Showing posts with label رخسانہ صبا. Show all posts
Showing posts with label رخسانہ صبا. Show all posts

Thursday, 27 October 2022

اب میں ڈھونڈوں کسے شہر گم ہو گیا

 شہر گم ہو گیا 


اک چھناکا ہوا

دل کے خانے میں رکھا ہوا ایک نازک سا گلدان ٹوٹا

خموشی نے فوراً لگائی صدا

کیا گرا؟ کیا ہوا؟

چائے کی ٹھنڈی پیالی لیے، اونگھتے اونگھتے

Monday, 4 April 2022

لکیروں کا نیا اک جال پیشانی پہ رکھ دوں

 لکیروں کا نیا اک جال پیشانی پہ رکھ دوں 

اور اپنا عکس آئینے کی حیرانی پہ رکھ دوں

تو کیا دریا کی لہروں کو سفیر خواب جانوں 

تو کیا لکھا ہوا ہر لفظ میں پانی پہ رکھ دوں

نئے اک دشت کی تعمیر مجھ میں ہورہی ہے

سو یہ الزام بھی رستوں کی ویرانی پہ رکھ دوں

Saturday, 1 January 2022

کب سے قبلہ رو بیٹھے ہیں حرف دعا اور میں

 کب سے قبلہ رو بیٹھے ہیں حرفِ دعا اور میں 

خاموشی کے ساتھ ہیں دونوں میرا خدا اور میں 

ریت کی لہروں سے ہر لمحہ باتیں کرتے ہیں 

دونوں دشت کے باسی نکلے، سناٹا اور میں 

انسانوں نے خواب زمیں کو بنجر کر ڈالا 

چھپ چھپ کر روتے رہتے ہیں یہ دنیا اور میں 

Friday, 31 December 2021

چشم فردا کے لیے اور تو کیا لائی ہوں میں

 چشمِ فردا کے لیے اور تو کیا لائی ہوں میں

ہجر کا لمحۂ سفاک اٹھا لائی ہوں میں

میری آنکھوں میں جو بھر دی تھی تِری قربت نے

بس اسی ریت سے اک دشت بنا لائی ہوں میں

جانتی تھی کہ کھلیں گے نہ کبھی بند کواڑ

رائیگانی کے لیے اپنی صدا لائی ہوں میں

کمرے کا یخ بستہ موسم

 تخلیق


کمرے کا یخ بستہ موسم

میرے اندر کی گرمی کو چاٹ چکا تھا

آنکھوں کی جھیلوں میں گویا

بچھڑی ہوئی یادوں کی کائی جمی ہوئی تھی

بستر پر اک بے حس اور انجانی سی چپ

Thursday, 30 December 2021

روشنی کا سلسلہ ہے آپ کی دہلیز پر

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


روشنی کا سلسلہ ہے آپﷺ کی دہلیز پر

بابِ گریہ کھل گیا ہے آپﷺ کی دہلیز پر

دل پہ اک آنسو گرا ہے یا مرا احساس ہے

اک دِیا سا جل اٹھا ہے آپﷺ کی دہلیز پر

اسمِ احمدﷺ ہے زباں پر روح تک سرشار ہے

درد کا کیا ذائقہ ہے آپﷺ کی دہلیز پر

Wednesday, 29 December 2021

اپنی محرومیوں کو چھپاتی ہوئی زندگی اور ہے

 اپنی محرومیوں کو چھپاتی ہوئی زندگی اور ہے

آئینے سے نگاہیں ملاتی ہوئی زندگی اور ہے

وہ دِیے اور ہیں دشمنی جو ہوا سے نبھاتے رہے

تیرگی کو اُجالا بناتی ہوئی زندگی اور ہے

شہرِ جاناں کی گلیوں میں ہنستی ہوئی زندگی اور تھی

دشتِ ہجراں میں یوں خاک اڑاتی ہوئی زندگی اور ہے