عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لبوں کو چھو کے جو پانی بنا ہو آبِ حیات
اب اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے قندونبات
حضورؐ آپ کے رستے سے ہٹ کے کیسے چلوں
حضورﷺ آپ کا رستہ ہی تو ہے راہِ نجات
حضورﷺ آپ کی خاطر ہی تو بنائے گئے
زمین و آسماں یعنی تمام کائنات
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لبوں کو چھو کے جو پانی بنا ہو آبِ حیات
اب اس کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے قندونبات
حضورؐ آپ کے رستے سے ہٹ کے کیسے چلوں
حضورﷺ آپ کا رستہ ہی تو ہے راہِ نجات
حضورﷺ آپ کی خاطر ہی تو بنائے گئے
زمین و آسماں یعنی تمام کائنات
جیون کی پھلواری رکھ
مرنے کی تیاری رکھ
آنکھوں میں ہو بس مچھلی
دل میں دنیا ساری رکھ
خوشیاں آتی جاتی ہیں
غم سے تھوڑی یاری رکھ
آنکھ ٹپکائے نا لہو دل کا
فائدہ کچھ تو غم کے حاصل کا
دن بھکاری کی آرزو کی طرح
رات کشکول جیسے سائل کا
کس کو نظم حیات نے مارا
شور زنداں میں ہے سلاسل کا
مہاجر بچے
زمیں پر رینگنے والوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا
نہ ماں کی چھاتیوں میں دودھ ہوتا ہے
نہ منہ پر نور ہوتا ہے
بدن پر بس خراشیں اور لہو کے داغ ہوتے ہیں
انہیں خوابوں کو آنکھوں میں بسانے کی اجازت
ہم جو دستِ طلب کے مارے ہیں
“ساری دنیا کے غم ہمارے ہیں“
ہم طلب گار تھے کبھی ان کے
یہ جو روشن فلک پہ تارے ہیں
بھری دنیا میں کس طرح تنہا
پوچھ مت میں نے دن گزارے ہیں
عیسیٰ ہو مریضوں پہ ہے احسان تمہارا
مرتا ہوں نہیں میری طرف دھیان تمہارا
جو مجھ کو ستاتی ہے وہ ہے یاد تمہاری
جو دل سے نہ جاتا ہے وہ ارمان تمہارا
دل چھین لیے جاتے ہو، لے جاؤ دعا بھی
اچھے رہو اللہ ہو نگہبان تمہارا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عنایتوں کا حسیں سلسلہ محمّدﷺ ہیں
دُکھی دلوں کا فقط آسرا محمّدﷺ ہیں
ہم ایسے لوگ برس ہا برس سے درد میں ہیں
ہمارے واسطے حتمی دوا محمّدﷺ ہیں
ہو جاں کنی، یا ہو برزخ، یا ہو حساب کا دن
ہمارا سب ہی جگہ حوصلہ محمّدﷺ ہیں