Saturday, 21 March 2026

وصل کی شب میں سحر ڈھونڈ کے لایا نہ کرو

 وصل کی شب میں سحر ڈھونڈ کے لایا نہ کرو

خواب ہی میں مجھے رہنے دو جگایا نہ کرو

میری آنکھوں میں نہاں ایک سیاہ شیشہ ہے

میری تصویر بھی اب مجھ کو دکھایا نہ کرو

جھلملاتا ہے اب اک جلوہ مِری آنکھوں میں

آندھیاں بن کے مِری نظروں پہ چھایا نہ کرو

صبح دم وہ تو سسکتے ہوئے دم توڑے گی

شمعِ امید سرِ شام جلایا نہ کرو

ڈوب جائے گی حوادث سے غزالہ وہ خود

تم کبھی کشتی میں طوفان اٹھایا نہ کرو


مریم غزالہ

No comments:

Post a Comment