Showing posts with label شہیر مچھلی شہری. Show all posts
Showing posts with label شہیر مچھلی شہری. Show all posts

Wednesday, 9 April 2025

ہر اک بات میں تھا حجاب اول اول

 ہر اک بات میں تھا حجاب اول اول

نہ یوں تم تھے حاضر جواب اول اول

وفادار اغیار کا اب لقب ہے

کبھی تھا یہ میرا خطاب اول اول

ازل ہی سے کوثر کی لہروں میں ڈوبے

ہوئے غرق موجِ شراب اول اول

Saturday, 22 February 2025

آتا اگر بغل میں بوتل دبائے واعظ

 آتا اگر بغل میں بوتل دبائے واعظ

مستی میں چوم لیتے ہم بڑھ کے پائے واعظ

بندے ہیں سب اسی کی امیدوار رحمت

رندوں کا بھی وہی ہے جو ہے خدائے واعظ

آیا ہے پی کے شاید لکنت زبان میں ہے

چلنے میں بھی نہیں ہیں قابو میں پائے واعظ

Tuesday, 21 June 2022

میرے پہلو میں ہے وہ رشک قمر آج کی رات

 میرے پہلو میں ہے وہ رشک قمر آج کی رات

جا کے غیروں میں رہے درد جگر آج کی رات

نیند کا وصل میں ہو گا نہ گزر آج کی رات

رتجگا آ کے کرے گی مرے گھر آج کی رات

کس کے گھر جائے گا وہ رشک قمر آج کی رات

چاند نکلے گا خدا جانے کدھر آج کی رات

Monday, 18 October 2021

بن باس ہوئے جوگ لیا یار کی خاطر

بن باس ہوئے جوگ لیا یار کی خاطر

دکھ سہنے کو سکھ چین تجا یار کی خاطر

سہتا ہوں سبھی جور و جفا یار کی خاطر

ہر طرح ہوں راضی بہ رضا یار کی خاطر

دل دے دیا میں نے اگر ان کو تو عجب کیا

کرتے ہیں سبھی شاہ و گدا یار کی خاطر