Tuesday, 15 December 2020

اپنوں کی بے رخی سے فراموش ہو گئے

 اپنوں کی بے رخی سے فراموش ہو گئے

کچھ لوگ اپنے آپ میں روپوش ہو گئے

اپنوں کے ظلم سہنے کی عادت سی ہو گئے

غیروں نے پوچھا حال تو خاموش ہو گئے

جب رہ گئی مفاد پرستی کی دوستی

کچھ لوگ دوستی سے سبکدوش ہو گئے

کچھ لوگ مانتے ہی کہاں تھے وفا، مگر

پروانے جلتے دیکھ کے پُرجوش ہو گئے

کچھ لوگ اقتدار پہ قابض تھے ہار کر

کچھ لوگ جیت کر بھی سبکدوش ہو گئے

اعجاز جتنے لوگ برائے فروخت تھے

قیمت وصول کرتے ہی مدہوش ہو گئے


اعجاز فیروز

1 comment:

  1. قربان ہے جن پہ جان محمد ہیں
    میرے جینے کا سامان محمد ہیں
    جس نے بھی دیکھا وہ شیدائی ہوا
    دنیامیں الفت کی پہنچان محمد ہیں
    امیر معاویہ

    ReplyDelete