بہت بار گراں یہ زندگی معلوم ہوتی ہے
کہ غم کا پیش خیمہ ہر خوشی معلوم ہوتی ہے
کسی سے سرگزشت غم بیاں کرتا ہوں جب اپنی
کہانی وہ سراسر آپ کی معلوم ہوتی ہے
ہے محرومی سی محرومی تو مجبوری سی مجبوری
کہ ہر ساعت مصیبت میں گھری معلوم ہوتی ہے
بہت بار گراں یہ زندگی معلوم ہوتی ہے
کہ غم کا پیش خیمہ ہر خوشی معلوم ہوتی ہے
کسی سے سرگزشت غم بیاں کرتا ہوں جب اپنی
کہانی وہ سراسر آپ کی معلوم ہوتی ہے
ہے محرومی سی محرومی تو مجبوری سی مجبوری
کہ ہر ساعت مصیبت میں گھری معلوم ہوتی ہے
بہاروں پر تسلط ہے خزاں کا
برا دن آ گیا ہے گلستاں کا
رہائی غم سے ناممکن سی لگتی
یہی حاصل ہے سعئی رائیگاں کا
مقدر ہے ہمارا بے پناہی
یہاں پر ذکر مت کیجئے اماں کا
آپ جب مسکرائے، غزل ہو گئی
کچھ قریب اور آئے، غزل ہو گئی
توڑ کر اپنے گلشن سے تازہ گلاب
میری خاطر وہ لائے، غزل ہو گئی
لب پہ فریاد تو دل میں سو اضطراب
اشک آنکھوں میں آئے، غزل ہو گئی
تھا جو اک کافر مسلماں ہو گیا
پل میں ویرانہ گلستاں ہو گیا
چھپ کے پی تھی کل جہاں پہ شیخ نے
اس جگہ قائم خُمستاں ہو گیا
چارہ گر کی اب نہیں حاجت مجھے
درد ہی خود بڑھ کے درماں ہو گیا
دردِ دل زخمِ جگر کا رازداں کوئی نہیں
واقفِ اسرار غم آزارِ جاں کوئی نہیں
پاس جس کے کچھ نہیں مال و متاع بے بہا
اس کو کیا غم کہ محافظ پاسباں کوئی نہیں
کیا سلوک ہم سائے کا بتلائے اک خانہ بدوش
بے در و دیوار سا جس کا مکاں کوئی نہیں
آپ کو مجھ سے محبت بھی نہیں
اور نہیں کہنے کی جرأت بھی نہیں
جاتے ہیں محفل سے میری جائیے
روکنا کچھ میری فطرت بھی نہیں
منحصر جس پہ ہو میری زندگی
تُو نے کی ایسی محبت بھی نہیں