Saturday, 4 December 2021

یہ جو پردہ ہے کسی روز اٹھایا جائے

 یہ جو پردہ ہے کسی روز اٹھایا جائے

کون ہوں میں یہ زمانے کو بتایا جائے

آرزو یہ ہے کہ دیوانہ کہا جائے مجھے

نام لے کر نہ مِرا مجھ کو بلایا جائے

جنبشِ چشم سے نغمہ ہوئی جاتی ہے فضا

کیا قیامت ہو لبوں کو جو ہلایا جائے

وہ مِری فکر کی بانہوں میں نہیں آ سکتا

سوچتا ہوں اسے سینے سے لگایا جائے

جس کا معبود ہے چڑھتا ہوا سورج بیدی

اس کو احساس اندھیرے کا دلایا جائے


جاوید اختر بیدی

No comments:

Post a Comment