ہُوا اس طرح سے حاوی مِرا آس پاس مجھ پر
کہ عذاب ہو گئے ہیں یہ مِرے حواس مجھ پر
مِری مے کشی نہیں ہے کسی میکدے کے بس میں
مِری تشنگی نے توڑے ہیں کئی گلاس مجھ پر
مجھے دیکھتے ہی دریا بھی پلٹ کے چل دئیے ہیں
ہوئی ہے سوار جانے یہ کہاں کی پیاس مجھ پر
پھر اُبھر رہے ہیں امکاں نئے موسمِ سخن کے
شب و روز اُتر رہے ہیں پھر اُداس اُداس مجھ پر
چلا روز ہی سجا کر میں لبوں پہ اک تبسّم
پہ کِھلا نہیں خوشی کا کوئی بھی لباس مجھ پر
کوئی اُس کو دیکھتا تھا کوئی دیکھتا تھا مجھ کو
سرِ بزم اُس نے ڈالی جو نگاہ خاص مجھ پر
راجیش ریڈی
No comments:
Post a Comment