Showing posts with label امن شہزادی. Show all posts
Showing posts with label امن شہزادی. Show all posts

Tuesday, 14 July 2026

تمہارے ہاتھ سے پتھر لگا ہے

 تمہارے ہاتھ سے پتھر لگا ہے

چلو جیسے تمہیں بہتر لگا ہے

اسے دنیا سے دلچسپی ہوئی ہے

مجھے اس حادثے سے ڈر لگا ہے

نشانہ ہی غلط باندھا گیا تھا

ہدف پر بھی خطا ہو کر لگا ہے

Saturday, 13 July 2024

شام کے وقت ٹھکانے پہ نہیں آتا تھا

 شام کے وقت ٹھکانے پہ نہیں آتا تھا

وہ پرندہ جو نشانے پہ نہیں آتا تھا

امتی گھیر کے لاتے تھے اسی گھر کی طرف

دکھ محمدﷺ کے گھرانے پہ نہیں آتا تھا

میری خاموشی اسے کھینچ کے لے آئی ہے

وہ جو آواز لگانے پہ نہیں آتا تھا

Saturday, 22 April 2023

ہم خدا سے شکوہ کرتے تھے اکیلے رہ گئے

 ہم خدا سے شکوہ کرتے تھے اکیلے رہ گئے

اب ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اچھے رہ گئے

حادثے کے وقت جب اس نے پکارا؛ کوئی ہے

سب مدد کے واسطے اوروں کو کہتے رہ گئے

سوتے سوتے چھوڑ کر کوئی گیا تو اگلی صبح

نیند پوری ہو گئی، اور ہم ادھورے رہ گئے

Sunday, 10 July 2022

اور اب کی بار تو وہ ضبط آزمایا گیا

 اور اب کی بار تو وہ ضبط آزمایا گیا

گھٹن سے مر گئے اس کو نہیں بتایا گیا

تمام عمر کی محنت بھی رائیگاں ہی گئی

وہ ایک شخص بھی مجھ سے نہیں کمایا گیا

زیادہ دیر کوئی بھی نہیں ٹھہرتا یہاں

اداس دل ہے، خموشی ہے، جو بھی آیا گیا

Wednesday, 9 March 2022

رستہ کوئی فرار کا یکسر نہیں ملا

 رستہ کوئی فرار کا یکسر نہیں ملا

دیوار مل گئی ہے ابھی در نہیں ملا

کم پڑ رہی تھی ایک نشست اس کی بزم میں

وہ اس لیے کسی سے بھی اٹھ کر نہیں ملا

سب آئینے ہی شہر میں ٹوٹے ہوئے ملے

لیکن کسی کے ہاتھ میں پتھر نہیں ملا

Tuesday, 28 September 2021

یہ جنگ جیتی نہیں جا رہی ترانوں سے

 کوئی سپاہی نہیں بچ سکا نشانوں سے

گلی میں تیر برستے رہے مکانوں سے

یہ بُردباری اچانک سے تھوڑی آئی ہے

کلام کرنا پڑا مجھ کو بد زبانوں سے

تمہارے ہاتھ سلامت رہیں تو شہزادے

یہ شال یونہی سرکتی رہے گی شانوں سے

Monday, 27 September 2021

کھیل کتنا ہے خطرناک نہیں جانتے تھے

 کھیل کتنا ہے خطرناک نہیں جانتے تھے

ڈوب سکتے ہیں یہ تیراک نہیں جانتے تھے

عشق کو میلا کیا میلی نظر والوں نے

کتنا پاکیزہ ہے ناپاک نہیں جانتے تھے

رونا روئیں گے وہی لوگ تیری سادگی کا

جو تجھے پہلے سے چالاک نہیں جانتے تھے

Thursday, 2 September 2021

ہمارے ہاتھوں سے جب بھی سہارے جاتے ہیں

 ہمارے ہاتھوں سے جب بھی سہارے جاتے ہیں

شدید دُکھ میں کئی دن گزارے جاتے ہیں

پتہ تو ہوتا ہے سب دوستوں کی چالوں کا

کسی لحاظ میں ہم لوگ مارے جاتے ہیں

براہِ راست جہاں پر نہیں میسر ہم

ہمارے نام وہاں بھی پکارے جاتے ہیں

Friday, 18 December 2020

یہ عشق ہے تو یہاں حاضری ضروری ہے

 یہ عشق ہے تو یہاں حاضری ضروری ہے 

کبھی کبھی تری موجودگی ضروری ہے 

کوئی بھی خاص سبب تو نہیں لگاؤ کا

وہ ایک شخص مجھے قدرتی ضروری ہے

محبتوں کے عوض جب اذیتیں ملیں تو 

پتا چلا کہ یہاں بے حسی ضروری ہے

Thursday, 17 December 2020

قریب آ کے بھی کوئی کہے نہیں ملنا

 قریب آ کے بھی کوئی کہے نہیں ملنا

سبھی سے ہاتھ ملانا، گلے نہیں ملنا

تمہارے چھوڑ کے جانے سے میں نے سیکھا ہے

جو ڈھیر شوق سے آئے، اسے نہیں ملنا

تیرے بغیر گزرتے ہوئے دنوں کی قسم

یہ دن گزر بھی گئے تو تجھے نہیں ملنا

تمہیں تو جیسے ہی موقع ملا فرار ہوئے

تمہیں تو جیسے ہی موقع ملا، فرار ہوئے 

معافی مانگی ہے تم نے نہ شرمسار ہوئے

وگرنہ کون ہمیں حاضرین میں گِنتا

کسی کے ہاتھ لگانے سے ہم شمار ہوئے

صدا لگائی گئی بارہا مُکرّر کی

بہت سے لوگ مگر پھر بھی ایک بار ہوئے 

Sunday, 13 December 2020

میں بتاؤں گی نہیں تم کو مگر آتے ہیں

 میں بتاؤں گی نہیں تم کو مگر آتے ہیں

جلد بچھڑیں گے یہ آثار نظر آتے ہیں

بعد میں جا کے اکڑتے ہیں، خدا بنتے ہیں

ورنہ دنیا میں تو سب لوگ بشر آتے ہیں

دل میں رہنے کے طریقے مجھے معلوم نہیں

یار! تم مجھ کو سکھا دو گے، اگر آتے ہیں؟

Saturday, 12 December 2020

سمجھ سکے جو مری بات وہ کلام کرے

 سمجھ سکے جو مری بات، وہ کلام کرے

نہیں سمجھتا، تو بس دور سے سلام کرے

جسے بھی چاہیے خیرات میں مری آواز

وہ پہلے میری خموشی کا احترام کرے

کواڑ کھلتے ہی ورنہ بدن سے لپٹے گی

اسے کہو کہ اداسی کا انتظام کرے

Friday, 20 November 2020

اچھا خواب دکھایا تم نے خواب دکھانے والوں میں

 اچھا خواب دکھایا تم نے خواب دکھانے والوں میں

ایسی بات کہاں ہوتی تھی اس سے پہلے والوں میں

دروازے پر تالا ہو تو پھر بھی دستک دے دینا

نام تو شامل ہو جائے گا دستک دینے والوں میں

جو بھی شخص برا لگتا ہے صاف برا کہہ دیتے ہیں

یہ بھی اچھی بات ہے تجھ کو اچھا کہنے والوں میں