سامان تو گیا تھا مگر گھر بھی لے گیا
اب کے فساد دل سے مِرے ڈر بھی لے گیا
خیرات بٹ رہی تھی درِ شہریار پر
سنتے ہیں اب کے بھیک سکندر بھی لے گیا
ماں نے بچا کے رکھا تھا بیٹی کے واسطے
بیٹا ہوا جواں تو یہ زیور بھی لے گیا
سامان تو گیا تھا مگر گھر بھی لے گیا
اب کے فساد دل سے مِرے ڈر بھی لے گیا
خیرات بٹ رہی تھی درِ شہریار پر
سنتے ہیں اب کے بھیک سکندر بھی لے گیا
ماں نے بچا کے رکھا تھا بیٹی کے واسطے
بیٹا ہوا جواں تو یہ زیور بھی لے گیا
پیاس صدیوں کی ہے لمحوں میں بجھانا چاہے
اک زمانہ تِری آنکھوں میں سمانا چاہے
ایسی لہروں میں ندی پار کی حسرت کس کو
اب تو جو آئے یہاں ڈوب ہی جانا چاہے
آج بکنے سرِ بازار میں خود آیا ہوں
کیوں مجھے کوئی خریدار بنانا چاہے
پھولوں سے بدن ان کے کانٹے ہیں زبانوں میں
شیشے کے ہیں دروازے پتھر کی دکانوں میں
کشمیر کی وادی میں بے پردہ جو نکلے ہو
کیا آگ لگاؤ گے برفیلی چٹانوں میں
بس ایک ہی ٹھوکر سے گر جائیں گی دیواریں
آہستہ ذرا چلیے شیشے کے مکانوں میں
ایسی نہیں ہے بات کہ قد اپنے گھٹ گئے
چادر کو اپنی دیکھ کے ہم خود سمٹ گئے
جب ہاتھ میں قلم تھا تو الفاظ ہی نہ تھے
اب لفظ مل گئے تو مِرے ہاتھ کٹ گئے
صندل کا میں درخت نہیں تھا تو کس لیے
جتنے تھے غم کے ناگ مجھی سے لپٹ گئے
دھوپ میں غم کی جو میرے ساتھ آیا ہو گا
وہ کوئی ا ور نہیں میرا ہی سایہ ہو گا
یہ جو دیوار پہ کچھ نقش ہیں دھندلے دھندلے
اس نے لکھ لکھ کے میرا نام مٹایا ہو گا
جن کے ہونٹوں پہ تبسم ہے مگر آنکھ ہے نم
اس نے غم اپنا زمانے سے چھپایا ہو گا