Showing posts with label ناصر راؤ. Show all posts
Showing posts with label ناصر راؤ. Show all posts

Friday, 29 March 2024

جب چراغوں پہ ہواؤں کے ستم ٹوٹ گئے

 جب چراغوں پہ ہواؤں کے سِتم ٹُوٹ گئے

شب کو خورشید پہ جتنے تھے بھرم ٹوٹ گئے

ہم کو رکھنے کا سليقہ بھی نہیں تھا اس کو

اس قدر زور سے پٹکا ہے کہ ہم ٹوٹ گئے

آج اس دل میں دبے پاؤں تیری یاد آئی

سانس لیتے ہوئے کتنے ہی قدم ٹوٹ گئے

Wednesday, 28 September 2022

چہرہ پہ کوئی رنگ شکایت کا نہیں تھا

 چہرہ پہ کوئی رنگ شکایت کا نہیں تھا

لیکن وہ تبسم ہی محبت کا نہیں تھا

چھوڑا بھی مجھے اور بہت خوش بھی رہے ہو

افسوس کے میں آپ کی عادت کا نہیں تھا

وقتوں کے سیاہ رنگ سے ذروں پہ لکھا ہے

دنیا میں کوئی دور شرافت کا نہیں تھا

Friday, 9 September 2022

تنہائیوں کی گود میں پل کر بڑا ہوا

 تنہائیوں کی گود میں پل کر بڑا ہوا

بچپن سے اپنے آپ سنبھل کر بڑا ہوا

غیروں کو اپنا مان کے جیتا رہا ہوں میں

اس راہِ پل صراط پہ چل کر بڑا ہوا

میں نے کبھی بھی رات سے شکوہ نہیں کیا

ہر شب کسی چراغ سا جل کر بڑا ہوا

Wednesday, 31 August 2022

کہیں عذاب کہیں پر ثواب لکھتے ہیں

 کہیں عذاب، کہیں پر ثواب لکھتے ہیں

فرشتے، روز ہمارا حساب لکھتے ہیں

بہت سے لوگ تو ایسے بھی ہیں اسی یُگ میں

کتاب پڑھتے نہیں ہیں، کتاب لکھتے ہیں

وہ اپنے جسم کے خانوں میں آگ رکھتے ہیں

گلاب ہوتے نہیں ہیں، گلاب لکھتے ہیں

Monday, 29 August 2022

کہاں اور کب کب اکیلا رہا ہوں

 کہاں، اور کب، کب اکیلا رہا ہوں 

میں ہر روز ہر شب اکیلا رہا ہوں 

مجھے اپنے بارے میں کیا مشورہ ہو 

میں اپنے لیے کب اکیلا رہا ہوں؟

اداسی کا عالم یہاں تک رہا ہے

میں ہوتے ہوئے سب اکیلا رہا ہوں

Thursday, 28 April 2022

زہر تو لاجواب تھا اس کا

 زہر تو لا جواب تھا اس کا

دن ہی شاید خراب تھا اس کا

جبکہ میرا سوال سیدھا تھا

پھر بھی الٹا جواب تھا اس کا

وہ محض دھوپ کا مسافر تھا

ہمسفر آفتاب تھا اس کا