ستم تو دیکھیے کرتے ہیں اپنی شان کا سودا
جو یہ کہتے ہیں کہ ہم کرتے نہیں نقصان کا سودا
حفاظت ہم کریں گے بیٹیوں کی جن کا نعرہ تھا
وہی اب کر رہے ہیں بیٹیوں کی جان کا سودا
جو تھے بلقیس کی عزت پہ ڈاکہ ڈالنے والے
حکومت ان سے کر بیٹھی ہے اب ایمان کا سودا
سزا ان کو ملے جو بیٹیوں پر ظلم ڈھاتے ہیں
ہم ہرگز نہیں منظور یوں سمان کا سودا
حبیبہ محسنِ ہندوستاں وہ خود کو کہتے ہیں
جنہوں نے کر لیا ملکِ ہندوستان کا سودا
حبیبہ اکرام
No comments:
Post a Comment