عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر گام دل پکڑتا جو دامانِ نعت ہے
صد شکر میرے حال پہ فیضانِ نعت ہے
پھر کیسے مدح خواں کو نہ اس میں اماں ملے
جب خود درودِ پاک ہی دربانِ نعت ہے
ہر سانس مستفیض ہے انؐ کے وجود سے
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر گام دل پکڑتا جو دامانِ نعت ہے
صد شکر میرے حال پہ فیضانِ نعت ہے
پھر کیسے مدح خواں کو نہ اس میں اماں ملے
جب خود درودِ پاک ہی دربانِ نعت ہے
ہر سانس مستفیض ہے انؐ کے وجود سے
"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تابشِ حرف سے ماوراء آپؐ ہیں
میرے آقاؐ رضائے خدا آپؐ ہیں
اہلِ طائف ہیں پتھر اٹھائے ہوئے
ہاتھ اٹھائے سراپا دعا آپؐ ہیں
کوئی کیا کر سکے نعت کا حق ادا
نعت سے حمد کا سلسلہ آپؐ ہیں
ضربِ تقسیم نوازی سے اُلجھ بیٹھی ہوں
اک عجب طرزِ ریاضی سے الجھ بیٹھی ہوں
اس کی ہر بات میں ہوتے ہیں ہزاروں معنی
میں بھی گُفتار کے غازی سے الجھ بیٹھی ہوں
دامنِ حال مکدّر ہی نہ کر دے پھر سے
کیوں غبارِ رہِ ماضی سے الجھ بیٹھی ہوں
کچھ بڑھایا کچھ نبیڑا رکھ دیا ہے طاق پر
زندگی! تیرا بکھیڑا رکھ دیا ہے طاق پر
کیا بھنور اور کیا منافق ناخدا کا خوف اب
او محبت! تیرا بیڑا رکھ دیا ہے طاق پر
جب جنوں کی بے نوائی کا تمسخر اڑ گیا
تب رفو دامن ادھیڑا رکھ دیا ہے طاق پر
گونگی بہری زندگی کا لطف لو
قطرہ قطرہ تشنگی کا لطف لو
عشق کے محور میں خود کو ڈال کر
لحظہ لحظہ بے بسی کا لطف لو
آزما دیکھو کوئی انداز، پھر
خاک ہوتی دوستی کا لطف لو
زمین میلی ہے یہ آسمان میلا ہے
دلوں کے کھوٹ سے سارا جہان میلا ہے
مشاورت سے تِری بام و در سنورتے تھے
جو تُو نہیں ہے تو سارا مکان میلا ہے
دل و نگاہ کی پاکیزگی کے سوتوں پہ
جمی ہے گرد سو سارا یہ گیان میلا ہے
مجھ کو غارت کرو
میں لُٹی، میں کٹی
میں مَری، میں جلی
میری کیڑے لگی لاش پر
مت سیاست کرو
اپنے ایوان یونہی سجاتے رہو
کبھی خواہش سے رسد مانگنی پڑ جاتی ہے
جیسے بے انت سے حد مانگنی پڑ جاتی ہے
یہ کڑا وقت مِلا دیتا ہے مٹی میں انا
کیسے کیسوں سے مدد مانگنی پڑ جاتی ہے
بعد تیرے یوں تساہل میں پڑے رہتے ہیں
سانس لینے کو بھی کد مانگنی پڑ جاتی ہے
جیسے رگ رگ میں کوئی میخ گڑی ہے اب کے
روح تک بھی کہیں مصلوب پڑی ہے اب کے
رُخ پہ کچھ رنگِ شفق اور بھڑک اُٹھا ہے
ایک بے باک نظر ضِد پہ اَڑی ہے اب کے
ایک موہوم سی آہٹ کا سہارا ہے مجھے
ورنہ تنہائی تو شِدت کی پڑی ہے اب کے
مجسمہ
بڑی مشکل سے خود کو
پتھروں کے بیچ ڈھالا ہے
بڑی دشواریوں کے بعد
اس دل کو سنبھالا ہے
مگر صدیوں کے بعد اس نے
سہہ لیا آستیں میں لگتی ہوئی گھات کا دُکھ
کیسے سہہ لیں مگر اس طرح ملی مات کا دکھ
جو بھی صحراؤں میں رہتے ہیں وہی جانتے ہیں
کس طرح توڑ کے رکھ دیتا ہے برسات کا دکھ
بوجھ اک دائمی فرقت کا لیے سینے پر
جھٹپٹے نے بھی سہا ساتھ میں دن رات کا دکھ
دیکھ کر اس کی دلبرانہ چُپ
اوڑھ لی ہم نے عاجزانہ چپ
رات دن لفظ تھُوکنے والا
کیوں مِری بار تھا زمانہ چپ
گفتگو چیختی تھی آنکھوں میں
اور مابین ظالمانہ چپ
دکھ کچھ ایسے لڑ جاتے ہیں
آنسو بھی کم پڑ جاتے ہیں
کوئی دعائیں روک رہا ہے
بنتے کام بگڑ جاتے ہیں
نم آنکھوں میں پڑے رہیں تو
سپنے بھی گل سڑ جاتے ہیں
اے خدا تُو نے بھی کس مان میں رکھ چھوڑے ہیں
اپنے کچھ وصف جو انسان میں رکھ چھوڑے ہیں
لاج ان کی ذرا رکھ لے مِری بنجر دھرتی
اسم برکت کو جو کھلیان میں رکھ چھوڑے ہیں
مجھ کو ملہار سنانے نہیں دیتا کوئی
تُو نے وہ نوحے مِری تان میں رکھ چھوڑے ہیں
اندھیرا روشنی کی سرزنش سے نکلے گا
مِرا ستارہ بھی تیری کشش سے نکلے گا
اُدھیڑ دی گئی قدموں تلے زمین تو کیا
مگر اشارہ الگ ہی روش سے نکلے گا
اٹھائے گا وہ کسی روز اپنا دستِ شفا
یہ خارِ نو بھی پرانی خلش سے نکلے گا
اک اسی بات پہ پُھولے نہ سمائے ہم بھی
شکر، صد شکر تمہیں یاد تو آئے ہم بھی
مہرباں وہ تِرے لہجے سے برستا ساون
جس کی رِم جِھم میں بڑی دیر نہائے ہم بھی
لوگ حیران ہیں کیوں دیکھ کے تم کو آخر
اس تجسس میں تمہیں دیکھنے آئے ہم بھی