Sunday, 15 March 2026

جاتے جاتے وہ مجھے اپنی نشانی دے گیا

 جاتے جاتے وہ مجھے اپنی نشانی دے گیا

زندگی بھر کے لیے آنکھوں میں پانی دے گیا

سنتے سنتے داستاں سو جائیں گے سب چارہ گر

ختم جو ہو گی نہیں ایسی کہانی دے گیا

سر مرے سینے پہ اس نے جب رکھا ہے زندگی

اس طرح دریائے دل کو وہ روانی دے گیا

بات بھی اتنی کہ بس اس نے کیا مجھ کو سلام

ہاں مگر لوگوں کے دل میں بد گمانی دے گیا

تھی غزل میری بہت بے ربط بے کیف و اثر

وہ مرے اشعار کو الفاظ و معنی دے گیا

بزم میں بے پردہ آیا مسکرا کر سامنے

ناتواں دل کو مرے پھر سے جوانی دے گیا

لے گیا ہمراہ اپنے وہ مکاں اور بام و در

ہے نظر سب کچھ مگر اک بے مکانی دے گیا


نظر کانپوری

No comments:

Post a Comment