دل برباد کو چھوٹا سا مکاں بھی دے گا
جب نیا زخم بھرے گا تو نشاں بھی دے گا
پہلے گزروں گا میں امید و یقیں کی رہ سے
پھر تِرا پیار مجھے وہم و گماں بھی دے گا
پیکر رنگ جو پل بھر میں بکھر جائے گا
جاگتی آنکھوں کو خوابوں کا جہاں بھی دے گا
دل برباد کو چھوٹا سا مکاں بھی دے گا
جب نیا زخم بھرے گا تو نشاں بھی دے گا
پہلے گزروں گا میں امید و یقیں کی رہ سے
پھر تِرا پیار مجھے وہم و گماں بھی دے گا
پیکر رنگ جو پل بھر میں بکھر جائے گا
جاگتی آنکھوں کو خوابوں کا جہاں بھی دے گا
ترک تعلق کے بعد
اب چائے ٹھنڈی نہیں ہو گی
داڑھی اب نہیں بڑھے گی
اب قمیص کے بٹن نہیں ٹوٹیں گے
تغافل کسی کا اب نہیں ستائے گا
اب کسی کے انتظار کا غم نہیں رلائے گا
تھکن اب پیروں سے نہیں الجھے گی
چراغ دل کا تھا روشن بجھا گیا پانی
کہ بن کے سیلِ بلا گھر میں آ گیا پانی
خلوص پیار وفا سب اسی کے ساتھ گئے
محبتوں کے نشاں سب مٹا گیا پانی
چڑھا ہوا تھا جو دریا اتر گیا لیکن
ہماری اونچی عمارت ڈھا گیا پانی
کوشش
تمہیں بھلانے کی کوشش میں
میں نے
نہ جانے کتنی لڑکیوں سے
جھوٹا پیار کیا ہے
احتشام اختر
چھوٹے قد کے لوگ
بلند بانگ دعووں کی
آوازیں
کھوٹے سکوں کی طرح
بجتی ہیں
پھر بھی چھوٹے قد کے لوگ
خوشی اور غم
دونوں ہیں بھائی
بہت شرارتی ہیں
جب بھی میرے گھر آتے ہیں
خط لکھتے ہیں نہ تار دیتے ہیں
بس اچانک آ جاتے ہیں
خواب آنکھوں میں نہاں ہے اب بھی
بجھ گئی آگ دھواں ہے اب بھی
وہ مِرے پاس نہیں ہے لیکن
اس کے ہونے کا گماں ہے اب بھی
کیا بہادر کوئی آیا ہی نہیں
راہ میں سنگِ گراں ہے اب بھی