Sunday, 22 March 2026

بس اپنے خواب سے تعبیر کا سامان لیتے ہیں

 بس اپنے خواب سے تعبیر کا سامان لیتے ہیں

وہ سب انجان ہیں کہتے جو ہیں ہم جان لیتے ہیں

یہی کہہ دے تِری گلیوں کی ہم نے خاک چھانی ہے

تِرے دفتر سے وہ ایوان کے دیوان لیتے ہیں

ہوا کی موج میں رہ رہ کے آہٹ تیری ملتی ہے

تجھے اے زندگی! ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

اندھیری رات سے محفوظ رہنا ہم نے سیکھا ہے

ٹکی ہے کہکشاں جس میں وہ چادر تان لیتے ہیں

کہیں ایسا نہ ہو ہم چھوڑ دیں انسان کا قالب

نہ دینا اے خدا! وہ رزق جو حیوان لیتے ہیں


مہدی جعفر

No comments:

Post a Comment