Tuesday, 10 March 2026

کیوں کسی سے وفا کی ہو امید

 ایسی مطلب پرست دنیا میں

کیوں کسی سے وفا کی ہو امید

چارہ گر اس نگر ملے کیونکر؟

درد کو اس نگر دوا کیوں ہو؟

یہ علاقہ ہے زیر دستوں کا

زیر دستوں سے التجا کیوں ہو؟

یار جب مرنا بھی آسان نہیں ہوتا تھا

 اس قدر پیار کا فقدان نہیں ہوتا تھا

پہلے میں اتنا پریشان نہیں ہوتا تھا

ہم سے حساس بھلا کیسے جیا کرتے تھے

یار جب مرنا بھی آسان نہیں ہوتا تھا

پڑ گیا ہے مری صحبت کا اثر اس پر بھی

ورنہ یہ دشت تو ویران نہیں ہوتا تھا

جب کی نظر تلاش فریب نظر ملا

 جب کی نظر تلاش فریب نظر ملا

داد ہنر کے نام پہ زخم ہنر ملا

خود اپنے سر پہ اپنی صلیبیں اٹھا چلو

آوارگان شہر کو کارِ دِگر ملا

انعام قد کی نشو و نما سے مُکر گیا

دستار تو ملی ہے مگر کس کو سر ملا

لمحوں کی تھی بات جو سالوں تک پہنچی

 لمحوں کی تھی بات جو سالوں تک پہنچی

ایک محبت کتنے حوالوں تک پہنچی

جانتا ہے یہ کون کہ کتنی مشکل سے

باغ میں تتلی پھول کے گالوں تک پہنچی

اتر گیا جب ذہن سے خوش فہمی کا خمار

سوچ نجانے کتنے سوالوں تک پہنچی

اس کی آواز سنیں روپ انوکھا دیکھیں

 اس کی آواز سنیں روپ انوکھا دیکھیں

زینۂ شام سے مہتاب اُترتا دیکھیں

سوچتی آنکھوں نے ہر روپ بدلتے دیکھا

جھیل کے پار جو منظر ہے اسے کیا دیکھیں

ویسے مدت ہوئی خوشبو کا سفر ختم ہوا

راستے بھاگ رہے ہیں کہ تماشا دیکھیں

Monday, 9 March 2026

میان تیغ و سناں لا الہ الا اللہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


میانِ تیغ و سناں، لَا اِلٰہ اِلا اللہ

حدیثِ شعلہ بجاں، لَا اِلٰہ اِلا اللہ

مقامِ سجدۂ بے اختیار، عجز تمام

کمالِ حرفِ بیاں، لَا اِلٰہ اِلا اللہ

جہاں رسولؐ کے نقشِ قدم وہیں پہ علیؑ

وہیں حسینؑ جہاں لَا الٰہ الا اللہ

ہم یہ چاہیں ہمیں انکار کی جرأت ہو جائے

 ہم یہ چاہیں ہمیں انکار کی جرأت ہو جائے

لب تک آئے تو وہی حرف ندامت ہو جائے

میری سوچیں، مِرا احساس، مِری ہی آواز

میرے شعروں سے مگر آپ کی شہرت ہو جائے

خاک ہو کر وہ ہواؤں میں بکھرنا چاہے

جب کسی کو در و دیوار سے وحشت ہو جائے