گونگی بہری زندگی کا لطف لو
قطرہ قطرہ تشنگی کا لطف لو
عشق کے محور میں خود کو ڈال کر
لحظہ لحظہ بے بسی کا لطف لو
آزما دیکھو کوئی انداز، پھر
خاک ہوتی دوستی کا لطف لو
رات کا سایہ اُتارو آنکھ پر
عالمِ خوابیدگی کا لطف لو
کچھ یقیں اور کچھ گماں کے بین بین
اک مسلسل خود کشی کا لطف لو
سرد پڑتی نبض کو چھو کر کبھی
دور ہوتی روشنی کا لطف لو
بند کر لو شور اپنی آنکھ کا
سرسراتی خامشی کا لطف لو
ضبط کر کے ایک حرفِ اعتنا
چند لمحے جاں کنی کا لطف لو
صائمہ اک ناز سے ٹھہرا تو ہے
لمحے کی خندہ زنی کا لطف لو
صائمہ اسحاق
No comments:
Post a Comment