آپ ہیں صاحب کرم تنہا
ہم ہیں گرویدۂ ستم تنہا
نہ خوشی ہے نہ آرزوئیں ہیں
ڈستے رہتے ہیں دل کو غم تنہا
ماہِ نو کا جواب ہیں شاید
آپ کی ابروؤں کے خم تنہا
آپ ہیں صاحب کرم تنہا
ہم ہیں گرویدۂ ستم تنہا
نہ خوشی ہے نہ آرزوئیں ہیں
ڈستے رہتے ہیں دل کو غم تنہا
ماہِ نو کا جواب ہیں شاید
آپ کی ابروؤں کے خم تنہا
یہ آنسُو روک رکھے ہیں بہ مُشکل دن گُزارے ہیں
تمہیں دِکھتے نہیں ہیں جو سبھی وہ غم تمہارے ہیں
کُھلی زُلفیں ہنسی چہرہ تمہاری جھیل سی آنکھیں
ہمیں پاگل نہ کر دیں یہ بہت دلکش نظارے ہیں
ہماری اُنگلیوں سے آج تک خُوشبو نہیں جاتی
کسی کے ریشمی گیسُو کبھی اتنے سنوارے ہیں
بہت ہم یاد آئیں گے کسی دن دیکھ لینا
چلے اس پار جائیں گے کسی دن دیکھ لینا
زمانہ تو پُکارے گا ہمیں آواز دے کر
پلٹ کر ہم نہ آئیں گے کسی دن دیکھ لینا
رہے پیاسے سدا ہی آپ کے در پر، مگر ہم
گھٹا بن بن کے چھائیں گے کسی دن دیکھ لینا
اگرچہ سخت سفر ہے دُھواں گھنا ہو گا
کہیں کوئی تو مِری راہ دیکھتا ہو گا
تمام ہوتا کہاں ہے کبھی ندی کا سفر
وہ جا مِلے تو سمندر بھی راستہ ہو گا
عذاب آئے، سِتم آئے، سانحہ آئے
میں مُنتظر ہوں کہ کچھ زیست میں نیا ہو گا
فصلِ رسن و دار میں آ ہم نے سُنا ہے
پیغام تِرا زُلف رسا، ہم نے سنا ہے
رنگیں نظر آتے ہیں تِرے کُوچہ و بازار
گُزرا ہے کوئی آبلہ پا ہم نے سنا ہے
کیا بات ہے اس کُوچۂ دلدار کی یارو
پِھرتی ہے کئی دن سے صبا ہم نے سنا ہے
چائے کا ارغوانی دور
چائے کا دور چلے، دور چلے، دور چلے
جو چلا ہے تو ابھی اور چلے اور چلے
چائے کا دور چلے، دور چلے، دور چلے
نہ ملے چائے، تو خوننابِ جگر کافی ہے
بزم میں دور چلا ہے، تو ابھی اور چلے
در و دیوار پہ صدیوں کا اثر لگتا ہے
گھر میں کوئی نہیں ہوتا ہے تو ڈر لگتا ہے
سوتی اور جاگتی کرنیں ہیں مِری آنکھوں میں
ایک جیسا ہی مجھے شام و سحر لگتا ہے
کوئی آساں تو نہیں درد کی منزل پانا
دل کی ہر بات میں پتھر کا جگر لگتا ہے