ہنستے ہو تم چُھپا کر زمانے کی تلخیاں
دیکھی ہیں آزما کے زمانے کی تلخیاں
تیری خموشی پھر تِری فطرت ہے کیوں بنی
خود میں سما سما کر زمانے کی تلخیاں
دیمک کے جیسے چاٹتی جاتی ہے یہ تجھے
سینے میں گھر بنا کر زمانے کی تلخیاں
ہنستے ہو تم چُھپا کر زمانے کی تلخیاں
دیکھی ہیں آزما کے زمانے کی تلخیاں
تیری خموشی پھر تِری فطرت ہے کیوں بنی
خود میں سما سما کر زمانے کی تلخیاں
دیمک کے جیسے چاٹتی جاتی ہے یہ تجھے
سینے میں گھر بنا کر زمانے کی تلخیاں
اے سایۂ شب، نالۂ سفاک بند ہو
نیندوں کی کھلی جاتی ہے پیچاک بند ہو
معمارِ ہوا ایسا بھی زِندان بناؤ
جس خاک سے آنکھیں ہوئیں نمناک، بند ہو
تشکیل نہ دے حلیۂ سفاک، ٹھہر جا
اب رہنِ سِتم رقص ہوا، چاک بند ہو
مجھے دریا کی موجوں سے بچا لے جائے گا کوئی
میں ایسی بُوند ہوں جس کو چُرا لے جائے گا کوئی
بُجھا کر طاق میں رکھ دے گا یہ دستِ سحر مجھ کو
مگر جب شام آئے گی، جلا لے جائے گا کوئی
یہی کچھ سوچ کر اپنی حویلی چھوڑ آیا تھا
اگر میں رُوٹھ جاؤں گا منا لے جائے گا کوئی
کبھی کبھی چپ ہو جانے کی خواہش ہوتی ہے
ایسے میں جب تیر ستم کی بارش ہوتی ہے
حال ہمارا سننے والے جانے کیا سوچیں
یوں بھی کیسی کیسی ذہنی کاوش ہوتی ہے
دیواروں پر کیا لکھا ہے پڑھ کے بتلاؤ
کیا ایسی باتوں پر یارو نالش ہوتی ہے
تعلق ترک کرنے سے محبت کم نہیں ہوتی
بھڑکتی ہے یہ آتش دن بہ دن مدھم نہیں ہوتی
نبھانا آشنائی کر کے مشکل تو نہیں لیکن
کسی سے بھی محبت ناگہاں یکدم نہیں ہوتی
تمہاری سوچ پر ہیں منحصر رنگینیاں دل کی
یہ محفل بے وفائی سے کبھی درہم نہیں ہوتی
عشق کے دور میں کچھ ایسے بھی پہلو آئے
ہنسنا چاہا تو مِری آنکھوں میں آنسو آئے
اک تو وہ پھول ہی کاغذ کے اٹھا لایا ہے
اس پہ یہ ضد ہے کہ ان پھولوں سے خوشبو آئے
تُو کہاں تھا کہ تجھے ڈھونڈنے میرے گھر تک
کبھی بھنورے، کبھی تتلی، کبھی جگنو آئے
جگمگاتے شہر کی رعنائیوں میں کھو گیا
تھا وہ سُورج سا مگر پرچھائیوں میں کھو گیا
آنے والے وقت نے سمجھا اُسے اپنا نقیب
وہ پرِ پرواز کیوں پہنائیوں میں کھو گیا
میرا چہرہ اپنے پس منظر سے خُود واقف نہ تھا
بھِیڑ میں تو ساتھ تھا، تنہائیوں میں کھو گیا