درویشوں کی اپنی بولی اپنے راگ اور ساز میاں
دنیا والے کب سمجهے ہیں عشق نگر کے راز میاں
ان کو آگ، ہوا، پانی اور مٹی کیا بتلاتے ہو
جن کی آنکهیں دیکھ چکی ہیں دهرتی کا آغاز میاں
میرے لفظوں کی سچائی سورج بن کر چمکے گی
اگلی نسلوں تک پہنچے گی میری یہ آواز میاں
پاک پتن کی سڑکیں ہیں اور جاں لیوا تنہائی ہے
میرے ہاتھ میں سگریٹ ہے اور کوئی نہیں دمساز میاں
حافظ اور سعدی کی خوشبو سب اشعار سے آتی ہے
میرے اندر بھی بستا ہے اک شہرِ شیراز میاں
یاسر رضا آصف
No comments:
Post a Comment