Thursday, 20 May 2021

دل برباد کو چھوٹا سا مکاں بھی دے گا

 دل برباد کو چھوٹا سا مکاں بھی دے گا

جب نیا زخم بھرے گا تو نشاں بھی دے گا

پہلے گزروں گا میں امید و یقیں کی رہ سے

پھر تِرا پیار مجھے وہم و گماں بھی دے گا

پیکر رنگ جو پل بھر میں بکھر جائے گا

جاگتی آنکھوں کو خوابوں کا جہاں بھی دے گا

تم جلانا مجھے چاہو تو جلا دو، لیکن

نخل تازہ جو جلے گا تو دھواں بھی دے گا

وقت دیتا ہے جنہیں آج کھلونے اختر

انہیں اطفال کو کل تیر و سناں بھی دے گا


احتشام اختر

No comments:

Post a Comment