فلک سے چاند چمن سے گلاب لے آئے
کہاں سے کوئی تمہارا جواب لے آئے
ہزار رنگ ہیں حسن و جمال کے لیکن
وہ رنگ اور ہے جس کو شباب لے آئے
عجیب طرفہ تماشا ہے زندگی میری
خوشی بھی آئے تو غم بے حساب لے آئے
فلک سے چاند چمن سے گلاب لے آئے
کہاں سے کوئی تمہارا جواب لے آئے
ہزار رنگ ہیں حسن و جمال کے لیکن
وہ رنگ اور ہے جس کو شباب لے آئے
عجیب طرفہ تماشا ہے زندگی میری
خوشی بھی آئے تو غم بے حساب لے آئے
فوجیوں کے سر تو دشمن کے سپاہی لے گئے
ہاتھ جو قیمت لگی ظل الٰہی لے گئے
جرم میرا صرف اتنا تھا کہ میں مجرم نہ تھا
قید تک مجھ کو ثبوت بے گناہی لے گئے
اب وہی دنیا میں ٹھہرے امن عالم کے امیں
جو اماں کی جا تک اسباب تباہی لے گئے
کبھی جو آنکھوں میں پل بھر کو خواب جاگتے ہیں
تو پھر مہینوں مسلسل عذاب جاگتے ہیں
کسی کے لمس کی تاثیر ہے کہ برسوں بعد
مِری کتابوں میں اب بھی گلاب جاگتے ہیں
برائی کچھ تو یقیناً ہے بے حجابی میں
مگر وہ فتنے جو زیر نقاب جاگتے ہیں
جستجو نے تِری ہر چند تھکا رکھا ہے
پھر بھی کیا غم کہ اسی میں تو مزا رکھا ہے
کچھ تو اپنی بھی طبیعت ہے گریزاں ان سے
کچھ مزاج ان کا بھی بر دوش ہوا رکھا ہے
کیا تجھے علم نہیں تیری رضا کی خاطر
میں نے کس کس کو زمانے میں خفا رکھا ہے
ادھر چراغ جل گئے ادھر چراغ جل گئے
جدھر جدھر اٹھی تِری نظر چراغ جل گئے
یہ اور بات رات بھر کا طے نہ کر سکے سفر
مگر یہ کم نہیں کہ وقت پر چراغ جل گئے
ہوا کا ایسا زور تھا کہ اک بلا کا شور تھا
اسی فضا میں جو تھے با ہنر چراغ جل گئے
چرخ بھی چھُو لیں تو جانا ہے اسی مٹی میں
مستقل اپنا ٹھکانا ہے اسی مٹی میں
جن کے دامن پہ کبھی چاند ستارے چمکے
دفن ان کا بھی فسانہ ہے اسی مٹی میں
بے عمل ہاتھ لگائے بھی تو خالی جائے
ہاں جفا کش کا خزانہ ہے اسی مٹی میں