میں چاہتا ہوں کچھ اس طرح واسطہ رکھوں
بٹھاؤں دل میں اسے، اپنی بھی جگہ رکھوں
وہ کشتیوں کو جلانے کی بات کرتا ہے
میں چاہتا ہوں پلٹنے کا راستہ رکھوں
میں چاہتا ہوں بڑھے کچھ مِلن کی سرشاری
میں چاہتا ہوں زیادہ نہ رابطہ رکھوں
مجھے کسی سے نہیں مجھ سے سب کو مسئلہ ہے
میں کس کے سامنے اپنا یہ مسئلہ رکھوں
خدائے بر تر و بالا! تُو کچھ جُدا کہتا
یہاں تو سب یہی کہتے ہیں؛ حوصلہ رکھوں
یقیں کرو، کہ زمانہ حقیر جانے گا
میں ڈگریوں کے مقابل جو تجربہ رکھوں
عدنان نصیر
No comments:
Post a Comment