Monday, 15 August 2022

آنکھ میں چاہے سمندر بھر لو

 آنکھ میں چاہے سمندر بھر لو

تشنگی کم نہیں ہونے والی

خوب دیکھا نہ سیر چشم ہوئے

تیرگی کم نہیں ہونے والی

جل اٹھا ہے دیا غم کا اس طور

لو یہ مدھم نہیں ہونے والی

باپ کے بعد ہے کیا بیٹیوں کا

ان کا وارث ہے نہ کوئی والی


صائمہ یوسفزئی

No comments:

Post a Comment