Showing posts with label ساغر اعظمی. Show all posts
Showing posts with label ساغر اعظمی. Show all posts

Thursday, 13 October 2022

سامان تو گیا تھا مگر گھر بھی لے گیا

 سامان تو گیا تھا مگر گھر بھی لے گیا

اب کے فساد دل سے مِرے ڈر بھی لے گیا

خیرات بٹ رہی تھی درِ شہریار پر

سنتے ہیں اب کے بھیک سکندر بھی لے گیا

ماں نے بچا کے رکھا تھا بیٹی کے واسطے

بیٹا ہوا جواں تو یہ زیور بھی لے گیا

Friday, 19 August 2022

پیاس صدیوں کی ہے لمحوں میں بجھانا چاہے

 پیاس صدیوں کی ہے لمحوں میں بجھانا چاہے

اک زمانہ تِری آنکھوں میں سمانا چاہے

ایسی لہروں میں ندی پار کی حسرت کس کو

اب تو جو آئے یہاں ڈوب ہی جانا چاہے

آج بکنے سرِ بازار میں خود آیا ہوں

کیوں مجھے کوئی خریدار بنانا چاہے

Tuesday, 2 August 2022

پھولوں سے بدن ان کے کانٹے ہیں زبانوں میں

 پھولوں سے بدن ان کے کانٹے ہیں زبانوں میں

شیشے کے ہیں دروازے پتھر کی دکانوں میں

کشمیر کی وادی میں بے پردہ جو نکلے ہو

کیا آگ لگاؤ گے برفیلی چٹانوں میں

بس ایک ہی ٹھوکر سے گر جائیں گی دیواریں

آہستہ ذرا چلیے شیشے کے مکانوں میں

Sunday, 31 July 2022

ایسی نہیں ہے بات کہ قد اپنے گھٹ گئے

 ایسی نہیں ہے بات کہ قد اپنے گھٹ گئے

چادر کو اپنی دیکھ کے ہم خود سمٹ گئے

جب ہاتھ میں قلم تھا تو الفاظ ہی نہ تھے

اب لفظ مل گئے تو مِرے ہاتھ کٹ گئے

صندل کا میں درخت نہیں تھا تو کس لیے

جتنے تھے غم کے ناگ مجھی سے لپٹ گئے

Tuesday, 15 December 2020

دھوپ میں غم کی جو میرے ساتھ آیا ہو گا

 دھوپ میں غم کی جو میرے ساتھ آیا ہو گا

وہ کوئی ا ور نہیں میرا ہی سایہ ہو گا

یہ جو دیوار پہ کچھ نقش ہیں دھندلے دھندلے

اس نے لکھ لکھ کے میرا نام مٹایا ہو گا

جن کے ہونٹوں پہ تبسم ہے مگر آنکھ ہے نم

اس نے غم اپنا زمانے سے چھپایا ہو گا