ہر اک بات میں تھا حجاب اول اول
نہ یوں تم تھے حاضر جواب اول اول
وفادار اغیار کا اب لقب ہے
کبھی تھا یہ میرا خطاب اول اول
ازل ہی سے کوثر کی لہروں میں ڈوبے
ہوئے غرق موجِ شراب اول اول
ہر اک بات میں تھا حجاب اول اول
نہ یوں تم تھے حاضر جواب اول اول
وفادار اغیار کا اب لقب ہے
کبھی تھا یہ میرا خطاب اول اول
ازل ہی سے کوثر کی لہروں میں ڈوبے
ہوئے غرق موجِ شراب اول اول
آتا اگر بغل میں بوتل دبائے واعظ
مستی میں چوم لیتے ہم بڑھ کے پائے واعظ
بندے ہیں سب اسی کی امیدوار رحمت
رندوں کا بھی وہی ہے جو ہے خدائے واعظ
آیا ہے پی کے شاید لکنت زبان میں ہے
چلنے میں بھی نہیں ہیں قابو میں پائے واعظ
میرے پہلو میں ہے وہ رشک قمر آج کی رات
جا کے غیروں میں رہے درد جگر آج کی رات
نیند کا وصل میں ہو گا نہ گزر آج کی رات
رتجگا آ کے کرے گی مرے گھر آج کی رات
کس کے گھر جائے گا وہ رشک قمر آج کی رات
چاند نکلے گا خدا جانے کدھر آج کی رات
بن باس ہوئے جوگ لیا یار کی خاطر
دکھ سہنے کو سکھ چین تجا یار کی خاطر
سہتا ہوں سبھی جور و جفا یار کی خاطر
ہر طرح ہوں راضی بہ رضا یار کی خاطر
دل دے دیا میں نے اگر ان کو تو عجب کیا
کرتے ہیں سبھی شاہ و گدا یار کی خاطر