاتے ہیں
جن کو رونا نہیں آتا وہ مر جاتے ہیں
برائے نام سہی حاصلِ طلب ٹھہرا
وہ ایک لمحہ جو سرمایۂ طرب ٹھہرا
کُھلے سروں پہ گھنی چھاؤں لے کے آیا تھا
ہمارے پاس وہ ابرِ رواں بھی کب ٹھہرا
نقیبِ امن رہا میں محاذ جنگ پہ بھی
یہی اصول مِری فتح کا سبب ٹھہرا
صُورت اُتر نہ جائے کہیں ماہتاب کی
کہہ دو کہ بات جھُوٹ ہے ان کے شباب کی
شامِ وِصال سیج پہ شرمائے جُوں دُلہن
شرمائی یوں ہیں شاخ پہ کلیاں گُلاب کی
پتھر اُچھال دیجیے یوں دل کی جھیل میں
ورنہ امید رکھیے نہ مجھ سے جواب کی
سر اُٹھا کے مت چلیے آج کے زمانے میں
جان جاتی رہتی ہے حوصلہ دِکھانے میں
کس سے حق طلب کیجے بیوفا زمانے میں
ہونٹ سُوکھ جاتے ہیں حال دل سُنانے میں
ہاتھ کی لکِیروں سے فیصلے نہیں ہوتے
عزم کا بھی حصہ ہے زندگی بنانے میں
غزل تم کو سُنانے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہوں
میں یوں ہی مُسکرانے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہوں
میں کافر ہوں خُدا کے در کبھی سجدہ نہیں کرتا
مگر میں سر جُھکانے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہوں
کوئی بھی کھیل ہو میں احتیاط اتنی برتتا ہوں
میں پہلے ہار جانے کے بہانے ڈھونڈ لیتا ہوں
سمندر کا سکوت
آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوت
ہم کو اک دوسرے سے دور ہی رہنا ہو گا
ہم کو ہر حال میں مجبور ہی رہنا ہو گا
مجھ کو اس دور جراحت سے گزر جانے دے
مجھ کو جینے کی تمنا نہیں مر جانے دے
میری تقدیر میں غم ہیں تو کوئی بات نہیں