یہ اپنا شہر جو ہے دشت بے اماں ہی تو ہے
اس اعتبار سے دل درد کا مکاں ہی تو ہے
نہیں ہے پرسش احوال کے لیے کوئی
بس ایک مجمع ارواح رفتگاں ہی تو ہے
یہ داستان تمنا عجب سہی پھر بھی
بھلا ہی دے گا زمانہ کہ داستاں ہی تو ہے
یہ اپنا شہر جو ہے دشت بے اماں ہی تو ہے
اس اعتبار سے دل درد کا مکاں ہی تو ہے
نہیں ہے پرسش احوال کے لیے کوئی
بس ایک مجمع ارواح رفتگاں ہی تو ہے
یہ داستان تمنا عجب سہی پھر بھی
بھلا ہی دے گا زمانہ کہ داستاں ہی تو ہے
نہ سارباں ہے نہ ناقہ دکھائی دیتا ہے
نہ جانے کس کا یہ خیمہ دکھائی دیتا ہے
بھرے جہاں میں اکیلا دکھائی دیتا ہے
وہ ایک شخص جو سچا دکھائی دیتا ہے
مسافرو کہوں کیا راہبر کے بارے میں
بظاہر آدمی سادہ دکھائی دیتا ہے
تیرگی کی شدت کو صبح کا ستارا لکھ
پھیلنے ہی والا ہے ہر طرف اجالا لکھ
رزم گاہِ ہستی میں یوں بُرا نہ سوچ اپنا
دشمنوں کے اندر کے صلح جُو کو اچھا لکھ
نقشِ پا کے جنگل میں کیا شمار رستوں کا
ہے جدا زمانے سے لیکن اپنا رستہ لکھ
جب سینے سے مرنے کا ڈر نکلے گا
اور ہی کچھ یہ خاک کا پیکر نکلے گا
بو جو رہا ہوں امن و اماں کی فصلیں میں
دیکھنا کل اس خاک سے لشکر نکلے گا
سیل بنے گا ہونے کا ادراک کبھی
اس منظر سے اور ہی منظر نکلے گا
یہ جو پردہ ہے کسی روز اٹھایا جائے
کون ہوں میں یہ زمانے کو بتایا جائے
آرزو یہ ہے کہ دیوانہ کہا جائے مجھے
نام لے کر نہ مِرا مجھ کو بلایا جائے
جنبشِ چشم سے نغمہ ہوئی جاتی ہے فضا
کیا قیامت ہو لبوں کو جو ہلایا جائے
یہ ظلم ہے کہ مِرے شہر کا جو قاتل ہے
ہزار جان سے وہ دوستی کے قابل ہے
مجھے ہی وار پہ لاتا ہے ہر زمانے میں
مجھے بتا یہ زمانہ کہاں کا عادل ہے
لہو اور آگ کا دریا ہے میرے رستے میں
کہ میری ذات ہی رستے میں میرے حائل ہے