Sunday, 25 October 2026

ستم تو دیکھیے کرتے ہیں اپنی شان کا سودا

 ستم تو دیکھیے کرتے ہیں اپنی شان کا سودا

جو یہ کہتے ہیں کہ ہم کرتے نہیں نقصان کا سودا

حفاظت ہم کریں گے بیٹیوں کی جن کا نعرہ تھا

وہی اب کر رہے ہیں بیٹیوں کی جان کا سودا

جو تھے بلقیس کی عزت پہ ڈاکہ ڈالنے والے

حکومت ان سے کر بیٹھی ہے اب ایمان کا سودا

سزا ان کو ملے جو بیٹیوں پر ظلم ڈھاتے ہیں

ہم ہرگز نہیں منظور یوں سمان کا سودا

حبیبہ محسنِ ہندوستاں وہ خود کو کہتے ہیں

جنہوں نے کر لیا ملکِ ہندوستان کا سودا


حبیبہ اکرام

No comments:

Post a Comment