Monday, 15 August 2022

نیا اک زخم ہم کھائے ہوئے ہیں

 نیا اک زخم ہم کھائے ہُوئے ہیں

اسی خاطر تو کُملائے ہوئے ہیں

ہمارے عمر کٹتی جا رہی ہے

سو ہم بھی شام کے سائے ہوئے ہیں

ہمیں مالِ غنیمت ہی سمجھ لو

تمہارے ہاتھ ہم آئے ہوئے ہیں

دلِ کمبخت نے مروا دیا ہے

تمہارے​ کس لیے ہائے، ہوئے ہیں

کفن جچتا نہ تھا، سو اس لیے ہم

لباسِ زیست پہنائے ہوئے ہیں

حسینیؑ سر تو نیزے پر ڈٹا ہے

سپاہِ شام گھبرائے ہوئے ہیں

حماد! اس شہر سے دل اٹھ گیا ہے

سو اب مجنوں کے ہمسائے ہوئے ہیں


حماد یونس

No comments:

Post a Comment