تُو نہ ہوتا تو کہاں اے مِرى جاں ہم ہوتے
خواہشيں مار کے پھر مثلِ خزاں ہم ہوتے
غم کے عالم میں تيرى ياد سہارا جو بنى
يہ سہارے نہیں ہوتے تو کہاں ہم ہوتے
محفلِ حُسن میں موضوع کو بدل ديتے تھے
ذکر يوں عشق کا کرتے تھے جہاں ہم ہوتے
پرى تمثال خلقت کو عروسى پيرہن دے کر
فرشتوں نے کہا' اے کاش کہ يہ انساں ہم ہوتے
سراپا حُسنِ عنبر کا، وجودِ نازکى پا کر
چمن کے پھول کہتے ہیں، رُخِ تاباں ہم ہوتے
دلِ مضطر کے تباہ حال میں وہ رقصِ پرى
سُر بکھرنے پہ يہ کہتے ہیں "فلاں" ہم ہوتے
مفلسى ہم پہ تھے، وہ ذى تبار تھے صابر
يہ جو افلاس نہ ہوتے، تو کہاں ہم ہوتے
صابر فرحان بلتستانی
No comments:
Post a Comment