کیا عجب نسخۂ اکسیر لیے آیا ہے
غم، مسیحائی کی تاثیر لیے آیا ہے
میں نے جو خواب مکمل ابھی دیکھا بھی نہیں
کون اس خواب کی تعبیر لیے آیا ہے؟
دشتِ رُسوائی سے کیسا یہ تعلق نکلا
جو مِرے واسطے توقیر لیے آیا ہے
بے گناہی کا مِری اک وہی شاہد تھا جو آج
میرے دروازے پہ تعزیر لیے آیا ہے
جانتا ہی نہیں کب سے ہوں میں پابندِ وفا
باندھنے جو مجھے زنجیر لیے آیا ہے
اب قسم جھوٹی اٹھاؤں تو اٹھاؤں کیسے
ہاتھ میں وہ سخنِ میر لیے آیا ہے
اب کے سوچا ہے تبسم کہ اسے خوش کر دوں
میرا قاتل نئی تدبیر لیے آیا ہے
تبسم انوار
No comments:
Post a Comment