اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے
عشق کی راکھ کو سینے سے لگایا ہم نے
درد کی آگ کو شعلوں سے شناسا کر کے
لذت ہجر کی حدت کو چھپایا ہم نے
روح کی پیاس بجھانے کا ارادہ باندھا
وادیٔ عشق میں اک پھول کھلایا ہم نے
اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے
عشق کی راکھ کو سینے سے لگایا ہم نے
درد کی آگ کو شعلوں سے شناسا کر کے
لذت ہجر کی حدت کو چھپایا ہم نے
روح کی پیاس بجھانے کا ارادہ باندھا
وادیٔ عشق میں اک پھول کھلایا ہم نے
بے قراری بھی ہے قرار بھی ہے
ہر سکون جانِ اضطرار بھی ہے
کسی پیماں شکن کے وعدوں پر
کیا کریں ہم کو اعتبار بھی ہے
دل میں ہے خواہشِ ستائش بھی
حسن کا ذکر ناگوار بھی ہے
مصرعۂ طرح پر ایک غزل کے چند اشعار
"گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مِرے صیاد کی ہے"
میری فریاد کے انداز اُڑائے کس نے
ہاں میں سمجھا یہ صدا بُلبلِ ناشاد کی ہے
قبر پر بھی میری آئے ہو تو ہیں ساتھ رقیب
حد بھی ظالم! ستم و جور کی بیداد کی ہے
دیکھ عشّاق کی فوجوں کو ذرا بام پہ آ
یہ حکومت فقط اک حُسنِ خُدا داد کی ہے
درُونِ ذات ہوس کا اسِیر زندہ ہے
کمانِ دستِ زُلیخا میں تِیر زندہ ہے
زمانہ ساز مِری انجمن میں آتے ہیں
سرِ مزارِ جنُوں اک فقِیر زندہ ہے
نشان مِٹتے رہے آندھیوں کے موسم میں
تِرے غُبار سے کھینچی لکِیر زندہ ہے
افسوس مِرے ہاتھ سے بن کر نہیں بنتا
میں روز بناتا ہوں وہ پیکر نہیں بنتا
دیوار و در و بام بنائے تو ہیں لیکن
دیوار و در و بام سے تو گھر نہیں بنتا
حالات بناتے ہیں اسے جیسا بنائیں
میں چاہتا ہوں جیسا یہ منظر نہیں بنتا
وابستہ تیری یاد ہے یوں زندگی کے ساتھ
جیسے اک اجنبی ہو کسی اجنبی کے ساتھ
غم بھی تِرا شریک رہا ہے خوشی کے ساتھ
اشک آ گئے ہیں آنکھ میں اکثر ہنسی کے ساتھ
ساقی! مجھے شراب نہ دے اس کا غم نہیں
لیکن مجھے جواب نہ دے بے رخی کے ساتھ
ہم تیرے لیے آئے ہیں ہستی میں عدم سے
اے جانِ جہاں اب نہ چھپا خود کو تو ہم سے
اک چشم ِ کرم ہم پہ بھی اے خسروِ خوباں
زندہ ہے دل و روح تیرے حسن کے دم سے
تم چھوڑ گئے راہ میں اس آبلہ پا کو
روتا ہے لپٹ کر وہ تیرے نقشِ قدم سے