کھلے کھلے سے دریچے مکان میں رکھنا
مہکتی بیل چنبیلی کی، لان میں رکھنا
کبھی جو خواب کی تعبیر ڈھونڈنے نکلو
زمیں سے اُٹھنا، قدم آسمان میں رکھنا
شگفتگی تو بہت ہے بہار کی رُت میں
بدل بھی جاتے ہیں موسم، یہ دھیان میں رکھنا
بجھی سی راہگزر، ملگجے دھوئیں کا سفر
بس آگے بڑھنے کی دُھن جسم و جان میں رکھنا
سماعتوں نے تو کڑواہٹیں چکھی ہیں بہت
مٹھاس گھول کر اپنی زبان میں رکھنا
پرند ہو گئے پچھلی اُڑان میں زخمی
دوبارہ حوصلہ اگلی اُڑان میں رکھنا
ہمیشہ چھاؤں میں رہنے کی عادت اچّھی نہیں
کہ تھوڑی دھوپ سہی، سائبان میں رکھنا
قدم قدم پہ خلش معرکے غضب کے تھے
میں بھول ہی گیا تلوار میان میں رکھنا
رؤف خلش
No comments:
Post a Comment