Monday, 15 August 2022

ایک اک لمحہ کہ ایک ایک صدی ہو جیسے

 ایک اک لمحہ کہ ایک ایک صدی ہو جیسے

زندگی کھیل کوئی کھیل رہی ہو جیسے

دل دھڑک اٹھا ہے تنہائی میں یوں بھی اکثر

بیٹھے بیٹھے کوئی آواز سنی ہو جیسے

پھر رہا ہوں میں اٹھائے ہوئے یوں بارِ حیات

میرے شانے پہ تِری زلف پڑی ہو جیسے

دل کا ہر زخم کچھ اس طرح لہک اٹھا ہے

رات بھر یادوں کی پُروائی چلی ہو جیسے

آج کی صبح بھی ہے ویسی ہی بوجھل بوجھل

آج کی رات بھی آنکھوں میں کٹی ہو جیسے

جانے کس سوچ میں چُپ بیٹھے ہیں یوں دیوانے

برف ہونٹوں پہ بہت دن سے جمی ہو جیسے

دل نے بدلا ہے اس انداز سے پہلو اقبال

پاس ہی دل کے کہیں آگ لگی ہو جیسے


اقبال عمر

No comments:

Post a Comment