Showing posts with label صائمہ اسحاق. Show all posts
Showing posts with label صائمہ اسحاق. Show all posts

Monday, 4 December 2023

ہر گام دل پکڑتا جو دامان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہر گام دل پکڑتا جو دامانِ نعت ہے

صد شکر میرے حال پہ فیضانِ نعت ہے

پھر کیسے مدح خواں کو نہ اس میں اماں ملے

جب خود درودِ پاک ہی دربانِ نعت ہے

ہر سانس مستفیض ہے انؐ کے وجود سے

"ہر شعبہ حیات میں امکان نعت ہے"

Sunday, 25 June 2023

تابش حرف سے ماورا آپ ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تابشِ حرف سے ماوراء آپؐ ہیں

میرے آقاؐ رضائے خدا آپؐ ہیں

اہلِ طائف ہیں پتھر اٹھائے ہوئے

ہاتھ اٹھائے سراپا دعا آپؐ ہیں

کوئی کیا کر سکے نعت کا حق ادا

نعت سے حمد کا سلسلہ آپؐ ہیں

Sunday, 9 April 2023

ضرب تقسیم نوازی سے الجھ بیٹھی ہوں

 ضربِ تقسیم نوازی سے اُلجھ بیٹھی ہوں

اک عجب طرزِ ریاضی سے الجھ بیٹھی ہوں

اس کی ہر بات میں ہوتے ہیں ہزاروں معنی

میں بھی گُفتار کے غازی سے الجھ بیٹھی ہوں

دامنِ حال مکدّر ہی نہ کر دے پھر سے

کیوں غبارِ رہِ ماضی سے الجھ بیٹھی ہوں

Sunday, 26 June 2022

کچھ بڑھایا کچھ نبیڑا رکھ دیا ہے طاق پر

کچھ بڑھایا کچھ نبیڑا رکھ دیا ہے طاق پر

زندگی! تیرا بکھیڑا رکھ دیا ہے طاق پر

کیا بھنور اور کیا منافق ناخدا کا خوف اب

او محبت! تیرا بیڑا رکھ دیا ہے طاق پر

جب جنوں کی بے نوائی کا تمسخر اڑ گیا

تب رفو دامن ادھیڑا رکھ دیا ہے طاق پر

Saturday, 9 April 2022

گونگی بہری زندگی کا لطف لو

 گونگی بہری زندگی کا لطف لو

قطرہ قطرہ تشنگی کا لطف لو

عشق کے محور میں خود کو ڈال کر

لحظہ لحظہ بے بسی کا لطف لو

آزما دیکھو کوئی انداز، پھر

خاک ہوتی دوستی کا لطف لو

Wednesday, 1 December 2021

دلوں کے کھوٹ سے سارا جہان میلا ہے

 زمین میلی ہے یہ آسمان میلا ہے

دلوں کے کھوٹ سے سارا جہان میلا ہے

مشاورت سے تِری بام و در سنورتے تھے

جو تُو نہیں ہے تو سارا مکان میلا ہے

دل و نگاہ کی پاکیزگی کے سوتوں پہ

جمی ہے گرد سو سارا یہ گیان میلا ہے

Saturday, 20 November 2021

مجھ کو غارت کرو

 مجھ کو غارت کرو 


میں لُٹی، میں کٹی

میں مَری، میں جلی

میری کیڑے لگی لاش پر

مت سیاست کرو

اپنے ایوان یونہی سجاتے رہو

Thursday, 16 September 2021

کبھی خواہش سے رسد مانگنی پڑ جاتی ہے

 کبھی خواہش سے رسد مانگنی پڑ جاتی ہے

جیسے بے انت سے حد مانگنی پڑ جاتی ہے

یہ کڑا وقت مِلا دیتا ہے مٹی میں انا

کیسے کیسوں سے مدد مانگنی پڑ جاتی ہے

بعد تیرے یوں تساہل میں پڑے رہتے ہیں

سانس لینے کو بھی کد مانگنی پڑ جاتی ہے

Friday, 9 July 2021

جیسے رگ رگ میں کوئی میخ گڑی ہے اب کے

 جیسے رگ رگ میں کوئی میخ گڑی ہے اب کے

روح تک بھی کہیں مصلوب پڑی ہے اب کے

رُخ پہ کچھ رنگِ شفق اور بھڑک اُٹھا ہے

ایک بے باک نظر ضِد پہ اَڑی ہے اب کے

ایک موہوم سی آہٹ کا سہارا ہے مجھے

ورنہ تنہائی تو شِدت کی پڑی ہے اب کے

Saturday, 29 May 2021

بڑی مشکل سے خود کو پتھروں کے بیچ ڈھالا ہے

 مجسمہ 


بڑی مشکل سے خود کو

پتھروں کے بیچ ڈھالا ہے

بڑی دشواریوں کے بعد

اس دل کو سنبھالا ہے

مگر صدیوں کے بعد اس نے

Tuesday, 25 May 2021

سہہ لیا آستیں میں لگتی ہوئی گھات کا دکھ

 سہہ لیا آستیں میں لگتی ہوئی گھات کا دُکھ

کیسے سہہ لیں مگر اس طرح ملی مات کا دکھ

جو بھی صحراؤں میں رہتے ہیں وہی جانتے ہیں

کس طرح توڑ کے رکھ دیتا ہے برسات کا دکھ

بوجھ اک دائمی فرقت کا لیے سینے پر

جھٹپٹے نے بھی سہا ساتھ میں دن رات کا دکھ

Monday, 26 April 2021

دیکھ کر اس کی دلبرانہ چپ

 دیکھ کر اس کی دلبرانہ چُپ

اوڑھ لی ہم نے عاجزانہ چپ

رات دن لفظ تھُوکنے والا

کیوں مِری بار تھا زمانہ چپ

گفتگو چیختی تھی آنکھوں میں 

اور مابین ظالمانہ چپ

Thursday, 22 April 2021

دکھ کچھ ایسے لڑ جاتے ہیں

 دکھ کچھ ایسے لڑ جاتے ہیں

آنسو بھی کم پڑ جاتے ہیں

کوئی دعائیں روک رہا ہے

بنتے کام بگڑ جاتے ہیں

نم آنکھوں میں پڑے رہیں تو

سپنے بھی گل سڑ جاتے ہیں

Sunday, 18 April 2021

اے خدا تو نے بھی کس مان میں رکھ چھوڑے ہیں

 اے خدا تُو نے بھی کس مان میں رکھ چھوڑے ہیں

اپنے کچھ وصف جو انسان میں رکھ چھوڑے ہیں

لاج ان کی ذرا رکھ لے مِری بنجر دھرتی

اسم برکت کو جو کھلیان میں رکھ چھوڑے ہیں

مجھ کو ملہار سنانے نہیں دیتا کوئی

تُو نے وہ نوحے مِری تان میں رکھ چھوڑے ہیں

Friday, 16 April 2021

اندھیرا روشنی کی سرزنش سے نکلے گا

 اندھیرا روشنی کی سرزنش سے نکلے گا

مِرا ستارہ بھی تیری کشش سے نکلے گا

اُدھیڑ دی گئی قدموں تلے زمین تو کیا

مگر اشارہ الگ ہی روش سے نکلے گا

اٹھائے گا وہ کسی روز اپنا دستِ شفا

یہ خارِ نو بھی پرانی خلش سے نکلے گا

Friday, 26 March 2021

اک اسی بات پہ پھولے نہ سمائے ہم بھی

 اک اسی بات پہ پُھولے نہ سمائے ہم بھی

شکر، صد شکر تمہیں یاد تو آئے ہم بھی

مہرباں وہ تِرے لہجے سے برستا ساون

جس کی رِم جِھم میں بڑی دیر نہائے ہم بھی

لوگ حیران ہیں کیوں دیکھ کے تم کو آخر

اس تجسس میں تمہیں دیکھنے آئے ہم بھی