Tuesday, 15 December 2020

دھوپ میں غم کی جو میرے ساتھ آیا ہو گا

 دھوپ میں غم کی جو میرے ساتھ آیا ہو گا

وہ کوئی ا ور نہیں میرا ہی سایہ ہو گا

یہ جو دیوار پہ کچھ نقش ہیں دھندلے دھندلے

اس نے لکھ لکھ کے میرا نام مٹایا ہو گا

جن کے ہونٹوں پہ تبسم ہے مگر آنکھ ہے نم

اس نے غم اپنا زمانے سے چھپایا ہو گا

بے تعلق سی فضا ہو گی رہِ غربت میں

کوئی اپنا ہی ملے گا نہ پرایا ہو گا

اتنا ناراض ہو کیوں اس نے جو پتھر پھینکا

اس کے ہاتھوں سے کبھی پھول بھی آیا ہو گا

میری ہی طرح میرے شعر ہیں رسوا ساغر

کس کو اس طرح محبت نے سنایا ہو گا


ساغر اعظمی

No comments:

Post a Comment