Showing posts with label جاوید اختر بیدی. Show all posts
Showing posts with label جاوید اختر بیدی. Show all posts

Monday, 2 January 2023

یہ اپنا شہر جو ہے دشت بے اماں ہی تو ہے

 یہ اپنا شہر جو ہے دشت بے اماں ہی تو ہے

اس اعتبار سے دل درد کا مکاں ہی تو ہے

نہیں ہے پرسش احوال کے لیے کوئی

بس ایک مجمع ارواح رفتگاں ہی تو ہے

یہ داستان تمنا عجب سہی پھر بھی

بھلا ہی دے گا زمانہ کہ داستاں ہی تو ہے

Monday, 3 January 2022

نہ سارباں ہے نہ ناقہ دکھائی دیتا ہے

 نہ سارباں ہے نہ ناقہ دکھائی دیتا ہے

نہ جانے کس کا یہ خیمہ دکھائی دیتا ہے

بھرے جہاں میں اکیلا دکھائی دیتا ہے

وہ ایک شخص جو سچا دکھائی دیتا ہے

مسافرو کہوں کیا راہبر کے بارے میں

بظاہر آدمی سادہ دکھائی دیتا ہے

Tuesday, 7 December 2021

تیرگی کی شدت کو صبح کا ستارہ لکھ

 تیرگی کی شدت کو صبح کا ستارا لکھ

پھیلنے ہی والا ہے ہر طرف اجالا لکھ

رزم گاہِ ہستی میں یوں بُرا نہ سوچ اپنا

دشمنوں کے اندر کے صلح جُو کو اچھا لکھ

نقشِ پا کے جنگل میں کیا شمار رستوں کا

ہے جدا زمانے سے لیکن اپنا رستہ لکھ

Sunday, 5 December 2021

جب سینے سے مرنے کا ڈر نکلے گا

 جب سینے سے مرنے کا ڈر نکلے گا

اور ہی کچھ یہ خاک کا پیکر نکلے گا

بو جو رہا ہوں امن و اماں کی فصلیں میں

دیکھنا کل اس خاک سے لشکر نکلے گا

سیل بنے گا ہونے کا ادراک کبھی

اس منظر سے اور ہی منظر نکلے گا

Saturday, 4 December 2021

یہ جو پردہ ہے کسی روز اٹھایا جائے

 یہ جو پردہ ہے کسی روز اٹھایا جائے

کون ہوں میں یہ زمانے کو بتایا جائے

آرزو یہ ہے کہ دیوانہ کہا جائے مجھے

نام لے کر نہ مِرا مجھ کو بلایا جائے

جنبشِ چشم سے نغمہ ہوئی جاتی ہے فضا

کیا قیامت ہو لبوں کو جو ہلایا جائے

Monday, 16 August 2021

یہ ظلم ہے کہ مرے شہر کا جو قاتل ہے

 یہ ظلم ہے کہ مِرے شہر کا جو قاتل ہے

ہزار جان سے وہ دوستی کے قابل ہے

مجھے ہی وار پہ لاتا ہے ہر زمانے میں

مجھے بتا یہ زمانہ کہاں کا عادل ہے

لہو اور آگ کا دریا ہے میرے رستے میں

کہ میری ذات ہی رستے میں میرے حائل ہے