Showing posts with label احمد سعید. Show all posts
Showing posts with label احمد سعید. Show all posts

Sunday, 19 November 2023

جب حسینہ ملا کرے کوئی

 زعفرانی غزل


جب حسینہ ملا کرے کوئی

اپنا نمبر دیا کرے کوئی

چار کُڑیوں سے پیار ہے اس کو

اس سے بولا حیا کرے کوئی

اپنی بیگم نہ منہ لگائے جب

کیا کسی کا گِلہ کرے کوئی

Tuesday, 14 November 2023

پھول چاہے تھے خار آئے ہیں

 پھول چاہے تھے خار آئے ہیں

ہم بھی اپنوں سے ہار آئے ہیں

جان ہے تو جہاں ہے، اور ہم

جان بھی اس پہ وار آئے ہیں

چھوڑئیے نا یہ سب گِلے شِکوے

ہم محبت میں یار آئے ہیں

دن تو وہ تھے جو ساتھ تیرے تھے

اور وہ ہم گُزار آئے ہیں


احمد سعید

Monday, 13 November 2023

ایک چہرہ تمہاری آنکھوں میں

 ایک چہرہ تمہاری آنکھوں میں 

میں نے دیکھا تمہاری آنکھوں میں

جاتے جاتے ہی رہ گیا ہے دوست

کچھ ہمارا تمہاری آنکھوں میں 

تم غزل ہو میر صاحب کی

ریختہ سا تمہاری آنکھوں میں

Sunday, 12 November 2023

اے کاش کہ میری راہوں میں بیتے وہ زمانے آ جائیں

 اے کاش کہ میری راہوں میں بیتے وہ زمانے آ جائیں

میں سامنے ان کے بیٹھا ہوں، میرے دوست پُرانے آ جائیں

جو چھوڑ گئے تنہا مجھ کو، میں گیت انہیں کے گاتا ہوں

کسی روز وہ میری راہوں پہ، میرا دل ہی دُکھانے آ جائیں

اِک بار جو دُوری ہو جائے، تو ساتھ وہ چل بھی سکتے ہیں

پر بات کہاں وہ رہتی ہے،۔ وہ لاکھ منانے آ جائیں