Monday, 15 August 2022

ایک اک حرف سجا کر تجھے تحریر کیا

 تجھے تحریر کیا


ایک اک حرف سجا کر تجھے تحریر کیا

خون کی ندیاں بہا کر تجھے تحریر کیا

درد میں عمر بِتا کر تجھے تحریر کیا

اب تو کہتا ہے مِرا کوئی بھی کردار نہیں

میرا کیا ہے، میں انہی راستوں میں رہتا ہوں

مجھ کو یہ حکم ہے جا، جا کے پتھروں کو تراش

میں ازل سے اسی اک کام میں لایا گیا ہوں

میں کبھی پیر، پیمبر، کبھی شاعر کی صفت

تیرے بے فیض زمانے میں اتارا گیا ہوں

میں تو بہتا ہوا دریا ہوں، سمندر بھی ہوں

میں تو جگنو بھی ہوں، تتلی بھی ہوں، خوشبو بھی ہوں

میں تو جس رنگ میں بھی آیا ہوں، چھایا گیا ہوں

تُو اگر مجھ کو نہ سمجھا تو اے میرے ہمدم

میں کسی روز تِرے ہاتھ سے کھو جاؤں گا

اور تُو وقت کے تپتے ہوئے صحراؤں میں

ہاتھ مَلتا ہوا روتا ہوا رہ جائے گا


ندیم گلانی

No comments:

Post a Comment