اپنوں کی بے رخی سے فراموش ہو گئے
کچھ لوگ اپنے آپ میں روپوش ہو گئے
اپنوں کے ظلم سہنے کی عادت سی ہو گئے
غیروں نے پوچھا حال تو خاموش ہو گئے
جب رہ گئی مفاد پرستی کی دوستی
کچھ لوگ دوستی سے سبکدوش ہو گئے
کچھ لوگ مانتے ہی کہاں تھے وفا، مگر
پروانے جلتے دیکھ کے پُرجوش ہو گئے
کچھ لوگ اقتدار پہ قابض تھے ہار کر
کچھ لوگ جیت کر بھی سبکدوش ہو گئے
اعجاز جتنے لوگ برائے فروخت تھے
قیمت وصول کرتے ہی مدہوش ہو گئے
اعجاز فیروز
قربان ہے جن پہ جان محمد ہیں
ReplyDeleteمیرے جینے کا سامان محمد ہیں
جس نے بھی دیکھا وہ شیدائی ہوا
دنیامیں الفت کی پہنچان محمد ہیں
امیر معاویہ