زعفرانی غزل
جب حسینہ ملا کرے کوئی
اپنا نمبر دیا کرے کوئی
چار کُڑیوں سے پیار ہے اس کو
اس سے بولا حیا کرے کوئی
اپنی بیگم نہ منہ لگائے جب
کیا کسی کا گِلہ کرے کوئی
زعفرانی غزل
جب حسینہ ملا کرے کوئی
اپنا نمبر دیا کرے کوئی
چار کُڑیوں سے پیار ہے اس کو
اس سے بولا حیا کرے کوئی
اپنی بیگم نہ منہ لگائے جب
کیا کسی کا گِلہ کرے کوئی
پھول چاہے تھے خار آئے ہیں
ہم بھی اپنوں سے ہار آئے ہیں
جان ہے تو جہاں ہے، اور ہم
جان بھی اس پہ وار آئے ہیں
چھوڑئیے نا یہ سب گِلے شِکوے
ہم محبت میں یار آئے ہیں
دن تو وہ تھے جو ساتھ تیرے تھے
اور وہ ہم گُزار آئے ہیں
احمد سعید
ایک چہرہ تمہاری آنکھوں میں
میں نے دیکھا تمہاری آنکھوں میں
جاتے جاتے ہی رہ گیا ہے دوست
کچھ ہمارا تمہاری آنکھوں میں
تم غزل ہو میر صاحب کی
ریختہ سا تمہاری آنکھوں میں
اے کاش کہ میری راہوں میں بیتے وہ زمانے آ جائیں
میں سامنے ان کے بیٹھا ہوں، میرے دوست پُرانے آ جائیں
جو چھوڑ گئے تنہا مجھ کو، میں گیت انہیں کے گاتا ہوں
کسی روز وہ میری راہوں پہ، میرا دل ہی دُکھانے آ جائیں
اِک بار جو دُوری ہو جائے، تو ساتھ وہ چل بھی سکتے ہیں
پر بات کہاں وہ رہتی ہے،۔ وہ لاکھ منانے آ جائیں