شہر گم ہو گیا
اک چھناکا ہوا
دل کے خانے میں رکھا ہوا ایک نازک سا گلدان ٹوٹا
خموشی نے فوراً لگائی صدا
کیا گرا؟ کیا ہوا؟
چائے کی ٹھنڈی پیالی لیے، اونگھتے اونگھتے
شہر گم ہو گیا
اک چھناکا ہوا
دل کے خانے میں رکھا ہوا ایک نازک سا گلدان ٹوٹا
خموشی نے فوراً لگائی صدا
کیا گرا؟ کیا ہوا؟
چائے کی ٹھنڈی پیالی لیے، اونگھتے اونگھتے
لکیروں کا نیا اک جال پیشانی پہ رکھ دوں
اور اپنا عکس آئینے کی حیرانی پہ رکھ دوں
تو کیا دریا کی لہروں کو سفیر خواب جانوں
تو کیا لکھا ہوا ہر لفظ میں پانی پہ رکھ دوں
نئے اک دشت کی تعمیر مجھ میں ہورہی ہے
سو یہ الزام بھی رستوں کی ویرانی پہ رکھ دوں
کب سے قبلہ رو بیٹھے ہیں حرفِ دعا اور میں
خاموشی کے ساتھ ہیں دونوں میرا خدا اور میں
ریت کی لہروں سے ہر لمحہ باتیں کرتے ہیں
دونوں دشت کے باسی نکلے، سناٹا اور میں
انسانوں نے خواب زمیں کو بنجر کر ڈالا
چھپ چھپ کر روتے رہتے ہیں یہ دنیا اور میں
چشمِ فردا کے لیے اور تو کیا لائی ہوں میں
ہجر کا لمحۂ سفاک اٹھا لائی ہوں میں
میری آنکھوں میں جو بھر دی تھی تِری قربت نے
بس اسی ریت سے اک دشت بنا لائی ہوں میں
جانتی تھی کہ کھلیں گے نہ کبھی بند کواڑ
رائیگانی کے لیے اپنی صدا لائی ہوں میں
تخلیق
کمرے کا یخ بستہ موسم
میرے اندر کی گرمی کو چاٹ چکا تھا
آنکھوں کی جھیلوں میں گویا
بچھڑی ہوئی یادوں کی کائی جمی ہوئی تھی
بستر پر اک بے حس اور انجانی سی چپ
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
روشنی کا سلسلہ ہے آپﷺ کی دہلیز پر
بابِ گریہ کھل گیا ہے آپﷺ کی دہلیز پر
دل پہ اک آنسو گرا ہے یا مرا احساس ہے
اک دِیا سا جل اٹھا ہے آپﷺ کی دہلیز پر
اسمِ احمدﷺ ہے زباں پر روح تک سرشار ہے
درد کا کیا ذائقہ ہے آپﷺ کی دہلیز پر
اپنی محرومیوں کو چھپاتی ہوئی زندگی اور ہے
آئینے سے نگاہیں ملاتی ہوئی زندگی اور ہے
وہ دِیے اور ہیں دشمنی جو ہوا سے نبھاتے رہے
تیرگی کو اُجالا بناتی ہوئی زندگی اور ہے
شہرِ جاناں کی گلیوں میں ہنستی ہوئی زندگی اور تھی
دشتِ ہجراں میں یوں خاک اڑاتی ہوئی زندگی اور ہے