Wednesday, 3 June 2026

زندہ رہنا ایک ہنر ہے

 اک چھوٹا سا یاد نگر ہے

اور یادوں میں اس کا گھر ہے

میں تو مر جانے والا ہوں

مرنے والوں سے کیا ڈر ہے

بیٹھے بیٹھے دن گزرا ہے

کیسا اب درپیش سفر ہے

کوشش امتزاج کرتا ہوں

 کوشش امتزاج کرتا ہوں

حسن کو ہم مزاج کرتا ہوں

میری مشکل کو کوئی کیا سمجھے

کس طرح کل کو آج کرتا ہوں

میں سمجھتا ہوں بے دلی اپنی

جس طرح کام کاج کرتا ہوں

اسرار بڑی دیر میں یہ مجھ پہ کھلا ہے

 اسرار بڑی دیر میں یہ مجھ پہ کُھلا ہے

انوار کا منبع مِرے سینے میں چُھپا ہے

کیا سوچ کے بھر آئی ہیں یہ جھیل سی آنکھیں

کیا سوچ کے دریا کے کنارے تُو کھڑا ہے

بُجھتے ہوئے اس دِیپ کا تم حوصلہ دیکھو

جو صبح تلک تیز ہواؤں سے لڑا ہے

لبوں پہ حرف سجاؤ دلوں کو وسعت دو

 لبوں پہ حرف سجاؤ دلوں کو وسعت دو

ہمارے حوصلۂ غم کی کوئی قیمت دو

کسی خیال کے سائے میں رک گئے ہیں لوگ

انہیں چمکتی ہوئی دھوپ کی خبر مت دو

یہ زندگی کا جہنم،۔ یہ گرم و تند ہوا

کہیں سے اس میں بھی شب بھر کی ایک جنت دو

وہ جب سے ہات مجھ سے کر گیا ہے

 وہ جب سے ہات مجھ سے کر گیا ہے

حسیں لوگوں سے دل بس بھر گیا ہے

یہ ظالم ظلم کرتے جا رہے ہیں

مِرے اندر کا انساں مر گیا ہے

مِرے کچھ خواب بھی وحشت بھرے تھے

نِگاہیں دیکھ کر وہ ڈر گیا ہے

Tuesday, 2 June 2026

اٹھتی نہیں زبان ستمگر کے روبرو

 اٹھتی نہیں زبان ستمگر کے رُوبرُو

بُت بن گیا ہوں اس بُتِ کافر کے روبرو

رعبِ جمالِ یار نے مبہوت کر دیا

پیکر کھڑا ہو جیسے صنم گر کے روبرو

ہم اس کے گیان دھیان میں جلووں کی آس میں

آسن جمائے بیٹھے ہیں اس گھر کے روبرو

جب سے دل میں ترے بخشے ہوئے غم ٹھہرے ہیں

 جب سے دل میں تِرے بخشے ہوئے غم ٹھہرے ہیں

محرم اور بھی اپنے لیے ہم ٹھہرے ہیں

غم کہ ہر دور میں ٹھہرائے گئے حاصلِ زیست

اور اس دور میں ہم صاحبِ غم ٹھہرے ہیں

ہم تِری راہ میں اُٹھے ہیں بڑے عزم کے ساتھ

گردشِ دہر بھی ٹھہری ہے جو ہم ٹھہرے ہیں