جب چراغوں پہ ہواؤں کے سِتم ٹُوٹ گئے
شب کو خورشید پہ جتنے تھے بھرم ٹوٹ گئے
ہم کو رکھنے کا سليقہ بھی نہیں تھا اس کو
اس قدر زور سے پٹکا ہے کہ ہم ٹوٹ گئے
آج اس دل میں دبے پاؤں تیری یاد آئی
سانس لیتے ہوئے کتنے ہی قدم ٹوٹ گئے
جب چراغوں پہ ہواؤں کے سِتم ٹُوٹ گئے
شب کو خورشید پہ جتنے تھے بھرم ٹوٹ گئے
ہم کو رکھنے کا سليقہ بھی نہیں تھا اس کو
اس قدر زور سے پٹکا ہے کہ ہم ٹوٹ گئے
آج اس دل میں دبے پاؤں تیری یاد آئی
سانس لیتے ہوئے کتنے ہی قدم ٹوٹ گئے
چہرہ پہ کوئی رنگ شکایت کا نہیں تھا
لیکن وہ تبسم ہی محبت کا نہیں تھا
چھوڑا بھی مجھے اور بہت خوش بھی رہے ہو
افسوس کے میں آپ کی عادت کا نہیں تھا
وقتوں کے سیاہ رنگ سے ذروں پہ لکھا ہے
دنیا میں کوئی دور شرافت کا نہیں تھا
تنہائیوں کی گود میں پل کر بڑا ہوا
بچپن سے اپنے آپ سنبھل کر بڑا ہوا
غیروں کو اپنا مان کے جیتا رہا ہوں میں
اس راہِ پل صراط پہ چل کر بڑا ہوا
میں نے کبھی بھی رات سے شکوہ نہیں کیا
ہر شب کسی چراغ سا جل کر بڑا ہوا
کہیں عذاب، کہیں پر ثواب لکھتے ہیں
فرشتے، روز ہمارا حساب لکھتے ہیں
بہت سے لوگ تو ایسے بھی ہیں اسی یُگ میں
کتاب پڑھتے نہیں ہیں، کتاب لکھتے ہیں
وہ اپنے جسم کے خانوں میں آگ رکھتے ہیں
گلاب ہوتے نہیں ہیں، گلاب لکھتے ہیں
کہاں، اور کب، کب اکیلا رہا ہوں
میں ہر روز ہر شب اکیلا رہا ہوں
مجھے اپنے بارے میں کیا مشورہ ہو
میں اپنے لیے کب اکیلا رہا ہوں؟
اداسی کا عالم یہاں تک رہا ہے
میں ہوتے ہوئے سب اکیلا رہا ہوں
زہر تو لا جواب تھا اس کا
دن ہی شاید خراب تھا اس کا
جبکہ میرا سوال سیدھا تھا
پھر بھی الٹا جواب تھا اس کا
وہ محض دھوپ کا مسافر تھا
ہمسفر آفتاب تھا اس کا