Sunday, 16 August 2026

فکر اب نالہ و شیون کی نہ دمساز کی ہے

 اردو کا جنازہ ہے ذرا دُھوم سے نِکلے


فکر اب نالہ و شیون کی نہ دمساز کی ہے 

نہ مسیحا کی ضرورت ہے نہ غمّاز کی ہے 

پر کترنے پہ نہ خُوش ہو میرے صیّاد بہت 

بازوئے فِکر میں، طاقت ابھی پرواز کی ہے 

نسسِ باریکئ نُدرت کی حلاوت کی قسم 

میری غزلوں میں جھلک اک نئے انداز کی ہے

جوگی اترا پہاڑوں سے

 ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے


جوگی اترا پہاڑوں سے

پتہ پوچھوں ساجن کا

کونجوں کی ڈاروں سے


سیما پیروز

خاک کی چادر پہ سونا چاہیے

 خاک کی چادر پہ سونا چاہیے

بس یہی ہم کو بچھونا چاہیے

خون مکھن بن کے نکلے جسم سے

قوم کو اتنا بلونا چاہیے

ہم نے جو بویا وہی کاٹا میاں

اپنے کرتوتوں پہ رونا چاہیے

قصۂ غم دراز ہونا تھا

 قصۂ غم دراز ہونا تھا

درد کو چارہ ساز ہونا تھا

تیری مستِ شباب آنکھوں کو

نرگسِ نیم باز ہونا تھا

فصلِ گُل کا شباب ہے ساقی

بابِ مے خانہ باز ہونا تھا

سنانے آج آیا ہوں میں نوحہ ایک دھرتی کا

 نوحہ ایک دھرتی کا 


سنانے آج آیا ہوں

میں نوحہ ایک دھرتی کا

کہانی ایک مقتل کی

جہاں مقتول کے لب پر

صدا " اللہ اکبر" کی

جہاں قاتل کے لب پر بھی

یہی تو اک خرابی ہے تمہاری

 یہی تو اک خرابی ہے تمہاری

سبھی کو دستیابی ہے تمہاری

وہاں تک کا نظارہ پہلے کر لوں

جہاں تک بے حِجابی ہے تمہاری

گُلابوں سے نہیں رشتہ تمہارا؟

تو کیوں رنگت گُلابی ہے تمہاری

محبت میں جفا ہوتی رہی ہے

 محبت میں جفا ہوتی رہی ہے

نہ جانے کیا خطا ہوتی رہی ہے

کسے معلوم میرے دل کی حالت

تِری محفل میں کیا ہوتی رہی ہے

متاعِ کارواں لُٹتے ہوئے بھی

تلاشِ رہنما ہوتی رہی ہے