Saturday, 9 April 2022

گونگی بہری زندگی کا لطف لو

 گونگی بہری زندگی کا لطف لو

قطرہ قطرہ تشنگی کا لطف لو

عشق کے محور میں خود کو ڈال کر

لحظہ لحظہ بے بسی کا لطف لو

آزما دیکھو کوئی انداز، پھر

خاک ہوتی دوستی کا لطف لو

رات کا سایہ اُتارو آنکھ پر

عالمِ خوابیدگی کا لطف لو

کچھ یقیں اور کچھ گماں کے بین بین

اک مسلسل خود کشی کا لطف لو

سرد پڑتی نبض کو چھو کر کبھی

دور ہوتی روشنی کا لطف لو

بند کر لو شور اپنی آنکھ کا

سرسراتی خامشی کا لطف لو

ضبط کر کے ایک حرفِ اعتنا

چند لمحے جاں کنی کا لطف لو

صائمہ اک ناز سے ٹھہرا تو ہے

لمحے کی خندہ زنی کا لطف لو


صائمہ اسحاق

No comments:

Post a Comment