Showing posts with label اخلاق بندوی. Show all posts
Showing posts with label اخلاق بندوی. Show all posts

Sunday, 7 March 2021

فلک سے چاند چمن سے گلاب لے آئے

 فلک سے چاند چمن سے گلاب لے آئے

کہاں سے کوئی تمہارا جواب لے آئے

ہزار رنگ ہیں حسن و جمال کے لیکن

وہ رنگ اور ہے جس کو شباب لے آئے

عجیب طرفہ تماشا ہے زندگی میری

خوشی بھی آئے تو غم بے حساب لے آئے

Thursday, 25 February 2021

فوجیوں کے سر تو دشمن کے سپاہی لے گئے

 فوجیوں کے سر تو دشمن کے سپاہی لے گئے

ہاتھ جو قیمت لگی ظل الٰہی لے گئے

جرم میرا صرف اتنا تھا کہ میں مجرم نہ تھا

قید تک مجھ کو ثبوت بے گناہی لے گئے

اب وہی دنیا میں ٹھہرے امن عالم کے امیں

جو اماں کی جا تک اسباب تباہی لے گئے

Wednesday, 24 February 2021

کبھی جو آنکھوں میں پل بھر کو خواب جاگتے ہیں

 کبھی جو آنکھوں میں پل بھر کو خواب جاگتے ہیں

تو پھر مہینوں مسلسل عذاب جاگتے ہیں

کسی کے لمس کی تاثیر ہے کہ برسوں بعد

مِری کتابوں میں اب بھی گلاب جاگتے ہیں

برائی کچھ تو یقیناً ہے بے حجابی میں

مگر وہ فتنے جو زیر نقاب جاگتے ہیں

Tuesday, 23 February 2021

جستجو نے تری ہر چند تھکا رکھا ہے

 جستجو نے تِری ہر چند تھکا رکھا ہے

پھر بھی کیا غم کہ اسی میں تو مزا رکھا ہے

کچھ تو اپنی بھی طبیعت ہے گریزاں ان سے

کچھ مزاج ان کا بھی بر دوش ہوا رکھا ہے

کیا تجھے علم نہیں تیری رضا کی خاطر

میں نے کس کس کو زمانے میں خفا رکھا ہے

Monday, 15 February 2021

ادھر چراغ جل گئے ادھر چراغ جل گئے

 ادھر چراغ جل گئے ادھر چراغ جل گئے

جدھر جدھر اٹھی تِری نظر چراغ جل گئے

یہ اور بات رات بھر کا طے نہ کر سکے سفر

مگر یہ کم نہیں کہ وقت پر چراغ جل گئے

ہوا کا ایسا زور تھا کہ اک بلا کا شور تھا

اسی فضا میں جو تھے با ہنر چراغ جل گئے

Sunday, 14 February 2021

چرخ بھی چھو لیں تو جانا ہے اسی مٹی میں

 چرخ بھی چھُو لیں تو جانا ہے اسی مٹی میں

مستقل اپنا ٹھکانا ہے اسی مٹی میں

جن کے دامن پہ کبھی چاند ستارے چمکے

دفن ان کا بھی فسانہ ہے اسی مٹی میں

بے عمل ہاتھ لگائے بھی تو خالی جائے

ہاں جفا کش کا خزانہ ہے اسی مٹی میں