Showing posts with label منصور خوشتر. Show all posts
Showing posts with label منصور خوشتر. Show all posts

Wednesday, 17 May 2023

بہت بار گراں یہ زندگی معلوم ہوتی ہے

 بہت بار گراں یہ زندگی معلوم ہوتی ہے

کہ غم کا پیش خیمہ ہر خوشی معلوم ہوتی ہے

کسی سے سرگزشت غم بیاں کرتا ہوں جب اپنی

کہانی وہ سراسر آپ کی معلوم ہوتی ہے

ہے محرومی سی محرومی تو مجبوری سی مجبوری

کہ ہر ساعت مصیبت میں گھری معلوم ہوتی ہے

Tuesday, 16 November 2021

بہاروں پر تسلط ہے خزاں کا

 بہاروں پر تسلط ہے خزاں کا

برا دن آ گیا ہے گلستاں کا

رہائی غم سے ناممکن سی لگتی

یہی حاصل ہے سعئی رائیگاں کا

مقدر ہے ہمارا بے پناہی

یہاں پر ذکر مت کیجئے اماں کا

Wednesday, 3 November 2021

آپ جب مسکرائے غزل ہو گئی

 آپ جب مسکرائے، غزل ہو گئی

کچھ قریب اور آئے، غزل ہو گئی

توڑ کر اپنے گلشن سے تازہ گلاب

میری خاطر وہ لائے، غزل ہو گئی

لب پہ فریاد تو دل میں سو اضطراب

اشک آنکھوں میں آئے، غزل ہو گئی

Tuesday, 2 November 2021

تھا جو اک کافر مسلماں ہو گیا

 تھا جو اک کافر مسلماں ہو گیا

پل میں ویرانہ گلستاں ہو گیا

چھپ کے پی تھی کل جہاں پہ شیخ نے

اس جگہ قائم خُمستاں ہو گیا

چارہ گر کی اب نہیں حاجت مجھے

درد ہی خود بڑھ کے درماں ہو گیا

Monday, 1 November 2021

درد دل زخم جگر کا رازداں کوئی نہیں

 دردِ دل زخمِ جگر کا رازداں کوئی نہیں

واقفِ اسرار غم آزارِ جاں کوئی نہیں

پاس جس کے کچھ نہیں مال و متاع بے بہا

اس کو کیا غم کہ محافظ پاسباں کوئی نہیں

کیا سلوک ہم سائے کا بتلائے اک خانہ بدوش

بے در و دیوار سا جس کا مکاں کوئی نہیں

Thursday, 25 March 2021

آپ کو مجھ سے محبت بھی نہیں

 آپ کو مجھ سے محبت بھی نہیں

اور نہیں کہنے کی جرأت بھی نہیں

جاتے ہیں محفل سے میری جائیے

روکنا کچھ میری فطرت بھی نہیں

منحصر جس پہ ہو میری زندگی

تُو نے کی ایسی محبت بھی نہیں