Sunday, 13 December 2020

میں بتاؤں گی نہیں تم کو مگر آتے ہیں

 میں بتاؤں گی نہیں تم کو مگر آتے ہیں

جلد بچھڑیں گے یہ آثار نظر آتے ہیں

بعد میں جا کے اکڑتے ہیں، خدا بنتے ہیں

ورنہ دنیا میں تو سب لوگ بشر آتے ہیں

دل میں رہنے کے طریقے مجھے معلوم نہیں

یار! تم مجھ کو سکھا دو گے، اگر آتے ہیں؟

ہر تعلق میں محبت💖 کو نبھانا سیکھا

ہم تو دشمن کا بھی دل پیار سے بھر آتے ہیں

ایک کھڑکی میرے ماضی کی طرف کھلتی ہے

جس میں دھندلائے ہوئے چہرے نظر آتے ہیں

تیرا دل کیوں نہیں بھر آتا مرے اشکوں سے

اتنے پانی سے تو تالاب بھی بھر آتے ہیں


امن شہزادی

No comments:

Post a Comment