تمہارے ہاتھ سے پتھر لگا ہے
چلو جیسے تمہیں بہتر لگا ہے
اسے دنیا سے دلچسپی ہوئی ہے
مجھے اس حادثے سے ڈر لگا ہے
نشانہ ہی غلط باندھا گیا تھا
ہدف پر بھی خطا ہو کر لگا ہے
تمہارے ہاتھ سے پتھر لگا ہے
چلو جیسے تمہیں بہتر لگا ہے
اسے دنیا سے دلچسپی ہوئی ہے
مجھے اس حادثے سے ڈر لگا ہے
نشانہ ہی غلط باندھا گیا تھا
ہدف پر بھی خطا ہو کر لگا ہے
شام کے وقت ٹھکانے پہ نہیں آتا تھا
وہ پرندہ جو نشانے پہ نہیں آتا تھا
امتی گھیر کے لاتے تھے اسی گھر کی طرف
دکھ محمدﷺ کے گھرانے پہ نہیں آتا تھا
میری خاموشی اسے کھینچ کے لے آئی ہے
وہ جو آواز لگانے پہ نہیں آتا تھا
ہم خدا سے شکوہ کرتے تھے اکیلے رہ گئے
اب ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اچھے رہ گئے
حادثے کے وقت جب اس نے پکارا؛ کوئی ہے
سب مدد کے واسطے اوروں کو کہتے رہ گئے
سوتے سوتے چھوڑ کر کوئی گیا تو اگلی صبح
نیند پوری ہو گئی، اور ہم ادھورے رہ گئے
اور اب کی بار تو وہ ضبط آزمایا گیا
گھٹن سے مر گئے اس کو نہیں بتایا گیا
تمام عمر کی محنت بھی رائیگاں ہی گئی
وہ ایک شخص بھی مجھ سے نہیں کمایا گیا
زیادہ دیر کوئی بھی نہیں ٹھہرتا یہاں
اداس دل ہے، خموشی ہے، جو بھی آیا گیا
رستہ کوئی فرار کا یکسر نہیں ملا
دیوار مل گئی ہے ابھی در نہیں ملا
کم پڑ رہی تھی ایک نشست اس کی بزم میں
وہ اس لیے کسی سے بھی اٹھ کر نہیں ملا
سب آئینے ہی شہر میں ٹوٹے ہوئے ملے
لیکن کسی کے ہاتھ میں پتھر نہیں ملا
کوئی سپاہی نہیں بچ سکا نشانوں سے
گلی میں تیر برستے رہے مکانوں سے
یہ بُردباری اچانک سے تھوڑی آئی ہے
کلام کرنا پڑا مجھ کو بد زبانوں سے
تمہارے ہاتھ سلامت رہیں تو شہزادے
یہ شال یونہی سرکتی رہے گی شانوں سے
کھیل کتنا ہے خطرناک نہیں جانتے تھے
ڈوب سکتے ہیں یہ تیراک نہیں جانتے تھے
عشق کو میلا کیا میلی نظر والوں نے
کتنا پاکیزہ ہے ناپاک نہیں جانتے تھے
رونا روئیں گے وہی لوگ تیری سادگی کا
جو تجھے پہلے سے چالاک نہیں جانتے تھے
ہمارے ہاتھوں سے جب بھی سہارے جاتے ہیں
شدید دُکھ میں کئی دن گزارے جاتے ہیں
پتہ تو ہوتا ہے سب دوستوں کی چالوں کا
کسی لحاظ میں ہم لوگ مارے جاتے ہیں
براہِ راست جہاں پر نہیں میسر ہم
ہمارے نام وہاں بھی پکارے جاتے ہیں
یہ عشق ہے تو یہاں حاضری ضروری ہے
کبھی کبھی تری موجودگی ضروری ہے
کوئی بھی خاص سبب تو نہیں لگاؤ کا
وہ ایک شخص مجھے قدرتی ضروری ہے
محبتوں کے عوض جب اذیتیں ملیں تو
پتا چلا کہ یہاں بے حسی ضروری ہے
قریب آ کے بھی کوئی کہے نہیں ملنا
سبھی سے ہاتھ ملانا، گلے نہیں ملنا
تمہارے چھوڑ کے جانے سے میں نے سیکھا ہے
جو ڈھیر شوق سے آئے، اسے نہیں ملنا
تیرے بغیر گزرتے ہوئے دنوں کی قسم
یہ دن گزر بھی گئے تو تجھے نہیں ملنا
تمہیں تو جیسے ہی موقع ملا، فرار ہوئے
معافی مانگی ہے تم نے نہ شرمسار ہوئے
وگرنہ کون ہمیں حاضرین میں گِنتا
کسی کے ہاتھ لگانے سے ہم شمار ہوئے
صدا لگائی گئی بارہا مُکرّر کی
بہت سے لوگ مگر پھر بھی ایک بار ہوئے
میں بتاؤں گی نہیں تم کو مگر آتے ہیں
جلد بچھڑیں گے یہ آثار نظر آتے ہیں
بعد میں جا کے اکڑتے ہیں، خدا بنتے ہیں
ورنہ دنیا میں تو سب لوگ بشر آتے ہیں
دل میں رہنے کے طریقے مجھے معلوم نہیں
یار! تم مجھ کو سکھا دو گے، اگر آتے ہیں؟
سمجھ سکے جو مری بات، وہ کلام کرے
نہیں سمجھتا، تو بس دور سے سلام کرے
جسے بھی چاہیے خیرات میں مری آواز
وہ پہلے میری خموشی کا احترام کرے
کواڑ کھلتے ہی ورنہ بدن سے لپٹے گی
اسے کہو کہ اداسی کا انتظام کرے
اچھا خواب دکھایا تم نے خواب دکھانے والوں میں
ایسی بات کہاں ہوتی تھی اس سے پہلے والوں میں
دروازے پر تالا ہو تو پھر بھی دستک دے دینا
نام تو شامل ہو جائے گا دستک دینے والوں میں
جو بھی شخص برا لگتا ہے صاف برا کہہ دیتے ہیں
یہ بھی اچھی بات ہے تجھ کو اچھا کہنے والوں میں