Sunday, 6 December 2020

اللہ جانے کتنے رشتے ٹوٹیں گے

 اللہ جانے کتنے رشتے ٹوٹیں گے

عشق کیا تو یار قبیلے ٹوٹیں گے

اس کے سارے خط واپس دے آئی ہوں

چیخوں سے اب کار کے شیشے ٹوٹیں گے

میری آنکھ کو دریا کہنے والے سن

اس دریا کے روز کنارے ٹوٹیں گے

ہم کو جو لگتا ہے، وہ ہو جاتا ہے

لگتا ہے تا عمر اکیلے ٹوٹیں گے

سہہ لیتی تھی اس کی ساری باتوں کو

ڈر لگتا تھا برتن گھر کے ٹوٹیں گے

بس یہ سوچ کے خود کو جوڑے رکھتی ہوں

میں ٹوٹی، تو میرے بچے ٹوٹیں گے


رفعت جبیں

No comments:

Post a Comment