پونجی
دولت لالچ ہوس
جھوٹ فریب نفرت
یہ اب عیب نہیں
انسانی فطرت میں
گھلے ملے رنگ ہیں
پونجی
دولت لالچ ہوس
جھوٹ فریب نفرت
یہ اب عیب نہیں
انسانی فطرت میں
گھلے ملے رنگ ہیں
اسے کہنا
بہار آنے سے پہلے
پرندے جب سفر سے لوٹ آئیں گے
تو ان کے نقرئی بے داغ چمکیلے پروں پر
ہواؤں نے تمہارا نام کندہ کر دیا ہو گا
جمیل احسن
حویلیوں سے بھی جنازے نکلتے ہوں گے
عروسی جوڑے کے آنچل بکھرتے ہوں گے
کُوزے میں سمندر سمانے والو سوچو
سمندر کبھی کُوزے سے سرکتے ہوں گے
کارو کاری پر جِرگہ ہو تو ہر سر پنج
امید سحر پہ تعفّن سے بکھرتے ہوں گے
تیری آنکھوں سے کچھ روشنی آتی ہے
دل پہ جیسے کوئی چاندنی آتی ہے
میری ہر سانس تیرے خیالوں میں ہے
تجھ سے مل کر نئی زندگی آتی ہے
خامشی میں بھی گونجتی ہے صدا
جب تُو بولے،۔ تو بندگی آتی ہے
محبت کا یہ شیوہ ہے سرِ تسلیم خم کرنا
جسے دل میں بسانا ہو اسی کا ذکر کم کرنا
فراقِ یار میں رونا،۔ فغانِ دم بہ دم کرنا
رخِ جاناں کے ہر پرتو پہ میرا سر کو خم کرنا
عجب لگتا ہے اہلِ دید کو طرزِ عمل میرا
اک اس کی دید کی خاطر یہ آنکھیں جامِ جم کرنا
بادلوں سے ٹوٹ برسے آج پانی دیر تک
اے خدا اس شب رہے یہ رت سہانی دیر تک
جگنوؤں کی روشنی سے جھلملائیں راستے
چاندنی سے ہم کریں یہ بے ایمانی دیر تک
رات کی رنگین سڑکیں بھیگے بھیگے یہ شجر
کار کے شیشوں سے جھانکے زندگانی دیر تک
کہاں ہے وہ گُلِ خنداں ہمیں نہیں معلوم
نہ پُوچھ بلبلِ نالاں! ہمیں نہیں معلوم
فِراق ہی میں بسر ہو گئی ہماری عُمر
ہے کون وصل سے شاداں ہمیں نہیں معلوم
ہمیں تو ایک صدائے جرس ہی آتی ہے
ہوا ہے کون ہُدی خواں ہمیں نہیں معلوم