کھول کر آنکھ تو سونے سے رہے
اب کسی اور کے ہونے سے رہے
آپ نے پاس تو رکھا تھا ، مگر
آپ کے پاس کھلونے سے رہے
کیا بتائیں کہ کسی یاد میں ہم
اتنا روئے ہیں کہ رونے سے رہے
کھول کر آنکھ تو سونے سے رہے
اب کسی اور کے ہونے سے رہے
آپ نے پاس تو رکھا تھا ، مگر
آپ کے پاس کھلونے سے رہے
کیا بتائیں کہ کسی یاد میں ہم
اتنا روئے ہیں کہ رونے سے رہے
تری جانب سے ہمدم! آخری گھاؤ ضروری تھا
محبت کھیل تھی اور کھیل میں داؤ ضروری تھا
ہمیشہ پھول لے جاتی تھی میں، دشمن کی بستی میں
مِرے نزدیک الفت کا یہ پھیلاؤ ضروری تھا
تمہارے بعد میں نے دل لگی بھی دل لگا کر کی
تمہارے بعد میرے دل کا بہلاؤ ضروری تھا
تاوان
یہ کس نے کہہ دیا کہ
تم کو 24 گھنٹے خوبصورت ہی دِکھنا ہے
نیند سے جاگتے سمے بھی کلوپیٹرا لگنا ہے
لو بھلا یہ کوئی کرایہ تھوڑی ہے
جو تم کو عورت نام کے مکان میں رہنے کی مد میں
تم گول روٹی پکاتی ہوئی عورت ہو
کہ کھیتوں میں کپاس چُنتی ہوئی شہزادی
گائنی وارڈ میں دردِ زہ سے کراہتی عورت کی آخری اُمید
لال لپ سٹک لگائے سوڈے کی بوتل بیچتی ہوئی مہ جبیں
نسلیں سنوارتی ہوئی اُستانی
یا ہوائی جہاز اڑاتی ہوئی شاہین
دعوت نامہ
شہر کے بڑے والے قبرستان میں
آج اختتامی پارٹی ہے
احباب کو شرکت کی دعوت ہے
ڈریس کوڈ سفید رنگ
نہیں میری وفات آج نہیں ہوئی
اللہ جانے کتنے رشتے ٹوٹیں گے
عشق کیا تو یار قبیلے ٹوٹیں گے
اس کے سارے خط واپس دے آئی ہوں
چیخوں سے اب کار کے شیشے ٹوٹیں گے
میری آنکھ کو دریا کہنے والے سن
اس دریا کے روز کنارے ٹوٹیں گے
آج کل کچھ عجیب سلسلہ ہے
جہاں جہاں تم نے
ہونٹوں سے محبت کے سجدے کئے تھے
وہاں وہاں پھول اگنے لگے ہیں
آنکھوں کے اوپر
ماتھے پہ
ہونٹوں کے کونوں پہ
گردن کی اطراف
یہاں، وہاں ، اِدھر، اُدھر
یہ دولت، یہ گہنے، یہ پہناوے
بڑی گاڑی یا چار کنال کا گھر
ہر سیزن میں کسی بڑی ڈیزائنر کے کپڑے
یا سِکس فگر سیلری
بمع ایک عدد آقا کے
تم قبول مت کرنا
حلقے
مجھے بولا گیا ہے کہ؛ میری آنکھ کے نیچے حلقے ہیں
اور پوچھا گیا ہے کہ؛ بی بی یہ کاہے کو پڑتے ہیں؟
میرے پیارے سوال پوچھنے والے
میرے کمرے میں رات آتی ہے جو گزرنے میں نہیں آتی
جو بڑی لمبی، کالی ہے، گزرنے میں نہیں آتی
میں عورتوں کے اس قبیلے سے ہوں
جب وہ چلتی ہیں
تو ان کا سر ایک سینٹی میٹر بھی نہیں جھکا ہوتا
تم اگر کبھی ان کی گردن کی پیمائش کرو تو
کوئی زاویہ 90 ڈگری سے نیچے نہیں ملے گا
جو دنیا کو سیدھا آنکھوں میں دیکھتی ہیں
بدکار
اچھا چلو مان لیا
ننگے بازو والیاں اور مغرب کے بعد گھر سے نکلنے والیاں
ساری حرافائیں ہیں
تمہارا حق بنتا ہے کہ
اپنے ہاتھوں سے ان کی پُشتوں اور کمروں کو سہلاؤ
آتے جاتے دیدے پھٹی آنکھوں سے ان کے سائز ناپو
مگر میرے فرعون بھیا، ان کا کیا؟
جو مغرب کے بعد گھر سے نہیں نکلتیں