جب چودھویں کا چاند نکلتا دکھائی دے
وہ گیروا لباس بدلتا دکھائی دے
دریائے زندگی کہ نگاہوں کا ہے قصور
ٹھہرا دکھائی دے کبھی چلتا دکھائی دے
پڑنے لگے جو زور ہوس کا تو کیا نگاہ
ہر زاویے سے جسم نکلتا دکھائی دے
جب چودھویں کا چاند نکلتا دکھائی دے
وہ گیروا لباس بدلتا دکھائی دے
دریائے زندگی کہ نگاہوں کا ہے قصور
ٹھہرا دکھائی دے کبھی چلتا دکھائی دے
پڑنے لگے جو زور ہوس کا تو کیا نگاہ
ہر زاویے سے جسم نکلتا دکھائی دے
میں کیسے مان لوں کہ عشق بس اک بار ہوتا ہے
تجھے جتنی دفعہ دیکھوں مجھے ہر بار ہوتا ہے
فقط کٹنے کو یوں بھی کٹ رہی ہے زندگی لیکن
وہی ہے زندگی جس پل تِرا دیدار ہوتا ہے
تجھے پانے کی حسرت اور ڈر ناکامیابی کا
انہیں دو تین باتوں سے یہ دل دو چار ہوتا ہے
تمنا ہے تمنا میں تِری جی سے گُزر جائیں
یہی ہے آرزو اپنی اسی خواہش میں مر جائیں
گُناہوں میں سما جائیں، کلیجے میں اتر جائیں
مِری دنیائے ہستی میں تِرے جلوے بکھر جائیں
نہ دنیا میں ٹھکانہ ہے، نہ عقبیٰ میں ٹھکانہ ہے
تِرے بندے اگر جانا بھی چاہیں تو کدھر جائیں
زندگی
زندگی
تُو اتنی بے رحم تو نہ تھی
جب میں نومولود تھی
جب پیر کے تلووں کو
زمین پہ رکھنا
اور رکھ کر سنبھلنا سیکھا تھا
کیے آنے میں اس نے بھی بہانے
کہ دیکھی تھی ادا تیری قضا نے
نہیں یہ آدمی کا کام واعظ
ہمارے بُت تراشے ہیں خُدا نے
نزاکت کو پسینہ آ نہ جائے
کسے باندھا تِرے بندِ قبا نے
اس پار تو رہتے تھے کہ اس پار ہوئے ہم
جاناں کی سہیلی کے بھی دلدار ہوئے ہم
یکطرفہ محبت میں بھی چین نہیں تھا
دوطرفہ محبت سے بھی بیزار ہوئے ہم
دل اب بھی یہ کہتا ہے حسینوں کا ہو میلہ
اس حُسن پرستی میں تو بیمار ہوئے ہم
وجہِ شہرت تِری آشفتہ سری میری ہے
شہر تیرا ہی سہی، دربدری میری ہے
چُن لیا لاکھ خُداؤں میں پُرستش کے لیے
حُسن تیرا ہی سہی، دیدہ وری میری ہے
ہے خبر موسمِ سفّاک کی مجھ کو لیکن
بارشِ سنگ میں بھی شیشہ گری میری ہے