Sunday, 6 December 2020

اس دفعہ بچھڑنے میں کچھ الگ اذیت تھی

 اس دفعہ بچھڑنے میں کچھ الگ اذیت تھی

شاید اس دفعہ مجھ کو واقعی محبت تھی

تم بھی خوبصورت ہو، ناز تم پہ جچتا ہے

ہاں مگر یہ سچ ہے وہ تم سے خوبصورت تھی

عمر بعد دیکھا تھا، ان حسِین آنکھوں کو

دیکھنے کے لائق تو آج میری حالت تھی

مصلحت کے خنجر سے تم نے ہجر لکھا تھا

اس پہ کہہ دیا تم نے؛ یہ ہماری قسمت تھی

سب نے رابطے توڑے بس یہی گلہ دے کر

آپ یاد کر لیتے آپ کو تو فرصت تھی

کیا سبب بنا جاناں؟ تیری بے وفائی کا

لفظِ بے وفائی سے تم کو بھی تو نفرت تھی

ہاں، بڑی حقیقت ہے تیری پارسائی میں

بس تمہارے دامن پر داغ میری صحبت تھی

تجھ کو میرے غم سے کیا؟ شوق سے جدا ہو جا

تجھ سے پہلے بھی جاناں، غم ہی میری دولت تھی

تجھ سے اس تعلق میں کتنا مطلبی تھا میں

مجھ کو آخری دم تک بس تری ضرورت تھی

ہجر کے جہنم میں یوں عطش کو جلنا تھا

اس صنم کو جو مجھ سے شرک کی شکایت تھی


عطش نقوی

No comments:

Post a Comment