Friday, 9 September 2022

تنہائیوں کی گود میں پل کر بڑا ہوا

 تنہائیوں کی گود میں پل کر بڑا ہوا

بچپن سے اپنے آپ سنبھل کر بڑا ہوا

غیروں کو اپنا مان کے جیتا رہا ہوں میں

اس راہِ پل صراط پہ چل کر بڑا ہوا

میں نے کبھی بھی رات سے شکوہ نہیں کیا

ہر شب کسی چراغ سا جل کر بڑا ہوا

پتھر سے کوئی واسطہ مطلب نہ تھا مگر

ہر آئینے کی آنکھ میں کھل کر بڑا ہوا

مخمل کی چادروں کا مجھے کیا پتہ کہ میں

کانٹوں کے بستروں کو مسل کر بڑا ہوا


ناصر راؤ

No comments:

Post a Comment