اللہ جانے کتنے رشتے ٹوٹیں گے
عشق کیا تو یار قبیلے ٹوٹیں گے
اس کے سارے خط واپس دے آئی ہوں
چیخوں سے اب کار کے شیشے ٹوٹیں گے
میری آنکھ کو دریا کہنے والے سن
اس دریا کے روز کنارے ٹوٹیں گے
ہم کو جو لگتا ہے، وہ ہو جاتا ہے
لگتا ہے تا عمر اکیلے ٹوٹیں گے
سہہ لیتی تھی اس کی ساری باتوں کو
ڈر لگتا تھا برتن گھر کے ٹوٹیں گے
بس یہ سوچ کے خود کو جوڑے رکھتی ہوں
میں ٹوٹی، تو میرے بچے ٹوٹیں گے
رفعت جبیں
No comments:
Post a Comment