واپسی
میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہے
دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں
دور سے گھر نظر آیا روشن
ساری بستی میں ملا ایک مرا گھر بے خواب
پاس پہنچا تو وہ دیکھا
واپسی
میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہے
دل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤں
دور سے گھر نظر آیا روشن
ساری بستی میں ملا ایک مرا گھر بے خواب
پاس پہنچا تو وہ دیکھا
رقیبِ جاں نظر کا نُور ہو جائے تو کیا کیجے
زیاں دل کو اگر منظور ہو جائے تو کیا کیجے
وفا کرنے سے وہ مجبور ہو جائے تو کیا کیجے
محبت رُوح کا ناسُور ہو جائے تو کیا کیجے
وہی چرچے وہی قصے ملی رُسوائیاں ہم کو
انہی قصوں سے وہ مشہور ہو جائے تو کیا کیجے
اپنے ناموس کا سودا نہیں ہونے دوں گا
میں اسے اور کسی کا نہیں ہونے دوں گا
لوگ مشکیزے لیے پانی کو ترسیں دن بھر
یہ تماشا لبِ دریا نہیں ہونے دوں گا
جیت کا جشن مناؤں گا مگر یاد رہے
اپنے دُشمن کو بھی رُسوا نہیں ہونے دوں گا
ہر اک خیال سے آگے ہر اک نگاہ سے دُور
مِرا مقام محبت ہے رسم و راہ سے دور
فُغاں سے دور ہوں، نالے سے دور، آہ سے دور
میں آج تک ہوں محبت کے ہر گُناہ سے دور
ہزار طرح اُٹھی ہے نگاہِ اہلِ ہوس
ہوا نہ حُسن مگر عشق کی پناہ سے دور
سرخیاں پڑھ کے ان اخباروں کی ڈر لگتا ہے
سارا عالم کسی بارود کا گھر لگتا ہے
بیٹھ جائیں گی یہ دیواریں کسی بھی لمحہ
اپنے گھر میں بھی تو رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے
اپنے ہمسائے کے حالات ہیں اپنے جیسے
اپنے ہی گھر کی طرح ان کا بھی گھر لگتا ہے
ان کی نگاہ ناز سے شرما رہا ہوں میں
اس دل کو اپنے باتوں سے بہلا رہا ہوں میں
جب آئیں گے وہ پاس مرے ہو گی میری عید
ان کو تخیلات میں ٹہلا رہا ہوں میں
پوچھے نہ کوئی حال میرا اس دیار میں
زخموں کو اپنے آپ ہی سہلا رہا ہوں میں
حدیثِ نسواں
علم و ادب سے آج ہر اک گھر ہے بوستاں
فنی، تمدنی، ہوئیں حاصل ترقیاں
یہ اک کرشمہ شہ عثمان ہے اب یہاں
لڑکوں کی طرح پاتی ہیں اسناد لڑکیاں
بنیاد عہد شہ میں ہوئی گرل گائیڈ کی