Showing posts with label احتشام اختر. Show all posts
Showing posts with label احتشام اختر. Show all posts

Thursday, 20 May 2021

دل برباد کو چھوٹا سا مکاں بھی دے گا

 دل برباد کو چھوٹا سا مکاں بھی دے گا

جب نیا زخم بھرے گا تو نشاں بھی دے گا

پہلے گزروں گا میں امید و یقیں کی رہ سے

پھر تِرا پیار مجھے وہم و گماں بھی دے گا

پیکر رنگ جو پل بھر میں بکھر جائے گا

جاگتی آنکھوں کو خوابوں کا جہاں بھی دے گا

Saturday, 15 May 2021

ترک تعلق کے بعد اب چائے ٹھنڈی نہیں ہو گی

ترک تعلق کے بعد


اب چائے ٹھنڈی نہیں ہو گی

داڑھی اب نہیں بڑھے گی

اب قمیص کے بٹن نہیں ٹوٹیں گے

تغافل کسی کا اب نہیں ستائے گا

اب کسی کے انتظار کا غم نہیں رلائے گا

تھکن اب پیروں سے نہیں الجھے گی

Friday, 14 May 2021

چراغ دل کا تھا روشن بجھا گیا پانی

 چراغ دل کا تھا روشن بجھا گیا پانی

کہ بن کے سیلِ بلا گھر میں آ گیا پانی

خلوص پیار وفا سب اسی کے ساتھ گئے

محبتوں کے نشاں سب مٹا گیا پانی

چڑھا ہوا تھا جو دریا اتر گیا لیکن

ہماری اونچی عمارت ڈھا گیا پانی

Thursday, 13 May 2021

تمہیں بھلانے کی کوشش میں

 کوشش


تمہیں بھلانے کی کوشش میں 

میں نے 

نہ جانے کتنی لڑکیوں سے 

جھوٹا پیار کیا ہے 


احتشام اختر 

Wednesday, 12 May 2021

بلند بانگ دعووں کی آوازیں کھوٹے سکوں کی طرح بجتی ہیں

چھوٹے قد کے لوگ


بلند بانگ دعووں کی

آوازیں

کھوٹے سکوں کی طرح

بجتی ہیں

پھر بھی چھوٹے قد کے لوگ

Tuesday, 11 May 2021

خوشی اور غم دونوں ہیں بھائی

 خوشی اور غم

دونوں ہیں بھائی

بہت شرارتی ہیں

جب بھی میرے گھر آتے ہیں

خط لکھتے ہیں نہ تار دیتے ہیں

بس اچانک آ جاتے ہیں

Saturday, 6 March 2021

خواب آنکھوں میں نہاں ہے اب بھی

 خواب آنکھوں میں نہاں ہے اب بھی

بجھ گئی آگ دھواں ہے اب بھی

وہ مِرے پاس نہیں ہے لیکن

اس کے ہونے کا گماں ہے اب بھی

کیا بہادر کوئی آیا ہی نہیں

راہ میں سنگِ گراں ہے اب بھی