تُو سمجھتا ہے گر فضول مجھے
کر کے ہمت ذرا سا بھول مجھے
ایک شفاف آئینہ تھا میں
راستے نے کیا ہے دھول مجھے
چور رستے کے صاحب دیواں
انکھڑیاں کھول کر قبول مجھے
تُو سمجھتا ہے گر فضول مجھے
کر کے ہمت ذرا سا بھول مجھے
ایک شفاف آئینہ تھا میں
راستے نے کیا ہے دھول مجھے
چور رستے کے صاحب دیواں
انکھڑیاں کھول کر قبول مجھے
فضول وقت سمجھ کے گُزار کر مجھ کو
وہ جا رہا ہے کہیں دُور مار کر مجھ کو
تلاش مجھ کو ہے اس چاہتوں کی دیوی کی
جو چُھپ گئی ہے ہمیشہ پُکار کر مجھ کو
تمام عمر تِرے انتظار میں ہمدم
خزاں رسیدہ رہا ہوں بہار کر مجھ کو
سرحد
کیا خوب ہو گر اس دنیا سے
سرحد کا نام ختم ہو جائے
سارے دیس، سب کے دیس ہوں
روح کو جسم
اور جسم کو روح سے ملنے کے لیے
تجھے تحریر کیا
ایک اک حرف سجا کر تجھے تحریر کیا
خون کی ندیاں بہا کر تجھے تحریر کیا
درد میں عمر بِتا کر تجھے تحریر کیا
اب تو کہتا ہے مِرا کوئی بھی کردار نہیں
میرا کیا ہے، میں انہی راستوں میں رہتا ہوں
اپنی الجھن کو بڑھانے کی ضرورت کیا ہے
چھوڑنا ہے تو بہانے کی ضرورت کیا ہے
لگ چکی آگ تو لازم ہے دھواں اٹھے گا
درد کو دل میں چھپانے کی ضرورت کیا ہے
عمر بھر رہنا ہے تعبیر سے گر دور تمہیں
پھر مِرے خواب میں آنے کی ضرورت کیا ہے
فضول وقت سمجھ کے گزار کر مجھ کو
وہ جا رہا ہے کہیں دور مار کر مجھ کو
تلاش مجھ کو ہے اس چاہتوں کی دیوی کی
جو چھپ گئی ہے ہمیشہ پکار کر مجھ کو
تمام عمر تِرے انتظار میں ہمدم
خزاں رسیدہ رہا ہوں، بہار کر مجھ کو