وصل کی شب میں سحر ڈھونڈ کے لایا نہ کرو
خواب ہی میں مجھے رہنے دو جگایا نہ کرو
میری آنکھوں میں نہاں ایک سیاہ شیشہ ہے
میری تصویر بھی اب مجھ کو دکھایا نہ کرو
جھلملاتا ہے اب اک جلوہ مِری آنکھوں میں
آندھیاں بن کے مِری نظروں پہ چھایا نہ کرو
صبح دم وہ تو سسکتے ہوئے دم توڑے گی
شمعِ امید سرِ شام جلایا نہ کرو
ڈوب جائے گی حوادث سے غزالہ وہ خود
تم کبھی کشتی میں طوفان اٹھایا نہ کرو
مریم غزالہ
No comments:
Post a Comment