یہی تیری رحمت صِلہ دے رہی ہے
مِری بے بسی بھی مزا دے رہی ہے
تُو پُورب تو پُوربا، تُو پچھم تو پچھوا
ہوا بھی تیرا ہی پتہ دے رہی ہے
میں دن رات تجھ کو کروں یاد کتنا
محبت تِری اب سزا دے رہی ہے
پہاڑوں کی سازش نہیں تو نہیں یہ
گُھٹن سی یہ کیسی ہوا دے رہی ہے
بڑی مُشکلوں سے جو شُعلے بُجھے ہیں
انہیں سلطنت کیوں ہوا دے رہی ہے
عنایت بھی تیری یہ کیا دے رہی ہے
مجھے راج نِت دن نیا دے رہی ہے
راج کوشک
No comments:
Post a Comment