Showing posts with label ندیم گلانی. Show all posts
Showing posts with label ندیم گلانی. Show all posts

Wednesday, 22 March 2023

تو سمجھتا ہے گر فضول مجھے

 تُو سمجھتا ہے گر فضول مجھے

کر کے ہمت ذرا سا بھول مجھے

ایک شفاف آئینہ تھا میں

راستے نے کیا ہے دھول مجھے

چور رستے کے صاحب دیواں

انکھڑیاں کھول کر قبول مجھے

Wednesday, 14 September 2022

فضول وقت سمجھ کے گزار کر مجھ کو

 فضول وقت سمجھ کے گُزار کر مجھ کو

وہ جا رہا ہے کہیں دُور مار کر مجھ کو

تلاش مجھ کو ہے اس چاہتوں کی دیوی کی

جو چُھپ گئی ہے ہمیشہ پُکار کر مجھ کو

تمام عمر تِرے انتظار میں ہمدم

خزاں رسیدہ رہا ہوں بہار کر مجھ کو

Thursday, 25 August 2022

کیا خوب ہو گر اس دنیا سے سرحد کا نام ختم ہو جائے

 سرحد


کیا خوب ہو گر اس دنیا سے

سرحد کا نام ختم ہو جائے

سارے دیس، سب کے دیس ہوں

روح کو جسم

اور جسم کو روح سے ملنے کے لیے

Monday, 15 August 2022

ایک اک حرف سجا کر تجھے تحریر کیا

 تجھے تحریر کیا


ایک اک حرف سجا کر تجھے تحریر کیا

خون کی ندیاں بہا کر تجھے تحریر کیا

درد میں عمر بِتا کر تجھے تحریر کیا

اب تو کہتا ہے مِرا کوئی بھی کردار نہیں

میرا کیا ہے، میں انہی راستوں میں رہتا ہوں

Sunday, 14 August 2022

اپنی الجھن کو بڑھانے کی ضرورت کیا ہے

 اپنی الجھن کو بڑھانے کی ضرورت کیا ہے

چھوڑنا ہے تو بہانے کی ضرورت کیا ہے

لگ چکی آگ تو لازم ہے دھواں اٹھے گا

درد کو دل میں چھپانے کی ضرورت کیا ہے

عمر بھر رہنا ہے تعبیر سے گر دور تمہیں

پھر مِرے خواب میں آنے کی ضرورت کیا ہے

Monday, 20 June 2022

فضول وقت سمجھ کے گزار کر مجھ کو

 فضول وقت سمجھ کے گزار کر مجھ کو

وہ جا رہا ہے کہیں دور مار کر مجھ کو

تلاش مجھ کو ہے اس چاہتوں کی دیوی کی

جو چھپ گئی ہے ہمیشہ پکار کر مجھ کو

تمام عمر تِرے انتظار میں ہمدم

خزاں رسیدہ رہا ہوں، بہار کر مجھ کو