Saturday, 9 April 2022

قطرے کو تم دریا کر دو

 قطرے کو تم دریا کر دو

مجھ کو اپنے جیسا کر دو

دل میں اپنا پیار جگا کر

کاش، محبت والا کر دو

مجھ کو اپنا کہہ کر سب سے

میرے پیچھے دنیا کر دو

ایسی آندھی پیار کی بھیجو

دل کا گلشن صحرا کر دو

تیرے سوا میں کچھ بھی نہ دیکھوں

آنکھ پہ ایسا پردا کر دو

دھڑکن آہیں سب ہیں سونی

سانسوں کو بھی تنہا کر دو

محفل محفل دیکھ چکے ہیں

جان میں آ کر جلوہ کر دو

رکنے لگی ہے دل کی دھڑکن

جی چاہے تو اچھا کر دو

اپنے ضیا کے ساتھ رہو تم

مر جائے تو زندہ کر دو


ضیا علوی

No comments:

Post a Comment